ہندومت ایک مطالعہ (قسط دوم)

محمد اشفاق عالم ندوی

 وید چار ہیں:

1۔ رگ وید   2۔ سام وید  3۔ یجر وید  4۔ اتھر وید

   1۔رگ وید : اس وید میں دس ہزار منتر یا مناجاتی گیت ہیں اور یہ مکمل طور پر نظموں پر مشتمل ہے جس میں ہندوئوں کے خدائوں کی تعریف اور ان کی بزرگی سے متعلق گیت جمع کئے گئے ہیں اور دیوتائوں کو مخاطب کرکے ان سے دعائیں مانگی گئیں ہیں اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رگ وید تمام ویدوں میں سب سے قدیم اور پرانا ہے ۔

  2۔ یجر وید :یجر وید کا معنی ہے رسومات کا علم ۔یہ رگ وید ہی سے ماخوذ ہے اور اس یگیہ کے گایا جاتا ہے لیکن اس کی ترتیب اس طرح ہے کہ وہ مختلف مذہبی قربانیوں کے وقت پڑھی جاتی ہے اور ان میں نظموں کی ترتیب ان دیوتائو ں کے لحاظ سے ہے جن کی اس میں تعریف کی گئی ہے مثلا پہلانظم اگنی کی تعریف اور اس سے متعلق باتوں پر مشتمل ہے۔

 3۔سام وید :سام وید بجز چند نظموں کے رگ وید پر مشتمل ہے اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ مقررہ راگوں میں یگیہ (قربانی)کے موقعوں پر گائے جائیں ۔اس لئے اس کی کوئی عملی آزاد قیمت نہیں ہے بلکہ اس کو بھجنوں کی کتاب بھی کہا جاسکتا ہے۔

 4۔ اتھر وید : اس وید میں چھ ہزار منتر یا مناجاتی گیت ہیں اور تقریبا ایک ہزار دو سو منتر رگ وید سے ماخوذ ہیں اور اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا تقریبا نصف حصہ نثر پر مشتمل ہے ۔

 اپنشد ایک تعارف

  اپا : نیچے ، سامنے

   نشد:  بیٹھنا

  یہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں نیچے بیٹھنا اور اس کا اصطلاحی معنی ہے گرو کے نزدیک بیٹھنا اور اس کے اپدیش کو پوری توجہ اور یکسوئی سے سننا ۔

 ڈیوسن کا خیال ہے کہ اس لفظ کا مطلب پوشیدہ تعلیم ہے جو پردہ راز میں دی جا تی ہے جس کا ثبو ت خود اپنشد وں کی بہت سی عبارتوں میں بھی ملتا ہے ۔

چنانچہ یہ تعلیم اسی شاگرد یا طالب علم کو دیا جاتا تھا جو اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز ہو اور ذہین اور دانشور ہو اور خود کو گرو کے سامنے اس کے سننے کا اہل ثابت کرے اور اس خصوصی توجہ کی وجہ یہ تھی کہ یہ کسی غیر اہل اور غیر مستحق کو نہ دی جائے تاکہ اس کا بے جا تصرف نہ ہوسکے ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپنشدوں کا زمانہ بہت قدیم ہے جن کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ یہ اسی زمانے کے ہیں ناہی ان کے کسی مصنف کا حوالہ دیا جاسکتا ہے ۔ہاں ان سب کو مہاتما گوتم بدھ سے قبل قرار دیا جاسکتا ہے ۔

یہ اپنشد بالخصوص جو کافی ضخیم ہیں زیادہ تر مکالموں کے طرز میں ہیں ۔ان کا طریقہ استدلال فلسفیانہ کے بجائے شاعرانہ ہے اور یہ عام طور سے استعارہ اور کنایہ کے ذریعہ صداقت کا اظہار کرتے ہیں ۔طرزادا میں بہت سے حذف عبارت سے کام لیا گیا ہے اس لئے اس کی تفسیر کے لئے وہی شخص موزوں ہوسکتا ہے جو ان کمیوں کو با آسانی پورا کرسکے ۔

