فقہمذہب

نو مولود کو دعا دینے کا مسنون طریقہ

مقبول احمد سلفی

اولاد اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہے، اس نعمت پرخوش ہونا فطری امر ہے اوراللہ رب العالمین کا شکریہ بجالانا نعمت کا تقاضہ ہے۔ صاحب اولاد کی خوشی میں دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی شریک ہونا چاہئے اور اس کے بچے کی صحت وعافیت اور خیروبرکت کے لئے دعا کرنی چاہئےاس لئے تو نبیﷺصحابہ کے یہاں بچوں کی پیدائش پر دعائیں دیتے ہیں۔  دعا کا باب وسیع ہے جس قدر مناسب ہو نومولود کے حق میں خیروبرکت کی دعا کی جائے لیکن یاد رہے نومولود کے لئے دعا دینے میں سنت کا دامن تھاما جائے۔ نبی ﷺ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی بچہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا تو آپ اس کے لئے دعائے برکت کرتے۔ اس سلسلے میں چند احادیث آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ نومولود کو دعا دینے کے لئے مسنون طریقہ معلوم ہوسکے۔

پہلی حدیث:

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ المَدِينَةَ فَنَزَلْتُ قُبَاءً، فَوَلَدْتُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ «أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ، ثُمَّ دَعَا لَهُ فَبَرَّكَ عَلَيْهِ» وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا، لِأَنَّهُمْ قِيلَ لَهُمْ: إِنَّ اليَهُودَ قَدْ سَحَرَتْكُمْ فَلاَ يُولَدُ لَكُمْ(صحيح البخاري:5512)

ترجمہ: سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں عبداللہ بن زبیر کی امید سے تھیں انہوں نے ہا کہ جب میں وہاں سے ہجرت کے لیے نکلی تو ولادت کا وقت قریب تھا۔ مدینہ طیبہ پہنچ کر میں نے قباء میں رہائش اختیار کی۔ پھر قباء میں ہی عبداللہ بن زبیر پیدا ہوا۔ میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا۔ آپ نے کھجور طلب فرمائی اسے چبایا اور بچے کے منہ میں لعاب مبارک ڈال دیا، چنانچہ پہلی چیز جو بچے کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کا لعاب مبارک تھا۔ پھر آپ نے اسے کھجور سے گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہ سب سے پہلا بچہ تھا جو (ہجرت کے بعد) دور اسلام میں پیدا ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے بہت خوش ہوئے کیونکہ ان کے ہاں یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ یہودیوں نے تم پر جادو کردیا ہے لہذا تمہارے ہاں اب کوئی بچہ پیدا نہیں ہوگا۔

ہجرت کے بعد دور اسلام میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ عبداللہ بن زبیر کی پیدائش پر نبی ﷺ نے ان کے لئے برکت کی دعا کی۔

دوسری حدیث :

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ»، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى(صحيح البخاري:5510)

ترجمہ: سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے یہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو چبا کر اس کی گھٹی دی نیز اس کے لیے خیر وبرکت کی دعا فرمائی پھر وہ مجھے دے دیا یہ سیدنا ابو موسیٰ ؓ کے سب سے بڑے لڑکے تھے.

تیسری حدیث :

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ.(صحيح أبي داود:5127)

ترجمہ: ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس چھوٹے بچوں کو لایا جاتا تھا تو آپ ﷺ ان کے لیے برکت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔

اولاد کے لئے برکت کی دعائیں :

ان تینوں احادیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نومولود کے لئے برکت کی دعا کرتے تھے، اکثر احادیث میں اسی طرح برکت کی دعا کرنا مذکور ہے۔ مسند بزار (ح:7310) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کی برکت کی ایک خصوصی دعا بھی مجھے ملی۔ آپ ﷺ نےبچہ کی پیدائش پر انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور یہ دعا کہو:

بَارَكَ اللَّهُ لَكِ فِيهِ، وَجَعَلَهُ بَرًّا تَقِيًّا.

علامہ ہیثمی نے اس حدیث پر حکم لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سوائے احمد بن منصور الرمادی کے اور وہ ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد: 9/264)

لہذا ہم یہ دعا بھی کرسکتے ہیں اور اس کے علاوہ ماثورہ دعاؤں میں سے برکت کی ہر وہ دعا بھی کرسکتے ہیں جو اولاد کو شامل ہو مثلا

*اللهم أكثِرْ مالَه، وولدَه، وبارِكْ له فيما أعطَيتَه(صحيح البخاري:6344)

ترجمہ: اے اللہ !اس کے مال اور اس کی اولاد میں اضافہ کردے اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔

* اللهمَّ ! بارِكْ لهم في ما رزقتَهم واغفرْ لهم وارحمْهم(صحيح مسلم:2042)

ترجمہ: اے اللہ !تونے انھیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما۔

اولاد کے لئے دعا کا اثر :

