فقہمذہب

کیا ’نکاح متعہ‘ ناجائز تعلقات کا جائز متبادل ہے؟

’متعہ‘ کو جائز ذریعہ سمجھنا سراسر گمراہی ہے اوراس کو حلال قراردینے کی کوشش کرنا درحقیقت جنسی بے راہ روی کے دروازے کھولنا ہے

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

مغرب کی تہذیبی آوارگی اور فکری بے راہ روی سے جہاں بہت سےنئے مسائل وجود پذیر ہوئے وہیں بہت سے پرانے مسائل پھر سے موضوع بحث بنے ہیں، ان ہی میں سے’’ عقد متعہ‘‘ کے ذریعہ رشتہ ازدواج کا قیام ایک اہم مسئلہ ہے جو مغرب کے نوجوانوں میں بڑی تیزی سے مروج ہورہا ہے، اور اس کو’’ گرل فرینڈ شب ‘‘کے گناہ و وبال سے بچنے کے لئے ایک جائز متبادل کے طور پر اختیار کیا جارہا ہے، حال ہی میں’’بی بی سی لندن‘‘ کی پاکستانی نژاد خاتون صحافی نے اس کو اپنا موضوع بناکر چھ ماہ تک اس پر تحقیق کیا ہے اور پھر اس کی رپوڑٹ کو پیش کیا ہے جو واقعی چونکادینے والی ہے کہ بہت سے لوگ اس کو مختلف فوائداور ضرورتوں کے پیش نظر اختیار کررہے ہیں، اور اس کے مفید ہونے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، کہ دائمی نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے مزاج ومذاق سے واقفیت کا اسے ایک بہت ہی بہتر اور جائز راستہ سمجھا جارہا ہے، چناں چہ کئی لوگ اپنی بچیوں کی شادیوں میں اس کو دائمی نکاح سے قبل اختیار کرتے ہیں، پھر نکاح کو دائمی شکل دیتے ہیں، یا مدت پوری کرکے علاحدگی اختیار کرتے ہیں۔ جبکہ بہت سے لوگ اپنے دیگر مقاصد کی تکمیل کے لئے اس کو اپنے لئے بہتر سمجھتے ہیں اور اختیار کرتے ہیں، اسی طرح مغرب میں آبادمتعدد سنی نوجوان اس کو’’ گرل فرینڈ شب‘‘ کے گناہ سے بچنے کے لئے اختیارکرتے ہیں اور بہت سے تو اس کی خاطر شیعیت کو بھی اختیار کرچکے ہیں؛ کیونکہ شیعوں کے نظریہ کے مطابق یہ عمل شرعا جائز ہے۔ بلکہ جائز سے بھی بڑھ کر باعث ثواب ہے، اور جتنی زیادہ مرتبہ متعہ کیاجائے اتنا ہی زیادہ ثواب ملتا ہے اورقربت نصیب ہوتی ہے۔ (استغفرا للہ)

نکاح متعہ کی حقیقت:

نکاح متعہ شریعت کی اصطلاح میں دائمی نکاح سے ایک مختلف طریقہ نکاح ہے، جس میں عقد نکاح میں ایجاب قبول ایک مدت کے تعین کے ساتھ ہوتا ہے، یعنی مرد عورت سے یہ کہہ کر نکاح کرتا ہے کہ وہ اسے اتنا مال دے کر اس سے ایک دن یا ایک ہفتہ یا ایک مہینہ یا ایک مخصوص فلاں مدت تک فائدہ حاصل کرے گا۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ: ۴۱؍۳۳۳)

گویا یہ وسیع اور جامع ترین مقاصد کے حصول کے لئے قائم ہونے والا رشتہ نہیں ہوتا، بلکہ در حقیقت اس نکاح عارضی کے ذریعہ ایک مدت کے لئے بغرض استمتاع عورت کو کرایہ پر لیا جاتاہے۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ: ۴۱؍۳۳۷) اس اعتبار سے یہ فطرت کے مغائر ہے، کیونکہ اس سے نسل مخلوط ہوتی ہے، اور اس سے عزت نفس بھی مجروح ہوتی ہے نیز اس سےرشتہ ازدواج کے تقاضوں کی تکمیل بھی نہیں ہوتی ہے ؛ کیونکہ نکاح کا مقصد صرف حیوانی شہوت کی تسکین نہیں ہے۔ بلکہ عزت نفس کے ساتھ شہوت کی تسکین، توالد وتناسل اور ایک دوسرے کا مکمل ساتھ دیتے ہوئے ایک منظم زندگی بسر کرناوغیرہ وہ مقاصد ہیں جو نکاح سے مطلوب ہیں، اور یہ ظاہر ہے کہ اس نکاح عارضی کے ذریعہ چند روز شہوت کی تکمیل یا چند دنوں کی دل لگی تو ہوسکتی ہے، لیکن مقاصد نکاح کا حصول نہیں ہوسکتا۔