        اپنشدوں میں ابتدائی اور اہم ترین وہ ہیں جن کی تفسیر اور شرح آدی شنکر آچاریہ نے کی ہے:

       1۔ کین                                              1.kena

        2۔ کٹھ                                              2.katha

        3۔ پرشن                                        3.prashna

        4۔منڈک                                     4.mundaka

        5۔ماندوکیہ                                   5.mandukya

       6۔ تیتریہ                                           6.taitiriya

        7۔ایتریہ                                         7.aitariya

        8۔ چھاندگیہ                                    8.chadogya

        9۔ برہدآرنیک                             9.brihad aranya

       10۔ ایمن                                           10.aimana

 اس سلسلہ میں یہ بات قابل غور ہے کہ الگ الگ اپنشد ایک دوسرے سے مضمون اور طرز بیان میں بہت مختلف ہیں ۔ ان میں سے بعض وحدتی اصول ذات پر زور دیتے ہیں اور بعض یوگ کے عمل پر زور دیتے ہیں ۔بعض شیو یا وشنو کی پوجا پر زور دیتے ہیں اور انہی کے مطابق انکے نام پڑ گئے یہ سب تعداد میں کل ایک سو آٹھ(108) ہیں ۔

 اپنشد کا فلسفہ:

 اپنشدوں میں میں برہمن اور آتمن کے تین نظریات ملتے ہیں  جو نہایت پیچیدہ اور دشوار ہیں لیکن ہم ان پیچیدگیوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے  آسان اور قابل فہم الفاظ میں انہیں بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

(1)اپنشدوں میں جو پہلا نظریہ ملتا ہے وہ برہمن کا ہے یعنی وہ ایسی ذات ہے جو انسانی خیالات و تصورات اور الفاظ سے پرے ہے۔اس حقیقت کو انسانی ذہن و دماغ کے سانچے میں سمویا نہیں جا سکتا۔وہ لامحدود ہے۔

برہد آرنیک میں ہے کہ :

’’ وہ نہ یہ ہے اور نہ وہ ہے(نیتی نیتی) وہ ناقابل تصور ہے کیوں کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا وہ غیر متغیر ہے کیوں کہ اس میں تغیر نہیں ہوتا ۔وہ غیر محسوس ہے کیوں کہ کوئی چیز اس کو چھو نہیں سکتی ۔ وہ نہ تلوار کی ضرب سے مار کھا سکتا ہے اور نہ کوئی چوٹ سہ سکتا ہے ‘‘۔

(2)اپنشدوں میں دوسرا آتمن کا نظریہ ملتا ہے ۔وہ ایک ایسا ابدی عنصر ہے جو انسان کی ذات میں موجود ہے اس میں کبھی بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ موت کے ساتھ فنا ہوتا ہے بلکہ وہ ایک ابدی عنصر ہے جو لافانی ہے۔

چندگیا اپنشد میں ہے کہ:

’’ ایک ابدی روح ہے جو پاک ہے اور جو بڑھاپے،موت،بھوک،پیاس اور غم سے بری ہے یہی آتمن ہے ۔انسان کے اندر روح اور اس روح کی ہر خواہش حق ہے،یہی وہ روح ہے جس کو ہر قیمت پر ہم کو پالینا چاہیئے ۔جس نے اپنی روح کو پا لیا اور اس کی معرفت حاصل کر لی اس نے تمام دنیائوں کو پا لیا ،اوراس کی تمام خواہشات پوری ہو گئیں ‘‘۔

