حدیث

احادیث میں تمثیلات

تحریر: مولانا جعفر شاہ  ترتیب: عبدالعزیز

ہر قسم کی مادی تعلیم اور روحانی تربیت کی تکمیل تمثیل و تشبیہ ہی سے ہوتی ہے اور دنیا کا کوئی لٹریچر خواہ وہ انسانی ہو یا آسمانی، اس سے خالی نہ رہ سکا اور نہ یہ ہونا ممکن تھا۔ کلام الٰہی کے بعد سب سے زیادہ اہم کلامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ہم اس مضمون میں احادیث نبویؐ سے صرف چند تمثیلاتی نمونے پیش کر رہے ہیں۔

مقام نبوت کی تمثیل: اہل مکہ کا یہ دستور تھا کہ جسے کسی اہم معاملے کی اطلاع دینی ہوتی، وہ کوہِ صفا پر چڑھ جاتا اور جس جس فرد یا خاندان کو بلانا ہوتا، آواز دے کر بلاتا۔ جب سب جمع ہوجاتے تو ان کو اس معاملے سے آگاہ کر دیتا۔ نبوت کا تیسرا سال تھا اور ابھی چھپ چھپ کر تبلیغ ہوتی تھی۔ جب آیت ’’فاصدع بما تؤمر‘‘نا زل ہوئی تو اہل مکہ کے رواج کے مطابق حضورؐ صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور قریش کے مختلف خاندانوں کو آواز دے کر بلایا۔ حسب دستور لوگ جمع ہوگئے تو حضورؐ نے ان لوگوں سے پوچھا:
’’دیکھو اگر میں تم سے کہوں کہ شہسواروں کا ایک دستہ دوسری طرف کے دامن کوہ سے تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھوگے‘‘۔
سب نے بیک زبان ہوکر کہا: ’’ہاں! ہمارا ہمیشہ کا تجربہ یہ ہے کہ تم سچ ہی بولتے ہو‘‘۔
اپنی صداقت پر حاضرین کی زبان سے مہر تصدیق ثبت کرانے کے بعد حضورؐ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرمایا: ’’(اچھا تو مجھے سچا سمجھتے ہو تو ایک سچی حقیقت اور بھی سنو کہ) میں تم سب کیلئے ایک بڑے سخت عذاب کی وارننگ دیتا ہوں‘‘ (رواہ الشیخان والترمذی عن ابن عباس)
اس واقعہ میں تشبیہ و تمثیل کا کوئی لفظ موجود نہیں، لیکن یہ پورا واقعہ ہمہ تن تشبیہ و تمثیل ہے۔ مقام نبوت کی اور اس سے بہتر تشبیہ ممکن نہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں اور سامنے ایک دامن کوہ میں سب لوگ کھڑے ہیں، وہ سب حاضرین صرف پہاڑ کے اسی ایک طرف کا حال دیکھ رہے ہیں جس طرف وہ خود کھڑے ہیں۔ پہاڑ کی پشت پر اس طرف کیا کچھ ہے اس کا انھیں کوئی علم نہیں۔ اس لئے کہ بیچ میں پہاڑی حائل ہے، مگر حضورؐ کی حیثیت یہ ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں اور دونوں طرف دیکھ رہے ہیں۔ حضورؐ کی نظر ادھر حاضرین پر بھی ہے اور پہاڑ کے پس پشت کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ نیچے کھڑے ہونے والے لوگوں کو اس طرف پس پشت کی کوئی خبر نہیں ہوسکتی۔ ان کو اس طرف کی اگر کوئی اطلاع مل سکتی تو صرف اس شخص کے اطلاع دینے سے جواد پر کھڑا پہاڑ کے دونوں رخوں کو یکساں دیکھ رہا ہے۔ بالکل یہی مثال ہے مقام نبوت کی۔ پیغمبر حال کے اعمال کو بھی دیکھتا ہے اور مستقبل کے نتائج پر بھی اس کی نظر جمی رہتی ہے۔ وہ دنیا کو بھی دیکھتا ہے اور آخرت کو بھی۔ اس کا تعلق خدا سے بھی ہوتا ہے اور خدا کے بندوں سے بھی۔ اِدھر سے لیتا ہے اور اُدھر پہنچا دیتا ہے۔ وہ آغاز کو بھی دیکھتا ہے اور اس طرح اسے انجام بھی نظر آتا ہے۔ بندوں کے سامنے ایک ہی رخ ہوتا ہے۔ پیغمبر کی نگاہیں آخرت پر، انجام پر، غیوب پر، دماغِ انسانی سے وراء الوراء حقائق پر بھی ہوتی ہیں اور یہ حقائق انسانوں پر منکشف ہی نہیں ہوسکتے تا آنکہ انھیں پیغمبر نہ بتائے۔ عام انسانوں کی نگاہ اور نبوی بصیرت میں جو فرق ہے اس کی تشبیہ و تمثیل اس سے بہتر اور کیا ہوسکتی ہے جو حضورؐ نے عملی طور پر پیش فرمادی۔
خاتم النّبیینؐ کا صحیح مقام: اپنی مدح میں مبالغہ اور دوسروں کے فضل کے اعتراف میں تنگ دلی کا مظاہرہ عام انسانی فطرت میں داخل ہے، لیکن پیغمبر اس قسم کی انسانی کمزوریوں سے ارفع ہوتا ہے اور وہ ہر بات کو اتنا ہی بیان کرتا ہے، جتنی وہ حقیقت کے مطابق ہو۔ عدل کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ حضور صلی ا للہ علیہ وسلم اپنی اور پیشرو انبیاء کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’میری اور جو انبیاء مجھ سے پہلے گزرے ہیں ان کی مثال یوں ہے، جیسے کسی نے ایک بڑی خوبصورت اور عمدہ عمارت بنائی ہو اور اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ہو۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھوم گھوم کر حیرت زدہ ہورہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔ بس سمجھ لو کہ وہ اینٹ میں ہی ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں‘‘۔ (رواہ الشیخان عن ابی ہریرہ)
اس حدیث میں ایک بڑی حقیقت یہ پوشیدہ ہے کہ تکمیل دین میں بھی ارتقائی منازل طے ہوتی رہی ہیں۔ عقل انسانی کے ساتھ ساتھ دینی تصورات میں بھی ارتقا ہوتا رہتا ہے۔ جب ایک عمارت بنتی ہے تو بنیاد کھودنے سے لے کر تکمیل عمارت تک ہر قدم ارتقائی ہی قدم ہوتا ہے۔ دین کی عمارت میں بھی یہی صورت رہی ہے۔ ہر پیغمبر نے ایک اینٹ رکھ کر اس مقصد کو آگے بڑھایا ہے اور عمارت کو قریب تر کر دیا، لیکن تکمیل خاتم النّبیین کے ہاتھوں ہوئی:
’’آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنا انعام پورا کردیا‘‘۔
یہ اسلام ایک دین اور نظام زندگی کی حیثیت سے تمام انبیاء علیہم السلام کا واحد اور مشترک دین تھا، یعنی سب کا دین اسلام ہی تھا اور سب نے اس عمارت کو پروان چڑھانے میں اپنی استطاعت بھر حصہ لیا مگر تکمیل و اختتام اور اس نعمت کا اتمام محمد عربی (صلی ا للہ علیہ وسلم) کے ہاتھوں ہوا اور نبوت کا مقصد پورا ہوگیا۔ اسی لئے نبوت بھی ختم ہوگئی۔ معمارِ دین تو سبھی پیغمبر ہیں لیکن آخری معمار خاتم النّبیین صلی ا للہ علیہ وسلم ہیں۔ اس سے یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ حضورؐ کی مقدارِ خدمت بس اتنی ہی نسبت رکھتی ہے جتنی پوری عمارت میں ایک اینٹ۔ یہ نسبت پوری عمارت کے مقابلے میں رکھ کر نہ دیکھئے۔ الگ الگ اینٹوں کے مقابلے میں رکھ کر دیکھئے جو ایک ایک پیغمبر نے رکھی۔ یہ ساری اینٹیں الگ الگ بھی قابل قدر ہیں، لیکن سب مل کر بھی عمارت کی تکمیل نہیں کرتیں۔ صرف حضورؐ کی رکھی ہوئی آخری اور کامل اینٹ نے تکمیل عمارت کی۔ اس لحاظ سے اظہارِ حقیقت کی جو مثال اس تشبیہ میں دی گئی ہے، اس سے بہتر تمثیل نہیں ہوسکتی۔