صالح اولاد کےحصول کے لئے اللہ سے دعا کرنی چاہئے، اولاد نصیب ہوجائے تو پھر اس کی خیر وبرکت کے لئے مزید دعا کرنی چاہئے کیونکہ دعا کا اثر ہوتا ہے۔ جس طرح ایک انسان اپنی اولاد کے لئے دعا کرے اسی طرح دوسرے مسلمان کی اولاد کے لئےبھی  دعا کرے، یہاں بچے کی موت پر صبر اور دعا کی تاثیرسے متعلق ایک عبرت آموز واقعہ بیان کرنا مفید ہوگا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔انھوں نے فرمایا:

اشتكى ابنٌ لأبي طلحةَ، قال : فمات وأبو طلحةَ خارجٌ، فلمَّا رَأَتِ امرأتُهُ أنَّهُ قد ماتَ، هَيَّأَتْ شيئًا، ونَحَّتْهُ في جانبِ البيتِ، فلمَّا جاءَ أبو طلحةَ قال : كيف الغلامُ ؟ قالت : قد هَدَأَتْ نَفْسُهُ، وأرجو أن يكونَ قد استراحَ . وظَنَّ أبو طلحةَ أنَّها صادقةٌ . قال : فبَاتَ، فلمَّا أصبحَ اغتسلَ، فلمَّا أراد أن يخرجَ أَعْلَمَتْهُ أنَّهُ قد ماتَ، فصلَّى مع النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ، ثم أَخْبَرَ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ بما كان منها، فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ : لعلَّ اللهَ أن يُبَارِكَ لكما في ليلتكما . قال سفيانٌ : فقال رجلٌ من الأنصارِ : فرأيتُ لهما تسعةَ أولادٍ، كلُّهم قد قرأَ القرآنَ .(صحيح البخاري:1301)

ترجمہ: حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک بیٹا بیمارتھا وہ فوت ہو گیا جبکہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے۔ ان کی بیوی نے بچےکو غسل وکفن دے کر اسے گھر کے ایک گوشے میں رکھ دیا۔ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر تشریف لائے تو پوچھا:لڑکے کا کیا حال ہے؟ان کی بیوی نے جواب دیا:اسے آرام ہے اور مجھے امید ہے کہ اسے سکون میسر ہوا ہے۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہیں(بچہ اب ٹھیک ہے) پھر وہ رات بھر اپنی کے پاس رہے اور صبح کو غسل کر کے باہر جانے لگے تو بیوی نے انھیں بتایا کہ لڑکا تو فوت ہو چکا ہے۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺ کے ہمرا صبح کی نماز ادا کی پھر رات کے ماجرے کی نبی ﷺ کو خبردی جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ تم دونوں میاں بیوی کو تمھاری اس رات میں برکت دے گا۔” ایک انصاری شخص کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی نسل) سے نولڑکے دیکھے جو سارے کے سارے حافظ قرآن تھے۔

ایک دوسرا واقعہ معاویہ بن قرۃ رحمہ اللہ کا ہے وہ بیان کرتے ہیں :

لمَّا وُلِدَ لي إِياسٌ دَعَوْتُ نَفَرًا من أصحابِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ؛ فَأَطْعَمْتُهُمْ، فَدَعَوْا، فقُلْتُ : إِنَّكُمْ قد دَعَوْتُمْ فَبارَكَ اللهُ لَكُمْ فيما دَعَوْتُمْ، وإنِّي إنْ أَدْعُو بِدُعَاءٍ فَأَمِّنُوا، قال : فَدَعَوْتُ لهُ بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ في دِينِهِ، وعَقْلِه وكذا، قال : فإني لأَتَعَرَّفُ فيهِ دُعَاءَ يومئذٍ(صحيح الأدب المفرد:950)

ترجمہ: میرے یہاں میرا بیٹا ایاس پیدا ہوا تو میں نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے چند آدمیوں کی دعوت کی اور انہیں کھانا کھلایا، پھر انہوں نے دعا مانگی تو میں نے کہا، بے شک تم نے دعا کی ہے اللہ تعالی تمہاری اس دعا میں برکت دے جو تم نے مانگی ہے اور اب اگر میں دعا کروں تو تم آمین کہنا۔ فرماتے ہیں پھر میں نے اس کے لئے اس کے دین اور اس کی عقل وغیرہ کے لئے ڈھیروں دعائیں مانگیں، فرماتے ہیں بے شک میں اس (بچہ ایاس) میں اس دن کی دعاؤں کا اثر پہچانتا ہوں۔

قابل توجہ ایک بات عرض کرتا چلوں کہ والد کی دعا اولاد کے حق میں قبول ہوتی ہے اس لئے اپنی اولاد کو بددعا نہ دے کیونکہ یہ بد دعا بھی قبول ہوسکتی ہے۔

نومولود کے حق میں اسلاف سے منقول صحیح یا ضعیف دعائیں :

بعض اسلاف سے نومولود کے لئے مختلف دعائیں اور آثاروارد ہیں جن کا درج ذیل سطور میں خلاصہ بیان کیا جاتا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا عمل : کثیر بن عبید بیان کرتے ہیں :

كانت عائشةُ رضي اللهُ عنها إذا وُلِدَ فيهم مولودٌ ( يعني من أهلِها ) لا تسألْ : غلامًا ولا جاريةً، تقول : خُلِقَ سويًّا ؟ فإذا قيل : نعم، قالت : الحمدُ لله ربِّ العالمينَ(صحيح الأدب المفرد:951)

ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنے گھر والوں میں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو یہ نہ پوچھتیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی بلکہ پوچھتیں کہ صحیح و سالم پیدا ہوا ؟ اگر کہا جاتا ہاں تو کہتیں : الحمدُ لله ربِّ العالمينَ (ساری تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے)۔

ہمارے معاشرہ میں پیدائش پر سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ لڑکا یا لڑکی ہے اس حدیث میں اس بابت ہمارے لئےبڑی عبرت ہے۔

حسن بصری ؒ اور ایوب سختیانی سے منقول صحیح دعا:

ایوب سختیانی سے منقول ہے کہ بچے کی پیدائش پر اس طرح اسے مبارکبادی پیش کرتے : "جعله الله مباركا عليك وعلى أمة محمد”

اسے ابن ابی الدنیا نے النفقۃ علی العیال میں (رقم/202) میں ذکر کیا ہے۔

یہی صیغہ حسن بصری سے بھی منقول ہے، سری بن یحی بیان کرتے ہیں کہ حسن کی مجلس میں بیٹھنے والے ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو ایک دوسرے شخص نے بچے کی پیدائش پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا :آپ کو یہ فارس ( گھڑ سوار) مبارک ہو۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ آپ کو کیا پتہ کہ یہ فارس ہوگا؟ شاید وہ بڑھی ہو یا درزی ہو۔ انہوں پوچھا تو کیسے کہیں تو آپ نے کہایوں کہو:

جَعَلَهُ اللَّهُ مُبَارَكًا عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(الدعاء للطبراني , باب : كَيْفَ التَّهْنِئَةُ بِالْمَوْلُودِ، رقم الحديث: 872)

اس دعا کو بعض اہل علم نے سلف کی جانب سے منقول صحیح دعا قرار دیا ہے جیساکہ شیخ یحی بن علی حجوری یمنی اور شیخ ابوخالد ولید بن ادریس اسکندری وغیرہ

لوگوں میں مشہور ایک  ضعیف دعا :

الاذکار للنووی کے حوالے سے لوگوں میں یہ دعا بہت مشہورو معروف ہے : ” بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي الـمَوْهُوبِ لَكَ، وَشَكَرْتَ الوَاهِبَ، وبَلَغَ أشُدَّهُ، وَرُزِقْتَ بِرَّهُ”

ترجمہ: اللہ آپکی اولاد میں برکت دے مضبوط بنائے اور آپکو انکی بھلائی حاصل ہو اور آپ اسکا شکر ادا کریں۔

یہ دعا حسن بصری کی طرف منسوب ہے مگر اس کی سند میں شدید ضعف ہونے کے باعث ضعیف ہے۔

تاریخ اصبھان کی ایک اور ضعیف روایت :

ابونعیم نے اپنی تاریخ اصبھان کے اندر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سےذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جب کوئی بچہ پیدائش کے بعد لایا جاتا تو کہتے :

"اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ بَارًّا تَقِيًّا رَشِيدًا، وَأَنْبِتْهُ فِي الإِسْلامِ نَبَاتًا حَسَنًا” (أخبار أصبهان لأبي نعيم, وَهَذَا كِتَابُ صُلْحِ إَصْبَهَانَ, بَابُ الْعَيْنِ: رقم الحديث: 1717)

اس کی سند میں بھی ضعیف راوی ہونے کے سبب یہ روایت بھی حجت کے قابل نہیں ہے۔

مضمون کا لب لباب :

پورے مضمون کا خلاصہ یہ ہوا کہ نبی ﷺ بچہ کی پیدائش پراس کے لئے برکت کی دعا کرتے تھے اس لئے ہم بھی اپنے سماج میں اس سنت کو زندہ کریں جو صرف کتابوں میں نظر آتی ہے اور بغیر تخصیص کے برکت کی ہر وہ مسنون دعا کرسکتے ہیں جو اولاد کے حق میں مفید ہو صرف نظر اس سے کہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ کم ازکم "اللھم بارک فیہ” یا "بارک اللہ فیہ” بھی کہہ سکتے ہیں حتی کہ اپنی زبان میں بھی دعا کرسکتے ہیں۔ مضمون میں جن دعاؤں کا ضعیف ہونا اجاگر کیا گیا ہے انہیں ضعیف مانتے ہوئے کبھی کبھار پڑھ لینے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی معنوی خرابی نہیں ہے البتہ اسے نومولود کی مبارکبادی کے لئے خاص نہ مانا جائے۔ نیز ایسے موقع سے اسراف خواہ دعوت کے نام پہ ہو یا تحائف کے نام پہ، یا غیرشرعی امور مثلا گانے بجانے اوراظہار مسرت میں اہل کفر کی مشابہت اختیار کرنے سے بچا جائے۔ اسی طرح لڑکے کی پیدائش پہ خوشی منانا اور لڑکی کی پیدائش کو باعث غم سمجھ کر غمگین ہونا یا کسی قسم کی بدفالی لینا کفار کا شیوہ ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close