ہندومت ایک مطالعہ (قسط سوم)

محمد اشفاق عالم ندوی

اسمرتیوں کا دور تدوین

 اسمرتیوں کا زمانہ تصنیف  100 ق م تا 500 ق م کے درمیان ہے ہندو فقہی مسائل کی کتابوں میں یہ سب سے زیادہ منظم طور پر مرتب کیا گیا ہے اس لئے ہندو قانون کی کتابوں میں اسمرتیوں کو سب سے زیادہ بنیادی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔اس کا زمانہ تدوین  200ق م سے  200 تک پھیلا ہوا ہے۔

تمام اسمرتیاں تین حصوں پر مشتمل ہیں

 (1) آچار: یعنی اس حصہ میں اخلاقیات اور معاملات سے بحث کیا گیا ہے ۔

(2)ویوہار: اس حصہ میں انسانی معاشرتی اور ان میں پیش آنے والے مسائل جیسے جزاء وسزا کے قوانین  مرتب کئے گئے ہیں ۔

(3) پرائشچت: اس حصہ میں جیسا کہ اس کے عنوان سے ظاہر ہو رہا ہے گناہوں سے توبہ و کفارہ سے متعلق مسائل کو یکجا کیا گیا ہے۔

ہندو قانون کی انفرادی اور معاشرتی زندگی کا یہ پورا نظام ورن آشرم دھرم  پر مبنی ہے۔ اس لئے ہندو قانون سے متعارف ہو نے کے لئے سب سے پہلے ورن آشرم دھرم کے متعلق جاننا ضروری ہے ۔

ورن کے لغوی معنی رنگ کے ہیں اس لئے بعض مصنفین کہتے ہیں کہ ہندو سماج کو چار طبقہ میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ان میں آریہ نسل سے تعلق رکھنے والے گورے رنگ اور خوبصورت ہوتے ہیں ان میں برہمن ،چھتری اور ویش ہیں ۔جبکہ سماج کا چوتھا طبقہ جو کہ غیر آرین نسل سے ہیں وہ کالے اور چپٹی ناک والے شودر کہلاتے ہیں ۔ہندوستان پر مکمل قبضہ ہو جانے کے بعد آریوں نے یہاں کے باشندوں سے اپنے کو ممتاز رکھنے کے لئے ذات پات کا نظام بنایااور اس میں یہاں کے باشندوں کو شودر کا درجہ دیا جس کا کام پہلے تین طبقوں کی خدمت کرنا تھا۔اور ساتھ ہی ساتھ ان کے لئے بہت سارے کاموں کو ممنوع قرار دیا گیامثلا جینو پہننے کے حقدار صرف آریہ نسل سے تعلق رکھنے والے تینوں طبقات ہیں ۔اسی طرح ویدوں کی تعلیم حتی کہ ان کا سننا بھی ان پر حرام کر دیا گیا ۔ چنانچہ ویدانت میں یہ بات مذکور ہے کہ جو شودر ویدوں کا کوئی لفظ سن لے اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈال دینا چاہئے ۔

ورن یعنی ذات پات کے اس نظام کی ابتدا  کے متعلق قطعی طور  پر کچھ کہنا مشکل ہے البتہ ورنوں کا تصور ہمیں ویدوں میں ملتا ہے۔  چنانچہ رگ وید کا پرشا سکتا بھجن میں اس کی تفصیل کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے۔

  ’’اس( برھما) کے منھ سے برہمن پیدا ہوئے اور اس کے ہاتھوں سے چھتری پیدا ہوئے، جو راج کرتے ہیں ، اس کی ٹانگوں سے ویش پیدا ہوئے جو اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں اور کم حیثیت غلام اسکے پیروں سے پیدا ہوئے۔ ‘‘

بالآخر ذات پات کا  یہ نظام رفتہ رفتہ ترقی کرتا گیا۔ اور اسمرتیوں کے عہد تدوین تک اس میں اس قدر اضافہ ہوا کہ جس کی جھلکیاں آج بھی اسمرتیوں میں ہمیں نظر آتی ہیں ۔ اسمرتیوں اور خاص طور پر منو اسمرتی میں شودروں کو اس حدتک نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے گویا کہ وہ انسان کی نہیں بلکہ جانوروں کی نسل ہیں جو اس سرزمین میں آباد ہیں ۔

