گرم پانی سے وضو اور غسل کا حکم

ٹھنڈی کے موسم میں گرم پانی اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈا پانی  میسر ہونااللہ کی نعمت میں سے ہے ،اس پہ اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے ۔ پانی ٹھنڈ یا گرم ہونا یہ موسم کی طبیعت پہ ہے ، موسم سرد ہوا تو پانی سرد ہوجائے گا اور گرم موسم سے پانی گرم ہوجائے گا۔ اللہ نے بندوں کو ایسی سہولت میسر کی  کہ موسم کے ٹھنڈے پانی کو مختلف طریقوں سے گرم کرلیتے ہیں اور طبعی گرم پانی کو سرد بناکر اللہ کی اس بیش قیمت نعمت سے محظوظ ہورہے ہیں ۔

گرم پانی سے وضو کی بابت  کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹھنڈے پانی سے وضو زیادہ اجر کا باعث ہے اس لئےوضو کی خاطر گرم  پانی نہیں  استعمال کرنا چاہئے  ۔ یہ خیال غلط ہے ، نبی ﷺ نے اچھی طرح سے وضو کرنے کا حکم دیا ہے اور ٹھنڈی کے موسم میں بعض کو دیکھا جاتا ہے کہ اچھی طرح سے وضو نہیں کرتے جبکہ گرم پانی کامل وضو پر مددگار ہے ، اس سے بندہ مکمل طور پر بلاحرج وضو کرسکتا ہے ۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

ألا أدلُكم على ما يمحو اللهُ بهِ الخطايا ويرفعُ بهِ الدرجاتِ ؟ قالوا : بلى . يا رسولَ اللهِ ! قال إسباغُ الوضوءِ على المكارهِ(صحيح مسلم:251)

ترجمہ: کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں جن سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتاہے؟' لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول !کیوں نہیں ،آپ ضرور بتائیں،آپ نے فرمایا: ناگواری کے باوجودمکمل وضوکرنا۔

شدت برد میں گرم پانی نہ ملنے پہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا بلاشبہ زیادہ اجر کا باعث ہے مگر گرم پانی میسر ہو تو اچھی طرح وضو کے لئے زیادہ معاون ہے اور اس سے اجر میں کمی نہیں ہوگی ۔ یہ اللہ کی طرف  سے سہولت ہے ۔

اسی طرح کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ  اللہ نے قرآن میں پانی نہ ملنے پر یابیمارکو پانی مضرہونے پر تیمم کا حکم دیا ہے پھر وضو اور غسل کے لئے پانی گرم کرنے کی بات کہاں سے پیدا ہوتی ہے ؟ان کی نظر میں خاص طور سے ایسے شخص کا مسئلہ ہوتا ہے جو سخت تھنڈی کے موسم میں رات کو جنبی یا محتلم ہوگیا وہ فجر کے وقت کیا کرےجبکہ سرد پانی اس کو نقصان پہنچارہاہو؟ اس سلسلے میں علماء کی رائے یہ ہے کہ وہ پانی گرم کرکے غسل کرے ،اگر پانی گرم کرنے کی سہولت نہ ہوتو تیمم کرلے ۔ اس مسئلہ کی وجہ سے بعض لوگوں کے ذہن میں جومذکورہ اشکال پیدا ہواہے اس کے کئی جوابات ہیں۔

پہلا جواب : علماء کا اس بات پہ اجماع ہے کہ جب تک پانی کا رنگ، بو اور مزہ نہ بدلے اس وقت تک پانی پاک ہے جیساکہ علامہ نووی رحمہ اللہ نے حدیث "الماء طهور لا ينجسه شيء "( پانی پاک ہے ، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ) کے تحت اجماع پہ ابن المنذر کا قول نقل کیا ہے ۔

أجمع العلماء على أن الماء القليل والكثير إذا وقعت فيه نجاسة فغيرت له طعما أو لونا أو ريحا فهو نجس(نیل الاوطار 1/45)

ترجمہ: علماء کا اس بات پہ اجماع ہے کہ پانی خواہ کم ہو یا زیادہ اگر اس میں نجاست گر گئی اور اس کا مزہ یا رنگ یا بو بدل گئی تو وہ نجس ہے ۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پانی گرم کرنے سے اس تینوں صفات میں سے کوئی صفت نہیں پیدا ہو تو وہ پاک ہے ، اس سے وضو اور غسل کیا جائے گا ۔

