تقابل ادیانمذہب

ہندومت ایک مطالعہ (قسط اول)

محمد اشفاق عالم ندوی

ہندوستان ایک قدیم ملک ہے اور دنیا کے جن خطوں میں پہلے پہل انسانی تہذیب و تمدن نے آنکھیں کھولی ہیں ان میں ہندوستان کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ آ ثار قدیمہ اور علم الانسان اور جغرافیائی تحقیقات نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اب تک انسانوں کی ایسی کوئی بھی جماعت نہیں رہی ہے جو مذہب سے بالکل عاری رہی ہو ۔خود ہندوستان بھی چار بڑے مذاہب کا منبع اور سرچشمہ اور مختلف تہذیب وتمدن کی آماجگاہ رہا ہے۔ ہڑپا موہن جداڑو کی کھدائی میں بعض ایسے آثارو قرائن دستیاب ہوئے ہیں جن سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قدیم ہندوستان میں آریوں کی آمد سے قبل دوسری تہذیبیں بھی تھیں لیکن آریوں کی ہندوستان آمد کے بعدویدک دھرم نے ایسی ترقی کی کہ اپنے ماقبل تمام تہذیب وتمدن کو سرے سے مٹادیا اور اس نے نظام زندگی کا ایک جدید فلسفہ پیش کیا جس میں انسان کو مختلف طبقات اور ورنوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

چنانچہ ذات پات کے اس نظام نے ایک طبقہ کو بام عروج پر پہونچادیا اور دوسرے طبقہ کو اسفل السافلین میں جگہ دی۔ہندومت نے جہاں طبقاتی نظام بنایا وہیں اس نے عورتوں کا بھی استحصال کیا اور مختلف رسوم ورواج کے ذریعہ غرباء کے خون اوران کے پسینہ سے کمائے ہوئے دولت سے برہمنیت نے خوب ترقی کی وہیں ان غرباء کو ایسے گڑھے میں دھکیل دیا جس سے انہیں ان کی موت ہی نکال سکتی تھی ۔آج ہم اس مختصر مقالہ میں اسی ہندو مت پر ایک نظر ڈالیں گے اور ان کے متعلق اپنی معلومات آپ حضرات کے سامنے رکھیں گے۔

لفظ ہندو ایک تحقیق 

قدیم ہندوستان (جس میں موجودہ ہندوستان ،پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان وغیرہ قدیم ہندوستان میں شمار ہوتا تھا) میں دریا ئے سندھ کے اس پار رہنے والے لوگوں کو جغرافیائی اعتبار سے ہندو کہا جاتا تھا ۔جس کا ثبوت ایران کا قدیم ترین مذہب زرتشتیت کی مقدس کتاب زنداوستا میں ہمیں ملتا ہے۔اس کتاب میں ایک جگہ hapta hindu  کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ س فارسی زبان میں ہ سے بدل جاتا ہے اصلا وہ سنسکرت زبان کا sapta sindhu تھا جو فارسی زبان میں hapta hindu  ہو گیا ۔ تاریخی اعتبار سے دریائے سندھ کا یہ علاقائی نام تھا جو کہ موجودہ پاکستان اور شما لی ہندوستان میں پڑتا ہے۔

326 ق م میں جب سکندر اعظم ہندوستان کو فتح کی غرض سے آیا تو اس وقت اس نے دریائے سندھ کے اس پار رہنے والے لوگوں کو جغرافیائی اعتبار indu یا indous  کہا جو بعد میں india بن گیا ۔

 پھر اس کے بعد اسلام کی آمد سے قبل عربی تجار نے تجارت کی غرض سے ہندوستان کا رخ کیا جس کی جابجا مثالیں قدیم عربی شاعری میں بھی  ملتی ہیں ۔انہوں نے دریائے سندھ کے اس پار رہنے والے لوگوں کو جغرافیائی اعتبار سے ہندو کہا اور اس سرزمین کو الہند کا نام دیا۔

پھر اس کے بعد 13 ویں صدی عیسوی میں جنوبی ہندوستان کے دو بھائیوں ’’ہری ہر‘‘ اور ’’لکا ‘‘نے اپنی ہوشیاری اور چالاکی سے ایک باشاہ کا تخت پلٹ دیا اور خود اس کی جگہ تخت نشین ہوگئے اور اپنا لقب ہندو رکھا۔ اس کے بعد مرہٹوں کے مشہور ومعروف سردار شیواجی اٹھے اور انہوں نے اپنی جماعت کے ساتھ مغلوں سے جنگ کیا اور انہوں نے ان جنگوں کا مقصد ہندوی سوراج قائم کرنا بتایا ۔  لیکن سترہویں صدی کے آخر سے ہندوئوں نے اس لفظ کو باضابطہ طور پر اپنے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔

لفظ ہندو ازم ۔ ایک تحقیق 

 اٹھارہویں صدی عیسوی سے پہلے ہندوازم کی جگہ سناتن دھرم یا ویدک دھرم کا لفظ استعمال ہوتا تھا ۔لیکن سب سے پہلے ہندو ازم کا لفط راجہ رام رموہن رائے نے 1816  میں سناتن دھرم کی جگہ استعمال کیا ۔پھر اس کے بعد ایک انگریزمحقق John crawfurd کاایک ریسرچ پیپر Asiatick Researches کے نام سے 1820  میں شائع ہوا۔جس میں سناتن دھرم کے بجائے ہندو ازم کا لفظ

استعمال کیا گیا ہے۔لیکن 1828 میں کئی انگریزوں نے اس لفظ کو سناتن دھرم کی جگہ استعمال کیا اور بالآخر ۱۸۵۸ء؁ میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں اس لفظ کو شامل کیا گیا،اس کے بعد سے عام طور پر لوگ سناتن دھرم یا ویدک دھرم کے لئے ہندو ازم کا لفظ استعمال کرنے لگے۔

 قدیم ہندوستان میں آریوں کی آمد

 آریوں کی آمد سے قبل سیاہ فام داسیس ہندوستان میں آباد تھے۔جو گنگا اور سندھ کے سر سبز وشاداب میدانوں میں پھیلے ہوئے۔یہ محض جھوپڑوں اور جنگلوں میں رہنے والے وحشی نہیں تھے بلکہ شہروں میں رہنے والے مہذب اور متمدن لوگ تھے۔

 لیکن   1500 ق م  تا  2000ق م کے درمیانی عرصہ میں آریائی نسل سے تعلق رکھنے والے قبائل وسط ایشیاء سے ہندوستان آنا شرع ہوئے اور سب سے پہلے انہوں نے پنجاب پر حملہ کیا اور یہا ں کے اصل  باشندوں کو نکال باہر کیا چنانچہ وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے اور جو باقی بچے وہ غلام بنالئے گئے۔

 آریوں کا عقیدہ

 آریہ قوم اپنے ابتدائی زمانے میں توحید پر قائم تھی ۔چنانچہ البیرونی نے اپنی کتاب تاریخ ہند میں لکھا ہے کہ

’’خدا کے متعلق ابتدائی زمانے میں ہندوں کا عقیدہ تھاکہ وہ واحد ،غیر فانی ہے نہ اس کا کوئی آغازہے اور نہ اس کا کوئی انجام ۔وہ مختار مطلق اور قادر مطلق ہے حی محی ہے احکم الحاکمین اور رب ہے اور اپنی سلطانی میں لا ثانی ہے نہ اس سے کوئی مشابہ ہے اور نہ وہ کسی کے مشابہ ہے ‘‘

 لیکن آریہ ہندوستان میں داخل ہوئے تو انہیں بت پرستوں سے واسطہ پڑا اور پھر رفتہ رفتہ وہ مرض لا علاج میں مبتلا ہو گئے اور بت پرستی کا عام رواج ہوگیا اور یہیں سے ہندو دھرم کا آغاز ہوا۔

ہندومت میں خدا تصور

ہندومت کی مقدس کتابوں یعنی وید ،اپنشد اور گیتا وغیرہ میں بعض جگہوں میں خدا کی وحدانیت اور بعض جگہوں میں شرک کا بھی تصور واضح طور پر ملتا ہے ۔چنانچہ رگ وید میں کل 33 خدائوں کا تذکرہ ہے ان میں سے گیارہ زمین کے دیوتا ہیں اور گیارہ آسمان کے  اور گیارہ فضاء کے دیوتا ہیں ۔

لیکن جو غیر مذہبی ہندو ہیں وہ ایک سے لیکر 33 کروڑ خدائوں کی پرستش کرتے ہیں ۔گویا کہ ایک غیر مذہبی ہندو کے نزدیک ہر چیز خدا ہے مثلا درخت ،پہاڑ اور دریا وغیرہ

اپنشدوں میں خدا کی وحدانیت کاتصور

چھاندوگیا  اپنشد باب 6 فصل 2 مشق1میں ہے کہ

وہ صرف ایک ہی ہے بغیر کسی کے ،،

شیویتا شواترا اپنشد باب 6 مشق 9 میں ہے کہ

 اسکے نہ ماں باپ ہیں اور نہ اس کا کوئی مالک وآقاہے،،

  یجر وید کے سمہتا حصہ کے باب 40 مشق 8 میں یہ بات مذکور ہے کہ

 اس کا کوئی جسم نہیں ہے وہ خالص ہے،،

  یجر وید سمہتا حصہ کے باب 40 مشق 9 میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ

 وہ لوگ تاریکی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں جو سمبھوتی یعنی مخلوق اشیا ء کی پرستش کرتے ہیں ،مخلوق اشیاء جیسے میز، کرسی اور بت وغیرہ ،،

  رگ وید باب 1 مشق 46 میں ہے کہ

 عارفین (پڑھے لکھے دینی پیشوا ) ایک خدا کو مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں ،،

