تقابل ادیانمذہب

کیا ابراہیمی ابراہیمی مذاہب، زرتشت مذہب سے نقل کیے گئے ہیں؟

علی عباس جلال پوری اور دیگر ملحدین کا اعتراض اور اس کا  آثار قدیمہ یا آرکیالوجی اور تاریخ سے جواب۔

ڈاکٹر احید حسن

ملحد محققین کے مطابق دوسرے معبدی زمانے یعنی 530 قبل مسیح سے ستر عیسوی کے دوران جب یہودی ایران کی اشمینائی سلطنت میں رہ رہے تھے تب ان کامذہب، زرتشت مذہب یا موجودہ سے بہت زیادہ متاثر  ہوا جو کہ اس کے بعد عیسائیت اور اسلام  پر اثر انداز ہوا۔ کیا یہ سچ ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

زرتشت نے اعلان کیا کہ خدا صرف ایک ہی ہے جو کہ کائنات کی واحد تخلیقی اور پائیدار طاقت ہے جس کو اس نے اہورامزدا کا نام دیا، اور اس نے انسانوں کو ٹھیک راستے کے انتخاب کا حق دیا ہے۔ اسی وجہ اور اثر کی وجہ سے وہ انسان ا پنے انتخاب کے نتائج کے ذمہ دار ہیں۔  اہورامزدا مزدا یا خدا کی حریف قوت انگرا مینیو، یا ناراض روح یعنی شیطان ہے [1، 2]۔

زرتشت مذہب یا آتش پرستی یعنی مجوسیت میں پانچ نمازوں، جنت اور جہنم اور یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی طرح ایک مسیحا کی آمد کا بنیادی تصور ہے، اس مشابہت کی بنیاد پہ ملحد محققین کا دعوی ہے کہ یہ مذاہب، زرتشت مذہب سے نقل کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق، زرتشت مذہب کی جڑیں زمانہ قبل از تاریخ کےایک مشترک  انڈو ایرانی مذہبی نظام سے شروع ہوئی ہیں جو ایک ہزار قبل مسیح سے دو ہزار قبل مسیح کے درمیان موجود تھا۔ [3] زرتشت مذہب زرتشت کی طرف سے قائم کیا گیا تھا جس و بعد میں قدیم ایران میں ایک نبی کی حیثیت دی گئی لیکن اس مذہب کے قیام کی حقیقی تاریخ آج تک معلوم نہیں۔ زرتشت شمال مشرقی ایران یا جنوب مغربی افغانستان میں پیدا ہوا۔ اکثر محققین کے مطابق وہ چھٹی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوا جب کہ بعض کے مطابق وہ دسویں صدی قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ [4] لیکن اس بات میں شدید اختلاف ہے کہ حقیقی طور پہ وہ کب پیدا ہوا اور اس کی پیدائش کے زمانے کے اندازے اور مفروضے چھ ہزار قبل مسیح کے زمانے سے سو قبل مسیح کے زمانے تک وسیع ہیں لیکن حقیقی تاریخ آج تک معلوم نہیں۔  بروس لنکن کے مطابق اس وقت محققین کی اکثریت کے مطابق وہ ایک ہزار قبل مسیح سے دوہزار قبل مسیح کے آخری عرصے میں پیدا ہوا جب کہ کچھ کے مطابق وہ ساتویں صدی قبل مسیح میں پیدا ہوا۔

زرتشت مذہب کے عقیدے کے مطابق جب زرتشت 30 سال کی عمر میں تھا، وہ ایک مذہبی تقریب کے لئے پانی نکالنے کے لئے دیتی دریا میں چلا گیا۔جب وہ دریا سے نکلا تو اسے ووہو منہ( اچھائی کا خیال) کی بصیرت عطا ہوئی۔ اس کے بعد  ووہو منہ اسے چھ دوسری امسا پنتا یا مقدس ہستیوں کے پاس لے گئی جہاں اس کی بصیرت کی تکمیل ہوئی جیسا کہ پیغمبروں پہ وحی نازل ہوتی ہے۔ [5] زرتشت کی وفات  70 سال کی عمر کےبعد ہوئی۔ زرتشت اور اشمینائی سلطنت کے درمیان کے وقت کے بارے میں بہت کم معلوم ہے، لیکن یہ کہ زرتشت مذہب مغربی مغربی ایران تک  پھیلا ہوا تھا۔ کچھ محققین کے مطابق اشمینائی سلطنت کے قیام کے وقت، زرتشت مذہب اچھی طرح سے قائم مذہب تھا۔ پارسی یعنی موجودہ زرتشت مذہب کی کتابوں میں موجود روایت کے مطابق، زرتشت 660 قبل مسیح میں پیدا ہوا تھااور 583 میں فوت ہوا؛لیکن بہت سے محققین کا دعوی ہے کہ وہ اس سے پہلے کے وقت میں موجود تھا۔تاہم تمام تفتیش کاروں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یہودیوں کی ایران میں آمد کے وقت ایران میں اس کی تعلیمات عام طور پر موجود تھیں۔
کچھ محققین کے مطابق زرتشت مذہب ویدی مذہب کے قریب قریب ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ پرانا وید مذہب یا قدیم ہندومت ایک بت پرست اور مظاہر پرست مذہب تھا جس میں عبادت کا طریقہ آگ اور دریاؤں کی عبادت، اندرا کی طرح ہیرو دیوتاوں کی عبادت اور قربانیوں کی ادائیگی تھا۔ اگرچہ ہندوؤں کی قدیم مذہبی کتاب رگ وید میں بڑی تعداد میں دیوتاؤں کو نامزد کیا گیا ہے، لیکن صرف تینتیس دیوتا شمار کیے جاتے ہیں جن میں زمین، خلا اور آسمان کے گیارہ گیارہ دیوتا شامل ہیں ۔ [6]

  لیکن پرانے وید مذہب کے مقابلے میں زرتشت مذہب ایک وحدانیت پرست مذہب تھا۔یہ ایک مذہب تھا جس میں یہودیوں، میسوپوٹیمیا یا قدیم عراق اور ایرانی عناصر شامل تھے۔ یہودی بابل کی قید میں غلام کے طور پر خدمت کرتے تھے: یہودیوں کی تاریخ کے دوران جس میں یہوداہ کی قدیم سلطنت کی ایک بڑی تعداد کے یہودی بابل میں قید تھے۔  ,605 قبل مسیح کی لڑائی کے بعد بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم کے بادشاہ کو خراج دینے پہ مجبور کیا۔ سے خراج تحسین پیش کی۔539 قبل مسیح میں ایرانیوں نے بابل فتح کر لیا اور یہودیوں کو آزاد کر دیا جس کے بعد ان میں سے کچھ اپنے نجات دہندہ ایران کی زمین میں داخل ہوگئے۔اگرچہ یہودیت ایک  مذہب کے طور پر سب سے پہلے 323 قبل مسیح سے 31 قبل مسیح کے دوران یونانی ریکارڈوں میں ظاہر ہوتا ہے  لیکن بنی اسرائیل یعنی یہود  کا سب سے قدیم ذکر فرعون مصر مرنفتاح کے نقشین لوح میں ملتا ہے جو 1213-1203 قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں۔ جب کہ یہود کی مذہبی کتابیں ان کی تاریخ پندرہ سو قبل مسیح اور اس سے پہلے تک بتاتی ہیں۔ یعنی کہ یہودیوں کی تاریخ زرتشت مذہب کے مقابل بلکہ اس سے بھی پرانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محقق  جیمز ڈرمیسٹٹر نے بالکل مخالف نظریہ کی وکالت کی ہے، اور وہ کہتے ہیں یہودیت زرتشت مذہب سے متاثر نہیں ہوئی بلکہ ابتدائی فارسی خیالات یہودی نظریات سے متاثر ہوئے۔انہوں نے زور دیا کہ زرتشت مذہب کی مذہبی کتاب اوستا، جو کہ ہمارے پاس ہے، یہود کے کافی بعد کی ہے اور اس میں کئی بیرونی عناصر شامل ہیں جن میں سے کئی خاص طور پر یہودی مذہب  سے نقل کیے گئے ہیں جب کہ کچھ نوافلاطونی نظریات ہیں جو کہ  فلو جوڈیئس کی تحریر کے ذریعے لیے گئے ہیں۔ یہ خیالات 1894ء میں اس فرانسیسی محقق نے پیش کیے۔ اگرچہ اس تصور کی کئی محققین نے تردید کی ہے لیکن آج تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ زرتشت مذہب کی کتاب اوستا یہود سے پہلے کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہذا یہ بالکل نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کتاب یہودیت سے پہلے کی ہے اور یہودیت اور اس کے بعد کے دیگر ابراہیمی مذاہب جیسا کہ عیسائیت اور اسلام نعوذ بااللہ زرتشت مذہب سے نقل کیے گئے۔[7]

