علمائے اہل حدیث پاکستان کی خدمات قابل تحسین

دین اسلام بالکل صاف شفاف ہے،  اس کی تعلیمات روشن، اس کے احکام واضح،  اس کے اصول ونظریات صاف ستھرے اور اس کی بنیاد وعقائد ٹھوس ومضبوط دلائل پر استوار ہیں  مگر سدا سےاسلام دشمن طاقتین اسے مشکوک کرنے کی کوشش میں  لگی رہیں ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غیر تو غیر ہے ان سے کیا امید وفا ہو اپنوں  نے اسلام کا چولا پہن کر اسلام اور مسلمانوں  کو جس قدر لوٹا بیان کئے جانے کے قابل نہیں  ہے۔  خود پہ اہل سنت کا لیبل لگانے والے صوفیوں  نے کوئی ایسی بدعت نہیں  چھوڑی جسے اسلام میں  نہ رواج دیا ہو بلکہ شرک تک کا دروازہ کھول دیا اور ڈھٹائی سے شرک وبدعت کی راہ پر گامزن ہیں ،  بزعم خویش انہیں  اپنے ہرشرک اور ہربدعت پہ اسلام سے دلیل مل جاتی ہے جس سے اپنی عوام کو بہلائے پھسلائے ہوئے ہیں  اور اپنی سنی(دل و دماغ سے سن) جماعت میں  حصار باندھے ہوئے ہیں  کہ اپنی جماعت کے ماسوا دیگر جماعتوں  سے سلام ونکاح جائز نہیں  ہے۔  اللہ کا فضل ہے ایسے حصار سے ہی لوگ نکل نکل کر بڑی تعداد میں  صحیح اسلام اور صحیح منہج کی طرف آرہے ہیں ۔  مجھے سعودی عرب میں  سالوں  کام کرتے اس کا بیحد تجربہ ہوا۔

مجھے جس قدر غیروں  کی ناشائستہ حرکتوں  پہ جتنا افسوس نہیں  ہے  اس سے زیادہ کہیں  اپنے کہلائے جانے والے ان زبانی کلمہ گو کی حرکتوں  اور اسلام کے نام پر بازی گری پر تعجب وافسوس ہے۔یہ لوگ نبی ﷺ کے عہد کی تمدنی ومعاشرتی چیزوں  پر عمل کرکے لوگوں  کو دھوکہ دے رہے ہیں  کہ اصل سنت کی پیروی کرنے والے ہم ہیں  جبکہ ہرزمانے میں  تمدن وحضارت بدلتی رہتی ہے۔  مثلا نبی ﷺ کے زمانے میں  مٹی کے برتن میں  پانی پیا جاتا تھا آج اگر کوئی مٹی کے برتن میں  پانی پئے اور کہے کہ صرف ہم ہی اس سنت کو زندہ کررہے ہیں  باقی لوگ نہیں  تو یہ کج فہمی ہے،  کوئی عمامہ لگاکر کہے ہم ہی اصل سنت کی پیروی کرنے والے ہیں  جیسے کہ الیاس عطار قادری اور ان کاہمنوا ٹوکہ یہ کرشمہ رہاہے۔  یہ اس وقت کی تہذیب وثقافت تھی جسے اس وقت کے مسلمان وکافر سب استعمال کرتے تھے۔ اسلام کی اصل دین جو توحید و عبادت اور تخلیق انسانی کا مقصد ہے یعنی عبادت صرف اللہ کی جائے،  اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں  کیا جائے اور عبادت کا طریقہ صرف محمد ﷺ کا ہی اختیار کیا جائے اس میں  یہ لوگ باکل صفر ہیں ۔  اللہ کی عبادت میں  غیراللہ کو شریک کرتے ہیں ۔  مزار کو سجدہ، غیراللہ سے امداد، دعا میں  اموات کا وسیلہ،  غیراللہ کے لئے نذرونیازوغیرہ شرک اکبر کے مرتکب ہیں  اور سنت کی جگہ بدعات وخرافات انجام دیناان کی امتیازی شان وپہچان ہے۔

جیسے مجھے ہندوستان کے علمائے اہل حدیث کی خدمات پہ فخر ہے ویسے ہی پاکستان کے علمائے اہل حدیث کی خدمات پہ بھی بڑا ناز ہے جنہوں  نے صوفیت وشیعیت اور رافضیت وخارجیت کے سدباب میں  نمایاں  کردار ادا کیا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں  منہج اہل حدیث کا تعارف کروایا۔ اس وقت بھی پنجاب، لاہور، فیصل آباد اور ملتان وغیرہ میں  دعوتی سرگرمیاں  عام ہیں ۔  ان صوبوں  اور دیگر اضلاع کی باوقار شخصیات مثلا شیخ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ، شیخ قاری صہیب احمد میر محمدی حفظہ اللہ،  شیخ حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ،  شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ،  شیخ الحدیث محدث عصر ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ،  پروفیسر سیدطالب الرحمن حفظہ اللہ،  شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ،  پروفیسرسینیٹر ساجد میر حفظہ اللہ،  شیخ حافظ محمدعمر صدیق حفظہ اللہ،  ڈاکٹر حافظ عبدالکریم حفظہ اللہ،  شیخ مبشراحمد ربانی حفظہ اللہ، حافظ سعید صاحب وغیرہ بہت سےجلیل القدر اسمائے گرامی ہیں ، اللہ تعالی ان سے زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت لے۔  میں  شیخ ابومالک مجاہد حفظہ اللہ کا بھی بہت ہی قدردان ہوں  کہ انہوں  نے سلفی کتب کی اشاعت کرکے پوری دنیا میں  سلفی منہج کو عام کرنے کی قابل قدر کوشش کی،  ان مطبوعات سے فیضیاب ہونے والوں  کا ثمرہ آپ کو بھی سدا ملتا رہے گا۔  ان شاء اللہ

میرے ہردلعزیزساتھی اور دعوتی میدان میں  متعاون خاص شیخ افتخاراحمدسلفی ابھی پاکستان کے دورے پر ہیں ،  انہوں  نے مجھ سے تفصیل سے پاکستان کے علمائے اہل حدیث کی حالیہ سرگرمیوں  اور خدمات کا ذکر کیا۔  کئی صوبے جات اور اضلاع کا انہوں  نے دعوتی دورہ کیا۔ الحمد للہ موصوف دعوت سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں  اور علمائے اہل حدیث کے بہت ہی قدرداں  اور بیحد ثناخواں  ہیں ۔  میں  جو سوشل میڈیا پرکچھ دعوتی کام کررہاہوں  یہ دراصل صوفی ٹولہ کی کرم فرمائی ہے،  جب میں  نے لوگوں  میں  خاص طور سے فیس بوک اور واٹس ایپ پر صوفیت،  رضاخوانیت، مریدیت، قبوریت،بریلویت اور شرک وبدعت پھیلتے دیکھا اور سیدھے سادے لوگوں  کو کشمکش کا شکار ہوتے دیکھا بلکہ کتنوں  کو گھڑی ہوئی اور خودساختہ روایات وخرافات پہ یقین کرتے دیکھا تو اس وجہ سے مجھے اندر سے احساس ہوا کہ اپنی بساط بھر سوشل میڈیا پہ لوگوں  کی رہنمائی کرنی چاہئے،  کم ازکم اپنے حلقہ میں  جو لوگ ہیں  ان کی رہنمائی تو ہوسکے گی۔  اسی احساس کے تناظر میں  کچھ لکھتا رہاہوں  اور ان شاء اللہ وقت نکال کر کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں  گا،  اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں  کی اکثریت سوشل میڈیا سے جڑی ہے یہاں  ایک تحریر یا تقریر لاکھوں  اور کڑوروں  میں  پھیل جاتی ہے۔  اگر میری ان کاوشوں  سے کسی کا کچھ بھلا ہورہا ہے تو یہ اللہ کی توفیق ومہربانی ہے اور اس کے بعد مخلص احباب جماعت کی میرے لئے پرخلوص دعائیں  ہیں ۔ برادرم شیخ افتخار احمد سلفی نے مجھ تک بہت سے علماء ومشائخ کے سلام پہنچائے،  اللہ تعالی ان سارے پیکرخلوص علماء کو دین ودنیا کی ہربھلائی نصیب کرے۔  بطورخاص شیخ عبیدالرحمن محمدی مدنی صاحب، شیخ ثناء اللہ مدنی صاحب، محترم عبدالرحمن صاحب، ڈاکٹرعتیق الرحمن صاحب، شیخ الحدیث محمد امین صاحب، محترم عمر اثری صاحب، شیخ نصیراحمد عثمانی صاحب، شیخ اشرف سلفی صاحب، شیخ علم الدین صاحب، مولانا یوسف پسروری صاحب، شیخ ابراہیم محمدی صاحب،شیخ عبدالعزیز مدنی صاحب، ڈاکٹر عبیدالرحمن صاحب، قاری عامر صاحب، قاری محمد رفیق صاحب، شیخ الحدیث محمدایوب مدنی صاحب جامعہ محمدیہ اور فیصل آباد کے دیگر احباب کا بیحد مشکوروممنون ہوں  اور اللہ عزوجل سے آپ تمام لوگوں  کے لئے صحت وسلامتی اور آخرت میں  جنت الفردوس میں  ایک جگہ جمع ہونے کی دعا کرتاہوں ۔