   ہندو ویدانت کا برہما سوتر یہ ہے کہ

 برہما (بھگوان ) ایک ہی ہے ،دوسرا نہیں ہے ،نہیں ہے،نہیں ہے،ذرا بھی نہیں ہے ،،

ہندو مت میں شرک کا تصور

 ہندو مت میں ابتداء ہی سے توحید کے ساتھ ساتھ شرک بھی رہا ہے چنانچہ تمام ہندو اس بات کو تسلیم کر تے ہیں کہ دیوی دیوتابھی فعال اور موثر ہیں اور ان میں اکثر لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ خدا تین ہیں برہما ،وشنو اور شیو اور یہ تینوں مستقل بالذات ہیں ۔ برہما خالق ہے جس نے تمام انسانوں اور اس دنیا کو بنایا ۔اور وہ اس عمل تخلیق کے بعد آسمانوں کے پیچھے چلا گیا ۔دوسرا وشنو ہے جو اس دنیا کے انتظام وانصرام کو دیکھتا ہے اور لوگوں کے ساتھ رحم وکرم کا معاملا کرتاہے اورتیسرااشیو ہے جو الوہی طاقت کے قہر وجلال کی تجسیم ہے اور وہی اس دنیا کو ختم کریگا ۔

 اسی طرح دیوتاوٗں کے ساتھ ساتھ ہندو مت میں دیویوں کی بھی پرستش ہوتی ہے چنانچہ شیو کی بیوی پاربتی اور شیو کی شکتی کالی ماں اور تانترک  فرقے کی دیوی بھیراویں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں اور بھوانی جرائم پیشہ لوگوں ،قزاقوں اور  ڈاکوئوں کا معبود رہی ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سارے دیویاں ہیں جیسے درگا ،کمندا،یا چندااورشیراوالی وغیرہ ۔

ویدوں کا ایک تعارف

وید سنسکرت لفظ ود سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے جاننا ،سمجھنا،سوچنا،غور وفکر کرنا ۔وید کا لفظ خود ویدوں میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ بعد کے ہندو مفکرین نے ان کتابوں کے لئے ویدکا  لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا۔

 وید اپنے جامع مفہوم کے لحاظ سے کسی خاص کتاب نام نہیں ہے بلکہ ایک مقدس اور وسیع ادب ہے جو تین ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ کا خیال کیا جاتا ہے درحقیقت یہ کہنا دشوار ہے کہ ان کی ابتدائی حصہ کب وجود میں آئے ۔

 1۔ مکس ملر کا کا خیال ہے کہ ویدوں کا زمانہ  12  سو سال قبل مسیح ہے۔

2۔ ہیک کا قیاس ہے کہ دو ہزار چار سو سال قبل مسیح ہے ۔

3۔ بال گنگا دھر تلک کے خیا ل میں ویدوں کا زمانہ چار ہزار سال قبل مسیح قرار دیا جا سکتا ہے ۔

 لیکن ان میں سے کوئی بھی قول قطعی طور پر صحیح نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ ایک نامعلوم قدیم زمانے سے وید روایتا چلے آرہے ہیں اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہ مقدس کلام ہیں جنہیں خدا نے رشیوں کو سکھائے ہیں ۔

ویدوں کی ترویج و اشاعت

جس وقت وید ظہور میں آئے اس وقت ہندوستان میں تحریر کا کوئی رواج نہیں تھا اس لئے یہ سینہ بسینہ منتقل ہوتا رہا اور بعد میں ان کے جمع و تدوین کا کام ہوا۔

مزید دکھائیں

محمد اشفاق عالم ندوی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی

متعلقہ

ایک تبصرہ

  1. یہ بات نہ صرف مسلمانوں،عیسائیوں بلکہ خود ہندوؤں کے لئے بھی حیران کن اور ناقابل یقین ہوگی کہ بہت سے ہندو مرنے کے بعد شمشان گھاٹ میں جلایا جانا پسند نہیں کرتے بلکہ وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرح قبر میں دفن ہونا اور اپنی قبرکو پختہ کراکے اپنی فوٹو لگوانا پسند کرتے ہیں ۔شمالی بھارت میں اونچی ذات کے ہندوؤں کے ایک ایسے قبرستان ہیں جہاں انکی پختہ قبریں موجود ہیں اور انکے کتبے اور تصویریں و مجسمے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہندو مرنے کے بعد اپنے مردہ تن کو جلانے کے بعد راکھ گنگا میں بہانا شبھ نہیں سمجھتے ۔بنگلور کا یہ قبرستان خود ہندوؤں کے مذہبی عقائید اور توہمات کی نفی کرتا نظر آتا ہے جو مردے کو جلا کر اسکی راکھ مقدس گنگا کے سپرد کرنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر برہمن اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انکو جلانا کسی طور درست نہیں ہے___________________

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close