کچھ ملحد محققین سوچتے ہیں کہ زرتشت مذہب کی اصل ابتداء جنوبی روس سے  1700 قبل مسیح میں ہوئی یعنی   حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سے بھی پہلے لیکن اس کا ایک۔ بھی مستند ثبوت ان ملحد محققین کے پاس نہیں ہے۔ ہم نے اس معاملے کی بہت تحقیق کی لیکن ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا۔ لہذا یہ بات مکمل طور پر غلط ہے کہ زرتشت مذہب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل عربوں اور بنی اسرائیل سے بھی پہلے موجود تھا۔ دوسری بات یہ کہ  فارس خدا کے رسولوں کےعلاقے عراق کے قریب۔ یہودیت اور دیگر ابراہیمی مذاہب جیسا کہ عیسائیت اور اسلام کی تعلیمات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مطابق ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کب پیدا ہوئے لیکن ہم قریب قریب کے زمانے کا تعین کر سکتے ہیں۔ ان کی پیدائش 1800 قبل مسیح سے 2300 قبل مسیح کے درمیان ہوئی۔ ایسا لگتا ہے کہ زرتشت مذہب اور یہودیت اکٹھے ایک ہی وقت میں موجود تھے۔ اس صورت میں  زرتشت کی زندگی کی تاریخ معلوم کرنے کا واحد طریقہ لسانیات پر مبنی ہے اور اس کے تجزیے سے لگتا ہے کہ زرتشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں بہت بعد کے زمانے یعنی لگ بھگ 700 قبل مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون مصر رعمسس دوم کے زمانے میں گزر چکے تھے جس کا زمانہ 1288 سے 1213 قبل مسیح کا ہے جب کہ حضرت یوسف علیہ السلام ان سے بھی پہلے اور ان کے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سے بھی پہلے۔ یعنی کہ لسانیات کے تجزیے کے مطابق یہودیت اور لہٰذا باقی ابراہیمی مذاہب جیسا کہ عیسائیت اور اسلام کی تعلیمات زرتشت مذہب سے پہلے کے زمانے کی ہیں۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ابراہیمی مذاہب زرتشت سے نقل نہیں کیے گئے بلکہ زرتشت نے یہودیت کی نقل کی۔

  اگرچہ آج تک زرتشت کی تاریخ پیدائش کے بارے میں صحیح معلوم نہیں اور زرتشت کی پیدائش کی پیش کی جانے والی تمام قدیم تاریخیں لسانیات اور دیگر تجزیوں سے ثابت نہیں ہیں لیکن پھر بھی اگر زرتشت کی پیدائش 1500 قبل مسیح یا 6000 قبل مسیح میں مان لی جائے تو پھر بھی یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ کہ ابراہیمی مذہب جیسے یہودی، عیسائیت اور اسلام زرتشت سے نقل کیے گئے ہیں کیونکہ اس علاقے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قبل حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام گزر کر چکے ہیں اور ان کی تعلیمات میں زرتشت سے بہت  پہلے خدا، شیطان، نماز، اچھی اور برائی کے تصور موجود تھا ۔

اس پہ ملحدین کہتے ہیں کہ نعوذ بااللہ حضرت نوح علیہ السلام تاریخ کی فرضی شخصیت تھے اور طوفان نوح کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا تھا۔

ملحدین کہتے ہیں کہ اگر یہ طوفان حقیقت میں آیا تھا اور حضرت نوح علیہ السلام حقیقی شخصیت ہیں اور واقعی انسانی نسل معدوم ہونے کی حد تک کم ہوگئی تھی( جیسا کہ طوفان نوح کے مطابق مذہب کا دعویٰ ہے کہ صرف 82 افراد زندہ بچ سکے تھے) تو ہمیں اس کا ثبوت انسان کے موجودہ وراثتی مادے یعنی ڈی این اے اور جینوم( Genome) میں انسانی آبادی میں کمی( Human population bottleneck) کی صورت میں ملنا چاہیے۔اس کا جواب یہ ہے کہ 2015ء میں کرمین( Karmin) کی انسانی وائے کروموسوم پہ کی گئی تحقیقات نے یہ ثابت کردیا کہ انسانی تاریخ میں وائے کروموسوم کے جینیاتی تنوع میں حال ہی میں یعنی چند ہزار سال پہلے نہ کہ کئی لاکھ سال پہلے شدید ترین کمی موجود ہے جس کو جینیٹکس Recent Bottleneck Of Y Chromosome Diversity کہتی ہے۔ اس کے مطابق انسانی وائے کروموسوم کے جینیاتی تنوع میں آج سے 52-47 ہزار سال پہلے ایک شدید کمی دیکھنے میں آتی یے۔ اس طرح کی دوسری ایک شدید کمی آج سے دس ہزار سال پہلے دیکھنے میں آتی ہے۔ لہذا یہ ثابت کرتا ہے کہ تاریخ میں دو وقت ایسے گزرے ہیں جب انسانی نسل تقریبا مٹنے کے قریب ہوگئی تھی۔ اگرچہ اس کی وجہ سیکولر سائنسدان انسان کی نسلی کامیابی میں ثقافتی کمی کو قرار دیتے ہیں لیکن کئی دیگر سائنسدان کے مطابق یہ زمیں پہ آنے والی قدرتی تباہی یعنی کسی عالمگیر سیلاب کی وجہ سے ہوا ہو تو یہ بات بالکل ممکن ہے۔ لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسانی وراثتی مادے یا جینوم میں انسانی نسل کے کسی عالمگیر سیلاب کی وجہ سے مٹنے کے قریب ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

دوسرا مشھور سوال یہ ہے کہ مذہب کے دعوے کے مطابق طوفان نوح واقعی آیا تھا اور چالیس دن رات شدید بارش ہوئی اور زمین کے اندر موجود پانی بھی زمین نے باہر پھینک دیا تھا جس سے پوری زمین پانی میں ڈوب گئی تھی لیکن زمین میں اتنا پانی موجود ہی نہیں ہے کہ جس کی مقدار زمین پہ موجود سمندروں سے بھی زیادہ ہو اور وہ نکل کر پوری زمین کو غرق کردے۔ اس سوال کا جواب بھی جدید تحقیقات نے دے دیا ہے۔ اس کے مطابق زیر زمین کئی سو کلومیٹر کی گہرائی میں پانی کے سمندر موجود ہیں اور ان میں موجود پانی کی مقدار نہ صرف زمین پہ موجود سمندروں کی مقدار کے برابر بلکہ بعض اندازوں کے مطابق اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اب سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ زمین کی تہہ میں 406کلومیٹر کی گہرائی میں پانی کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جس کی مقدار زمین کی سطح پر موجود تمام سمندروں کے مساوی ہے۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ طوفان نوح کے مطابق مذہب کا یہ دعویٰ کہ چالیس دن رات شدید بارش کے ساتھ زمین نے زیر زمین پانی کے سمندروں کی صورت میں اپنا تمام پانی اگل دیا تھا جو کہ ایک عالمگیر سیلاب اور انسانی نسل کی تباہی کا سبب بنا، یہ بات جدید تحقیقات سے ثابت ہے۔ یہ تفصیل ظاہر کرتی ہے کہ طوفان نوح اور وجود نوح علیہ السلام کا انکار بالکل غیر منطقی اور غیر سائنسی رویے پہ مبنی ہے۔ [10، 11، 12]

اکثر محققین کے مطابق زرتشت عراق کے علاقے ار کے قریب واقع ایران میں پیدا ہوا اور یہ ار وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اور ابراہیم علیہ السلام اسی خدا کی عبادت کرتے تھے جس کی ابراہیمی مذاہب اور ان مذاہب کی تعلیمات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مطابق ہیں۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ زرتشت اور صبائیت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات کے بارے میں جان کر یہ مذہب اختیار کیا۔ یہ ایک وہ انتہائی ممکنہ بات ہے جس کو ملحد محققین بالکل نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور صرف یہ دعوٰی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذاہب زرتشت سے اخذ کئے گئے۔ اگر یہ محققین تعصب اور بغض سے پاک ہوتے تو لازمی اس امکان کو بھی مدنظر رکھتے۔ اس کو نظر انداز کرنے کا ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ کہ زرتشت اور صبائیت کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر مذہب کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرنا۔

زرتشت مذہب اور  ابراہیمی مذاہب کے درمیان بہت سے فرق بھی ہیں جن کو ملحد محققین سراسر نظر انداز کرتے ہیں۔ زرتشت ثنویت کا قائل تھا۔ اس کا دعوی تھا کہ کائنات میں دو طاقتیں (یا دو خدا) کارفرما ہیں۔ ایک اہورا مزدا (یزداں ) جو خالق اعلیٰ اور روح حق و صداقت ہے اور جسے نیک روحوں کی امداد و اعانت حاصل ہے۔ اور دوسری اہرمن جو بدی، جھوٹ اور تباہی کی طاقت ہے۔ اس کی مدد بد روحیں کرتی ہیں۔ ان دونوں طاقتوں یا خداؤں کی ازل سے کشمکش چلی آرہی ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ [13] جب کہ ابراہیمی مذاہب میں صرف ایک خدا ہے دو نہیں۔

  ملحد محققین مذہب کے بارے میں اس قدر حواس باختگی کا شکار ہیں کہ بعض بار وہ کہتے ہیں کہ ابراہیمی  مذاہب بابل سے نقل کیے گئے اور بعض اوقات وہ کہتے ہیں کہ ابراہیمی مذاہب زرتشت سے نقل کیے گئے تھے۔ ان کے بار بار تبدیل ہوتے بیانات اور کسی ثبوت کا موجود نہ ہونا ان کے دلوں میں موجود مذہب کے حوالے سے اندرونی تنازعات کو ظاہر کرتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیمی مذاہب کے بارے میں ان کے تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان کے لئے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں اور آج تک یہ ملحد محققین ثابت نہیں کر سکے کہ ابراہیمی مذاہب زرتشت سے نقل کیے گئے۔ اب تک ان کا یہ دعوٰی ایک الزام اور مفروضے کی حیثیت رکھتا ہے جس کو ثابت کرنے میں یہ سو سال سے ناکام ہیں بلکہ اگر تاریخی تجزیے کیے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ابراہیمی مذاہب زرتشت مذہب سے نقل نہیں کیے گئے بلکہ زرتشت مذہب ابراہیمی مذاہب سے متاثر ہوا۔

بلکہ ثبوت اصل میں اشارہ کرتے ہیں کہ زرتشت یہود کی بابل  پیدا نہیں ہوا تھا یہاں تک کہ یہود بابل میں قید کیے گئے۔کینیتھ بوا نے بیان کیا ہے کہ وہ 628-551 کے درمیان پیدا ہوا۔ [14] جب کہ بعض محققین کے مطابق وہ 570 سے 500 قبل مسیح کے درمیان اور بعض کے مطابق 660 سے 583 قبل مسیح کے درمیان پیدا ہوا۔ [15]

اگر یہ تاریخیں بھی نسبتا درست ہیں تو یہ ممکن ہے کہ یہودیت اور دیگر ابراہیمی مذاہب زرتشت سے نقل نہیں کیے گئے بلکہ یہ اصل میں زرتشت تھا جو بابل اور ایران میں مقیم یہودیوں کی تعلیمات سے متاثر ہوا۔ [8]حقیقت یہ ہے کہ یہود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور ان کو جو تعلیمات دی گئیں وہ اللٰہ تعالٰی کی طرف سے صدیوں کے عرصے میں پھیلائی گئیں جس کی حتمی شکل اسلام ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام زرتشت مذہب، یہودیت اور عیسائیت سے نقل شدہ مذہب نہیں بلکہ پہلے سے موجود ابراہیمی مذاہب کی اصلاح شدہ شکل ہے جو اللٰہ تعالٰی نے اپنے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بھیجی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ  زرتشت مذہب کی مقدس کتاب  (Avesta) کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 346-360ء   میں لکھی گئی حالانکہ اس کی ابتدائی کاپیاں 1200ء سے ہیں ۔  زرتشت عقائد کے بارے میں یونانی نژاد رومی مصنف پلوٹارک کے 46_120ء کے حوالے موجود ہیں۔ پلینی وہ پہلا پہلا فرد ہے جو زرتشت کا حوالہ دیتا ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد پیدا ہوا تھا۔ جو کچھ ہم زرتشت  کے بارے میں جانتے ہیں وہ کم از کم اس کی وفات کے 929 سال بعد لکھا گیا تھااور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اوستا میں موجود کونسی تعلیمات حقیقی طور پہ زرتشت سے ماخوذ ہیں۔ اگر ہم زرتشت کی پیدائش 583 ق۔م۔ میں مان لیں تو یہ اسے حضرت دانیال علیہ السلام کا ہمعصر کردے گی جو کہ اس وقت بابل کی قید میں دیگر یہود کے ساتھ تھے۔ اس سے یہ بالکل ممکن ہے کہ زرتشت بابل میں مقیم حضرت دانیال علیہ السلام کی تعلیمات سے متاثر ہوا ہو اور دوسری بات یہ کہ ملحد محققین کیسے کہ سکتے ہیں کہ ابراہیمی مذاہب زرتشت مذہب سے نقل کیے گئے جب کہ زرتشت مذہب کی مذہبی کتاب اوستا کا پہلا نسخہ چوتھی صدی عیسوی میں مرتب کیا گیا جب کہ عبرانی بائبل چھٹی صدی قبل مسیح میں یعنی زرتشت مذہب کی مقدس کتاب اوستا سے نو سو سال پہلے مرتب ہوچکی تھی۔ اب کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ابراہیمی مذاہب نے زرتشت مذہب کی نقل کی جب کہ ان کی مقدس کتاب زرتشت مذہب کی مقدس کتاب سے پہلے ہی مرتب ہوچکی تھی۔ لہذا ابراہیمی مذاہب نے زرتشت کی نقل نہیں کی بلکہ زرتشت مذہب ابراہیمی مذاہب کی نقل کی اور ان کی تعلیمات کو اپنایا۔

 اگرچہ وہ دعوی کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے Avesta لکھا تھا۔  ,10 صدی قبل مسیح  ,یہ زلزلے سے 1000 کروڑ سے 583 ق۔م۔ سے زائد باشندے پر ایمان لانے کے لئے یہ مضحکہ خیز ہے کہ زراسٹر 400 سال کی عمر میں زراسٹر بنائے گا۔ لیکن اگر وہ 583 ق۔م۔ میں وفات ہوئیں تو پھر نبی کریم ایس ایس کے پاس عصر حاضر تھے جو بابل میں رہتے تھے۔  ,چیز یہ ہے کہ اس کی تعلیمات اور پیشن گوئیوں کے اثرات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا تھا۔ زراسٹر کے بارے میں کہانیوں کے بارے میں بہت سی باتیں بھی اسی طرح ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ ڈینیل کا سب سے قدیم حوالہ  ,ڈینیل زندہ رہتا تھا جب دو سو سال کا۔  ,کیا یہ احساس نہیں ہے کہ زراسٹر کی بنیاد پر ڈینیل پر مبنی تھا، اور دوسرا راستہ نہیں ؟  ,یہ یقینی طور پر ممکن ہے کہ بابل نے اسرائیل کو فتح کیا، بابل کے مذہب کے ساتھ رابطے میں توحید لانا۔  ,بابیلونیوں نے صہیونی پارسیوں کی طرف سے ختم کردیئے گئے تھے، جو اس کے بعد نیومیٹیوٹک یہودیوں کے ساتھ رابطے میں لے آئے تھے۔  ,یہودیوں کے ساتھ فارسی رابطے کے بعد فارسوں نے اخلاقیات بنائی۔  ,ہم یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ زراعت پسندی کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ آج بابل میں یہودیوں کی یہودی قیدی کے وقت بھی وجود میں آیا تھا، لہذا، یہ نہیں سمجھتا کہ زراعت پسندوں کے ارتکاب عناصر ڈینیل سے آیا اور نہ ہی دوسرے راستے میں ؟

بہت سے ملحدین دعوٰی کرتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کی عیسائیت اور اسلامی کہانیاں زرتشت پر مبنی ہیں، (مثال کے طور پر: ایک دریا میں غسل لینا، ایک کنواری سے پیدا ہونا تھا، ایک نوجوان کے طور پر اپنی حکمت کے لئے مشہور ہونا، شیطان کی طرف سے آزمائشی، عمر میں وزارت شروع  ,اندھوں کو بینا کرنا، جنت اور جہنم پر منسلک تعلیمات کی تبلیغ کرنا، شہید ہونا یا دوبارہ دنیا میں وارد ہونا تاہم زرتشت پہ مبنی یہ کہانیاں 346-360 ء میں لکھی گئی تھیں یعنی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے ساڑھے تین سو سال بعد جب کہ یہ ابراہیمی مذاہب میں پہلے سے موجود تھیں، اور ان میں سے کچھ مماثلتیں تو ایسی ہیں جن کے بارے  میں سے بہت سے محققین کا خیال ہے کہ وہ کم از کم 1000 ء تک زرتشت مذہب کی کتابوں میں عام نہیں تھیں۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ زرتشت مذہب نے ان تصورات کو عیسائیت اور اسلام سے نقل کیا۔ [9]

یہ تمام تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ ابراہیمی مذاہب زرتشت سے نقل نہیں کیے گئے بلکہ زرتشت نے ابراہیمی مذاہب کی نقل کی۔ لہذاٰ یہ الزام کہ ابراہیمی مذاہب کا ایک خدا، شیطان، جنت جہنم اور پانچ نمازوں کا تصور ایران اور مجوسیت یعنی زرتشت مذہب سے نقل کیا گیا، ایک جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جس کو علی عباس جلال پوری جیسے جاہل مشرقی و مغربی مصنفین نے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہ تاریخی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے جس پہ معافی طلبی لازمی ہے۔
ھذا ما عندی۔ واللٰہ اعلم بالصواب۔ الحمدللٰہ

حوالہ جات:

1:”Zarathushtra’s Philosophy : Basic Overview”۔Zarathushtra۔com۔ Retrieved 2017-06-14
2:Boyce 1979, pp۔ 6–12۔
3:Foltz 2013, pp۔ 10–18
4:Patrick Karl O’Brien, ed۔ Atlas of World History, concise edn۔ (NY: Oxford UP, 2002), 45۔
5:Boyce (1979), p۔ 19
6:Singhal, K۔ C; Gupta, Roshan۔ The Ancient History of India, Vedic Period: A New Interpretation۔ Atlantic Publishers and Distributors۔ ISBN 8126902868۔ P۔ 150۔
7:http://www۔jewishencyclopedia۔com/articles/15283-zoroastrianism
8:https://probe۔org/did-christianity-really-come-from-zoroastrianism/
9:http://willyminnix۔blogspot۔com/2012/12/why-i-think-daniel-predated-zoroaster۔html
10:Karmin; et al۔ (2015)۔ "A recent bottleneck of Y chromosome diversity coincides with a global change in culture”۔ Genome Research۔ 25 (4): 459–66۔doi:10۔1101/gr۔186684۔114۔ PMC 4381518  ۔PMID 25770088۔
11:https://www۔newscientist۔com/article/mg23231014-700-deepest-water-found-1000km-down-a-third-of-way-to-earths-core/
12:https://www۔smithsonianmag۔com/smart-news/there-may-be-second-massive-ocean-deep-beneath-surface-180950090/
:https://www۔livescience۔com/46292-hidden-ocean-locked-in-earth-mantle۔html
13:https://ur۔m۔wikipedia۔org/wiki/%D8%B2%D8%B1%D8%AA%D8%B4%D8%AA
14:Cults, World Religions and the Occult [Illinois: Victor Books, 1990], 45
15:W۔S۔ Lasor, “Zoroastrianism,” in Evangelical Dictionary of Theology, ed۔ Walter Elwell [Michigan: Baker Book House, 1984], 1202

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close