دوسرا جواب : اللہ کا فرمان ہے :

وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا (النساء:43)

ترجمہ: اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منہ اور اپنے ہاتھ مل لو ، بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا ،بخشنے والا ہے ۔

مضمون:  الیکشن سے مربوط شرعی مسائل (اول)

اس آیت میں اللہ نے مطلق پانی کا ذکر کیا ہے جو ٹھنڈا پانی ، گرم پانی اور عام پانی سبھی کو شامل ہے ۔ اور یہ تینوں قسم کے پانی تخلیق کائنات سے ہی پائے جاتے ہیں ۔ ایک تو قدرتی طور پر ٹھنڈ سے  پانی ٹھنڈا   اور گرمی سے گرم ہوتا ہے ، دوسرے یہ کہ شروع زمانے سے لوگ بھی اپنے طور پر پانی کو ٹھنڈا اور گرم کرتے رہے ہیں لیکن اس میں پہلے دقت رہی ہوگی تاہم  آج سائنس کی ترقی سے پانی ٹھنڈا اور گرم کرنا نہایت ہی آسان ہوگیا ہے ۔ اس لئے آج لوگوں کا معمول یہ ہے کہ ہرکام کے لئے گرمی میں ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈی میں گرم پانی استعمال کرتے ہیں ۔ جب آج کل ٹھنڈی میں گرم پانی کا استعمال معمول بناہواہے تو ظاہر سی بات ہے جسے وضو یا غسل کرنے کی ضرورت ہو اور اس کے لئے ٹھنڈا پانی نقصان دہ ہو تو وہ پانی گرم کرکے وضو اور غسل کرے گا ، بلانقصان کے بھی گرم پانی سے وضو اور غسل میں کوئی حرج نہیں۔

تیسرا جواب  : سمندر، تالاب، کنواں اور نہر وغیرہ کا پانی گرمی میں  دھوپ کی وجہ سےگرم ہوتا ہےاور اس سے وضو اور غسل کرسکتے ہیں ۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول ! ہم سمندرکا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے ، تو کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ رسول اللہﷺنے فرمایا :

هو الطَّهورُ ماؤهُ ، الحلُّ ميتتُه(صحيح الترمذي:69)

ترجمہ: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جب سمندر کے ٹھنڈے اور گرم پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں تو اپنے طور پر پانی گرم کرکے بھی وضو کرسکتے ہیں ، اسی طرح غسل بھی۔

چوتھا جواب : بندوں پر اللہ کی طرف سے یہ ایک بڑی سہولت ہے یعنی ٹھنڈی کے موسم میں گرم پانی اللہ کی طرف سے بڑی سہولت وبڑی نعمت ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس قسم کی ہزاروں نعمتیں ہیں جنہیں گن نہیں سکتے ۔ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر رب کا شکریہ بجالانا چاہئے ۔

وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الجاثیۃ:13)

ترجمہ: اور آسمان وزمین کی ہرہر چیز کو بھی کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے لئے تابع کردیا ، جو غور کریں یقینا وہ اس میں بہت سی نشانیاں پا لیں گے ۔

موسم سرما میں ہیٹر، گرم کپڑے، گرم مکان، گرم گاڑیاں اور استعمال کی گرم گرم دیگر چیزیں سب اللہ کی نعمت ہیں اور یہ اس زمانے کی سہولیات میں شمار ہوں گی  اور جب سہولت آجائے تو اسے اختیار کرنا چاہئے ، اس کے متعدد دلائل ہیں چند ایک نیچے درج  کئے جاتے ہیں۔

(1) اللہ تعالی کا فرمان ہے : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ(البقرة:185)

ترجمہ: اللہ تعالی کا ارادہ تمہارے ساتھ سہولت کا ہےسختی کا نہیں ۔

(2) اللہ تعالی کا فرمان ہے : يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا (النساء:28)

ترجمہ: اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کردے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

(3)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إن الدينَ يُسرٌ ، ولن يُشادَّ الدينَ أحدٌ إلا غلبَه ، فسدِّدوا وقاربوا ، وأبشروا ، واستعينوا بالغدوَةِ والرَّوْحةِ وشيءٍ من الدُّلْجَةِ .(صحيح البخاري:39)