نکاح متعہ کرنے والی خواتیں اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرسکتیں کہ اس مرد سے اسے اولا د ہوجس کے ساتھ اسے چند دنوں زندگی گزارنی ہے، اور مرد کو بھی اس رشتہ میں اولاد مقصود نہیں ہوتی، اس طرح اس میں نسل کا ضیاع ہے۔ اور اس طرح بھی نسل کا ضیاع واختلاط ہے کہ اگر ایک شخص تجارت کی غرض سے مختلف ممالک اور شہروں کا سفر کرتا ہواور وہ جس شہر میں جتنے دن کے لئے جاتا ہو وہاں اتنے دنوں کے لئے متعہ کرلیتا ہوتو اس طرح خود اس کے لئے یہ محفوظ رکھنا مشکل ہوگا کہ کس شہر میں اور کس سفر میں کس کس عورت سے اس نے متعہ کیا اور اس کے بعد کس کس عورت سے کون کوں سی اولاد اسے حاصل ہوئی، اور اس طرح یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ خود اس کے متعہ سے پیدا ہونے والی اولاد نسب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے اپنے اخوت کے رشتہ سے غافل ہوکرنکاح یا متعہ کرلیں، اور ایک بھائی کا بہن سے نکاح متعہ یا دائمی نکاح ہوجائے۔

نیز اس سے عورت کی زندگی کھلونا بن کر رہ جائے گی کہ جب تک وہ شادی کے قابل رہے گی مرد وں کا ساتھ اس کو ملتا رہے گا اور پھر ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ کوئی اس کے نفقہ کی ذمہ قبول کرنے والا نہ ہوگا۔ جیسا کہ آج مغربی ممالک میں ایسی بہت سے عورتیں بے بسی کی زندگی گزار رہی ہیں جن کی جوانی تو بےراہ روی کی وجہ سے بڑی روشن تھی، لیکن ازدواجی زندگی سے محرومی کی سزا انہیںجوانی کے بعدمل رہی ہےاور ایسی عورتیں خودکشی پر مجبور ہورہی ہیں۔

فاحشہ عورتیں متعہ کے نام جنسی کاروبار کرکے معاشرہ میں زناکاری کو عام کریں گے، اور اس سے زناکاری مشکل ہونے کے بجائے عام ہوجائے گی، جس کی واضح مثال وہ علاقے ہیں جہاں شیعوں کا غلبہ اور ان کی تہذیب کا بول بالا ہےکہ وہاں نعوذباللہ جس طرح مختلف تجارتی پمفلیٹس شائع ہوتے ہیں اسی طرح نکاح متعہ کے ترغیبی پمفلیٹس تقسیم کئے جاتے ہیں، جن میں پانچ گھنٹے، ۱۰ گھنٹے، ایک دن، دو دن، تین دن، ہفتہ اور دس دن کے لئے متعہ کی قیمت لکھی رہتی ہے۔ اور جلی حرفوں میںمخصوص عمر کی لڑکیاں فراہم کرنے کی بات لکھی ہوتی ہے۔

 عام شریف انسان بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام جیسے مہذب اور پاکیز ہ مذہب میں اس جیسے عمل کے جائز ہونے کا تصور بھی گناہ ہوگا؛ کیونکہ یہ نکاح جیسا پاکیزہ عمل نہیں، بلکہ جنسی کاروبار ہے، جسے ایک دوسرا نام دیکر مذہبی رنگ دیا جارہا ہے تاکہ اسے اختیار کرنا  آسان ہوجائے۔

انسانی اخلاق واقدار کو پاکیزگی دینے والا مذہب اسلام اس قبیح اور انسانیت کو شرمندہ کرنے والے عمل کو جواز کی سند کیسے دے سکتا ہے ؟!جب کہ اسلام انسانی زندگی میں تنظیم وتہذیب کا محرک وداعی ہے، اور اس نے ان تمام چیزوں کو منع کیا ہے جس سے خاندانی نظام درہم برہم ہوتا ہو یا جس سے انسانی زندگی کی تنظیم متأثر ہوتی ہو، یا جس سے جنسی آوارگی کو شہہ ملتی ہو اورجنسی بے راہ روی کا دروازہ کھلتا ہو اور جو بنت حوا کی عفت وعصمت کے لئے زہر قاتل ہو۔

’’متعہ‘‘ شریعت کی نظر میں

اہل سنت کے تمام فقہاء ومجتہدین حنفیہ مالکیہ حنابلہ اور شوافع کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ نکاح حرام ہے، اور زمانہ جاہلیت کے نکاحوں میں سےہے، اسلام کے ابتدائی عہد میں مسلمانوں میں بھی یہ نکاح مروج تھا، لیکن جس طرح تدریجی طور پر جاہلیت کی بہت سی چیزیںاسلام میں حرام کی گئیں اسی طرح نکاح متعہ کو بھی   ۷ھ ؁ میںغزوۂ خیبر کے موقع پر حرام قرار دے دیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے:

 أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ (بخاری: ۴۲۱۶، مسلم:۱۴۰۷)

’’بے شک رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے غزوہ خیبر کے موقع پر روک دیا‘‘

البتہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کی ضرورت کے پیش نظر اضطراری حالت میں فتح مکہ کے موقع پررسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت عطا فرمائی اور پھر مکہ سے واپسی سے قبل خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہوکرقیامت تک کے لئے اس کے حرام ہونے کا اعلان فرمادیا، حضرت ربیع بن سبرہ جہنی سے مروی ایک روایت میں ہے:

أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ، وَإِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا(مسلم: ۱۴۰۶)

ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (فتح مکہ) میں تھے، تو آپ ﷺنے فرمایا: اے لوگوں میں نے تمہیں عورتوں سے نکاح متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اب اللہ نے اس کو قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے، پس جس کے پاس بھی اس طرح کے نکاح سے کوئی عورت ہو تو وہ اس کا راستہ چھوڑدے (اس سے علاحدگی اختیار کرلے) اور جو مال تم لوگوں نے ان عورتوں کو دیا ہے وہ واپس نہ لو‘‘

چناں چہ تمام کے تمام صحابہ کرام نے اس کو اس کے بعد سے حرام سمجھ لیا اور بعد کے ادوار میںان روایات اور صحابہ کے متفقہ اقوال کی وجہ سے تمام کے تمام فقہاء ومجتہدین اس کے حرام ہونے پر متفق رہے اور ہیں؛ کیونکہ مذکورہ دلائل کے علاووہ قرآن وسنت اور آثار کے متعدد دلائل اس کی حرمت کو بیان کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

 وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ . إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ . فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (سورہ مومنون: ۵، ۶، ۷)

’’اور(مومن وہ لوگ ہیں) جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں مگر اپنی بیویوں یا باندیوں پر، اس لیے کہ ان پر کوئی الزام نہیں پس جو شخص اس کے علاوہ طلب گار ہو تو وہ ہی حد سے نکلنے والے ہیں ‘‘

اس آیت کے آخری فقرے نے منکوحہ اور مملوکہ عورت کے علاوہ سےخواہش پوری کرنے کی تمام صورتوں کو حرام کر دیا ہےاور یہ واضح کردیا کہ صرف منکوحہ بیوی اور مملوکہ باندی سے ہی تسکین شہوت درست ہے۔ اور ’’ متعہ‘‘ کے ذریعہ جس عورت کو حلال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ نہ تو مملوکہ باندی ہے اور نہ ہی منکوحہ بیوی ہے؛ کیونکہ زوجیت کے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سےکسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا، نہ تو اس عقد میں گواہ کی ضرورت ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بغیر گواہ کے کوئی نکاح درست نہیں، اوراسی طرح وہ عورت نہ مرد کی وارث ہوتی ہے، نہ ہی مرد اس کا وارث ہوتا ہے، نہ اس کے لئے طلاق ہے اور نہ ہی نفقہ وغیرہ، بلکہ مقررہ چار بیویوں کی مقدار سے بھی مستثنی ہے، یعنی ایک ساتھ چار سے زیادہ بیویاں رکھنا درست نہیں، لیکن اگر کسی کو چار بیویاں ہیں تو وہ متعہ کو جائز ماننے والوں کے نزدیک متعہ کرسکتا ہے، تو جب یہ متعہ والی عورت نہ بیوی ہے، نہ باندی تو لامحالہ ان دو کے علاوہ ہےاور قرآن نے ان دو کے علاوہ کسی اور سے شہوت کی تسکین کو قابل ملامت عمل قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کو حد سے گزرنے والا کہا ہے، جو اس بات کا صاف اعلان ہے کہ متعہ جائز نہیں ہے۔ امام رازی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

هَذِهِ الْآيَةُ تَدُلُّ عَلَى تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ عَلَى مَا يُرْوَى عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ؟ الْجَوَابُ: نَعَمْ وَتَقْرِيرُهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ زَوْجَةً لَهُ فَوَجَبَ أَنْ لَا تَحِلَّ لَهُ، وَإِنَّمَا قُلْنَا إِنَّهَا لَيْسَتْ زَوْجَةً لَهُ لِأَنَّهُمَا لَا يَتَوَارَثَانِ بِالْإِجْمَاعِ وَلَوْ كَانَتْ زَوْجَةً لَهُ لَحَصَلَ التَّوَارُثُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْواجُكُمْ وَإِذَا ثَبَتَ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِزَوْجَةٍ لَهُ وَجَبَ أَنْ لَا تَحِلَّ لَه(التفسیر الکبیر للرازی: ۲۳۔ ۲۶۲)

’’ کیا قاسم بن محمد کی روایت کے مطابق یہ آیت تحریم متعہ کی دلیل ہے ؟ جواب یہ ہے کہ ہاںیہ آیت حرمت متعہ پر دلالت کرتی ہے، تقریر استدلال یہ ہے کے ممتوعہ عورت بیوی کے حکم میں داخل نہیں ہے، لہذا متعہ کرنے والے کے لئے وہ حلال نہیں ہو سکتی، یہ جو ہم نے کہا کے اس کی بیوی نہیں؛ کیونکہ (باجماع شیعہ وسنی ) یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے، اگر ممتوعہ عورت اس کی بیوی کے حکم میں داخل ہوتی تو ضرور وارث بنتی؛کیونکہ فرمان خداوندی ہے اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑاہو اس کا آدھا تمہیں ملے گا اورجب یہ ثابت ہوا کے وہ بیوی کے حکم میں نہیں ہے تو یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہوگی‘‘

حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح متعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا:

 بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللَّهِ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ} فَمَنِ ابْتَغَى غَيْرَ مَا زَوَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ مَا مَلَكَهُ فَقَدْ عَدَا۔

’’میرے اور متعہ کو جائز سمجھنے والوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے اللہ کی کتاب ہے، اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ (مومن وہ لوگ ہیں) جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں مگر اپنی بیویوں یا باندیوں سے، سو ان پر کوئی الزام نہیں، پس جس نے بیوی یا باندی کے علاوہ کو تلاش کیا تو اس نے حد سے تجاوز کیا‘‘

حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم فرماتےہیں:

 أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ: حَرَامٌ. قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا يَقُولُ فِيهَا قَالَ: وَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، وَمَا كُنَّا مُسَافِحِينَ.(مستخرج ابو عوانہ: ۳۔ ۲۹، شرح معانی الآثار: ۳۔ ۲۵)

ایک شخص نے ابن عمرؓ سے متعہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: حرام ہے، پوچھنے والے نے کہا کہ فلاں صاحب تو ایسی بات کہتے ہیں، عبد اللہ بن عمر نے فرمایا: خدا کی قسم اسے معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے موقع پر اس کو حرام قرار دے دیا تھا، اور ہم لوگ بدکار نہیں تھے‘‘

یہی روایت معجم طبرانی اوسط میں مذکور ہے جس میں یہ صراحت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حوالہ دے کر پوچھنے والے نے کہا وہ اس کو جائز مانتے ہیں اور لوگوں کو اس کا حکم دیتے ہیں، روایت کے الفاظ یہ ہیں:

قِيلَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِنِكَاحِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا أَظُنُّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَفْعَلُ هَذَا، قَالُوا: بَلَى، إِنَّهُ يَأْمُرُ بِهِ، فَقَالَ: وَهَلْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَّا غُلَامًا صَغِيرًا إِذْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: نَهَانَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا كُنَّا مُسَافِحِينَ (معجم اوسط: ۹۲۹۵)

’’حضرت ابن عمرؓ سے کہا گیا کہ ابن عباس ؓ نکاح متعہ کا حکم دیتے ہیں توابن عمرؓ نے فرمایا: سبحان اللہ، میں یہ گمان نہیں کرسکتا کہ ابن عباس ایسا کریں گے، لوگوں نے کہا : ہاں وہ ایسا ہی حکم دیتے ہیں، تو ابن عمرؓ نے فرمایا کہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ابن عباس چھوٹے بچے تھے، پھر ابن عمر ؓ نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا اور ہم لوگ کوئی بدکار نہیں تھے‘‘

محمد بن حنفیہ ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ’’ متعہ ‘‘ کے بارے میںپوچھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْمُتْعَةَ حَرَامٌ(مسند البزار:۶۵۸)

’’رسول اللہ ﷺ نے یا رسول اللہ ﷺ کے منادی نے یہ اعلان کیا کہ بے شک متعہ حرام ہے‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَنَزَلَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَى مَصَابِيحَ وَنِسَاءً يَبْكِينَ فَقَالَ مَا هَذَا؟ فَقِيلَ: نِسَاءٌ تَمَتَّعَ بِهِنَّ أَزْوَاجُهُنَّ وَفَارَقُوهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ حَرَّمَ أَوْ هَدَرَ الْمُتْعَةَ بِالطَّلَاقِ وَالنِّكَاحِ وَالْعِدَّةِ وَالْمِيرَاثِ(شرح معانی الآثار:۳۔ ۲۶، مسند ابویعلی الموصلی:۶۶۲۵، سنن کبری بیہقی:۱۴۱۷۸)

’’ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ ٔ تبوک کے لئے نکلے، آپﷺ ثنیۃ الوداع میں فروکش ہوئے، آپ ﷺنےچراغوں کو دیکھا اور عورتوں کو روتے ہوئے دیکھا، تو آپﷺ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ سے کہا گیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جن کے شوہروں نے ان سے متعہ کیا تھا اور ان سے جدا ہوگئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ نے متعہ کو طلاق، نکاح، عدت اور میرات کے ذریعہ حرام کردیا ہے‘‘