ہندوازم میں فرقہ بندی کا زمانہ

رفتہ رفتہ جب ہندو مت میں نئی نئی چیزیں درآئیں اور ذات پات کا نظام اس حد تک بڑھ گیا کہ شودروں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جانے لگا اور مذہبی عبادات اس حد تک پیچیدگی کا شکار ہو گئے کہ غریب کے لئے ان تمام پوجا پاٹ اور یگیہ وغیرہ کو انجام دینامشکل ہو گیا تو لوگوں میں ہندومت سے بغاوت کی چنگاریاں اٹھنے لگیں اور دھیرے دھیرے لوگ برہمنوں کے خلاف اپنی زبانیں کھولنے لگے اور یہیں سے فرقہ بندی کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس مقالہ کے اندر ہم چند اہم فرقوں اور ان کے عقائد سے بحث کریں گے۔

آجیوکا

اس فرقہ میں وہ لوگ تھے جو بے شمار خدائوں اور ان کی پوجا پاٹ سے تنگ آچکے تھے چنانچہ انہوں نے سرے سے خداکی ذات کا ہی انکار کردیا اور کرم یعنی عمل اور پوجا پاٹ وغیرہ کو بے اثر قرار دیا لیکن ان سب کے باوجود آواگون کی پذیرائی کی اور اس کی ایک نئی تشریح کی اور آواگون کا ایک جدید فلسفہ پیش کیا انہوں نے کہاکہ اس دنیا میں ایک کائناتی قانون ہے جس کو niyatiکہا جاتا ہے اسی کے مطابق دنیا کا نظام چل رہا ہے اور انسان اپنے اچھے برے اثرات کی وجہ سے اس دنیا میں بار بار پیدا نہیں ہوتا ہے ۔بلکہ اس کائناتی اصول اور اس کے قوانین ہی کچھ ایسے ہیں کہ انسان خود بخود پیدا ہوتا ہے ۔اس فرقہ کے لیڈر مگھالی گھو شل کو قرار دیا جا سکتا ہے ۔

چاراواک

اس فرقہ نے تو حد ہی کر دی چنانچہ انہوں نے پورے ہندومت کو ہی باطل قرار دیا اور کہا کہ سارے لوگ برابر ہیں اس دنیا میں کوئی کسی سے بڑا نہیں اور نا ہی کوئی کسی سے چھوٹا ہو سکتا ہے اس دنیا میں روح ہی زندگی ہے ۔جب تک جسم میں جان باقی ہے عیش و عشرت اور مزہ اڑا لو اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور ناہی کوئی اس زندگی کا حساب کتاب کرنے والا ہے ۔عمل اور کرم وغیرہ کااس فرقہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے اور آواگون اور خدا کے بھی منکر ہیں ۔

 نگنتھا

تیسرا فرقہ جو ہندو مت میں وجود میں آیا وہ نگنتھا ہے اس فرقہ کے اکثر وبیشتر لوگ جنگلوں میں رہتے تھے اور ویدوں کی اہمیت وافادیت کے بالکل قائل نہیں تھے برہمنوں کے خلاف انہوں نے آواز بلند کی ۔انہیں سماج کا ناسور قرار دیا اور یہیں سے ہندو مت میں پوجا پاٹ اور یگیہ کو انجا م دینے والے برہمن کو آستک اور خدا اور دیوتا ئوں کے منکرین شرمن کو ناستک کہا جانے لگا۔

آستک برہمن سمسار یا سنسکار اور ویدوں کی قدامت اور ان کے صداقت کے قائل تھے اور ساتھ ساتھ طبقاتی نظام ،خدا کی ذات اور کرم وغیرہ کو بھی مانتے  تھے۔ وہیں شرمن یعنی ناستک مذکورہ بالا تمام چیزوں سے اختلاف رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ سارے اصول حتی کہ وید جس کے برہمن شروتی یعنی الہامی  ہونے کے قائل ہیں یہ سب انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور ان کے ذہن و دماغ کی پیداوار ہیں ۔

چنانچہ یہیں سے برہمن یعنی آستک فلسفہ کو ماننے والوں کے چھ مکا تب فکر (1)سانکھیا، (2) یوگ، (3) ویدانت، (4) ممانسا، (5) نیائے، (6) ویشیشکا  وجود میں آئے۔