صدیقؓ و فاروقؓ کی تمثیل: جنگ بدر میں ستر افراد قید ہوکر آئے تھے۔ ان قیدیوں کے متعلق جب حضورؐ نے مشورہ فرمایا تو حضرت ابوبکرؓ نے رائے دی کہ فدیہ لے کر ان کو رہا کر دیا جائے۔ شاید اللہ تعالیٰ انھیں توبہ کی توفیق دے۔ حضرت عمرؓ بولے کہ ان لوگوں نے حضورؐ کو بے وطن کیا اور جھٹلایا، اس لئے سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’اے ابوبکرؓ! تمہاری مثال تو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت عیسیٰؑ جیسی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ (ترجمہ) جو میری پیروی کرے، میرا ہے اور جو نافرمانی کرے تو اللہ غفور و رحیم ہے اور عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ (ترجمہ) اگر تو انھیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کی مغفرت فرمائے تو عزیز و حکیم ہے اور اے عمرؓ! تمہاری مثال نوحؑ اور موسیٰؑ جیسی ہے۔ نوح علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ (ترجمہ) ان کافروں میں کسی کو بھی زمین پر زندہ نہ چھوڑ اور موسیٰؑ نے یہ دعا کی کہ (ترجمہ) ان کے دلوں میں اور سختی پیدا کردے تاکہ عذاب الیم کو دیکھے بغیر یہ ایمان ہی نہ لاسکیں‘‘ (رواہ ابو داؤد و عن ابن مسعود) ۔
ابوبکرؓ و عمرؓ کی سیرتوں کے ساتھ سیدنا ابراہیمؑ و عیسیٰؑ اور سیدنا نوحؑ و موسیٰؑ کی سیرتوں سے جو واقف ہوگا وہ یہ اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان دونوں بزرگوں کیلئے اس سے بہتر تشبیہ و تمثیل ممکن نہیں۔
صراطِِ مستقیم: صراط مستقیم اور اس کے ساتھ کئی متعلقہ چیزوں کی تشبیہ حضور صلی ا للہ علیہ وسلم نے یوں دی ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے (قرآن حکیم) صراط مستقیم کا جو تذکرہ فرمایا، ان کی مثال یہ ہے، جیسے کہ ایک سیدھا راستہ ہو جس کے دونوں طرف دیواریں ہوں اور ان میں جابجا دروازے کھلے ہوئے ہوں، جن پر پردے آویزاں ہوں اور سر راہ ایک نقیب پکار رہا ہو کہ دیکھ بھال کر چلنااور ادھر ادھر نہ مڑنا۔ اس کے آگے دوسرا نقیب ہے جس کا کام یہ ہے کہ اگر کسی نے دروازہ کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایااور وہ چِلا اٹھا کہ ارے بدنصیب؛ اسے نہ کھولنا ورنہ اندر چلا جائے گا۔ پھر آنحضرتؐ نے اس کی تفسیر میں فرمایا: یہ صراطِ اسلام ہے۔ دروازے خدا کی طرف سے حرام کردہ اشیاء، پردے حدوداللہ، پہلا نقیب قرآن حکیم اور دوسرا مومن کا نفس لوامہ ہے‘‘۔
واعظِ بے عمل: اس کے متعلق حضور صلی ا للہ علیہ وسلم نے نہایت لطیف مثال دی ہے، فرمایا: ’’جو شخص دوسروں کو نیکی کی تعلیم دے اور خود اس پر عمل نہ کرے۔ اس کی مثال چراغ کی سی ہے جو اوروں کو توروشنی دے اور اپنے آپ کو جلاتا رہے‘‘۔
