تصوفمذہب

نچ کے یار منایا

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

تصوف کے سلسلہ قادریہ شطاریہ کے مشہور بزرگ حضرت شیخ عنایت قادری ؒ  متلاشیان حق کے سامنے جلو ہ افروز ہیں۔ سلسلہ شطاریہ کے بزرگ چشتی بزرگوں کی طرح سما ع سے بہت شغف رکھتے ہیں دنیا کے چپے چپے سے قوال حضرات اپنی مالی اور روحانی تسکین کے لیے کن فیکون پر فائز ایسے بزرگوں کے در پر آکر اپنا فن پیش کر کے ما لی فوائد کے ساتھ ساتھ دعا کی نعمت لے کر واپس جاتے ہیں۔ آج بھی محفل سما ع منعقد تھی قوال حضرات کے بعد عشق کی وادی پر خا ر کے مسا فر ہجر کی آگ میں سلگتے جھلستے عاشق جانباز حضرت بلھے شاہ زنانہ لبا س میں پا ئوں میں گھنگرو با ندھے مرشد کی نگا ہِ کرم پا نے کے لیے مرشد کے سامنے دیوانہ واردھمال نما رقص شروع کر تے ہیں۔

تزکیہ نفس کے کڑے مجا ہدے سے گزرنے کے بعد بلھے شاہ ؒ  سراپا نور بن چکے تھے کثافت لطا فت میں ڈھل چکی تھی مرشد کی چشمِ کرم عارضی طو رپر کیا ہٹی سید زادے پر قیا مت ٹو ٹ پڑی مرشد کو بہت منا نے کی کو شش کی۔ جب حاضری کی اجا زت نہ ملی تو قوالوں کے ساتھ بھیس بد ل کر زنا نہ کپڑے پہن کر مرشد کی چشمِ کرم حاصل کر نے لیے جب رقص کر تا ہے تو بلھے شاہ کی حرکا ت و سکنات سے جذب و سکر کے چشمے اور روحانیت کی شبنمی پھوا ر پھوٹتی نظر آتی ہے‘اہل دل ترک ذات کے اِس عظیم سالک کو دم بخود  دیکھتے ہیں عقل دانتوں تلے انگلی دبا لیتی ہے دیوانے کا ہو شر با سحر انگیزرقص دیکھنے والوں کو جھو منے پر مجبو ر کر دیتا ہے۔ کو ئی سید زادہ مر شد کو منا نے کے لیے اِس حد سے گزر جا ئے گا یہ کو ئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن درویش خدا مست دیوانہ وار رقص کر تے ہو ئے جب اپنی کا فی سنانی شروع کی تو درویش کی پر سوز آواز سے محفل کے درو دیوار گو نجنے لگے زنا نہ لبا س میں ایک درویش جانباز مست نا چ رہا تھا کا فی کے الفاظ دیوانوں کی سما عتوں سے ٹکرانے لگے الفاظ کیا تھے شراب معرفت کے جام تھے جن کے کانوں سے ٹکرائے وہ شراب معرفت میں غرق ہو تے گئے۔

 تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

  تیرے عشق نے ڈیرا میرے اندر کیتا

 بھرکے ذہر پیا لہ میں تاں آپے پیتا

چھیتی بو ہڑیں وے طبیبا نہیں تاں میں مر گئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

