دعوتمذہب

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟(پارٹ-3)

ادریس آزاد

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ نئی نسل ہمیشہ پرانی نسل کے مقابلے میں تھوڑی سی باغی ہوتی ہے۔ اور ہمیشہ نئی نسل کی بغاوت میں پائی جانے والی قوت اور بزرگوں کی نافذ کردہ اقدار میں پائی جانے والی قوت کا تناسب اُس تصادم کے نتائج مرتب کرتاہے جو دونوں نسلوں کے درمیان پایا جاتاہے۔

نئی نسل کے پاس صرف ’’جذبہ‘‘ جبکہ پرانی نسل کے پاس، عقل، علم اور تجربہ کی طاقت ہوتی ہے اس لیے یہ تصادم زیادہ تر بزرگوں کی فتح کی صورت میں انجام پاتاہے۔ پرانی نسل کے پاس جذبے کی شدید کمی ہوتی ہے اس لیے وہ ویمپائرز کی طرح تازہ خُون کی تلاش میں رہتے اور اِس طرح اپنے خوفناک قدامت پسندانہ نظام اور اقدار کو زندہ رکھتے ہیں۔ جب بُری رسمیں تیسری نسل کے بزرگوں کو منتقل ہوجائیں تو ان میں شدت اور سختی بڑھ جاتی ہے، افترأ کی رفتار مزید تیز ہوجاتی ہےا ور معاشرہ اپنی زندگی کے آخری دن گننے لگتاہے۔

ایسے میں اگر کوئی ریفارمر پیدا ہوجائے تو مرتاہوا معاشرہ پھر سے انگڑائی لیتاہے۔ کبھی دوبارہ زندہ ہوجاتاہے تو کبھی نہیں ہوپاتا۔ اس کا تعلق ریفارمر کی اپنی شخصیت اور کردار کی قوت،اور اس کے ساتھ شامل ہوجانے والی نئی نسل کے تازہ لہُو کی مقدار کے ساتھ ہے۔ کوئی ریفارمر جتنی پُراثر شخصیت اور اعلیٰ کردار کا مالک ہوتاہے، نئی نسل اتنی زیادہ شدت کے ساتھ اس کے پیچھے چلتی ہے۔ اگر وہ نئی نسل کےدلوں میں اپنے لیے محبت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائے تو نئی نسل اس کے لیے جانوں کے نذرانے بصد شوق پیش کرنے کو تیار ہوجاتی ہے۔ کیونکہ نئی نسل ہمیشہ، ہرحال میں اپنے بزرگوں کی متشدد اقدار سے دل ہی دل میں نفرت کرتی اور ان سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے۔

ریفامر کون ہوتاہے؟

ریفارمر وہ شخص ہوسکتاہے جس پر ’’انکار کا فرمان‘‘ نازل ہوتاہے۔

اپنے وقت کے لات و منات و عزی و ہبل سے انکارکا فرمان۔ اپنے وقت کے بزرگوں کی اقدار سے انکار کا فرمان۔ مدتوں سے رُکے اجتہاد کی وجہ سے بڑھ جانے والے افترأ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہوجانے والی بُری رسموں سے انکار کا فرمان۔ ویسے تو ہرنئی نسل میں ’’انکار کی وحی‘‘ موجود ہوتی ہے لیکن ان میں سے کوئی ریفارمر، جلد اس لیے پیدا نہیں ہوپاتا کہ تنہا جذبات ریفارمیشن کا عمل انجام نہیں دے سکتے۔ جذبات کو کسی عقل کے اتباع کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ہرکس و ناکس، عاقل کی عقل نوجوانوں کو تحریکوں کے لیے آمادہ نہیں کرسکتی۔ کسی بھی ریفارمر کے لیے پرکشش شخصیت، اعلیٰ کردار اور دلنواز سخن کا مالک ہونا ضروری ہے۔

کسی معاشرے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نئی نسل کی ’’قوتِ انکار‘‘، پرانی نسل کی ’’قوتِ اصرار‘‘ کے برابر ہو۔ تناسب یہ ہے کہ اگر کوئی معاشرہ زیادہ قدیم اقدار کا مارا ہوا ہوگا تو نئی نسل کو زیادہ قوتِ انکار کی ضرورت ہوگی۔ اگرکوئی معاشرہ زیادہ قدیم اور دقیانوسی نہ ہوگا تو نئی نسلوں کو کم ’’قوتِ انکار‘‘ کی ضرورت ہوگی۔ غرض یہ الحاد اور انکار کی روش ہی ہے جو کسی بھی معاشرے میں اجتہاد کے دروازے کھلے رکھ سکتی ہے۔

