تقابل ادیان

خدا کا ہندستانی تصور

بیک وقت بلندی کی طرف اڑا اور زیادہ سے زیادہ پستی میں بھی گرا

تحریر: مولانا ابوالکلام آزادؒ … ترتیب: عبدالعزیز

 ہندستان کے تصور الوہیت کی تاریخ متضاد تصوروں کا حیرت انگیز منظر ہے۔ ایک طرف اس کا توحیدی فلسفہ ہے۔ دوسری طرف اس کا عملی مذہب ہے۔ توحیدی فلسفہ نے استغراق فکر و عمل کے نہایت گہرے اور دقیق مرحلے طے کئے اور معاملہ کو فکری بلندیوں کی ایک ایسی اونچی سطح تک پہنچا دیا جس کی کوئی دوسری مثال ہمیں قدیم قوموں کے مذہبی تصورات میں نہیں ملتی۔ عملی اشراک اور تعددِ الاہ کی بے روک راہ اختیار کی اور اصنامی تصوروں کو اتنی دور تک  پھیلنے دیا کہ ہر پتھر معبود ہوگیا، ہر درخت خدائی کرنے لگا اور ہر چوکھٹ سجدہ گاہ بن گئی۔ وہ بہ یک وقت زیادہ سے زیادہ بلندی کی طرف بھی اڑا اور زیادہ سے زیادہ پستی میں بھی گرا۔ اس کے خواص نے اپنے لئے توحید کی جگہ پسند کی اور عوام کیلئے اشراک اور اصنام پرستی کی راہ مناسب سمجھی!

اوپانی شد کا توحیدی اور وحدۃ الوجودی تصور:

 رگ وید کے زمزموں میں ہمیں ایک طرف مظاہر قدرت کی پرستش کا ابتدائی تصور بہ تدریج پھیلتا اور متجسم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف ایک بالاتر اور خالق کل ہستی کا توحیدی تصور بھی آہستہ آہستہ ابھرتا نظر آتا ہے۔ خصوصاً دسویں حصے کے زمزموں میں تو اس کی نمود صاف صاف دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہ توحیدی تصور کسی بہت پرانے گزشتہ عہد کے بنیادی تصور کا بقیہ تھا یا مظاہر قدرت کی کثرت آرائیوں کا تصور اب خود بخود کثرت سے وحدت کی طرف ارتقائی قدم اٹھانے لگا تھا؟ اس کا فیصلہ مشکل ہے لیکن بہر حال ایک ایسے قدیم عہد میں بھی جبکہ رگ وید کے تصوروں نے نظم و سخن کا جامہ پہننا شروع کیا تھا، توحیدی تصور کی جھلک صاف صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ خداؤں کا وہ ہجوم جس کی تعداد تین سو تینتیس یا اسی طرح کی ثلاثی کثرت تک پہنچ گئی تھی۔ بالآخر تین دائروں میں سمٹنے لگا، یعنی زمین، فضا اور آسمان میں اور پھر اس نے ایک ربُّ الاربابی تصور (Henotheism) کی نوعیت پیدا کرلی۔ پھر یہ رب الا ربابی تصور اور زیادہ سمتنے لگتا ہے اور ایک سب سے بڑی اور سب پر چھائی ہوئی ہستی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ یہ ہستی کبھی ’’ورون‘‘ میں نظر آتی ہے، کبھی ’’اِندر‘‘ میں اور کبھی ’’اَگنی‘‘ میں، لیکن بالآخر ایک خالق کل ہستی کا تصور پیدا ہوجاتا ہے جو ’’پرجاپتی‘‘ (پروردگار عالم) اور ’’وشوا کرمن‘‘ (خالق کل) کے نام سے پکاری جانے لگتی ہے اور جو تمام کائنات کی اصل و حقیقت ہے ’’وہ ایک ہے مگر علم والے اسے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں : اگنی، یم، ماتری شوان‘‘ (46-164)۔ ’’وہ ایک نہ تو آسمان ہے نہ زمین ہے۔ نہ سورج کی روشنی ہے نہ ہوا کا طوفان ہے۔ وہ کائنات کی روح ہے۔ تمام قوتوں کا سرچشمہ، ہمیشگی، لا زوالی، وہ کیا ہے؟وہ شاید رٹ ہے جوہر کے روپ میں۔ ادیتی ہے روحانیت کے بھیس میں۔ وہ بغیر سانس کے سانس لینے والی ہستی!‘‘ (حصہ دہم:2-121)۔ ’’ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔ ہم اسے پوری طرح بتا نہیں سکتے‘‘ (ایضاً:121)۔ وہ ’’ایکم است‘‘ ہے؛ یعنی حقیقت یگانہ۔ الحق یہی وحدت ہے جو کائنات کی تمام کثرت کے اندر دیکھی جاکستی ہے‘‘۔