چھپ گیا وے سورج با ہر رہ گئی آ لالی

 وے میں صدقے ہوواں دیویں مڑجے وکھا لی

 پیرا میں بھل گئی آں تیرے نال نہ گئی آ

 تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

ایس عشق دی جھنگی وچ مو ر بو لیندا

 سانو قبلہ تے کعبہ سوہنا یا ر دسیندا

 سانوں گھا ئل کر کے فیر خبر نہ لئی آ

ان الفاظ کے ساتھ ہی مرشد کا پیما نہ محبت چھلک پڑتا ہے پیار سے کہتے ہیں ہم بے خبر نہیں ہیں ہمیں تمہا ری ساری خبر ہے تو بلھا ہے آواز مر شد پر دیوانے کا رقص تھم جا تا ہے دیوانہ وار جھومنے لگتا ہے گلو گیر آواز میں بار بار ایک ہی فقرہ شہنشاہ میں بلھا نہیں بھُلا ہوں جس کو بھلا دیا گیا ہے۔ یہ محبت بھرا شکا یت کا انداز تھا مرشد نے اٹھایا گلے سے لگا یا اور کہا تیرے سوز گداز سے قیا مت تک آنے والے متلا شیان حق اپنے زنگ آلو دہ سینوں کو نور معرفت سے روشن کر یں گے تو وہ مینارہ نور ہو گا کہ صدیاں تجھ سے روشنی کی بھیک مانگیں گی گر دش افلاک لاکھوں انسانوں کو مٹی کی چادر میں گمنامی کے غارمیںاتا ر دے گی لیکن تو تاریخ کی مراد بن کر معرفت الٰہی کے جام پیا سوں کو روز قیا مت تک پلا تا رہے گا۔ اور پھر مرشد کا ہر لفظ حق ثابت ہوا مرشد کے حکم پر پھر جا کر شہر قصور کے با ہر ڈیرہ لگا یا اور زنگ آلو دہ دلوں کو نور حق کے نور سے دھونے لگے حق گو ئی کی پاداش میںتہمتوں کا طو فان کئی بار آیا آپ ؒ  پر الزامات لگا ئے گئے لیکن آپ ؒ  حق گو ئی سے باز نہ آئے آپ ؒ  کے چشم فیض سے ہزاروں لوگوں نے اپنی روحانی پیاس بجھائی آپ ؒ  نے طو یل عمر پا ئی۔ ساری عمر شراب معرفت پیا سوں میں با نٹنے کے بعد مہ خانہ معرفت کا مست درویش تا ریخ تصوف کا جانباز بے باک اور عظیم صوفی شاعر 1171ء میں مٹی کا کمبل اوڑھ کر تہہ خا ک ہو گیا انتقال کے وقت بلھے شاہ ؒ  کی عمر ایک سو دس سال تھی صدیا ں گزر گئی آپ ؒ  کے مزار پرا نوار سے حق کا نور دن رات پھو ٹتا ہے۔

جذب و مستی حق گو ئی پر مشتمل آپ ؒ  کے کلا م کے سحر میں جو بھی آیا بد کا ری سیا کاری چھو ڑ کر نو ر حق کا مسا فر بنا ‘درویش بے نیاز کا عرس مبا رک ہندی مہینے بھا دوں کی گیا رہ بار ہ تا ریخ کو ہو تا ہے۔ دنیا بھر سے پنجا بی بو لنے والے مسلمان اور سکھ برادری کے دیوانے۔ آپ ؒ کے عرس میں شریک ہو کر عظیم صوفی کو خراج عقیدت پیش کر تے ہیں آنیوالے زائرین اپنے اپنے انداز سے نذارانہ عقیدت پیش کر تے ہیں درود و سلام کی مشکبو آوازیں آنے والوں کو جھومنے پر مجبور کر دیتی ہیں کچھ دیوانے قوالی اور دھما ل سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہا ر کر تے ہیں حضرت بلھے شاہ ؒ کے دربار کی ایک خا ص ادا جو لوگوں کو بہت لبھا تی ہے۔ وہ دیوانوں کا دربا ر پر بیٹھ کر سارنگی بجا نا ہے دنیا بھر سے سارنگی بجانے والے اپنی مہا رت میںسریلے پن کے لیے دربارپر آکر سارنگی بجاتے ہیں سارنگی کی دلکش آواز دیوانوںکو مدہو ش کر دیتی ہے بلھے شاہ کو بھی زندگی میں سارنگی بجا نے کا بہت شوق تھا۔ آپ اکثر شب کے سنا ٹو ں میں جب سارنگی کو چھیڑتے تو سننے والوں پر وجد طا ری ہو جا تا۔

