ہندومت ایک مطالعہ (آخری قسط)

محمد اشفاق عالم ندوی

 اسلام کا تصور مساوت

لیکن اسلام نے مساوات اور اخوت و بھائی چارگی کی جوتعلیم دی ہے وہ تمام مذاہب و ملل سے بالکل مختلف ہے چنانچہ اللہ تعالی نے سورہ اخلاص میں فرمایا ہیکہ قل اللہ احد  اللہ الصمد لم یلد ولم یولد لم یکن لہ کفوا احد  (الاخلاص )یعنی اس سورہ کے ذریعہ اللہ تعالی نے اپنے واحد و یکتا ہونے اور تمام چیزوں سے اپنی بے نیازی کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ اس کی کوئی نسل نہیں جسے عظمت کی نگاہ سے دیکھی جائے اور اسے مخصوص مراعات دئے جائیں ۔

آگے فرماتا ہیکہ الم نخلقکم من ماء مھین وجعلنا ہ فی قرارمکین الی قدر معلوم فقدرنا فنعم القادر ون(المرسلات ۔20۔پارہ 29) یعنی اس آ یت کے ذریعہ اللہ تعالی نے یہ بتادیا کہ شاہانہ خون کا دعوی ایک زعم باطل اور شاہانہ خون اور عامی خون کی تقسیم محض ایک افسانہ ہے پھر آگے مساوات کادرس دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ائے لوگوں اپنے پرور دگار سے ڈرو جس نے تم لوگوں کو ایک جان سے پیدا کیا (النساء۔1۔پارہ۔4)۔لہذا تم سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہوئے تم میں کوئی کسی سے حسب نسب ،خوبصورتی ،اور کالے گورے ہونے کے اعتبار بڑا نہیں ہو سکتا بلکہ تم میں سب سے باعزت اور مکرم وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی و پرہیز گار اور خدا سے ڈرنے والا ہو ۔(الحجرات۔13۔پارہ ۔26)

      مذکورہ بالا آیات پر نبی آخر الزماں ﷺ عملی طور پر کار بند تھے چنانچہ ایک مرتبہ ایک مسلمان عورت چوری کے جرم میں گرفتار ہو کر آئی ،قریش نے اس کی سفارش کی کہ اس کو سزا نہ دی جائے لیکن آپ  ﷺ نے فرمایا کہ ا ئے لو گوں تم سے پہلی قومیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی معمولی آ دمی اسی کام کو کرتا تو اس کو سزا دیتے  تھے ؟ خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔(الصحیح البخاری،کتاب الحدود)

ہندومت میں عورت کا مقام 

 ہندوستان میں آریوں کی آمد کے بعد ویدک دور شروع ہوتا ہے ۔بعد کے ادوار کے مقابلے میں اس دور میں عورتوں کی حالت کچھ بہتر تھی لیکن ویدک دور میں بھی بہت سے لوگوں نے عورتوں کی مخالفت میں آواز بلند کی اور ان کی توہین کی اور ان کے ساتھ نفرت کا برتائو کیا ۔

 چنانچہ رگ وید کے باب ۵ اشلوک 39 میں ہے:

عورتیں غلاموں (لونڈیوں ) کی فوج اور اسلحہ اور اوزار ہیں،،

اسی طرح تیتریہ سمہتا کے باب 6 اشلوک 5 میں ہے:

لہذا عوتیں بغیر قوت کی نحیف اور لا چار ہیں انہیں حق وراثت نہیں ملتا ۔وہ شریر سے بھی بڑھ کر بد تمیز ی سے بات کرتی ہے،،

جب پرانوں کا دور آیا تو ظلم نسواں میں کچھ اور اضافہ ہوا چنانچہ مارکنڈیہ پران باب 16 میں ہے:

عورتوں کے لئے الگ سے یگیہ یعنی قربانی ،شرادھ اور برت و فاقہ کا دستور نہیں ہے شوہر کی خدمت کے علاوہ ان کا کوئی دنیاوی فرض یا وجود نہیں ہے،،

رفتہ رفتہ یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان پر ظلم وزیادتیان ہوتی رہی ان پر بہت ساری اخلاقی الزامات بھی لگائے گئے۔مہابھارت انشاسن پروا باب 6 اشلوک 19 میں لکھا ہے:

سوتر کار نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عورتیں جھوٹی ہوتی ہیں ،،

عورتوں سے بڑھ کر کوئی دوسرا شریر نہیں ،یہ ایک ساتھ ہی استرہ کی دھار ہیں زہر ہیں اور اگنی ہیں،،

اس طرح کی اور بے شمار باتیں ہندومت کی مذہبی کتابوں میں ملتی ہیں لیکن ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے ہندو مت میں رسم ستی کے متعلق کچھ باتیں قارعین کی نظر کرتے ہیں

 تقریبا 1829 سے پہلے تک ہندوستان میں بیوہ عورتوں کا اپنے شوہر کی چتا کے ساتھ ستی ہوجانا (جل کر مرجانا) ایک مذہبی فریضہ سمجھاجاتا تھا ۔یہ رسم صرف براہمن میں ہی نہیں بلکہ راج گھرانوں اور اعلی ذات کے لوگوں میں بھی رائج تھا لیکن ہندو مت کی مذہبی کتابوں میں اس سلسلہ میں کوئی خاص حکم موجود نہیں ہے۔

وشنو دھرم سوتر باب 14 میں لکھا ہے کہ اپنے شوہر کی وفات پر بیوہ عورتیں برہم چریہ (عفت) رکھتی تھیں یا شوہر کی چتا پر ستی ہوجاتی تھیں،،

  مہابھارت کے آدی پروا  میں ستی کے متعلق لکھا ہے کہ پانڈئو کی پیاری رانی مادری نے شوہر کی لاش کے ساتھ اپنے کو جلادیا،،

اسلام میں عورت کا مقام

  قرآن کریم میں عورتوں کے تعلق سے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ عورتوں کا بھی حق ہے جیساکہ مردوں کا ان پر حق ہے (البقرہ 228)

 دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یعنی وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ تم اس کے پاس سکون حاصل کرو (الاعراف۔189)

عمل کے معاملے میں عورت اور مرد دونوں یکساں ہیں چنانچہ جو جیسا کریگا اس کے مطابق اس کا اجر پائے گا ،اس معاملے میں عورت اور مرد میں کوئی تفریق نہیں کیا جائے گا ۔

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لئے اچھا ہو۔حدیث کے مطابق بیوی کے اوپر شوہر کا سب سے زیادہ حق ہے مگر وہ اپنی بیوی کے لئے خدا کے مثل نہیں ہے اور ناہی بیوی اس کی لونڈی ہے اسے ہر طرح کی عبادت کرنے کا حق ہے عبادت کے معاملے میں بیوی کے لئے شوہرسے اجازت لینے کی ضرورتن نہیں ہے ۔

اسلام نے عورت کے بیوہ ہونے پر اس کو دوسری شادی کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے اور ایک نئی زندگی جینے کی ترغیب دیتا ہے ۔

کلمہ اختتامیہ

مطالعہ ادیان ومذاہب کے دو مقصد ہوسکتے ہیں چنانچہ ان میں سے پہلا مقصد یہ ہے کہ اس کے مطالعہ سے ایک مسلمان کاایمان اپنے دین پر مزید راسخ ہو اور اسکا ثبوت حضرت عمر ؓ کا ایک قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ جس نے جاہلیت کو دیکھا اور اس کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہواتو اس کا ایمان اور اس کا اسلام اس شخص کے مقابلے میں جس نے جاہلیت کی بد اعمالیوں اور اس کی سختیوں کو نہیں دیکھا ہے زیادہ بہتر ،مضبوط اور راسخ ہے

چنانچہ مطالعہ ادیان ومذاہب سے ہمارے دلوں میں اسلام کے دین یسر ہونے کا یقین بھی مضبوط ہو جاتا ہے اور دیگر ادیان ومذاہب میں عبادات و رسومات اور ان کے تصور نجات کے مطالعہ کے بعد اسلامی عبادات اور اس کے تصور نجات نہایت آسان اور ہلکے معلوم ہوتے ہیں ۔مطالعہ ادیان و مذاہب کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں مختلف ادیان ومذاہب اور نظریات کے ماننے والے رہتے ہیں ۔چنانچہ اس کے ذریعہ سے ہم ان سے بہتر تعلقات قائم کر سکتے ہیں اور پر امن زندگی گذار سکتے ہیں۔