(3)تیسر ا نظریہ وہ ہے جس میں برہمن اور آتمن دونوں کو باہم مترادف معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ اپنشدوں میں اس بات کی وضاحت میں ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ وہ ایک  ہی حقیقت ہے جو کائنات میں بھی جاری و ساری ہے اور خود انسان کے اندر بھی موجود ہے گویا کہ انسان کے اندر اورباہر ہر طرف ایک پاک اور لافانی عنصر ہی واحد حقیقت ہے جو ہر چیز کی بنیاد ہے۔

چند گیا  اپنشد میں ہے کہ :

’’ ایک روشنی ہے جو دنیا کی تمام چیزوں سے پرے چمک رہی ہے،ہم سب سے پرے،آسمانوں سے پرے،بلند ترین آسمانوں سے پرے۔یہی روشنی ہے جو ہمارے دل میں بھی چمک رہی ہے۔‘‘

  رامائن اور مہابھارت کا زمانہ

 تقریباً 500  ق م تک ویدوں کا زمانہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد سے لیکر  400ء تک کے زمانہ کو رامائن اور مہا بھارت کا زمانہ کہا جاسکتا ہے ۔یہ دونوں رزمیہ نظموں پر مشتمل ہیں اور یہ ویدک عہد کے بعد کے ادوار کی معاشرتی ،مذہبی ،اور سیاسی صورتحال کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں ۔

 مہابھارت ایک تعارف

 مہابھارت ہندوستا ن کی دو طویل رزمیہ نظموں میں سے ایک ہے ۔اس رزمیہ نظم کا مرکزی قصہ راجا بھرت کے اخلاف کورئوں اورپانڈئوں کے درمیان جنگ تخت نشینی ہے ۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سارے غیر متعلق قصے کہانیاں ہیں جو اس دور کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں ۔

یہ جنگ اتنی بڑی تھی کہ اس کے آثارآریہ نسل کے ذہن وشعور پر مرتسم ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور اس کے بعد کے شعراء اور قصہ گویوں کے ذریعہ یہ نسل در نسل منتقل ہوتے رہے اور چٹھی صدی قبل مسیح کے اختتام سے اس کی تدوین و تصنیف کا آغاز ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافے ہوتے رہے اور بالآخر صدیوں کے اضافے کے بعد تقریبا پانچویں صدی عیسویٰ میں اپنے تکمیل کو پہنچا ۔اس وقت اسکی موجودہ ضخامت ایک لاکھ اشعار پر مبنی ہے اور عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے مصنف ـوید ویاس جی ہیں جو صحیح نہیں ہے۔کیونکہ مصنفین کا ایک سلسلہ ہے جنہوں اس کی تصنیف وتالیف میں حصہ لیا تھااور بالآخر وید ویاس جی نے تقریبا چھ لاکھ اشعار میں سے ایک لاکھ اشعار پر مبنی مہابھارت کی ترتیب و تدوین کا کام انجام دیا۔مہابھارت میں وید ویاس جی کے کل چوبیس ہزار اشعارشامل ہیں ۔

رامائن ایک تعارف

مہابھارت کے بر خلاف رامائن ایک شخصیت رام چندر جی اور ان کے متعلقین کے ارد گرد گھومتا ہے۔ مہا بھارت کے مقابلے میں یہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ کی عکاسی کرتا ہے۔

 ان دونوں میں بنیادی اختلافات کے باوجود دونوں مذہبی عقائد ورسومات اور سماجی و سیاسی صورتحال اور ہندو مذہب کی ارتقاء کے ایک ہی دور کی داستان سناتے ہیں ۔یہی دونوں کتابیں ہیں جن میں ہندو مت کے اہم فرقوں کے بارے میں کچھ بہت معلومات ملتے ہیں ۔