ترجمہ: بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ( اور اس کی سختی نہ چل سکے گی ) پس ( اس لیے ) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں ( عبادت سے ) مدد حاصل کرو۔

مضمون:  عورت کا پولیس محکمہ میں نوکری کرنا

(4) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يا أيُّها الناسُ ، خُذوا مِن الأعمالِ ما تُطِيقُون ، فإن اللهَ لا يَمَلُّ حتى تَمَلُّوا( صحيح البخاري:5861)

ترجمہ: لوگو ! عمل اتنے ہی کیا کروجتنی کہ تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا جب تک تم ( عمل سے ) نہ تھک جاؤ۔

(5) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے :أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ رأى رجلًا يظلَّلُ عليهِ والزِّحامُ عليهِ فقالَ ليسَ منَ البرِّ الصِّيامُ في السَّفرِ(صحيح أبي داود:2407)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ایک شخص کو سایہ کیا جا رہا ہے اور لوگ اس پر ازدحام کیے ہوئے ہیں ۔ ( روزے اور گرمی کے باعث وہ غش کھا گیا تھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے ۔

اس حدیث کی روشنی میں جس طرح  مشقت ہونے والے شخص کے لئے سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے اسی طرح ٹھنڈے پانی سے مشقت ہونے پر گرم پانی سے وضو کرنا افضل ہے ۔

مذکورہ بالا تمام دلائل  سے ٹھنڈی میں وضو اور غسل کے لئے گرم پانی کی سہولت اختیار کرنے کا پتہ چلتا ہے ۔ نبی  ﷺ اور صحابہ کرام کی عملی زندگی سے  بھی اس قسم کی سہولت کا پتہ  چلتا ہے ۔

ایک شبہ کا ازالہ : ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج سے گرم ہوئے پانی کا استعمال برص کا سبب ہے۔ اس سلسلے میں بعض مرفوع روایات اور بعض آثار بیان کئے جاتے ہیں ۔ کوئی بھی روایت سندا  ثابت نہیں ہے ۔ مثلا

(1)عن عائشةَ قالت أسخنتُ لرسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ماءً في الشَّمسِ ليغتسِلَ به فقال لي يا حُمَيراءُ لا تفعلي فإنَّهُ يورِثُ البرَصَ.

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کے لئے دھوپ سے پانی گرم کیا تاکہ آپ غسل کریں تو آپ نے مجھ سے کہا اے حمیراء! ایسا مت کرو ، یہ برص (ایک بیماری) کا سبب ہے۔

اس روایت کو ابن عدی نے موضوع کہا ہے ۔( الکامل فی الضعفاء : 3/475)

(2)قال عمرُ بنُ الخطابِ - رضيَ اللهُ عنهُ - : لا تغتسلوا بالماءِ المشمسِ ، فإنَّهُ يُورثُ البرصَ۔

ترجمہ: حضرت عمربن خطاب رضی اللہ نے فرمایا: دھوپ سے گرم کئے ہوئے پانی سے غسل نہ کرو کیونکہ یہ برص کا سبب ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ اثر ضعیف ہے اور دھوپ سے گرم پانی کے متعلق کچھ بھی ثابت نہیں ہے ۔(الخلاصہ: 1/69)

اور بھی کئی دلائل ہیں لیکن کوئی بھی ثابت نہیں ہے اس لئے عقیلی نے کہا ہے کہ دھوپ سے ہوئے گرم پانی کے متعلق کچھ بھی سندا صحیح ثابت نہیں ہے ۔(الضعفاء ؛2/176)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ دھوپ سے ہوئے گرم پانی کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

گرم پانی سے وضووغسل اور طب : آجکل اطباء حضرات خود ہی لوگوں کو گرم پانی سے نہانے کا مشورہ دیتے ہیں بطور خاص مریض کو جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گرم پانی سے نہانا صحت کے لئے نقصان دہ نہیں ہے بلکہ سردی سے متاثرہونے والی جلد کے لئے فائدہ مند ہے ۔ ہاں مسلسل  زیادہ گرم پانی  سے غسل طبی اعتبار سے نقصان دہ بتلایا گیا ہے اس لئے ہلکا گرم پانی سے نہائیں ۔ جب غسل میں کوئی حرج نہیں تو وضو میں بدرجہ اولی کوئی حرج نہیں ۔


⋆ مقبول احمد سلفی

مقبول احمد سلفی
مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب