حدیث

دوعظیم نعمتیں

’’عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ : نعمتانِ مغبون فیھما کثیر من الناسِ ،الصحۃ و الفراغ ‘‘ (صحیح بخاری ،کتاب الرقاق ،باب ماجاء فی الرقاق ۔۔الخ)
’’حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن سے اکثر لوگ غفلت میں رہتے ہیں :صحت اور فرصت‘‘۔
اللہ تعالی نے اس دنیا میں انسان کو پیدا کیا ، اسے اپنا خلیفہ بنایااور اسے لا تعداد نعمتوں سے نوازا اور اس پر بے شماراحسانات کیے ۔ان کو شمار کرنے کے لیے اگر دنیا کے سارے درختوں کو قلم اورتمام سمندر وں کو سیاہی بنا دیا جائے تب بھی ان عظیم نعمتوں کا بیان نا ممکن ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ان بے شمار نعمتوں میں سے دو عظیم نعمتوں کا مندرجہ بالا حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ایک تندرستی ،دوسرے فرصت۔ رسول اللہ ﷺنے ان دو نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سے اکثر لوگ غفلت میں رہتے ہیں اوران سے جس قدر فائدہ اٹھانا چاہیے نہیں اٹھا پاتے ۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان نعمتوں کے انسانی زندگی پربہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان سے جہاں دنیاو ی و اخروی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں ان کی ناقدری کرنے سے عظیم خسارے سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔
صحت
ہم سب جانتے ہیں کہ صحت اللہ تعالیٰ کی اہم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے ۔متعدد احادیث میں حفظانِ صحت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺکا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن انسان سے سب سے پہلے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ،ان میں سرِ فہرست صحت ہے ۔(ترمذی ،ابو ھریرۃ ؓ ) لیکن بد قسمتی سے اس بیش بہا نعمت کی کما حقہ قدر نہیں کی جاتی اور اس کے سلسلے میں غفلت بر تی جاتی ہے ۔ مال و دولت اورجائداد کی اہمیت سے تو ہر ایک واقف ہوتا ہے ،لیکن جس چیز کے ذریعہ یہ تمام چیزیں میسر آتی ہیں یا جس کے ذریعہ ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اس کو برقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کے لیے کسی قسم کا احتیاط ملحوظ نہیں رکھا جاتا ہے ۔
تندرستی ہزار نعمت ہے ۔ صحت و تندستی کے بے شمار فوائد ہیں۔عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے ’’چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں ‘‘ ۔آزادی کی قدرکا اس وقت تک احساس نہیں ہوتا، جب تک انسان قید کے مرحلے سے نہ گذرے ۔ٹھیک اسی طرح صحت و تندرستی کی قدر و قیمت کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک انسان کسی بیماری کا شکار نہ ہو جائے ۔
حفظانِ صحت کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ’متوازن خوراک‘ ہے ۔ خوراک انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر انسان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس کی صحت کا سارا دارو مدار اسی پر منحصر ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اکثر امراض کا سبب ناقص غذا کی کمی یا اس کی کثرت ہے لہٰذا اس میں اعتدال بہت ضروری ہے ۔ضرورت سے زیادہ کھانے سے معدہ پر بوجھ پڑتا ہے اور اس کی خرابی تمام امراض کی جڑ ہے ۔ اگر خوراک ضرورت کے مطابق اور اور انسانی مزاج کے مناسب ہوتو انسان بہت سے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا :’’معدہ بدن کے لیے تالاب ہے اور رگیں اس کی طرف جسم کے مختلف حصوں سے وارد ہیں ،جب معدہ صحیح حالت میں ہو تا ہے تو رگیں بھی جسم کے تمام حصوں کوصحت(صحیح خون)مہیا کرتی ہیں اور جب معدہ بیمار پڑ جائے تو اس کی رگوں کے ذریعہ پوراجسم بیمار پڑ جاتا ہے ‘‘۔(طبرانی،المعجم الاوسط)
ہر انسان اپنے آپ کوروشنی ،دھوپ،تازہ ہوا، صاف پانی ،متوازن اور سادہ غذا ،صاف ستھرا لباس،مکان، جسم اور ماحول کی صفائی اور ہلکی پھلکی ورزش کے ذریعہ اپنے آپ کو صحت مند اور طاقت ور بنا سکتا ہے ۔آپ ؐ کا ارشاد ہے :’’ قوی مومن ضعیف مؤمن سے بہتر ہے ‘‘۔(حدیث) یہ کچھ سادہ سے اصول ہیں جن پر عمل کرنے میں کوئی بہت بڑی رکاوٹ آڑے نہیں آتی ۔اس پر عمل کر کے انسان اپنے جسم و ذہن کو تندرست رکھ سکتا ہے ۔بس تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔
فرصت
دوسری بڑی نعمت ،جس کا اس حدیث میں تذکرہ کیا گیا ہے، وہ فرصت (فراغت )کے اوقات ہیں ۔ہم اپنے عمل اور کوشش سے جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہیں اس کی کام یابی کا راز وقت کے صحیح استعمال میں پوشیدہ ہے ۔وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک سورہ کا نام ہی ’’العصر‘‘ (یعنی زمانہ یا وقت)رکھا ہے ۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی اس کی اہمیت کا تذکرہ ملتا ہے ۔آپ ؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن انسان کی عمر اورخاص طور پر اس کی جوانی کے متعلق پوچھا جائے گا کہ یہ کیسے گذاری؟
ایک دوسرے مقام پر آپؐ نے ارشاد فرمایا :’’ اس سے پہلے کہ مصروف ہو جاؤ فرصت کو غنیمت جانو ‘‘(حدیث)
دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو وقت کی صحیح قدر قیمت کا احساس کیے بغیر زندگی گذارتے ہیں ۔ وہ نہیں جانتے کہ وقت فطرت کا سب سے انمول تحفہ ہے ۔ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاس لامحدود وقت نہیں ہے ۔ہم اس دنیا میں مختصر سی زندگی گزارنے کے لیے آئے ہیں ۔
موجودہ دور میں جہاں انسان بہت سے پیچیدہ مسائل سے گزر رہے ہیں ان میں ایک ’فرصت‘(خالی وقت)کے اوقات ہیں ۔امیر ،غریب،عالم، جاہل،ہر ایک کو یہ نعمت بآسانی میسر آتی ہے اور ہر ایک کے نزدیک اس کا جداگانہ مصرف ہے۔اسے وہ اپنے ذوق اور رجحان کے مطابق استعمال میں لاتے ہیں ۔عصر حاضر میں زیادہ تر لوگوں کے فرصت کے لمحات سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس،Whatsapp,Facebook,Twitter, وغیرہ کے لیے وقف ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے کثرت استعمال سے انسانی زندگی پر اس کے اتنے گہرے اثرات قائم ہو چکے ہیں کہ ان کے بغیر انسانی زندگی بالکل بے کیف اور بے مزہ معلوم ہوتی ہے ۔
عصر حاضر میں انسان بہ ظاہر بہت مصروف نظر آتا ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے قدیم زمانے کی نسبت کہیں زیادہ فرصت کے اوقات میسر ہیں ۔درحقیقت ہمارے یہاں لوگوں کا وقت کے صحیح استعمال کے سلسلے میں معیارِ زندگی اتنا بلند نہیں ہوا جتنا ترقی یافتہ ممالک میں نظر آتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں وہ سہولیات میسر نہیں ہوتیں جوان لوگوں کو بہ آسانی حاصل ہو جاتی ہیں ۔اس طور پر دیکھا جائے تو ہمارے لیے وقت بچانا بہت آسان ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی ایسی نعمتیں عطا فرمائیں ہیں جو ہمارے آباء و اجداد کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں ۔لیکن افسوس کہ ان تمام سہولتوں کے باوجود آج بہت سے معاملات میں ہم ان سے پیچھے ہیں ،خواہ وہ عبادات کا معاملہ ہو زندگی کے دیگر معاملات کا، آج کے دور کا انسان اسلاف کے صرف علمی کارنامے ہی دیکھ لے تو وہ شرم سے پانی پانی ہو جائے ۔
فرصت کے لمحات حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے ۔ہمیں اس سلسلے میں غور کرنا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کو کس طرح گزانے کا حکم دیا ہے ؟اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’ جب تم فارغ ہو تو عبادت میں محنت کرو‘‘۔ہمیں فرصت کے قیمتی لمحات کو زیادہ سے زیادہ تعمیری کاموں میں صرف کرنا چاہیے ،تاکہ ا ن کے ذریعہ ہم دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں کام یابی سے ہم کنار ہو سکیں ۔

مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

Close