یہ وہ نصوص ودلائل ہیں جن کی بنیاد پر اہل سنت کے تمام فقہاء بالاتفاق متعہ کو حرام مانتے ہیں؛ لیکن شیعہ مسلک سے وابستہ لوگوں نے زناکاری کو ایک جائز شکل دینے کے لئے یہ دعوی کیا کہ یہ جائز ہے اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس کو جائز سمجھاجاتارہا اور اس پر عمل جاری رہا، اور اس سلسلہ میں وہ خاص طور پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کو بنیاد بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ اس کے جواز کے قائل تھے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ کے بارے میں بعض روایتوں سے واقعی یہ تأثر ملتا ہے کہ وہ اس کے جواز کی طرف مائل تھے، جیسا کہ حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر کی مذکورہ روایت میں ہے، لیکن خود اس روایت میں اس کا جواب بھی ہے جو حضرت عبد اللہ بن عمر نے دیا ہے کہ حضرت ابن عباس تک اس کی حرمت اور ممانعت نہیں پہونچ سکی ؛ کیونکہ وہ ان دنوں بہت چھوٹے تھے، اور یہ حقیقت بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے رحلت فرمانے کے وقت آپ کی عمر صرف تیرہ سال تھی، اور حرمت کا اعلان سب سے پہلے   ۷ھ   میں ہوا جس وقت آپ کی عمر صرف دس سال تھی، اور عارضی اجازت کے بعد دائمی حرمت کا اعلان فتح مکہ کے موقع پر   ۸ھ   ہوا میں ہوا جس وقت آپ کی عمر گیارہ سال تھی۔ تو یہ قرین قیاس ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ان تک یہ بات نہ پہونچی ہو؛ کیونکہ بڑی عمر کے سارے ہی صحابہ سے اس کی حرمت منقول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں صحابہ کرام سے اصل حقیقت کا علم ہوا تو آپ نے اپنی اس بات سے رجوع کرلیا، جیسا کہ امام ترمذی نے اس کی تصریح فرمائی ہے(ترمذی شریف:۳؍۴۲۱)

اور رجوع کا یہ دعوی اس لئے صحیح ہے کہ خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی حرمت بیان کی گئی ہے، حضرت محمد بن کعب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ؓ نے فرمایا:

إِنَّمَا كَانَتِ المُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الإِسْلَامِ، كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ البَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ المَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ، وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ، حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الآيَةُ: إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ}، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ(ترمذی: ۱۱۲۲، تفسیر ابن ابی حاتم : ۳؍۹۱۹)

’’بے شک متعہ اسلام کے ابتدائی عہد میں تھا، کوئی شخص کسی ایسے شہر کو جاتا جہاں اس کی سناشائی نہیں ہوتی تو وہ عورت سے اتنے دنوں کے لئے شادی کرلیتا جو اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کی دیکھ بھال کرتی، یہاں تک کہ جب یہ آیت: إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ}نازل ہوگئی، تو یہ ممنوع ہوگیا۔ ابن عباس نے فرمایا: تو ان دو (منکوحہ اور مملوکہ ) کے علاوہ ہر ایک شرمگاہ حرام ہے‘‘

اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت اللہ سے دعا کرتے ہوئے فرمایا:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ قَوْلِي فِي الْمُتْعَةِ  (التفسیر الکبیر:۱۰۔ ۴۵)

’’اے اللہ میں متعہ کے سلسلہ میں اپنے قول سے توبہ کرتا ہوں‘‘

گویا حضرت ابن عباس کو اس کے جواز کا قائل بتانا سراسر نا انصافی ہے، اور ان پر الزام ہے جب کہ خود ان کے الفاظ میں ایک کی حرمت کا اعلان ہے۔

اسی طرح اہل تشیع اس سلسلہ میں حضرت جابر کی ایک روایت کو یہ کہتے ہوئے پیش کرتے ہیں کہ ان کی روایت یہ بتاتی ہے کہ یہ متعہ کا عمل عہد نبوی کے بعد عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں بھی جاری تھا، چناں چہ اے، آر، وائی نیوز چینل کے خصوصی پروگرام ’’سرعام‘‘ میں ۲۰ جولائی ۲۰۱۳ء کواس سلسلہ میں شیعہ سنی علماء کے مابین جو مباحثہ نشر کیا گیا اور جس کی ویڈیو ’’یوٹیوب‘‘ پر میں نے دیکھی، اس میں شیعہ کے ترجمان اس بات کو بڑی زوروشور سے کہہ رہے تھے کہ یہ عمل حضرت جابر کی روایت کے مطابق منسوخ نہیں ہوا اور عہد نبوی کے بعد بھی جاری رہا۔ حضرت جابر سے منقول روایت جسے عام طور پرشیعہ پیش کر تے ہیں اس کےالفاظ یہ ہیں:

كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ، الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ، فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ (مسلم :۱۴۰۵)

’’ہم لوگ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر کے زمانہ میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے بدلے متعہ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمروبن حریب کے واقعہ کے وقت اس سے منع فرمادیا‘‘

اس روایت کو پیش کرکے اہل تشیع کہتے ہیں کہ یہ عمل بعد میں جاری رہا، منسوخ نہیں ہوا۔

شراح حدیث نے اس روایت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ حضرت جابر تک حرمت کی بات نہ پہونچی تھی، یا حضرت جابر کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ممانعت کے باوجود سارے لوگوں کو اس کا علم نہ تھا اور بطور خاص وہ لوگ جو بعد میں ایمان لائے یا جو دوسرے دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے تھےان کو اس کا علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ متعہ کر رہے تھے، اور بالآخر عمروبن حریث نے انجانے میں یہ عقد کیا کیونکہ یہ بھی کوفہ سے آئے تھے، تو حضرت عمرنے اپنے عہد میں اس کی حرمت کا لوگوں میں اعلان کروایا، تاکہ ہر ایک کو اس کی حرمت کا علم ہوجائے، اور تمام صحابہ کرام نے حضرت عمر کے اس اعلان پر خاموشی اختیار کی ؛کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عمر کسی حلال کو حرام نہیں کر رہے ہیں بلکہ حرام کے حرام ہونے کا اعلان اور اس کی اشاعت وتنفیذ کرررہے ہیں، ورنہ اگر واقعی حضرت عمر اس عمل کو منع کرتے جس کی اجازت تھی تو عام صحابہ کرام خاموش نہ بیٹھتے، جس کی کئی مثالیں ہے۔ اور خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےاپنے عہد میں اس کی حرمت کے اعلان کے وقت جو خطبہ دیا اس کے الفاظ میں اس بات کی صراحت ہے کہ خود انہوں نے اس کو حرام نہیں کیا، بلکہ متعہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی جانب سے جو فیصلہ اور حکم پہلے سے موجود تھا اسےہی لوگوں کو سنایا اور اس کو نافذ کیا، امام بیہقی اور دیگر محدثین نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:

صَعِدَ عُمَرُ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْكِحُونَ هَذِهِ الْمُتْعَةَ بَعْدَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا(فتح الباری:۹۔ ۱۷۳، السنن الصغیر للبیہقی: ۲۴۹۴، مسند بزار:۱۳۵)

’’حضرت عمر منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے متعہ سے منع کرنے کے باوجود وہ متعہ کررہے ہیں‘‘

اصل بات یہ ہے کہ ایک طرف کثیر تعداد میں صحابہ کرام سے حرمت کی روایتیں منقول ہیں اور دوسری طرف یہ ایک صحابی کی روایت ہے جس سے جواز بظاہر معلوم ہوتا ہے، ورنہ حقیقت میں اس میں بھی جواز کا ذکر نہیں ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ راجح بات تو وہی ہوگی جسے ایک کے بجائے پوری جماعت کہے۔ مزید یہ کہ خود حضرت علی سےمنقول دو روایتوں میں حرمت کا تذکرہ ہے، اور حضرت علی کو اہل تشیع کے یہاں کیا درجہ ہے اسے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اہل سنت نے اس روایت کو حضرت علی کی جانب غلط منسوب کردیا ہے ؛ کیونکہ حضرت علی کی یہی روایت ان ہی الفاظ کے ساتھ خود اہل تشیع کی کتابوں میں موجود ہے، چناں چہ شیعوںکے معتبرترین محقق طوسی کی کتاب : الاستیصار کے صفحہ :۵۴۱ پر(ط: بیروت ) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ان ہی الفاظ میں منقو ل ہے۔ اسی طرح تہذیب الاحکام میں بھی یہ روایت ان ہی الفاظ میں ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ حضرت علی ؓ کی یہ بات انہیں منظور نہیں ہے۔ جب وہ کہ ان سے محبت اور ان کی اتباع کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ بلکہ ستم بالائے ستم یہ کہ طوسی جیسا محقق حضرت علی سے متعہ کے سلسلہ میں منقول راویت کو یہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ حضرت علی نے ’’تقیہ ‘‘ کرتے ہوئے یہ بات فرمائی، اور پھر طوسی کی نقل کرتے ہوئے عام شیعہ بھی حضرت علی کی اس بات کو تقیہ سے جوڑ کر اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس تاویل سے خود وہ حضرت علی کی شان کو مجروح کر رہے ہیں کہ اتنے بڑے بے باک اور اللہ کی راہ میں کسی کی ملامت کا اندیشہ نہ کرنے والے عظیم صحابی جنہیں’’ اسد اللہ الغالب‘‘ کا خطاب دیا گیا، ان پر یہ الزام دے رہے ہیں انہوں نے متعہ کے جائز ہونے کے باوجود سنیوں کے خوف سے متعہ کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ اس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی ایسے حق گو اور حق کے معاملے میں بے باک تھے کہ وہ بزدل شیعوں کی طرح ’’ تقیہ‘‘ نامی منافقانہ خصلت کو اختیار کرہی نہیں سکتے تھے۔