 یہی مبادیات ہیں جنھوں نے اوپانی شدوں میں توحید وجودی (Pantheism) کے تصور کی نوعیت پیدا کرلی اور پھر ویدانت کے مابعد الطبیعات (Metaphysics) نے انہی بنیادوں پر استغراقِ فکر و نظر کی بڑی بڑی عمارتیں تیار کر دیں۔

 وحدۃ الوجودی اعتقاد ذاتِ مطلق کے کشفی مشاہدات پر مبنی تھا۔ نظری عقائد کو اس میں دخل نہ تھا۔ اس لئے اصلاً یہاں صفات آرائیوں کی گنجائش ہی نہ تھی اور اگر تھی بھی تو صرف سلبی صفات (Negative Attributes) ہی ابھر سکتی تھیں۔ ایجابی (Positive) صفات کی صورت آرائی نہیں کی جاسکتی تھی، یعنی یہ تو کہا جاسکتا تھا کہ وہ ایسا نہیں ہے، ایسا نہیں ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ ایسا ہے اور ایسا ہے، کیونکہ ایجابی صفات کو جو نقشہ بھی بنایا جائے گا وہ ہمارے ذہن و فکر کا بنایا ہوا نقشہ ہوگا اور ہمارا ذہن و فکر امکان و اضافت کی چار دیواری میں اس طرح مقید ہے کہ مطلق اور غیر محدود حقیقت کا تصور کر ہی نہیں سکتا۔ وہ جب تصور کرے گا تو ناگزیر ہے کہ مطلق کو مشخص بناکر سامنے لائے اور جب تشخص آیا تو اطلاق باقی نہیں رہا۔ بابا فغانی نے دو مصرعوں کے اندر معاملہ کی پوری تصویر کھینچ دی تھی: مشکل حکایتیست کہ ہر ذرہ عین اوست …اما نمی تواں کے اشارت بہ اور کنند

 یہی وجہ ہے کہ اوپانیشد نے پہلے ذاتِ مطلق (برہمان) کو ذاتِ مشخص (ایشور) کے مرتبہ میں اتارا اور جب اطلاق نے تشخص کا نقاب چہرہ پر ڈال لیا تو پھر اس نقاب پوش چہرہ کی صنفوں کی نقش آرائیاں کی گئیں اور اس طرح وحدۃ الوجودی عقیدہ نے ذات مشخص و متصف (ساگوَن) کے تصور کا مقام بھی مہیا کردیا۔

 جب ان صفات کا ہم مطالعہ کرتے ہیں تو بلا شبہ ایک نہایت بلند تصور سامنے آجاتا ہے جس میں سلبی اور ایجابی، دونوں طرح کی صفتیں اپنی پوری نمو داریاں رکھتی ہیں۔ اس کی ذات یگانہ ہے۔ اس ایک کیلئے دوسرا نہیں۔ وہ بے ہمتا ہے۔ بے مثال ہے۔ ظرف و زمان اور مکان کے قیود سے بالا تر، ازلی و ابدی، ناممکن الادراک، واجب الوجود وہی پیدا کرنے والا ہے، وہی حفاظت کرنے والا اور وہی فنا کر دینے والا۔ وہ علۃ العلل اور علت مطلقہ (’’اپاونا‘‘ سعت ’’نیمتتا کارنا‘‘ ہے)۔ تمام موجودات اسی سے بنیں، اسی سے قائم رہتی ہیں اور پھر اسی کی طرف لوٹنے والی ہیں۔ وہ نور ہے، کمال ہے، حسن ہے۔ سر تاسر پاکی ہے۔ سب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ رحم و محبت والا، ساری عبادتوں اور عاشقیوں کا مقصود حقیقی!

 لیکن ساتھ ہی دوسری طرف یہ حقیقت بھی ہمیں صاف صاف دکھائی دیتی ہے کہ توحیدی تصور کی بلندی بھی اشراک اور تعدد کی آمیزش سے خالی نہیں رہی اور توحید فی الذات کے ساتھ توحید فی الصفات کا بے میل عقیدہ جلوہ گر نہ ہوگا۔ زمانہ حال کے ایک قابل ہندو مصنف کے لفظوں میں در اصل اشراکی اور تعددی تصور (Polytheistic) ہندستانی دل و دماغ میں اس درجہ جڑ پکڑ چکا تھا کہ اب اسے ایک قلم اکھاڑ کے پھینک دینا آسان نہ تھا۔ اس لئے ایک یگانہ ہستی کی جلوہ طرازی کے بعد بھی دوسرے خدا نابود نہیں ہوگئے، البتہ اس یگانہ ہستی کا قبضہ و اقتدار ان سب پر چھا گیا اور سب اس کی ماتحتی میں آگئے۔

 اب اس طرح کی تصریحات ہمیں ملنے لگتی ہیں کہ بغیر اس بالا تر ہستی (برہماں ) کے ’’اگنی‘‘ دیبی کچھ نہیں کرستی۔ ’’یہ اسی کا (برہماں کا) خوف ہے جو تمام دیوتاؤں سے ان کے فرائض منصبی انجام دلاتا ہے‘‘۔ (تیتترا اوپانی شد) راجہ اشواپتی نے جب پانچ گھر والوں سے پوچھا: ’’تم اپنے دھیان میں کس کی پرستش کرتے ہو؟‘‘ تو ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک دیوتا کا نام لیا۔ اس پر اشواپتی نے کہا ’’تم میں سے ہر ایک حقیقت کے صرف ایک ہی حصہ کی پرستش کی، حالانکہ وہ سب کے ملنے سے شکل پذیر ہوتی۔ ’’اندر‘‘ اس کا سر ہے۔ ’’سوریہ‘‘ (سورج) اس کی آنکھیں ہیں۔ ’’وایو‘‘ سانس ہے‘‘۔ اکاش (ایتھر) جسم ہے‘‘۔ ’’دھرتی‘‘ (زمین) اس کا پانؤں ہے‘‘ (ایضاً)۔

 لیکن پھر ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ جب حقیقت کی قیومیت اور احاطہ پر زور دیا جاتا ہے، تو تمام موجودات کے ساتھ دیوتاؤں کی ہستی بھی غائب ہوجاتی ہے، کیونکہ تمام موجودات اسی پر موقوف ہیں۔ وہ کسی پر موقوف نہیں ’’جس طرح رتھ کے پہیّے کی تمام شاخیں ایک ہی دائرہ کے اندر اپنا وجود رکھتی ہیں، اسی طرح تمام چیزیں، تمام دیوتا، تمام دنیائیں اور تمام آلات اسی ایک وجود کے اندر ہیں ‘‘ (برہاؤ ریناک اوپانی شد: باب 5-2)۔ یہاں وہ درخت موجود ہے جس کی جڑ اوپر کی طرف چلی گئی ہے اور شاخیں نیچے کی طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ برہماں ہے لافانی۔ تمام کائنات اس میں ہے۔ کوئی اس سے باہر نہیں ‘‘ (تتیترا:10-1)۔

 یہاں ہم مصنف موصوف کے الفاظ مستعار لیتے ہیں۔ ’’یہ دراصل ایک سمجھوتہ تھا جو چند خاص دماغوں کے فلسفیانہ تصور نے انسانی بھیڑ کے وہم پرست ولولوں کے ساتھ کرلیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواص اور عوام کی فکری موافقت کی ایک آب و ہوا پیدا ہوگئی اور برابر قائم رہی‘‘۔

 آگے چل کر ویدانت کے فلسفہ نے بڑی وسعتیں اور گہرائیاں پیدا کیں لیکن خواص کے توحیدی تصور میں عوام کے اشراکی تصور سے مفاہمت کا جو میلان پیدا ہوگیا تھا وہ متزلزل نہ ہوسکا؛ بلکہ اور زیادہ مضبوط اور وسیع ہوتا گیا۔ یہ بات عام طور پر تسلیم کرلی گئی کہ سالک جب عرفانِ حقیقت کی منزلیں طے کرلیتا ہے تو پھر ماسوا کی تمام ہستیاں معدوم ہوجاتی ہیں اور ماسوا میں دیوتاؤں کی ہستیاں بھی داخل ہیں۔ گویا دیوتاؤں کی ہستیاں مظاہر وجود کی ابتدائی تعینات ہوئیں، لیکن ساتھ یہ بنیاد بھی برابر قائم رکھی گئی کہ جب تک اس آخری مقامِ عرفان تک رسائی حاصل نہ ہوجائے، دیوتاؤں کی پرستش کے بغیر چارہ نہیں اور ان کی پرستش کا جو نظام قائم ہوگیا ہے اسے چھیڑنا نہیں چاہئے، اس طرح گویا ایک طرح کے توحیدی-اشراکی تصور (Monotheistic Polytheism) کا مخلوط مزاج پیدا ہوگیا جو بیک وقت فکر و نظر کا توحیدی تقاضہ بھی پورا کرنا چاہتا تھا اور ساتھ ہی اصنامی عقائد کا نظامِ عمل بھی سنبھالے رکھنا چاہتا تھا۔ ویدانت کے بعض مذہبوں میں تو یہ مخلوط نوعیت کے بنیادی تصوروں تک سرایت کر گئی۔ مثلاً نیمبارکؔ اور اس کا شاگرد سری نواس برہمؔ سوتر کی شرح کرتے ہوئے ہمیں بتلاتیہیں کہ ’’اگر چہ برہما یا کرشن کی طرح کوئی نہیں مگر اس سے ظہور میں آئی ہوئی دوسری قوتیں بھی ہیں جو اس کے ساتھ اپنی نمود رکھتی ہیں اور اسی کی طرح کار فرمائی میں شریک ہیں، چنانچہ کرشن کے بائیں طرف رادھا کی بھی پرستش کریں۔

 اس موقع پر یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ فطرتِ کائنات کے جن قوائے مدبرہ کو سامی تصور نے ’’ملاک‘‘ اور ’’ملائکہ‘‘ سے تعبیر کیا تھا، اسی کو آریائی تصور نے ’’دیو‘‘ اور ’’یزتا‘‘ سے تعبیر کیا۔ یونانیوں کا ’’تھیوس‘‘ (Oeos) رومیوں کا ڈے یوس (Deus)، پارسیوں کا ’’یزتا‘‘ (یزداں ) سب کے اندر وہی ایک بنیادی مادہ اور وہی ایک بنیادی تصور کام کرتا رہا۔ سنسکرت میں ’’دیو‘‘ ایک لچکدار لفظ ہے جو متعدد معنوں میں مستعمل ہوا ہے، لیکن جب مافوق الفطرت ہستیوں کیلئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ایک ایسی غیر مادی اور روحانی ہستی کے ہوجاتے ہیں جو اپنے وجود میں روشن اور درخشاں ہو۔ سامی ادیان نے ان روحانی ہستیوں کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں دیکھی کہ وہ خدا کی پیدا کی ہوئی کارکن ہستیاں ہیں لیکن آریائی تصور نے ان میں تدبیر و تصرف کی بالاستقلال طاقتیں دیکھیں اور جب توحیدی تصور کے قیام سے وہ استقلال باقی نہیں رہا تو توسّل اور تزلّف کا درمیانی مقام انھوں نے پیدا کرلیا؛ یعنی اگر چہ وہ خود خدا نہیں ہیں لیکن خدا تک پہنچنے کیلئے ان کی پرستش ضروری ہوئی۔ ایک پرستار کی پرستش اگر چہ ہوگی معبود حقیقی کیلئے مگر ہوگی انہی کے آستانوں پر۔ ہم براہ راست خدا کے آستانے تک پہنچ نہیں سکتے۔ ہمیں پہلے دیوتاؤں کے آستانوں کا وسیلہ پکڑنا چاہئے۔ در اصل یہی توسل و تزلف کا عقیدہ ہے جس نے ہر جگہ توحیدی اعتقاد و عمل کی تکمیل میں خلل ڈالا، ورنہ ایک خدا کی یگانگی اور بالاتری سے تو کسی کو بھی انکار نہ تھا۔ عرب جاہلیہ کے بت پرستوں کا بھی یہی عقیدہ قرآن مجید نے نقل کیا ہے کہ ما نعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفیٰ۔

 بہر حال شرک فی الصفات اور شرک فی العبادت کا یہی وہ عنصری مادہ تھا جس نے ہندستان کے عملی مذہب کو سر تا سر اشراک اور اصنام پرستی کے عقائد سے معمور کر دیا اور بالآخر یہ صورت حال اس درجہ گہری اور عام ہوگئی کہ جب تک ایک سراغ رساں جستجو اور تفحص کی دور دراز مسافتیں طے نہ کرلے، ہندو عقیدہ کے توحیدی تصور کا کوئی نشان نہیں پاسکتا۔ توحیدی تصور نے یہاں ایک ایسے راز کی نوعیت پیدا کرلی جس تک صرف خاص خاص عارفوں ہی کی رسائی ہوسکتی ہے۔ ہم اس کا سراغ پہاڑوں کے غاروں میں پاسکتے ہیں، لیکن کوچہ و بازار میں نہیں پاسکتے۔ گیارہویں صدی مسیحی میں جب ابو ریحانؔ بیرونی ہندستان کے علوم و عقائد کے سراغ میں نکلا تھا تو یہ متضاد صورت حال دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ سولہویں صدی میں ویسی ہی حیرانی ابوالفضل کو پیش آئی اور پھر اٹھارہویں صدی میں سر ولیم جونس کو۔

