قرآنیاتمذہب

کیا قرآن کو سمجھے بغیر پڑھنے پر ثواب ملے گا؟

سمجھے بغیر بھی کلام الٰہی کا اپنا فیض ہے۔ اس کی اپنی روحانی تاثیر ہے، جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ کے کلام کو دوسری کتابوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

کیا قرآن کو سمجھے بغیر پڑھنے پر ثواب ملے گا؟

ایک سوال، کئی جواب

جواب 1:

” بغیر سمجھے قرآن پڑھنے سے ثواب نہیں ملے گا۔ عرفِ عام میں ‘پڑھنے’ کا مطلب سمجھ کر پڑھنا ہی ہوتا ہے، بے سمجھے پڑھنا نہیں ہوتا۔ کسی بھی زبان میں ‘پڑھنے’ کے معنی میں ‘سمجھنا’ بھی شامل ھوتا ھے۔ یہ تو برِّ صغیر میں غیر عربی داں لوگوں نے قرآن کے پڑھنے اور سمجھنے کو الگ الگ کر رکھا ہے، ورنہ کسی بھی زبان میں جب ‘پڑھنا’ کہا جاتا ھے تو اس سے مراد کبھی بغیر سمجھے پڑھنا نہیں ھوتا۔”

جواب 2:

” قرآن کو بے سمجھے پڑھنا ایک مخصوص صورتِ حال ہے، جس کے بارے میں ثواب ملنے یا نہ ملنے کا علم بس اللہ کو ہے۔ جن لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن پڑھنے پر ثواب کی خوش خبری سنائی تھی وہ سب سمجھ کر پڑھنے والے ہی تھے۔ قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنا ایک  غیر مطلوب صورتِ حال ہے۔ "

جواب 3:

” ہم یہ کہیں گے کہ تلاوتِ قرآن سے ثواب ملتا ہے۔ اس تفصیل کے بغیر کہ بنا سمجھے تلاوت سے کیا ملتا ہے اور کیا نہیں ملتا ہے؟”

جواب 4:

"سمجھے بغیر بھی کلام الٰہی کا اپنا فیض ہے۔ اس کی اپنی روحانی تاثیر ہے، جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ کے کلام کو دوسری کتابوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ قرآن کے صرف متن کی تلاوت کو، دیگر اجنبی زبانوں کی کتابوں کی خواندگی کی طرح بالکل بے فیض اور لاحاصل سمجھنا مناسب نہیں ہے۔

  لیکن ہر عبادت کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ جب ہم عبادت کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو مقصد کے ساتھ متوجہ کرتے ہیں ۔ اگر تذکیر، ہدایت، انذار، تبشیر، تدبر، وغیرہ قرآن کے مقاصد ہیں تو یہ مقاصد اسے سمجھے بغیر کیسے حاصل ہوسکتے ہیں ؟ ہر شخص عربی سیکھے، نہ شریعت نے اس کا مکلّف کیا ہے اور نہ یہ عملاً ممکن ہے، لیکن آج کے دور میں ہر وہ شخص جو عربی متن کی تلاوت کرسکتا ہے وہ آسانی سے ترجمہ بھی پڑھ سکتا ہے۔ اس لئے عوام کو ہمیں یہی مشورہ دینا چاہیے کہ وہ قرآن کا متن اور ترجمہ دونوں پڑھیں ۔ یہی تلاوت کا حقیقی  اور مکمل مطلب ہے۔  ترجمہ پڑھنا ایسا مشکل عمل نہیں ہے کہ اس پر زور دینے سے لوگ تلاوت ہی چھوڑ دیں گے۔  اب اگر کوئی بغیر سمجھے صرف متنِ قرآن پڑھتا ہے، یا صرف ترجمہ پڑھتا ہے تو یہ عمل بہر حال ناقص اور نامکمل عمل ہے۔ ثواب دینا یا نہ دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن ہمارے لئے ایسے نامکمل عمل کی ترویج اور اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ "

جواب 5:

  ” قرآن مجید کو بغیر سمجھے پڑھنا بھی باعثِ ثواب ہے۔ جو شخص قرآن کو بغیر سمجھے پڑھے گا وہ بھی اجر پائے گا، لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔ اسے سمجھ کر پڑھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنا، اس میں غور و فکر کرنا اور اس کے معانی کی گہرائی میں جانا بہت زیادہ باعثِ اجر ہے۔ اس کی وجہ سے اگر کوئی شخص قرآن کی تلاوت کم کرپاتا ہے تو اس کو اس آدمی کے مقابلے میں زیادہ اجر ملے گا جس نے بغیر سمجھے قرآن ختم کر لیا ہو۔  "

تبصرہ:

 میرے نزدیک جواب 5 درست ہے۔  اس میں اصل سوال کا متعیّن جواب دیا گیا ہے۔ اس جواب میں کہا گیا ہے کہ احادیث کی روشنی میں قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا مطلوب ہے۔ اس میں قرآن نہ سمجھ کر پڑھنے کے مقابلے میں سمجھ کر پڑھنے کو زیادہ باعثِ اجر کہا گیا ہے، لیکن بے سمجھے پڑھنے والوں کو اجر و ثواب سے بالکلیہ محروم نہیں کیا گیا  ہے۔

دیگر جوابات یا تو صحیح نہیں ہیں ، یا ان میں اصل سوال کا جواب متعیّن طور پر نہیں دیا گیا ہے، یا جو کچھ کہا گیا ہے وہ سائل کو مطمئن کرنے والا نہیں ہے، یا وہ باتیں کہی گئی ہیں وہ اپنی جگہ درست ہیں ، لیکن سوال سے متعلّق نہیں ہیں ۔

* یہ کہنا کہ قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنے کا کوئی ثواب نہیں ، درست نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے:  ” قرآن کے ہر حرف پر ایک نیکی ہے۔ میں نہیں کہتا کہ ‘الم’ ایک حرف ہے، بلکہ ‘الف’ ایک حرف ہے، ‘لام’ ایک حرف ہے اور ‘میم’ ایک حرف ہے”۔ (ترمذی :2910)  اس حدیث میں ایک عمومی بات کہی گئی ہے، سمجھ کر پڑھنے یا بے سمجھے پڑھنے کی تفریق نہیں کی گئی ہے۔ یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ثواب صرف سمجھ کر پڑھنے کی صورت میں ملے گا، بے سمجھے پڑھنے پر نہیں ملے گا، اس لیے ثواب کو صرف سمجھ کر قرآن پڑھنے میں محصور کردینا صحیح نہیں ۔ یہ کہنا کہ عرف عام میں ‘پڑھنے’ کا مطلب سمجھ کر پڑھنا ہی ہوتا ہے، بے سمجھے پڑھنا نہیں ہوتا، یہ بھی درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ احادیث میں سمجھ کر پڑھنے اور نہ سمجھ کر پڑھنے، دونوں باتوں کو ذکر ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

’’لاَ یَفْقَہُ مَنْ قرأ القُرآنَ فِی أقلِّ مِن ثلاث‘‘۔(ابودائود: 4931۔ احمد: 5776)

(جو آدمی تین دن سے کم میں پورا قرآن پڑھے گا وہ قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔ ) قرآن کو نہ سمجھ کر پڑھنا پسندیدہ نہیں ، اسی لیے حدیث میں اس سے روکا گیا ہے، لیکن اس حدیث سے اس بات کی تردید ہوتی ہے کہ پڑھنے کا مطلب صرف سمجھ کر پڑھنا ہوتا ہے۔

* یہ کہنا کہ قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنے پر ثواب ملے گا یا نہیں ، اس کا علم صرف اللہ کو ہے، اصل سوال کا جواب دینے سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے۔ سائل جواب چاہتا ہے۔ بے سمجھے قرآن پڑھنے والے کو یا تو ثواب ملے گا یا نہیں ملے گا، کوئی ایک بات تو کہنی پڑے گی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں آگے یہ بھی ہے کہ ‘الم’ 3 حروف ہیں ، انھیں پڑھنے پر  3 حروف پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ‘ الم’ حروفّ مقطّعات میں سے ہیں اور حروفِ مقطّعات جمہورِ امت کے نزدیک ناقابلِ فہم ہیں ۔ یہ کہنا موزوں نہیں کہ حروفِ مقطعات کو ناقابلِ فہم سمجھ کر پڑھنا ہی مطلوب حالت ہے، اس لیے اسے نا مطلوب حالت (بغیر سمجھے قرآن پڑھنا) پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اس سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے کسی حصے کو بغیر سمجھے پڑھنے پر بھی ثواب مل سکتا ہے۔