کیا امام مالک اور امام احمد بن حنبل اس کے جواز کے قائل تھے؟

اہل سنت کے نزدیک متعہ کا حرام ہونا متفق علیہ ہے، اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ اس سلسلہ میں دلائل اتنے واضح ہیں کہ کسی امام وفقیہ کے اختلاف کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہے، لیکن شیعہ اس مسئلہ کو اہل سنت کے نزدیک مختلف فیہ بتاکر اپنے غلط نظریہ کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نظریہ کی تائید خود اہل سنت کے فقہاء سے ہوتی ہے، اس سلسلہ میں وہ حضرت امام مالک اور امام احمد بن حنبل علیہما الرحمۃ کو پیش کرکے کہتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات اس کے جواز کے قائل تھے۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے جواز کو بتانے کے لئے وہ عموما صاحب ہدایہ کا یہ قول پیش کرتے ہیں:

ونكاح المتعة باطل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وقال مالک ھو جائز  (ہدایہ: کتاب النکاح)

’’نکاح متعہ باطل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور امام مالک نے فرمایا کہ وہ جائز ہے‘‘

صحیح بات یہ ہے کہ صاحب ہدایہ کا امام مالک کی جانب اس بات کو منسوب کرنا قطعا درست نہیں ہے ؛ اور یہ وہ دعوی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ دلیل اس دعوی کے خلاف ہے، اسی لئے شارح ہدایہ علامہ ابن ہمام نے صاف لفظوں میں لکھا ہے:

نسبته إلى مالك غلط (فتح القدیر:۳۔ ۲۴۷)

’’امام مالک کی طرف اس بات کی نسبت غلط ہے‘‘

اس کے غلط ہونے کی سب سے بڑی دلیل خود امام مالک کی مؤطا ہے کہ امام مالک نے اس میں’’ نکاح المتعہ‘‘کا عنوان قائم کیا ہے، اور اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسی راویت کو ذکر کیا ہے جو اس کے حرام ہونے کی ایک اہم دلیل ہے، اگر ان کا رجحان اس کے جواز کی طرف ہوتا تو اس باب  میں کوئی ایسی روایت وہ ضرور ذکر کرتے جس سے اس کا جواز ظاہر ہوتا۔

اسی لئے فقہ مالکی کے بڑے فقیہ علامہ قرافی لکھتے ہیں:

نِكَاحُ الْمُتْعَةِ وَهِيَ بَاطِلَةٌ عِنْدَنَا وَعِنْدَ الْأَئِمَّةِ لِمَا فِي الْمُوَطَّأِ نَهَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ(الذخیرۃ للقرافی: ۴۔ ۴۰۴)

’’نکاح متعہ ہمارے(مالکیہ کے) نزدیک اور تمام ائمہ کے نزدیک باطل ہے، اس روایت کی وجہ سے جو کہ مؤطا میں ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے خیبر کے دن منع فرمایا‘‘

اسی طرح امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ کے نزدیک بھی یہ باطل ہے لیکن اہل تشیع اس کو ان کے نزدیک جائز بتانے کے لئے تفسیر ابن کثیر کی یہ عبارت پیش کرتے ہیں:

وَقَدْ رُويَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَطَائِفَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ القولُ بِإِبَاحَتِهَا لِلضَّرُورَةِ، وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى.(تفسیر ابن کثیر: ۲۔ ۲۵۹)

’’حضرت ابن عباس اور چند صحابہ سے بوجہ ضرورت اس کی اباحت(جواز) کا قول مروی ہے اور یہی امام احمد بن حنبلؒ کی ایک روایت ہے ‘‘

حضرت ابن عباس اور چند صحابہ کا اس سلسلہ میں صحیح نظریہ کیا تھا اس کی وضاحت ہوچکی ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع کرلیا، رہی بات یہ کہ امام احمد بن حنبل کی، تو ابن کثیر کی مذکورہ تحریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام احمد بن حنبل سے اس سلسلہ میں دوقول منقول ہیں جن میں سے ایک قول اس کے جواز کا ہے۔

کسی بھی امام وفقیہ کے صحیح نظریہ کو معلوم کرنے کے لئے اس مکتب فکر کی کتابوں کی باتیں زیادہ اہم اور مستند ہوتی ہیں، فقہ حنبلی کی کتابوں سے مراجعت کے بعد یہ بعد معلوم ہوتی ہے کہ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ سے واقعی اس سلسلہ میں دو قول منقول ہیں، لیکن ان میں سے ایک قول بھی جواز کا نہیں ہے، بلکہ ایک قول کے مطابق امام احمد بن حنبل اس کے مکروہ ہونے کے قائل ہیں اور ایک قول کے مطابق اس کے حرام ہونے کے قائل ہیں، اور یہی قول زیادہ راجح ہے جس پر تمام حنبلی فقہاء کا فتوی ہے اورپہلے قول سے امام احمد بن نے رجوع بھی کرلیا ہے، گویا ابتداء ً  حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کی روایت کی وجہ سے اس کے مکروہ ہونےکے قائل تھے، لیکن بالآخراس باب کی تمام تر روایات کی روشنی میں اس قول سے رجوع کرکے اس کے حرام ہونے کے قائل ہوگئے۔ علامہ علاء الدین حنبلی اپنی کتاب الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف میں جلد : ۸ صفحہ :۱۶۳ پر لکھتے ہیں:

الصَّحِيحُ مِنْ الْمَذْهَبِ: أَنَّ نِكَاحَ الْمُتْعَةِ لَا يَصِحُّ. وَعَلَيْهِ الْإِمَامُ أَحْمَدُ – رَحِمَهُ اللَّهُ -، وَالْأَصْحَابُ وَعَنْهُ: يُكْرَهُ وَيَصِحُّ. ذَكَرَهَا أَبُو بَكْرٍ فِي الْخِلَافِ، وَأَبُو الْخَطَّابِ، وَابْنُ عَقِيلٍ، وَقَالَ: رَجَعَ عَنْهَا الْإِمَامُ أَحْمَدُ – رَحِمَهُ اللَّهُ .

’’حنبلی مسلک کا صحیح قول یہ ہے کہ بے شک نکاح متعہ درست نہیں ہے، اور امام احمد بن حنبلؒ اور تمام اصحاب اسی کے قائل ہیں، اور امام احمد بن حنبل سے یہ مروی ہے کہ یہ نکاح مکروہ ہے اور صحیح ہے، اس کو ابوبکر نے’’الخلاف‘‘ میں اور ابو الخطاب اور ابن عقیل نے ذکر کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے رجوع کرلیاہے‘‘

حنبلی مسلک کے بہت بڑے فقیہ علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں:

وَلَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُتْعَةِ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فَهَذَا نِكَاحٌ بَاطِلٌ. نَصَّ عَلَيْهِ أَحْمَدُ، فَقَالَ: نِكَاحُ الْمُتْعَةِ حَرَام وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِيهَا رِوَايَةٌ أُخْرَى، أَنَّهَا مَكْرُوهَةٌ غَيْرُ حَرَامٍ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَغَيْرُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ أَصْحَابِنَا يَمْنَعُ هَذَا، وَيَقُولُ: فِي الْمَسْأَلَةِ رِوَايَةٌ وَاحِدَةٌ فِي تَحْرِيمِهَا. وَهَذَا قَوْلُ عَامَّةِ الصَّحَابَةِ وَالْفُقَهَاءِ. وَمِمَّنْ رُوِيَ عَنْهُ تَحْرِيمُهَا عُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ: وَعَلَى تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ مَالِكٌ، وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَأَبُو حَنِيفَةَ فِي أَهْلِ الْعِرَاقِ، وَالْأَوْزَاعِيُّ فِي أَهْلِ الشَّامِ، وَاللَّيْثُ فِي أَهْلِ مِصْرَ، وَالشَّافِعِيُّ، وَسَائِرُ أَصْحَابِ الْآثَارِ۔ (المغنی لابن قدامۃ : ۷؍۱۷۸)

نکاح متعہ جائز نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ نکاح باطل ہے، امام احمد نے اس کی صراحت فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ نکاح متعہ حرام ہے، اورفقیہ ابوبکر نے کہا کہ اس میں ایک دوسری روایت بھی ہے کہ یہ مکروہ ہے حرام نہیں ہے، لیکن فقیہ ابوبکر کے علاوہ ہمارے سارے( حنبلی) فقہاء اس سے منع کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اس مسئلہ میں ایک ہی روایت ہے جو کہ اس کے حرام ہونے کے بارے میں ہے، یہی عام صحابہ اور فقہاء کا قول ہے، اور حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن عمر، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہم سے اس کا حرام ہونا منقول ہے، علامہ ابن عبد البر نے فرمایا کہ امام مالک، اہل مدینہ، عراق میں امام ابوحنیفہ، شام میں امام اوزاعی، مصر میں لیث، امام شافعی اور تمام اصحابِ آثار متعہ کے حرام ہونے پر متفق ہیں۔

بہرحال ’’متعہ ‘‘ باتفاق فقہاءباطل اور حرام ہے، اورحضرت امام مالک ؒہوں یا امام احمد بن حنبلؒ کسی سے اس کا جواز منقول نہیں ہے، اور ان کی طرف اس کے جواز کی نسبت سراسر غلط اور بے بنیاد ہے؛کیونکہ حضرات فقہاء کسی ایسے عمل کو جائز کہہ ہی نہیں سکتے جسے قرآن وحدیث میں ناجائز اور حرام کہا گیا ہو، اورجسے صریح اور واضح حدیث میں قیامت تک لئے حرام کردیا گیا ہو، اس لئے ناجائز اور حرام خواہشات کی تسکین کے لئے’متعہ‘ کو جائز ذریعہ سمجھنا سراسر گمراہی ہے اوراس کو حلال قراردینے کی کوشش کرنا درحقیقت جنسی بے راہ روی کے دروازے کھولنا ہے، اور شہوت کے پیچھے دوڑنے والوں کو زناکاری وبدکاری کا ایک قانونی راستہ دیکر معاشرہ میں بدکاری کو عام کرناہے۔ اللہ اس برائی سے امت کی حفاظت فرمائے۔

مزید دکھائیں

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

استاذ حدیث وفقہ جامعہ عائشہ نسوان حیدرآباد ، الہند

متعلقہ

Close