 بہترین معذرت جو اس صورت حال کی جاسکتی ہے وہ وہی ہے جس کا اشارہ گیتا کے شہرۂ آفاق ترانوں میں ہمیں ملتا ہے اور جس نے البیرونی کے فلسفیانہ دماغ کو بھی اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا، یعنی یہاں پہلے دن سے عقائد و عمل کی مختلف راہیں مصلحتاً کھلی رکھی گئیں تاکہ خواص اور عوام دونوں کی فہم و استعداد کی رعایت ملحوظ رہے۔ توحیدی تصور خواص کیلئے تھا، کیونکہ وہی اس بلند مقام کے متحمل ہوسکتے تھے۔ اصنامی تصور عوام کیلئے تھا کیونکہ ان کی طفلانہ عقول کیلئے یہی راہ موزوں تھی اور پھر چونکہ خواص بھی جمعیت و معاشرت کے عام ضبط و نظم سے باہر نہیں رہ سکتے۔ اس لئے عملی زندگی میں انھیں بھی اصنام پرستی کے تقاضے پورے ہی کرنے پڑتے تھے اور اس طرح ہندو زندگی کی بیرونی وضع و قطع بلا استثنا اشراک اور اصنام پرستی ہی کی رہتی آئی۔

 البیرونی نے حکماء یونان کے اقوال نقل کرکے دکھایا ہے کہ اس بارے میں ہندستان اور یونان دونوں کا حال ایک ہی طرح کا رہا۔ پھر گیتا کا یہ قول نقل کیا ہے کہ بہت سے لوگ مجھ تک (یعنی خدا تک) اس طرح پہنچنا چاہتے ہیں کہ میرے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، لیکن میں ان کی مرادیں بھی پوری کر دیتا ہوں، کیونکہ میں ان سے اور ان کی عبادت سے بے نیاز ہوں۔

 بے محل نہ ہوگا اگر اس موقع پر زمانہ حال کے ایک ہندو مصنف کی رائے پر بھی نظر ڈال لی جائے۔ گوتم بدھ کے ظہور سے پہلے ہندو مذہب کے تصورِ الوہیت ے جو عام شکل و صورت پیدا کرلی تھی، اس پر بحث کرتے ہوئے یہ قابل مصنف لکھتا ہے:

 ’’گوتم بدھ کے عہد میں جو مذہب ملک پر چھایا ہوا تھا اس کے نمایاں خط و خال یہ تھے کہ لین دین کا ایک سودا تھا جو خدا اور انسانوں کے درمیان ٹھہر گیا تھا جبکہ ایک طرف اوپانی شد کا برہماں تھا جو ذات الوہیت کا ایک اعلیٰ اور شائستہ تصور پیش کرتا تھا تو دوسری طرف اَنگنت خداؤں کا ہجوم تھا جن کیلئے کوئی حد بندی نہیں ٹھہرائی جاسکتی تھی۔ آسمان کے سیارے، مادہ کے عناصر، زمین کے درخت، جنگل کے حیوان، پہاڑوں کی چٹانیں، دریاؤں کی جدولیں، غرضیکہ موجوداتِ خلقت کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جو خدائی حکومت میں شریک نہ کرلی گئی ہو، گویا ایک بے لگام اور خود رَو تخیل کو پروانہ مل گیا تھا کہ دنیا کی جتنی چیزوں کو خدائی مسند پر بٹھا سکتا ہے، بے روک ٹوک بٹھاتا رہے، پھر جیسے خداآن کی یہ بے شمار بھیڑیں بھی اس کے ذوق خدا سازی کیلئے کافی نہ ہوں ہوں۔ طرح طرح کے عفریتوں اور عجیب الخلقت جسموں کی متخیّلہ صورتوں کا بھی ان پر اضافہ ہوتا رہا۔ اس میں شبہ نہیں کہ’اوپانی شدوں ‘ نے فکر و نظر کی دنیا میں ان خداؤں کی سلطانی برہم کردی تھی، لیکن عمل کی زندگی میں انھیں نہیں چھیڑا گیا، وہ بدستور اپنی خدائی مسندوں پر جمے رہے‘‘۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close