فقہمذہب

نماز جنازہ کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا

مقبول احمد سلفی

لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ  نماز جنازہ کے بعد میت کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے جبکہ یہ بات صحیح نہیں ہے ۔ متعدد احادیث سے میت کا چہرہ دیکھنا ثابت ہے اس سلسلے کی  چند احادیث نیچے  درج کرتاہوں ۔

ایک حدیث یہ ہے ،حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

لَمَّا قُتِلَ أبي جَعَلتُ أبكي، وأكشِفُ الثَّوبَ عَن وَجهِهِ، فجعل أصحابُ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يَنْهَوْنني والنبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم لم يَنْهَ،(صحيح البخاري:4080)

ترجمہ: میرے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید کردیئے گئے تو میں رونے لگا اور بار بار ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا۔ صحابہ مجھے روکتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا۔

بخاری شریف کی ایک دوسری حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مردی ہے وہ بیان کرتی ہیں  جبکہ نبی ﷺ کی وفات ہوگئی تھی:

أقبَل أبو بكرٍ رضي اللهُ عنه على فرسِه من مَسكَنِه بالسَّنحِ، حتى نزَل فدخَل المسجِدَ، فلم يكلِّمِ الناسَ، حتى دخَل على عائشةَ رضي اللهُ عنها، فتيمَّم النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم وهو مُسَجًّى ببُردٍ حِبَرَةٍ، فكشَف عن وجهِه، ثم أكَبَّ عليه فقبَّلَه، ثم بَكى(صحيح البخاري:1241)

ترجمہ:ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جو سنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اتر تے ہی مسجد میں تشریف لے گئے۔ پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں آئے ( جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برد حبرہ ( یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر ) سے ڈھانک دیاگیا تھا۔ پھر آپ نے حضور کا چہرہ مبارک کھولا اور جھک کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگے۔

اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے "باب الدخول على الميت بعد الموت إذا أدرج في أكفانه” یعنی باب ہے میت کے پاس جانے کا جبکہ اسے کفن میں لپیٹ دیا گیاہو۔

اسی طرح  ایک تیسری حدیث ابوداؤد کی جسے شیخ البانی ؒ نے صحیح قرار دیا ہے ۔

عن عائشةَ ، قالت : رأيتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ يُقبِّلُ عُثمانَ بنَ مَظعونٍ وَهوَ مَيِّتٌ ، حتَّى رأيتُ الدُّموعَ تسيلُ(صحيح أبي داود:3163)

ترجمہ: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا جبکہ وہ فوت ہو گئے تھے ‘ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے ۔

ان احادیث سے میت کا چہرہ دیکھنے کا ثبوت ملتا ہے ۔

احادیث کی روشنی میں میت کا چہرہ دیکھنے کے  چند مسائل

٭ میت کا چہر ہ دیکھ سکتے ہیں خواہ غسل کے بعد، کفن کے بعد ، نماز جنازہ کے بعد اور کوئی ان اوقات میں نہ دیکھ سکا ہوتو دفن سے پہلے پہلے   کسی وقت دیکھ  سکتا ہے ۔

٭ کہیں کہیں پر یہ رواج بناہواہے کہ وہی اشخاص  بار بار میت کو دیکھتے ہیں جوکہ صحیح نہیں ہے ۔

٭ میت کا کوئی رشتہ دار دور سے آنے کی وجہ سے تکفین میں تاخیر سے شریک ہوا اس حال میں کہ میت کو قبرستان لے چلا گیا ہے اور وہ میت کا چہرہ دیکھناچاہتا ہے تو وہاں  س کے لئے میت کا چہرہ دیکھنے  میں کوئی حرج نہیں جیساکہ امام بخاری ؒ نے کفنانے کے بعد میت کے پاس جانے پر باب باندھا ہے ۔

٭بعض لوگ قبر میں میت کواتارکر اس کا آخری دیدار کرتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے ۔

٭  جہاں میت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے وہیں اسے بوسہ لینا بھی جائز ہے جیساکہ ابوبکررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا بوسہ لیا اور نبی ﷺ نے عثمان رضی اللہ کا بوسہ لیاتھااور بوسہ صرف محرم کے لئے ہے ۔

٭ بعض کے یہاں گھنٹوں  میت کے چہرہ کو کھلاچھوڑ دیتے ہیں تاکہ آنے والے دیکھتے رہیں حالانکہ مسنون یہ ہے کہ  میت کو چہرہ سمیت ڈھانپ کر رکھا جائے جیساکہ نبی ﷺ کو چادر سے ڈھانپا گیا تھا۔ ہاں اگر تجہیزوتکفین میں جلدی مقصود ہو اور کچھ دیر کے لئے میت کا چہرہ کھلا چھوڑ دے تاکہ میت کو دیکھنے سے لوگ فرصت پاجائیں اور باربار چہرہ کھولنے کی حاجت نہ پڑے تو اس کی گنجائش ہے ۔

٭ یہاں یہ  بات بھی  واضح رہےکہ میت کا صرف چہرہ ہی دیکھا جائے اور بدن کے بقیہ حصے پر پردہ ہو۔

٭ عورت ،عورت(میت ) کا چہرہ دیکھ سکتی ہے اور مردوں میں محارم  کا ، اسی طرح مرد ،مرد(میت) کا چہرہ دیکھ سکتا ہے اور عورتوں میں محرمات کا ، لیکن اجنبی میت کا چہرہ دیکھنا منع ہے ۔

٭ اگر کوئی  بہت بوڑھی عورت ہو تو اس کا چہرہ سبھی لوگ دیکھ سکتے ہیں ۔

٭ جس عورت نے میت کا چہرہ نہیں دیکھا اس حال میں کہ میت کو قبرستان لے چلا گیا اس عورت کو وہاں جاکر میت کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہئے ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close