میں  سعودی عرب کے تاریخی شہر وادی طائف میں  بحیثیت داعی و مبلغ دعوتی فریضہ انجام دے رہاہوں ،  یہاں  پاکستانی کمیونیٹی کی اکثریت ہے ان  لوگوں  کی رہنمائی میں  جہاں  یہاں  کے دعوتی مراکز کا ہاتھ ہے وہیں  گاہے بگاہے عمرہ اور سعودی عرب آنے والے پاکستان کےمعروف و مشہور علماء و خطباء کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ میرے علم کی حد تک قاری عبدالرحیم کلیم صاحب، قاری خالد مجاہد صاحب، شیر پنجاب مولانا منظور صاحب، مولانا یوسف پسروری صاحب،  شاعر اسلام مولانا منظور صاحب، مفتی کفایت اللہ شاکرصاحب،عبدالرحمن شاہین صاحب،شاعراسلام عبدالوہاب صدیقی صاحب،قاری محمد حنیف ربانی صاحب، جاوید اقبال سیالکوٹی صاحب،طارق محمود یزدانی صاحب، ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحب،  عبدالغفار آف ڈسکہ صاحب،حافظ سلمان اعظم صاحب وغیرہ تشریف لاچکے ہیں  اور اپنے علم سے طائف کی سرزمین کو فیضیاب کرچکے ہیں ۔ ایک سال پہلے میں  نے حافظ ابتسام الہی ظہیرصاحب کو خطبہ جمعہ کی دعوت دی تھی ان کے خطبہ میں  لوگوں  کا بڑا ہجوم تھا۔اسی طرح دوسالوں  سے شیخ توصیف الرحمن راشدی کو اپنے دعوتی مرکز کے پلیٹ فارم سے سالانہ کانفرنس میں  بلاتا رہاہوں ،  حسن اتفاق گزشتہ سال کانفرنس کے موقع سے شیخ طیب الرحمن زیدی صاحب سعودی عرب میں  موجود تھے انہیں  بھی شریک ہونے کا موقع مل گیا،  توحید کے موضوع پہ آپ کے ایمان افروز اور ولولہ انگیز خطاب نے سامعین کو مسحور کردیا۔ ابھی جلد ہی کراچی سے انڈورائیڈاپلیکیش (اسلام 360) کے ذمہ دار زاہد حسین چھیپا  صاحب کو بلایا تھا۔  ان کی اس بہترین کارکردگی  پرجو طلباء، علماء  اور عوام سبھی کے لئے مفید ہے تہ دل سے  مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔

پاکستان کے سلفی نوجوان بھی دعوتی،  علمی اور جماعتی سرگرمیوں  میں  پیش پیش ہیں ،  عوامی اٹیج سے لیکر سوشل میڈیا اور عرب جامعات و دعوتی مراکز تک یہ نوجوان علمی بحت ومناظرے  اور دعوت اہل حدیث میں  سرگرداں  وکوشاں  ہیں ۔  اردو مجلس فورم،  محدث فورم اور اس کے دیگر ویب یعنی محدث فتوی، محدث لائبریر، محدث میگزین،  حدیث پروجیکٹ قابل تحسین علمی کارنامہ ہے جہاں  سے دنیا کے کونے سے  اردو جاننے والے حضرات ان فورمز اور ویبس سے مستفید ہورہے ہیں ۔  ان کے ذمہ داران اور منتظمین کے لئے دنیا وآخرت میں  خیروبھلائی کے لئے اللہ سے دعا گوہوں ۔



⋆ مقبول احمد سلفی

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

میرے عظیم محسن و مربی شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ

2003 میں بچوں کے میگزین المنار کا ایڈیٹر تھا۔ یہ موقع بھی آپ سے سیکھنے، سمجھنے، بننے، کرنے، پھلنےاور پھولنے کابہترین موقع میسر ہوا۔ سال بھر مضامین، مقالے اور تحریری رہنمائی کے علاوہ آپ کی کئی خوبیوں سے فیضیاب ہونے کا سنہرا موقع دستیاب ہوا۔ یہ دو مواقع ایسے تھے جہاں نہ صرف سیکھنے کا موقع ملا بلکہ یہ سمجھنا بھی آسان بنادیا کہ استاد کسے کہتے ہیں، استادی کا ہنر کیا ہے، استاد کی رہنمائی کیا رنگ لاتی ہے اور کیسے استاد طلبہ میں تعمیرفکروفن کی روح پھونک سکتے ہیں ؟