جب ہم کسی معاشرے میں بری رسموں کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اس معاشرے کی ثقافت یعنی کلچر کی بات کرتے ہیں۔ اب چونکہ کسی بھی کلچر کا سب سے بڑا حصہ اُس کا مذہب ہوتاہے سو بُری رسمیں سب سے زیادہ مذہب کے راستے سے داخل ہوتی ہیں۔ گزشتہ بارہ ربیع الاول پرپاکستان کے کئی شہروں میں لوگوں نے رسول ِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی سالگرہ کے کیک کاٹے۔ ان میں سے بعض کیک کئی کئی من وزنی اور کئی فُٹ لمبے چوڑے تیار کیے گئے تھے۔ تب مجھے نہ جانے کیوں وہ یونانی بُت یاد آگیا جو سَتُو کا بنا ہوا تھا۔ اور جب اُس قوم پر قحط آیا تو وہ اپنے خدا کو ہی کھاگئے۔مدنی چینل پر نت نئی ’’اضافہ ہوتی ہوئی‘‘ رسمیں ہم روز دیکھتےہیں۔ دیگر ٹی وی چینلز پر باہر سے درآمد شدہ رسموں کا سُونامی ہمہ وقت ہمارے معاشرے کے ’’ بَند‘‘ ڈھاتا رہتاہے۔

زندہ انسانوں کو بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ارتقأ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اجتہاد رُکا رہیگا تو افترأ تو ہوگا۔ تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔

اجتہاد نہ سہی تو افترأ سہی۔ کیونکہ معاشرہ سانس لیتے ہوئے، جیتے جاگتے، زندہ جسموں کا مجموعہ ہوتاہے۔اب چونکہ اجتہاد صرف سمجھدار لوگوں کا کام ہے اس لیے ضروری ہوجاتاہے کہ معاشرے میں سمجھدار لوگ موجود ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا کہ تمام تر سمجھدار لوگ تیسری نسل سے پہلی نسل میں منتقل ہوچکے ہیں اور ان کے سامنے اقدار کے تحفظ کے سوا کوئی مقصد موجود نہیں اس لیے وہ نئی نسل کی طرف سے سامنے آنے والی تبدیلیوں کو ناپسندیدگی سے دیکھتے ہیں۔

وہ تبدیلیاں چونکہ کسی دانا اور سمجھدار کی طرف سے نہیں ہیں اس لیے ان پر عقلی اعتراضات بھی جلد وارد ہوسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کی ہر کھیپ جلد دوسری اور پھر پہلی نسل میں تبدیل ہوکر خود اسی کام پر مامور ہوجاتی ہے جس کے، خلاف ہوا کرتی تھی۔اور اِس لیے نئی نسل کی طرف سے وارد ہونے والی تبدیلیوں کو کم قبولیت مل پاتی ہے بنسبت مذہب کے راستے سے داخل ہونے والی بُری رسموں کے۔ کیونکہ مذہب کے راستے سے داخل ہونے والی اکثر بری رسموں میں بزرگوں کا کردار ہوتاہے، اس لیے ان کے خلاف صدائے احتجاج کم کم سنائی دیتی ہے۔

چنانچہ مذہب کے راستے سےکسی معاشرے میں داخل ہونے والی بُری رسموں کا مقابلہ صرف کوئی ایسا شخص ہی کرسکتاہے جو خود نئی نسل کا نمائندہ ہو۔ اس کے پاس اجتہاد کی طاقت ہو۔ وہ بری اور اچھی رسموں کا فرق پہنچانتاہو اور وہ پرانی نسل کی رسوم بالخصوص مذہبی رسوم (اور خداؤں) کا انکار کرسکے۔ایسا کوئی شخص اگر کامیاب ہوجائے تو ایک بار پوری سوسائٹی بدل جاتی ہے۔بہت سارے بُت ٹوٹ جاتے ہیں۔ فضول چیزوں میں سے سے تقدس کا عنصر ختم ہوجاتاہے۔

غالباً جوش ملیح آبادی نے کہا تھا، اوہام کا رباب، قدامت کا ارغنوں فرسودگی کا سحر، روایات کا فسُوں اقوال کا مراق، حکایات کا جنُوں رسم و رواج و صحبت و میراث و نسل و خُوں افسوس یہ وہ حلقۂ دام ِ خیال ہے جس سے بڑے بڑوں کا نکلنا محال ہے۔ تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ قوموں میں ریفارمرز دو طرح کے وارد ہوتے رہے ہیں،

۱۔ وہ لوگ جوکسی معاشرے میں ریفارمیشن کے لیے اُٹھے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک بڑی عقل (وحی) ہے جو اُن کی رہنمائی کررہی ہے۔

۲۔وہ لوگ، جو کسی معاشرے میں ریفارمیشن کے لیے خود اُٹھے اور انہوں نے کسی بھی قسم کی

’’خدائی نصیحت‘‘ یعنی ’’وحی‘‘ کا دعویٰ نہ کیا۔

پہلی قسم کے لوگ ماضی میں زیادہ پائے جاتے تھےجبکہ دوسری قسم کے لوگ ابھی بھی کبھی کبھار نظر آجاتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگوں میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا ریفارمر نظر نہیں آتا جس نے ’’ڈیوائن گائیڈینس ‘‘ کا دعویٰ بھی کیاہو اور کسی معاشرے کو فی الواقعہ ریفارم بھی کیا ہو۔