بھگتی تحریک

چوتھا فرقہ یا تحریک ہندومت میں بھگتی تحریک کے نام سے وجود میں آیا اور پورے جنوبی ہند وستان اور وسطی ہندوستان کے کچھ حصوں میں خوب پھلا پھولا ۔اس فرقہ کی ابتداء ساتویں صدی عیسوی میں ہوئی۔ چنانچہ جنوبی ہندوستان کے تمل ناڈو وغیرہ میں کچھ شعراء پیدا ہوئے جنہوں نے ذات پات کے نظام ،قربانی اور مذہبی مراسم کو ڈھونگ قرار دیا اور ایک جدید فلسفہ پیش کیا کہ دنیا میں عقیدت ومحبت کا مرکز ایک خدا کو بنائو، باقی ساری چیزیں انسانوں کی گڑھی ہوئی ہیں ۔ ان شعراء کو الور یا ازور شعراء کہا جاتا ہے، ان کی اکثر وبیشتر اشعار وشنو جی کی عقیدت پر مبنی ہیں ۔اس فرقہ نے ایک خدا کی پرستش ،مذہبی رسوم ورواج  سے دوری اور عقیدت مندی اور خلوص نیت سے نجات کے حصول کی دعوت دی ۔ان شعراء میں مرد کے ساتھ عورتیں بھی شامل تھیں ۔

 بھکتی تحریک میں خدا کا تصور

اس تحریک نے لوگوں کو بے شمار خدائوں اور دیوی دیوتائوں کی پوجا پاٹ اور ان کے سامنے نذرو نیاز اور یگیہ و قربانی کی مخالفت کی دعوت دی اور اپنی پوری عقیدت مندی ایک خدا کے لئے خالص کرلینے اور اسی کی پرستش اور اس ایک خدا کی عقیدت و محبت میں اپنی ذات کو فنا کردینے کی دعوت پیش کیا ۔یہ بھی کہا کہ مختلف ادیان و مذاہب میں اس ایک خدا کو مختلف نام اور مختلف اوصاف سے یاد کیا جاتا ہے چنانچہ اسے کہیں رام کہکر پکارا جاتا ہے تو کہیں اس کو رحیم کہکر یاد کیا جاتا ہے لیکن وہ صرف ایک ہے اس لئے خالص اسی کی پرستش کرو۔

اس فرقہ نے جہاں ایک خدا کے لئے اپنی عقیدت ومحبت خالص کرنے کی دعوت دی وہیں مورتی پوجا اور ان کے لئے پوجا پاٹ اور یگیہ و قربانی کی بھی مخالفت کی۔

ہندومت اور اسلام کی مشترکہ باتیں

ہندوازم اور اسلام میں بہت زیادہ مماثلت تو نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم ذیل میں ہندو ازم اور اسلام کی چند مشترکہ باتیں تحریر کر رہے ہیں ۔

شراب کے تعلق سے منو سمرتی باب 9 اشلوک 235 میں ہے:

کسی دینی پیشوا کو مارے والا ،شراب پینے والا ،چوری کرنے والا  اور اپنے پیر و مرشد کی بیوی سے ہم بستری کر نے والا ،یہ سب کے سب اور ان میں سے ہر ایک کو گناہ کبیرہ کا مرتکب خیال کیا جاتا ہے،،

  منوسمرتی باب 11 اشلوک 94 میں یہ بات مذکور ہے:

چونکہ شراب ایک آلودہ کرنے والی گندگی ہے جسے چاول سے کشید کیا جاتا ہے اور گندگی شیطان کو کہا جاتا ہے اس لئے دینی پیشوا، حکمراں یا ایک عام شخص کو بھی شراب نہیں پینا چاہئے،،

اسی طرح ہندو مت میں جوا بھی ایک فعل بد ہے اور اس فعل میں مبتلا شخص کو ویدوں اور منوسمرتی میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ہے۔

رگ وید باب 10 حمد 34 اشلوک 3 میں یہ بات مذکور ہے :

ایک جواری کہتا ہے کہ میری بیوی مجھ سے دور رہتی ہے اور میری ماں مجھ سے نفرت کرتی ہے۔بد بختوں کو کوئی آرام پہنچانے  والا نہیں ملتا،،

رگ وید میں ہی آگے ہے:

جو ا مت کھیلو ،بلکہ اپنی کھیتی کی زمین پر کاشتکاری کرو ،پیداوار سے لطف اٹھائو اور اسی دولت پر قانع رہو ،،

منوسمرتی باب 7 اشلوک 50 میں ہے:

شراب پینا ،جوا کھیلنا ،عورتوں کیساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنا اور شکار کھیلنا ،فطری خواہشات میں ان چاروں کو بد ترین تصور کرنا چاہئے،،

مذکورہ بالا منوسمرتی کے اقتباسات سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چوری اور بدکاری بھی ہندومت میں ایک مذموم عمل ہیں۔