اس کا آخری اور سب سے بڑا مقصد تبلیغ دین ہے چنانچہ ہمیں اپنے آس پڑوس میں رہنے والے ہندو بھائیوں اور خاص طور پر ان لوگوں تک جو ادیا ن مذاہب کی چکی میں پیسے جا چکے ہیں اور جن پر ہر داور اور  ہر زمانے میں ظلم وناانصافی کو روا رکھا گیاہے۔ ان تک اسلام کی تعلیمات کو عملی طور پر پہونچانے کی ضرورت ہے اور انہیں اسلام کے تصور مساوات ،اسلام میں عبادات اور اس کے دین یسر ہو نے کے دعوی سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے اور خود ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اور اپنے اخلاق و کردار کے زریعہ ان ہندو بھائیوں کو مطمئن کرنے کی ضرورت ہے جو مسلمانوں سے خائف اور ڈسرے ہوئے ہیں یا پھر اسلام سے بد گمان ہیں ۔

  آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہندوستان میں رہنے والے ہر ہندی تک اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور اس کے محکم اصولوں کو بحسن و خوبی پہو نچائیں اور آج انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان دین عند اللہ الاسلام(آل عمران۔19۔پارہ 3) کہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی دین ہے تو وہ اسلام ہے اسی پر عمل پیرا ہوکر اور اس کی تعلیمات کو دل و جاں سے لگا کر ہی نجات کا حصول ممکن ہو سکتا ہے ۔

کتابیات

(1)who invented hinduism by david n. lorenze

(2) دنیا کے بڑے مذہب                     عماد الحسن فارقی

(3)ہندوستانی سیاسی نظام کا تدریجی ارتقاء        ایچ این سنہا (قومی کونسل برائے فروغ اردو زباں )

 (4)مذاہب عالم ایک تقابلی مطالعہ              مولانا انیس احمد فلاحی

(5) تقابل ادیان                            مولانا محمد یوسف خان

(6) ہندومت اول و دوم                       خدا بخش اورنٹیل لائبرری پٹنہ

(7) کچھ ہندومت کے بارے میں              خدا بخش  لائبرری

 (8) ہندی فلسفہ کے عام اصول                 شیو موہن لعل ماتھر

(9) قدیم ہندی فلسفہ                         شیو موہن لعل ماتھر

(10) دبستان مذاہب  کی خسرو اسفندیار(تعلیقات رشید احمد جالندھری لاہور)

(11)اسلام اور ہندو دھر م کی مشترکہ باتیں         ڈاکٹر ذاکر نائک

 (12) مذاہب میں عورت کا مقام               محمد یونس قریشی

 (13) ہندستانی مذاہب میں توحید رسالت اور آخرت کا تصور     پروفیسر محمد مشتاق احمد تجاروی

 (14)گگن کا مذاہب نمبر                         اڈیٹر شمس کنول

(15) ہندو مذہب  مطالعہ اور جائزہ            پروفیسر محسن عثمانی ندوی

(16) ترجمہ قرآن                                مولانا مودودی ؒ

 (17)صحیح بخاری جلد دوم کتاب الحدود

(18) اسلام میں عدل اجتماعی                سید قطب شہید

 (19) اسلام کا تصور مساوات                مولانا سلطان احمد اصلاحی

(20)ریاض الصالحین ۔باب بر الوالدین      الامام النووی

 (21)الجامع الصغیر وزیادتہ                  علامہ ناصرالدین البانی



⋆ محمد اشفاق عالم ندوی

محمد اشفاق عالم ندوی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

استاد کی اہمیت

استاد بادشاہ تو نہیں ہوتا لیکن وہ بادشاہ گَر ضرورہوتاہے۔ ان سب کے باوجود ہمارے معاشرہ میں استاد کی اہمیت نہ تو کل تھی اور نہ آج ہے۔ یہاں استاد کو عام انسانوں کی طرح جانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ اکیسویں صدی میں رہ کر بھی اٹھارہویں صدی جیسی زندگی گذار رہے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے