فقہمذہب

کیا عشرہ ذی الحجہ میں بال وناخن وغیرہ نہ کاٹنے کا حکم قربانی نہ کرنے والوں کے لئے بھی ہے؟

مفتی شكيل منصور القاسمي

جو شخص واجب یا نفل قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لئے حنفیہ کے نزدیک مستحب وبہتر یہ ہے کہ ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے قربانی کرلینے تک اپنے ناخن، سر، بغل، ناف کے نیچے والا یا بدن کے کسی بھی حصہ کا بال نہ کاٹیں، قربانی کرلینے کے بعد کاٹیں بشرطیکہ انہیں کاٹے ہوئے چالیس دن نہ گزرے ہوں، ورنہ کاٹنا واجب و ضروری ہوگا  (قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: … فھذا محمول علی الندب دون الوجوب بالاجماع … و نہایتہ ما دون الأربعین فلا یباح فوقھا (الشامیة ٢ / ١٨١ )

من أراد أن يضحي أو يضحى عنه فلا يأخذ من شعره ولا من ظفره ولا من بشرته شيئاً حتى يضحي أو يضحى عنه

أخرجه مسلم في كتاب الأضاحي، باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو مريد التضحية أن يأخذ من شعره أو أظفاره شيئاً، برقم 3656.

ایک اور حدیث میں ہے :

إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ۔ (صحیح مسلم:1977)

 جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو اُسے (قربانی کرنے تک )اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے احترازکرنا چاہیئے۔

ایک اور روایت میں ہے :

مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ۔(صحیح مسلم:1977)

 جس کو جانور ذبح کرنا ہو تو وہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کےبعد اپنے بال اور ناخ کو قربانی ہونے تک نہ کاٹے۔

أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ، فَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلا يَمَسَّنَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلا مِنْ بَشَرِهِ شَيْئًا» .(مسند الشافعي 503 ، سنن الدارمي1865، سنن النسأي4377 )

 ان تمام حادیث میں صراحت ہے کہ بال ناخن نہ کاٹنے کا استحباب صرف قربانی کرنے والے کے لئے ہے اور یہ حکم بھی صرف استحباب کے درجہ کا ہے

ناخن وبال کاٹنا حنفیہ کے نزدیک ذی الحجہ میں بھی جائز ہے۔ لیکن خلاف اولی وافضل ہے۔

امام احمد بن حنبل کے نزدیک مضحی کے لئے بال وناخن کاٹنا حرام ہے۔

امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک مضحی کے لئے قربانی کرنے سے پہلے بال وناخن کاٹنا       مکروہ تنزیہی ہے۔

امام ابو حنیفہ کے نزدیک  نہ کاٹنا مستحب ہے۔(مرقاۃ : 3/1081)

علامہ شامی لکھتے ہیں کہ فقہائے احناف کا مسلک اس بارے میں استحباب کا ہے، اِباحت کا نہیں، لہٰذا بعض شرّاحِ حدیث نے احناف کا جو مسلک ”مباح ہونا“ ذکر کیا ہے وہ درست نہیں۔ (رد المحتار : 2/181) (تکملہ فتح الملہم : 3/585)

علامہ ظفر احمد عثمانی لکھتے ہیں :

أقول: نہی النبی ﷺ من أراد التضحیۃ عن قلم الأظفار و قص الشعر فی العشر الأول، والنہی محمول عندنا علی خلاف الأولیٰ۔ (إعلاء السنن، باب ما یندب للمضحی فی عشر ذی الحجۃ، کراچی ۱۷/۲۶۸، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۷/۲۹۱، تحت رقم الحدیث ۵۶۰۱)

وقال الشامی: بعد نقل ہذا الحدیث: ہذا محمول علی الندب دون الوجوب بالإجماع۔ (شامی، باب العیدین، مطلب: فی إزالۃ الشعر والظفر فی ذی الحجہ  )

قربانی کرنے والوں کے لئے بال وناخن وغیرہ کٹوانے سے اجتناب کا حکم تشبہ بالحجاج کی وجہ سے ہے

کیونکہ حجاج بھی بحالتِ احرام یہ کام نہیں کرتے۔ اسی لئے گھر بیٹھے قربانی کرنے والے حضرات کے لئے بھی یہ استحبابی حکم دیا گیا کہ وہ بھی حجاج کی مشابہت میں بال وناخن وغیرہ نہ کاٹیں۔

کیونکہ قربانی کرنا اصل میں قربانی  کرنے والے کی جان کا فدیہ ہوتا ہے، پس ناخن وغیرہ کاٹنے سے روکا گیا تاکہ تمام اجزاء کے ساتھ فدیہ ہو۔اور قربانی کرلینے کے بعد (چاہے پہلے دن کریں یا دوسرے یا تیسرے دن ) بال وناخن وغیرہ کٹوائیں۔ (مرقاۃ المفاتیح : 3/1081)(تکملہ فتح الملہم : 3/586)

جو حضرات قربانی نہ کریں یعنی جن پہ قربانی واجب نہ ہو ان کے لئے بال وناخن سے متعلق یہ استحبابی ممانعت نہیں ہے

یعنی ان کے لئے ان چیزوں کے کاٹنے سے اجتناب مستحب نہیں ہوگا ؛ کیونکہ علت استحباب  مفقود ہے ( جانور کی قربانی کا جسم سمیت بال وناخن کی طرف سے بھی فدیہ ہونا )

ہاں اگر وہ بھی بال ناخن کاٹنے سے پر ہیز کریں اور قربانی کرنے والوں کی مشابہت اختیار کریں

تو مشابہت کی وجہ سے ممکن ہے انہیں کچھ ثواب مل جائے

تاہم اصلا ان کے لئے کوئی استحبابی فضیلت ثابت نہیں :  (احسن الفتاوی : 7/497)

بعض حضرات قربانی نہ کرنے والوں کے لئے بھی بال وناخن وغیرہ سے اجتناب کو اسی طرح مستحب کہتے ہیں جیسے قربانی کرنے والوں کے لئے مستحب ہے

اور استدلال میں :

سنن النسأئی : 4365

سنن ابي دائود : 2789

مسند احمد :       6539

کی یہ روایت پیش کرتے ہیں :

  أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَذَكَرَ آخَرِينَ: عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ»، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» سنن النسائی 4365

(حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت هے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا مجهے یوم الاضحی کو عید کا حکم دیا گیا هے اسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے مقرر فرمایا هے ایک آدمی نے عرض کیا آپ مجهے بتلایئں کہ اگر میں قربانی کے لیے مونث دوده دینے والی بکری کے سوا نہ پاوں تو کیا اس کی قربانی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن تم اپنے بال اور ناخن تراش لینا اور اپنی مونچهیں کاٹنا اللہ تعالیٰ کے هاں تیری یہ مکمل قربانی هو جاے گی)

اس حدیث سے یہ حضرات استدلال کرتے ہیں کہ قربانی نہ کرنے والے بھی قربانی کے بعد ہی بال وناخن وغیرہ کٹوائیں ‘

حالانکہ حدیث مذکور کا یہ معنی نکالنا بالکل ہی غلط وناقص ہے

اس حدیث کا مفاد ومفہوم صرف اس قدر ہے کہ جس شخص کو قربانی نہیں کرنی ہے اس پر یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ ان دس دنوں میں ناخن وغیرہ نہ کاٹیں  خواہ اس نے مثلا پانچ ذو الحجہ کو ہی ناخن کاٹے ہوں ‘ لیکن دس کو دوبارہ کاٹ لے تو اسے قربانی کا ثواب مل جائے گا۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ دس سے پہلے رکے رہیں اور قربانی کے بعد کٹوائیں !

اور جس شخص کو قربانی کرنی ہے اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ قربانی کے بعد بال وغیرہ کٹوائے ‘ اگر چاہتا ہے تو کاٹ لے وگرنہ اس پر پابندی نہیں ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قربانی نہ کرنے والے شخص کو بال وناخن وغیرہ کٹوانے سے اجتناب کی ممانعت کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ یہ ممانعت استحبابی صرف قربانی کرنے والوں کے لئے ہے۔

ہاں اگر غریب شخص قربانی کا اجر وثواب حاصل کرنے کا خواہاں ہو تو اسے چاہیے کہ بقرعید کے روز اپنے بال وناخن وغیرہ تشبہ بالمضحین میں کاٹ چھانٹ لے، چاہے وہ یکم ذی الحجہ تا دس ذی الحجہ اپنا وغیرہ کاٹ چکے ہوں !

ممکن ہے اس تشبہ بالمضحین کی کی وجہ سے اللہ انہیں بھی 《 فَلا يَمَسَّنَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلا مِنْ بَشَرِهِ شَيْئًا》 پر عمل کے ثواب میں شریک کرلیں، جیسے مضحی کو محرم بالحج سے تشبہ کی وجہ سے شریک ثواب کردیئے ہیں، لیکن غیر مضحی کے لئے بال وناخن وغیرہ سے اجتناب کا یہ حکم استحبابی نہیں ہے۔ فافھم !

واللہ اعلم بالصواب

مزید دکھائیں

مفتی شکیل منصور القاسمی

مضمون نگار کا تعلق سیدپور، بیگوسرائے، بہارسے ہے۔ جنوب امریکہ میں سات سالوں سے مقیم ہیں اور شیخ الحدیث اور صدر مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close