* یہ تجویز کہ سوال کے جواب میں صرف یہ کہہ دیا جائے کہ تلاوتِ قرآن پر ثواب ملتا ہے۔ اس تفصیل میں نہ جایا جائے کہ یہ ثواب بنا سمجھے تلاوت کرنے پر ملتا ہے یا سمجھ کر تلاوت کرنے پر۔ دیکھا جائے تو یہ تجویز بھی دراصل اصل سوال کا جواب دینے سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ یا تو اس سوال کا جواب خود ہم پر واضح نہیں ہے، یا جو جواب ہم پر واضح ہے، کسی وجہ سے ہم اس کا اظہار کرنے کی اپنے اندر جرأت نہیں رکھتے۔

  *جواب 4 اصل سوال سے متعلق نہیں ہے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ بے سمجھے قرآن پڑھنے کا کوئی فایدہ ہے یا نہیں ؟ کیا یہ بے فیض اور لا حاصل عمل ہے؟ سوال یہ بھی نہیں تھا کہ نزولِ قرآن کا مقصد کیا ہے؟ اور کیا وہ مقصد اسے سمجھے بغیر حاصل ہو سکتا ہے ؟  سوال یہ تھا کہ کیا قرآن کو سمجھے بغیر پڑھنے پر ثواب ملے گا یا نہیں ؟ اس کا جواب واضح الفاظ میں دینے سے گریز کیا گیا ہے۔

* قرآن کو سمجھ کر پڑھنا مطلوب ہے۔ اس کے نزول کا مقصد یہی ہے کہ اس کی تعلیمات سے آگاہی حاصل کی جائے اور ان پر عمل کیا جائے۔ عوام کو اس کی طرف راغب کرنے کی تمام کوششیں قابلِ قدر ہیں ، لیکن کوئی ایسی بات کہی جائے کہ عوام قرآن سے قریب ہونے کے بجائے دور ہونے لگیں ، اس معاملے میں بہت احتیاط برتنی چاہیے۔ ہم جب سمجھے بغیر قرآن پڑھنے کو بے ثواب کہیں گے تو مجھے اندیشہ ہے کہ ہمارا یہ جواب لوگوں کو سمجھ کر قرآن پڑھنے کی طرف مائل کرنے کے بجائے انھیں بے سمجھے بھی پڑھنے سے روکنے والا ہوگا۔ ہم قرآن سمجھ کر پڑھنے پر اتنا زور دیں کہ بے سمجھے پڑھنے کو کارِ لاحاصل اور بے ثواب عمل کہنے لگیں تو مجھے اندیشہ ہے کہ ہم مسلم سماج میں نکّو بن کر رہ جائیں گے۔

* کتنے لوگ ہیں جو قرآن کو سمجھ کر پڑھنے پر قادر ہیں ؟ جب تک وہ سمجھنے نہ لگیں ، کیا وہ بے سمجھے قرآن پڑھنا بند کردیں ؟ بہت سے لوگ  ترجمہ پڑھ کر قرآن کی تعلیمات جاننے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن وہ نماز میں جو کچھ قرآن پڑھتے ہیں اسے سمجھ نہیں پاتے۔ بہت سے لوگ حرف نا شناس ہیں ، وہ نہ قرآن  پڑھ سکتے ہیں نہ اس کا ترجمہ۔ انھوں نے چند سورتیں کبھی یاد کرلی تھیں ، انہی کو اپنی نمازوں میں دہراتے رہتے ہیں ۔ ہم نے اندرونِ نماز یا بیرونِ نماز بے سمجھے قرآن پڑھنے کو بے ثواب عمل قرار دے دیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ ہماری یہ رائے انھیں قرآن سے دور کرنے والی ہوگی، نہ کہ قریب کرنے والی۔

*مناسب یہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ بے سمجھے بھی قرآن پڑھنے کا ثواب ہے، لیکن نزولِ قرآن کا مقصد اس کی تعلیمات و احکام سے آگاہی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کی جائے اور جن احکامِ الٰہی کا علم ہوجائے ان پر عمل کیا جائے۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close