نماز اور مغفرتِ گناہ: حضور صلی ا للہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تمہارے گھر کے سامنے نہر بہہ رہی ہو اور ہر روز اس میں پانچ مرتبہ غسل کیا جائے تو جسم پر ذرہ برابر میل رہ سکتا ہے؟ لوگوں نے کہا، ہر گز نہیں رہ سکتا۔ فرمایا یہی مثال نماز پنج گانہ کی ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو دھو دیتا ہے‘‘ (رواہ الشیخان و مؤطا و نسائی)۔
یہ تمثیل بہت اعلیٰ ہے، مگر یہ صرف ان کیلئے ہے جو حقیقت صلوٰۃ سے واقف ہوں۔ نماز ہوتی ہی ہے تطہیر قلب و نگاہ کیلئے۔ اخلاق و سیرت کی بلندی کیلئے نفس امارہ کے تزکیے کیلئے جو دن رات میں کئی بار خدا کے سامنے حاضر ہوکر اپنی بندگی و عبدیت کا اقرار کرے اور اس کے تقاضوں کو سمجھے، اس کے گناہ دھل جانے میں کیا شک و شبہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کے تقاضوں کو غلط طریقے سے سمجھا جائے تو پھر یہ ہوگا کہ نمازی دل کھول ارتکابِ گناہ کرتا جائے گا اور دل میں یہ خیال کرے گا کہ جہاں نمازیں پڑھ لیں، گناہ معاف ہوگئے۔ یہ زاویۂ نگاہ ایسا ہے جو بجائے پاک کرنے کے اور زیادہ ناپاک کرتا جاتا ہے اور نمازی مستحق رحمت ہونے کے بجائے وعید کا مستحق ہوجاتا ہے۔ قصور نماز کا نہیں، نمازی کی فطرت و استعداد کا ہے۔ کھانا تو توانائی کیلئے کھایا جاتا ہے لیکن اگر معدے کی استعداد ہی صحیح نہ ہو تو وہی کھانا زہر بن جاتا ہے۔ قصور کھانے کا نہیں کھانے والے کی صلاحیت و استعداد کا ہوتا ہے۔
مجمع کو چیرنا: مجلس کے آداب یہ ہیں کہ جو پہلے آئے وہ آگے بیٹھے اور جو پیچھے آئے وہ پیچھے جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے۔ یہی صورت نمازِجمعہ میں بھی ہونی چاہئے، لیکن بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ آئیں گے تو سب کے بعد لیکن بیٹھنے کی کوشش کریں گے سب سے اگلی صف میں۔ اس کا مقصد ہوتا ہے اپنے آپ کو ممتاز و نمایاں رکھنا یا یہ فقہی خیال کہ آگے ہونے سے ثواب زیادہ ملے گا۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ ایسے لوگ مجمع کو چیر کو لوگوں کو دھکے دیتے ہوئے مجمع کے سروں پر سے گزر جاتے ہیں اور کچھ خیال نہیں کرتے کہ ان کی اس حرکت سے کسی کو کیا تکلیف ہوگی۔ حضور صلی ا للہ علیہ وسلم کو آدابِ مجلس کے علاوہ یہ بھی انتہائی خیال رہتا تھا کہ کسی سے دوسرے کو کوئی اذیت نہ پہنچے۔اس لئے فرمایا:
’’جو شخص جمعے میں حاضرین کو پھاندتا ہوا آگے جاتا ہے، اپنے لئے جہنم کا پل بناتا ہے‘‘ (رواہ الترمذی عن معاذ بن انس الجہنی) ۔
فی الواقع لوگوں کے سروں اور گردنوں کو اپنا راستہ بنانے کیلئے اس سے بہتر تہدیدی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ ایک پل سے گزر رہا ہے جو سیدھا جہنم کی طرف جاتا ہے۔
