فقہمذہب

چوڑی دار شلوار پہننے کا حکم

مقبول احمد سلفی

چوڑی دار شلوار وہ چست پاجامہ کہلاتی ہے جس کی مہریاں لمبی ہونے کےسبب ٹخنوں پر کپڑے میں سلوٹیں پڑیں یا خود ڈالی جائیں۔ ایسی چوڑی دار شلوار جہاں مرد حضرات استعمال کرتے ہیں وہیں مسلم خواتین بھی استعمال کرتی ہیں یعنی دونوں جنسوں میں مستعمل ہے تاہم صنف نازک میں خاصا مقبول ہے۔ اسلام نے مسلمانوں (مردوعورت) کو کوئی مخصوص لباس کا حکم نہیں دیا ہے مگر لباس کے شرعی حدود وقیود بیان کئے ہیں۔

اسلامی لباس کی ایک قید یہ ہے کہ وہ ستر کو پوری طرح چھپانے والا ہو۔ مرد کا ستر ناف کے نیچے سے گھٹنے تک ہے اور عورت کا ستربالوں سمیت مکمل جسم ہے۔

دوسری قید یہ ہے کہ لباس اتنا باریک نہ ہوکہ اعضائے ستر جھلکتے ہوں، اسی طرح تیسری قید یہ ہےکہ لباس اتنا تنگ نہ ہو جس سے چھپانے والے حصوں کے خدوخال نمایاں ہوں۔ ان کے علاوہ عورت کو مرد کا لباس، مرد کو عورت کا لباس پہننا منع ہے، لباسوں میں کفار کی مشابہت اور شہرت کا لباس بھی منع ہے۔ ان کے علاوہ بھی لباس کے مزید آداب واحکام ہیں لیکن یہاں ہمارا مقصود چوڑی دار شلوار پہننے کا حکم جاننا ہے اس لئے مزید تفصیل سے گریز کیا جارہاہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا(صحيح مسلم:2128)

ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو لباس پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں (یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں)، سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی۔

اس حدیث میں "کاسیات عاریات ” کا لفظ کئی معانی کو شامل ہے۔

ایک معنی تو یہ ہے کہ عورت لباس تو لگاتی ہے مگر چھوٹا جس سے اس کا ستر پوری طرح نہیں چھپ پاتا ہے۔

دوسرا معنی یہ ہے کہ عورت کا لباس اتنا باریک ہوتا ہے کہ نظر اس لباس کے اندر جسم کے رنگ اور اس کی چمڑی کو دیکھ لیتی ہے۔

تیسرا معنی جو یہاں ہمارا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ عورت اس قدر تنگ اور چست لباس لگاتی ہے کہ فتنے کی جگہیں یعنی مقامات ستروحجاب ظاہر ونمایاں ہوتے ہیں۔

گویا ایسا کوئی لباس جو گرچہ جسم عورت کو ڈھک دے مگر چست ہو اس کا پہننا جائز نہیں ہے چاہے شلوار ہو یا قمیص۔ عورتوں کی طرح مردوں کے لئے بھی چست پاجامہ جس سے آگے اور پیچھے کا ستر اپنے خدوخال کے ساتھ  نمایاں کرتاہوجائز نہیں ہے۔

چوڑی دار شلوار کی طرح چست جنس یاچست پاجامہ یا چست کوئی بھی کپڑا عورت اور مرد کے ستر کو واضح/نمایاں کرے جائز نہیں ہے۔ ہاں عورت کے لئے اپنے گھر میں تنہائی میں یا اپنے شوہر کے سامنے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اسی طرح اگر چوڑی دار شلوار، ڈھیلا ڈھالاقمیص یا اوپر کے لباس سے بالکل ڈھکا ہوا ہو اس طور پر کہ شلوار کے ساتھ مکمل طور پر ستر ڈھکاہوا ہو تو پھر فتنہ کا سبب زائل کی وجہ سےاس کے پہننے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اس صورت میں شلوار اوپر والے بڑےساتر لباس کے اندر ڈھک جائے گا۔ مگر آج کل صورت حال ناگفتہ بہ ہے بالخصوص عورتوں کی، کہ ان کا لباس باریک، تنگ، جاذب نظر، چھوٹا، عریاں، مردوں کے مشابہ، کفار نما وغیرہ قسم قسم کے ہیں۔ یہ سب مغربی تہذیب، فلم بینی، فیشن پرستی، دین سے دوری، کفار سے میل جول اور ان کی نقالی کے برے اثرات ونتائج ہیں۔ مسلمان عورتوں کو اللہ کا خوف کھانا چاہئے اور اس کے دین میں حجاب کا جو شرعی اصول موجود ہے اس کے تئیں اپنا لباس منتخب کرنا چاہئے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close