بھگوت گیتا ایک تعارف

 بھگوت گیتا مہا بھارت کاہی ایک حصہ ہے جو بھگوان شری کرشن جی کی فلسفیانہ وعظ و نصیحت پر مبنی ہے ۔یہ کتاب جو مہا بھارت کے چھٹی کتاب کے اٹھارہ ابواب پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب شری کرشن جی کی ان نصائح پر مشتمل ہے جوانہوں نے کورکشیتر کے میدان میں ارجن کوکیا تھا۔جب ارجن کورئوں کی فوج میں اپنے اعزہ و اقرباء اور اپنے بچپن کے دوست واحباب کو دیکھتے ہیں تو ان کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔ اس وقت شری کرشن جی جو ان کے رتھ بان کی حیثیت سے اس جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ رتھ کو دونوں فوجوں کے درمیان لے جاتے ہیں اور اس کے بعد ان کی ہمت بندھاتے ہوئے ایک نصیحت کرتے ہیں ۔یہ پوری کتاب اسی وعظ و نصیحت پر مشتمل ہے۔

بھگوت گیتا کا فلسفہ اور اس کے اثرات

 اس کتاب کے علاوہ ہندومت کی اکثر و بیشتر کتابوں میں ذات پات کا نظام اور ورنوں کا تصور ملتا ہے ۔جس میں صرف برہمن،چھتری اور ویش ہی مکش پراپت کرسکتے ہیں اور شودروں اور عورتوں کے لئے نجات اس وقت تک ممکن نہیں ہے ۔جب تک کے وہ مذکورہ بالا تین ورنوں میں سے کسی ایک میں پیدانہ ہوں ۔لیکن بھگوت گیتا میں شری کرشن ارجن کے سامنے کرم کا ایک جدید فلسفہ پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص اپنے عمل اور کام کے ذریعہ نجات حاصل کرسکتا ہے یعنی برہمن کا کام دیوتائوں کے سامنے پوجا پاٹ کرنا اور غور وفکر کرنا ہے ۔چنانچہ اگر وہ بغیر کسی دنیاوی خواہش کے اس کام کو بحسن وخوبی انجام دیتا ہے تو وہ اس کے ذریعہ نجات (موکش)حاصل کر سکتا ہے ۔

چھتریوں کا کام حکومت کرنا اور جنگیں لڑنا ہے چنانچہ اگر وہ بغیر کسی دنیاوی خواہش کے حکومت کرتے ہیں اور جنگیں لڑتے ہیں تو وہ اس کے ذریعہ نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔اسی طرح ویش بھی اپنی تجارت و زراعت وغیرہ کے ذریعہ نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔اور شودر مذکورہ بالا تینوں طبقوں کی خدمت کرکے اور انہیں خوش کر کے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

  اس کتاب نے ہندوازم کی احیاء و تجدید کا کام کیا اور ان شودروں کو بھی جینے کا ایک مقصد عطا کیا ۔جو زندگی سے عاجز آچکے تھے۔اس کتاب مذہبی کی اہمیت ،مقبولیت اور ہندو مت پر اس کے اثرات کے اعتبار سے ہندو روایت کی کوئی اور مقدس کتاب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔اس کتاب کو شروتی (الہامی )تو خیال تو نہیں کیا جاتا ہے لیکن عملی اعتبار سے گیتا کو ویدوں سے کم اہمیت حاصل نہیں ہے ۔بھگوت گیتا ہندومت کی مقدس کتابوں میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔بھگوت گیتا کو عوام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ ویدوں کو بھی نہیں ہوئی بلکہ وید ایک مخصوص طبقہ تک ہی محدود رہے۔



⋆ محمد اشفاق عالم ندوی

محمد اشفاق عالم ندوی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

استاد کی اہمیت

استاد بادشاہ تو نہیں ہوتا لیکن وہ بادشاہ گَر ضرورہوتاہے۔ ان سب کے باوجود ہمارے معاشرہ میں استاد کی اہمیت نہ تو کل تھی اور نہ آج ہے۔ یہاں استاد کو عام انسانوں کی طرح جانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ اکیسویں صدی میں رہ کر بھی اٹھارہویں صدی جیسی زندگی گذار رہے ہیں ۔