ایران کی بعض تحریکیں مثلاً اسماعیلیہ یا بہائی تحریک یا ہندوستان میں گُرونانک وغیرہ کی تحریک کو ہم ریفارمیشنز کی تحریکیں تو کہہ سکتے ہیں

لیکن ان تحریکوں کے بانیوں نے ’’ڈیوائن گائیڈینس‘‘ کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ پہلے سے موجود ’’ڈیوائن گائیڈینس‘‘ میں تبدیلی کو ترجیح دی۔ یعنی وہ کام کیا جو کسی مجتہد یا مجدد کو کرنا ہوتاہے، یہ الگ بات ہے کہ کوئی مجتہد یا مجدد ریفارمیشن کا کام ہی اس طرح انجام دے کہ بجائے معاشرے کو زندہ کرنے کے اسے ایک نئے معاشرے میں بدل دے، جیسا گرُونانک نے کیا۔

البتہ مرزا غلام احمد صاحب نے ’’ڈیوائن گائیڈینس‘‘ کا دعویٰ تو کیا لیکن اُن کے دعوے کے عملی اطلاق پر گواہ موجود نہیں تھے یعنی وہ جس کمیونٹی کی ریفارمیشن کے لیے ڈیوائن گائیڈینس کا دعویٰ کررہےتھے وہ کمیونٹی ہی دستیاب نہ تھی۔ اس لیے ان کا دعویٰ ’’وحی‘‘ کے تجربہ سے اُس طرح نہ گزرسکا جس طرح ایک سائنسی مواد کےلیے گزرنا لازمی امر ہے۔ ہم اِس اُصول کا اُوپر تفصیلی جائزہ لے چکے ہیں، جسے میں ’’توھّم میں تکرار‘‘ کا اصول کہتاہوں۔غرض مرزا صاحب کچھ ریفارم نہ کرپائے۔چونکہ کسی بھی ریفارمر کا اصل مقصد معاشرے سے بری رسوم کا خاتمہ ہوتاہے چاہے وہ ریفارمر کارل مارکس ہو یا کوئی نبی، فلہذا اِس اصول کے تحت مرزا صاحب ایک ریفارمر کے کرائیٹیریا پر پورے اُترنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ اپنے معاشرے کی بُری رسموں کو ختم نہیں کرسکے اس کے برعکس ایک اور فرقے کا اضافہ ہوجانے سے اُمت ِ مسلمہ مزید تقسیم ہوگئی اور یوں گویا الٹا تفرقہ بازی کی رسم کو بڑھاوا ملا۔

یہ تو تھا پہلی قسم کے ریفارمزز کا ذکر یعنی اُن لوگوں کا ذکر جو یہ دعویٰ کرتےہیں کہ ان کے پاس ڈیوائن گائیڈینش ہے اور دوسری یہ شرط کہ وہ کسی معاشرے میں موجود بُری رسموں کو ختم کرکے نئی اور شفاف روایات کا آغاز کرتے ہیں۔

دوسری قسم کے ریفارمرز جو ’’ڈیوائن گائیڈینس‘‘ کا دعویٰ نہیں کرتے ان میں کئی نام ہیں لیکن سب سے بڑانام بلاشبہ ’’کارل مارکس‘‘ کا ہے۔ کیونکہ بڑے پیمانے پر ریفارمیشن کا عمل مارکس کی کوششوں کے بعد ہی ممکن ہوا جبکہ مارکس کسی قسم کی ’’وحی‘‘ کا دعوے دار نہیں تھا۔

مارکس کی اِسی خصوصیت کی وجہ سے اقبال نے یہ شعر کہا تھا،

وہ کلیم ِ بے تجلّی، وہ مسیح ِ بے صلیب
نیست پیغبر ولیکن دربغل دارد کتاب

یعنی اقبال کے بقول مارکس کی دعوت میں بھی پیغمبرانہ رمق پائی جاتی ہے۔ وہ پیغمبر نہیں ہے لیکن اس کے پاس کتاب ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ’’مارکس‘‘ ملحد تھا۔ مارکس خدا کو نہیں مانتا تھا۔ وہ مذہب کو ’’عوام کے لیے افیون‘‘ کہتاتھا۔ خیر! بات لمبی ہوگئی۔ اس ساری گفتگوسے میری مراد فقط اتنا ثابت کرناہے کہ انکار کی روایت یعنی ملحدانہ نظریات، تصورِ خدا کی تخلیص کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں جو سب سے پہلے کسی نہ کسی ریفارمر کی بدولت معاشرے میں داخل ہوتے ہیں اور ضرور معاشرے میں پہلے سے موجود خداؤں کے انکار پر منتج ہوتے ہیں۔

پھر چاہے وہ خدا لات و منات و عزی و ہبل ہوں یا بدترین مادیت پسندی۔ یہ ان خداؤں کے انکاری یعنی ملحدین ہی ہوتے ہیں جو بزرگوں کے خلاف علم ِ بغاوت بلند کرتے اور بزرگوں کے خداؤں کا انکار کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close