 اسلام کی نظر میں بھی شراب ایک گندی اور ناپاک چیز ہے جس سے انسان جسمانی اور ذہنی دونوں ہی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے  چنانچہ اسلام  شراب اور جوا دونوں کو ہی حرام قرار دیتا ہے ۔قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ

  اے لوگوں جو ایمان لائے ہو شراب اور جوا  اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی، (المائدہؔ۔90۔پارہ۔6)،

چوری کے تعلق سے قرآن کہتا ہے:

چور خواہ مرد ہو یا عورت دونوں ہی کے ہاتھ کا ٹ دو ،یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہے ۔اللہ تعالی کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا وبینا ہے،،(المائدہ۔38۔پارہ6)

کسی عورت سے ناجائز تعلقات قائم کرنے اور اس کے ساتھ بغیر نکاح کے ہم بستری کرنے والے شخص کے سلسلے میں قرآن یہ سزا تجویز کرتا ہے:

زنا کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگائے جائیں گے،،(النور۔2۔پارہ۔18)

  ہندومت نے عورتوں کا بہت زیادہ استحصال کیا اس کے باوجود  ہندومت کی مذہبی کتابوں میں عورت بطور ایک والدہ کے متعلق نہایت عمدہ تعلیمات ملتے ہیں ۔

چنانچہ گوتم کا قول ہے:

آچاریہ (وید پڑھانے والا استاد) اساتذہ میں سب سے بڑا ہوتا ہے مگر کچھ لوگوں کے خیال کے مطابق ماتا ہی سب سے بڑی ہوتی ہے،،

آپستمب دھرم سوتر (9؍18؍10؍1)میں یہ بات مذکور ہے:

بیٹے کو چاہئے کہ وہ اپنی والدہ کی ہمیشہ خدمت کرے بھلے ہی وہ ذات سے خارج ہو گئی ہو ،کیونکہ وہ اس کے لئے بے حد تکالیف برداشت کرتی ہے ،،

مہابھارت شانتی پروا باب 31 میں ہے:

ماتا کے مثل کوئی چھایا نہیں ہے ،ماتا کے مثل کوئی گتی (چال ) نہیں ہے ،( ماں کی طرح کوئی گناہ سے چھٹکارہ دلانے والا نہیں ہے) ماتا کے مثل کوئی محافظ نہیں ہے اور ماتا کے مثل کوئی محبوبہ بھی نہیں ہے،،

اسلام میں بھی بالکل اس ملتی جلتی تعلیمات موجود ہیں لیکن اسلام نے والدہ کے ساتھ ساتھ والد کے  احترام اور اس کی خدمت گذاری کی بھی ترغیب دیتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تیرے رب  نے فیصلہ کردیا کہ تم لوگ کسی کے عبادت نہ کرو مگر اسی کی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ۔اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہونہ انہیں جھڑک کر جواب دو بلکہ ان سے احترم کے ساتھ بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور یہ دعا کیا کرو کہ پرور دگار ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت اور شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا ۔ (الاسراء۔23۔  24پارہ 15)

  لیکن احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ والدہ اپنی اولاد کے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہوتی ہے چنانچہ ایک مرتبہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ  میرے والدین میں میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تمہاری ماں ۔ انہوں نے دوبارہ عرض کیا ۔آپ  ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا ۔ تمہاری ماں ،اس صحابی نے تیسری بار عرض کیا تو  آپ ﷺ نے تیسری بار بھی وہی جواب دیا کہ تمہاری ماں ۔چوتھی بار آپ نے ارشاد فرمایا تمہارا باپ ۔ (ریاض الصالحین ۔باب بر الوالدین)

ایک دوسری حدیث میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ  الجنت تحت اقدام الامھات  (الجامع الصغیر وزیادتہ)

یعنی جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے لہذا اس کی خدمت کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنالو۔



⋆ محمد اشفاق عالم ندوی

محمد اشفاق عالم ندوی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

استاد کی اہمیت

استاد بادشاہ تو نہیں ہوتا لیکن وہ بادشاہ گَر ضرورہوتاہے۔ ان سب کے باوجود ہمارے معاشرہ میں استاد کی اہمیت نہ تو کل تھی اور نہ آج ہے۔ یہاں استاد کو عام انسانوں کی طرح جانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ اکیسویں صدی میں رہ کر بھی اٹھارہویں صدی جیسی زندگی گذار رہے ہیں ۔