 حضرت بلھے شاہ ؒ  کی اِس روایت کو آج بھی اُن کے چاہنے والے ادا کر تے ہیں بلھے شاہ ؒ  بلا شبہ بے باک نڈر صوفی تھے انہوں نے ساری عمر کھل کر منا فقت جھو ٹ کی مخالفت کی اپنے جذبات کا اظہار کھل کر کیا کیونکہ خد اکے عشق میںمست تھے با رگاہ الٰہی کے فیض یا فتہ تھے اِس لیے خدائے لا زوال نے آپ ؒ کے دنیا سے جا نے کے بعد بھی آپ ؒ کی شہرت کو کم نہیں ہو نے دیا بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ ؒ  کی شہر ت اور فیض میں اضا فہ ہی ہو رہا ہے دن رات زائرین اپنی خالی جھولیاں پھیلا کر مزار پر حاضر ہو تے ہیں دامن خو شیوں سے بھر کر جا تے ہیں آپ ؒ  کے مزار پر ایک شخص کئی مہینوں سے لگا تار حاضری دے رہا تھا روزانہ گر یہ زاری کر تا ایک دن دعا مانگنے میں مصروف تھا کہ گھنگروں کی آواز نے چونکا دیا نظرا ٹھائی تو نوجوان خو بصورت گا نے والی رقص کے ساتھ آپ ؒ  کی پر سوز کا فیاں گانے لگی پھر اپنی دعا مانگ کر چلی گئی اور پھر چند دن بعد وہ عورت پھر لنگر کی دیگوں کے ساتھ حاضر ہو ئی لوگوں میں خو شی کا لنگر با نٹا بلھے شاہ ؒ  کا شکر یہ ادا کیا اور چلی گئی جو شخص کئی مہینوں سے روزانہ آکر گر یہ زاری کر تا تھا وہ یہ سب دیکھ کر دل برداشتہ ہو گیا کہ ناچنے والی آئی اور سب کچھ لے گئی جبکہ میں کتنے مہینوں سے آکر دعا مانگ رہا ہوں۔ لیکن میری دعا قبو ل نہیں ہو ئی۔

مایوس ہو کر گھر گیا رات کو سو گیا رات کو حضرت بلھے شاہ ؒ  خوا ب میں آئے اور کہا مالک بے نیاز کونا چنے والی کا بار بار یہاں آنا پسند نہیں تھا اِس لیے فورا اُس کی دعا قبو ل کر کے اُسے ٹا ل دیا جبکہ تمہا ری دعا کا انداز بہت پسند تھا اِس لیے روکے رکھا جا ئو تمہا ری بھی دعا قبو ل ہو ئی اور پھر اگلے ہی دن اُس شخص کی دعا قبول ہو ئی اوروہ حضرت بلھے شاہ ؒ  کے کر م خا ص سے فیض یا ب ہوا۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. کشف اور دیگر کرامات کاجہاں تک ذکر ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ صوفی کے مظاہر تو ہو سکتے ہیں اس کے تشکیلی عناصر نہیں. مظاہر کا معاملہ یہ ہے کہ ہوں تو ٹھیک، نہ ہوں تو بھی کچھ مسئلہ نہیں. جب کہ تشکیلی عناصر کی عدم موجودگی میں کوئی فرد صوفی ہونے کا دعوٰی نہیں کر سکتا، یا اگر وہ ایسا کرے تو یہ بات معتبر نہ ہو گی.
    ہمارے ہاں کشف و کرامات کو اتنا زیادہ بڑھاوا دیا گیا کہ اس سے دو ایسی علتیں پیدا ہوئیں جنہوں نے لوگوں کا ایمان بھی ضائع کیا اور بہت سے مواقع پر ان کی عزتیں بھی.
    ایک تو اس میں نوسربازوں کا داخلہ آسان ہو گیا جو اپنے ذاتی کردار سے قطع نظر اپنی شعبدہ بازی کی صلاحیت کے بل بوتے پر صوفی بن بیٹھے اور پھر خود کو ہر شرعی پابند ی سے خود ہی آذادی کا پروانہ عنایت کر دیا. یعنی جو کام نبی نہ کر سکے وہ انہوں نے کر دیا.

    دوسرا یہ کہ عوام نے بھی ان کرامات کے چکر میں ان سے وہ وہ توقعات وابستہ کر لیں جو صرف اللہ تعالٰی کا حق ہے.

    اگر ہم علم، عمل، مجاہدہ، قربانی، خدا ترسی اور کردار کو بنیاد بنائیں تو بہت سی خرابیوں کا سد باب ہو سکتا ہے.

متعلقہ

Close