جان و مال کا احترام: بعض حقایق ایسے ہوتے ہیں جو عام حالات میں موثر نہیں ہوتے، لیکن ایک خاص موقع پر ان کی تاثیر بے پناہ ہوجاتی ہے۔ بلاغت کا مطلب بھی یہی ہے کہ بات ٹھیک موقع محل پر کہی جائے۔ مثلاً ایک مومن کی جان و مال کے متعلق سب جانتے ہیں کہ یہ حرام اور قابل احترام ہے۔ اس بات کو آپ جس موقع پر بھی کہیں ٹھیک ہوگی، لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ موثر بھی ہو، لیکن دیکھئے حضورؐ؛ اس بات کو کس زمان و مکان کا لحاظ کرتے ہوئے کتنے ٹھیک موقع پر فرماتے ہیں۔ لاکھ سوا لاکھ پروانہ ہائے شمع رسالت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرتے ہیں۔ ایسا حج جو حکم فرضیت کے بعد پہلا حج اور آخری حج ہے، جو حضور اکرمؐ کے ساتھ ادا کرنے کا شرف حاصل کیا جارہا ہے۔ زمانہ حج کا ہے جسے شہر حرام کہتے ہیں۔ جگہ وہ پاک سر زمین ہے، جسے مسجد حرام کہتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کا احترام اس حد تک ہے کہ ایک جانور مارنا اور ایک پتا توڑنا بھی حرام ہے اور یہ ایسی رسم کہن ہے جو قدیم الایام سے دلوں میں راسخ بھی ہے اور اسلام بھی اسے باقی رکھتا ہے۔ ایسے موقع پر حضورؐ ایک بلیغ خطبہ دیتے ہیں، جس کا ایک ایک لفظ دلوں میں گھر کئے لیتا ہے۔ اشاروں میں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ اس کے بعد آئندہ میری تمہاری یکجائی اس جگہ نہ ہوگی۔ اور سمجھنے والے اسے رخصتی کا پیغام سمجھ کر رونے بھی لگتے ہیں۔ تکمیل دین کی آیت بھی نازل ہوجاتی ہے۔ کتنا روح پرور، کس درجے موثر اور کس قدر دلگداز منظر ہے۔ ٹھیک اس موقع پر حضورؐ لوگوں سے دریافت فرماتے ہیں کہ یہ کون سا مقام ہے؟ یہ کون سا مہینہ ہے؟ جواب دیتے ہیں اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتا ہے۔ حضورؐ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ مسجد حرام اور ماہِ حرام نہیں؟ سب اثبات میں جواب دیتے ہیں اور دل ان دونوں زمان و مکان کی حرمت کے جذبات سے بھر پور ہوجاتے ہیں۔ لوہا گرم ہوگیا اور حکیم الامت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بلیغ برمحل موقع پر ایک چوٹ لگائی اور یوں گویا ہوئے:
’’اچھا تو سن لو کہ تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اس طرح حرام اور واجب الاحترام ہیں، جس طرح آج کا دن، اس مہینے میں اور اس شہر مکہ میں حرام اور واجب الاحترام ہیں‘‘ (رواہ مسلم، ابو داؤد عن جعفر بن محمد بن علی)۔
اس تشبیہ کو دیکھئے اور موقع و محل کو دیکھئے، اس کے بعد فیصلہ کیجئے کہ دنیا میں اس سے بہتر کوئی اور تشبیہ بھی ممکن ہے؟
اقامتِ حدود اللّٰہ: کسی تعزیر یا حدود یا سزا کا تصور سلیم طبائع کیلئے خوشگوار نہیں ہوتا۔ سزا بہر حال ایک سخت دلی کا مظاہرہ نظر آتا ہے، لیکن اگر اسے بالکل ترک کر دیا جائے تو دنیا سے امن و امان اٹھ جائے، کیونکہ بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ اگر سزا کا خوف نہ ہو تو وہ ہر بدی کے ارتکاب پر جری ہوجائیں۔ یہ صرف تصور سزا ہے جو بے شمار انسانوں کو فساداً فی الارض سے روکے ہوئے ہے۔ اس کیلئے حضورؐ نے جو مثال دی ہے، وہ یہ ہے:
’’حدود اللہ کو جو نافذ کرتا ہے اور جس پر وہ نافذ ہوتی ہیں، ان دونوں کی مثال ایسی ہے، جیسے کچھ لوگ ایک کشتی میں اپنی اپنی جگہیں تقسیم کرکے بیٹھ گئے ہوں۔ بعض اوپر کی منزل میں ہوں اور بعض نیچے کی منزل میں، پھر نیچے والوں کو پانی کی ضرورت محسوس ہو اور اوپر والوں سے جاکر ہم اپنے والے حصے میں پانی لینے کیلئے ایک کو ہم سوراخ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کو ہم کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔ ایسی حالت میں اگر اوپر والے ان کو اپنا ارادہ پورا کرنے کیلئے آزادی دے دیں تو نتیجے میں سب کے سب ہلاک ہوں گے اور اگر وہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی اور یہ بھی سب بچ جائیں گے‘‘ (رواہ البخاری والترمذی عن نعمان بن بشیر)۔
تلاوتِ قرآن اور اثر صحبت: تلاوت کرنے والوں کی قسموں کو یوں سمجھئے کہ قرآن مجید کی تلاوت کوئی کرتا ہے، کوئی نہیں کرتا۔ تلاوت کرنے والے اور نہ کرنے والے دونوں مومن متقی بھی ہوسکتے ہیں اور مومن فاسق بھی۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ تشبیہیں دی ہیں۔ گویا چار تمثیلیں ہیں۔ ایک مومن قاری کی، دوسری غیر مومن قاری کی، تیسری فاسق قاری کی اور چوتھی فاسق غیر قاری کی۔ اس کے ساتھ ساتھ حضورؐ نے نیک و بد کی صحبت کے اثر کی تمثیلیں بیان فرمائی ہیں۔ ارشاد ہوا:
’’جو مومن قرآن حکیم پڑھتا ہو، اس کی مثال ترج (لیموں یا نارنگی) جیسی ہے، جس کا مزہ بھی اچھا اور خوشبو بھی اچھی۔ جو مومن تلاوت قرآن پاک نہ کرتا ہو، وہ گویا چھوہارا ہے جس کا مزہ تو اچھا ہے لیکن خوشبو کوئی نہیں، لیکن وہ فاجر جو قرآن پڑھتا ہو، ایسا ہے جیسا ریحانہ (خوشبودار پودا) جس کی مہک اچھی اور مزہ کڑوا اور جو فاجر تلاوت قرآن پاک نہ کرتا ہو، اس کی مثال حنظلہ(اندرائن) جیسی ہے جس کا مزہ کڑوا اور بو کوئی نہیںاور صالح کا ہم نشیں جیسے مشک پاس رکھنے والا یعنی گر مشک میسر نہ آئے تو لپٹ تو آہی جائے گی اور بری صحبت میں رہنے والا ایسا ہے جیسے بھٹی والا کہ اگر سیاہی سے بچ بھی گیا تو دھواں تو لگ ہی جائے گا‘‘ (رواہ ابو داؤد عن انس)۔
حب جاہ و مال: دنیا میں کون انسان ہے جسے عزت اور دولت مرغوب و محبوب نہ ہو۔ یہ چیزیں صرف مرغوب ہی نہیں بلکہ انسان ہر روز ان میں اضافہ چاہتا ہے اور کوئی مقام ایسا نہیں جہاں یہ ہوس جاکر رک جائے۔ جب یہ محبت روح میں پیوست ہوجاتی ہے تو زندگی کا نصب العین بن جاتی ہے اور پھر ہر فتنہ و فساد اسی سے پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے انسان سیاست و مذہب کے نئے نئے روپ دھارتا ہے اور ہر راہ سے اپنا یہ مقصد حاصل کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ ہوس زر ہو یا ہوسِ اقتدار دونوں انسانیت اور دین کیلئے زہر ہیں۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تمثیل یوں فرمائی: ’’دو خونخوار بھیڑیوں کا کسی زخم کو چاٹ چاٹ کر خراب کرنا زخم کیلئے اتنا مضر نہیں جتنی مضر ایک مسلمان کے دین کیلئے حب جاہ و مال ہے‘‘ (رواہ بزار عن ابن عمر)۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close