تقابل ادیان

قادیانیت : مختصر جائزہ

محمود احمد خاں دریابادی

حال ہی میں اخبارات کے ذریعے معلوم ہواکہ حکومت ہند نے مردم شماری میں قادیانیوں کا شمار مسلمان کی حیثیت سے کیا ہے۔ یہ بڑا عجیب وغریب معاملہ ہے، کون مسلمان ہے کون نہیں ہے اس کا فیصلہ ایک سیکولر حکومت کب سے کرنے لگی؟ بے شک مسلمانوں میں بہت سارے فرقے اور مکاتب فکر پائے جاتے ہیں، ان کے درمیان سخت اختلافات بھی ہیں مگر کم از کم دوبنیادی عقیدے ایسے ہیں جن میں دنیا کے تمام مسلمان متحد ہیں، ان میں ایک تو توحید یعنی اللہ کو ایک ماننا اور دوسرا حضرت محمدﷺ کو اللہ کا آخری نبی رسول تسلیم کرنا… مگر قادیانیت ایک ایسا گروہ ہے جو حضور ﷺ کے بعد ایک نبی اور صر ف نبی ہی نہیں بلکہ تمام نبیوں سے افضل نبی مانتا ہے، (تفصیلات آگے آرہی ہیں ) اسی وجہ سے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر قادیانیوں کو ہمیشہ کافر اور اسلام سے خارج مانتے رہے ہیں … اور اس کا متفقہ اعلان مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس منعقدہ6؍تا 10 اپریل 1974 کو ہوا، جس میں عالم اسلام کے تمام مقتدر علماء مفتیان شریک تھے، اس اجلاس میں واضح طور پر کہا گیا کہ قادیانیوں کے تمام فرقے (قادیانی، لاہوری، دیندار انجمن وغیرہ) کافر اور اسلام سے خارج ہیں …یہی وجہ ہے کہ ہر مسلک اور فرقے کا مسلمان حج بیت اللہ کو جاسکتا ہے مگر اس مقدس دیار میں قادیانیوں کے داخلے پر پابندی ہے۔

قادیانی مذہب کی بنیادی شخصیت مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جس کی پیدائش پنجاب کے ضلع گوروداس پور کے قصبہ قادیان میں 40۔ 1939 کو  ہوئی (ایک جگہ 1836 بھی لکھا ہے) خاندان کے بارے میں خود مرزا نے متضاد باتیں لکھی ہیں، پہلے خود کو مغل برلاس بتایا، پھر ایرانی الاصل لکھا، ایک جگہ چینی، اسرائیلی، فاطمی بھی لکھا ہے، تعلیم مقامی طور پر مختلف لوگوں سے حاصل کی حرف شناشی کی حد تک انگریزی بھی پڑھی۔ ابتداء ہی سے عجیب وغریب استغراقی کند ذہنوں جیسی کیفیت کے مالک تھے، حتی کہ زندگی بھر گھڑی دیکھنا نہیں آیا، جب ضروری پڑتی جیب سے گھڑی نکال کر بآواز بلند ہند سے شمار کرتے تب وقت کا اندازہ کرپانے، دائیں بائیں پیر کے جوتوں میں بھی فرق نہیں کرپاتے تھے۔ اکثر اُلٹے پہن لیتے تھے، بیوی شناخت کے نشان بنادیتی تھی، ساری زندگی مختلف اور پیچیدہ بیماریوں کا سردرد، ہسٹریا، ذیابیطس، رات بھر سومرتبہ پیشاب آنا، اعصابی وجسمانی کمزوری، سل، دق، اسہال، ضعف باہ ونامردی وغیرہ کا شکار رہے، ان بیماریوں کے علاج کے لئے مختلف دوائیں افیم سے بنی گولیاں، برانڈی ملا ہوا مشروب (Tonic win) وغیرہ استعمال میں رہیں، پیشاب کی کثرت کی وجہ سے جیب میں استنجے ڈھیلے رکھے رہتے تھے، مٹھائی بہت پسند تھی اسی لئے ایک جیب میں گڑ کی ڈلیاں بھی رکھتے تھے، کبھی ایسا بھی ہوا کہ مٹی کے بجائے استنجے میں گڑ کا استعمال ہوگیا۔ ابتداء میں زندگی عسرت وتنگی میں گزری بعد میں عطیات وچندوں کی بدولت فراخی آگئی، لکھ پتی بن گئے، تین لاکھ روپیہ کی موجودگی کا تو انہوں نے خود اقرار کیا (آج 120سال قبل)، تعلیم مکمل نہیں ہوسکی تو والدکی زمینوں کی نگرانی کرنے لگے، پھر گروداسپور عدالت میں 1864 سے 1868 تک 15 روپیہ ماہوار پر ملازم رہے، (مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کے حالات، کتاب البرّیہ، سیرۃ المہدی مصنفہ شبیر احمد سر غلام احمد، چشمہ معرفت، ایک غلطی کا ازالہ، مکتوبات احمد وغیرہ سے لیے گئے ہیں )

ایسا دائم المریض، مستقل استغراقی کیفیت میں رہنے والا اگر دماغی دبائو کا شکار ہوکر کچھ بڑی بڑی باتیں اور ناقابل یقین دعوے کرتا ہے تو اس پر اس کو تعجب ہوتا؟ ہاں تعجب ان لوگوں پر ؛ ضرورت ہوتا ہے جو ایسے نیم ذہنوں کو اپنا مقتدا وپیشوا بنالیتے ہیں، اس میں کچھ تو ہندوستانی  نفسیات کا دخل ہے اور کچھ دوسرے عوامل بھی کار فرما ہیں۔ اس کے لئے اس زمانے کا تھوڑا سا پس منظر سمجھنا ضروری ہے۔ اس وقت بظاہر انگریز حکومت کے شباب کا دور تھا، مگر دوسری جنگ عظیم کی دھمک سنائی دینے لگی تھی، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف ماحول بن رہا تھا، انگریزں کے خلاف ہندوستانی مسلمان ساتھ آرہے تھے، چالاک انگریز سامراج اپنے اوپر آنے والی قیامت کا اندازہ کرنے لگا تھا اس لئے اس کو ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کے اقتدار کے استحکام کے لئے کسی بھی طرح کام آسکیں، اس کے لئے انگریزوں نے ہندوستان میں کئی لوگوں کو استعمال کیا ان میں ایک شخصیت غلام احمد قادیانی کی بھی تھی۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ مرزا نے چارسال انگریزوں کی عدالت میں ملازمت کی، اس دوران وہاں ان کے کئی انگریزوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں، تفصیلی گفتگو تنہائی میں بھی ہوئی، اسی وقت انگریزوں نے محسوس کرلیا کہ اس آدمی سے کام لیا جاسکتا ہے، چنانچہ اسی کے بعد سے انگریز نے مرزا کی شخصیت کو غیر محسوس طریقے  پر بڑھاوا دینا شروع کردیا۔ مرزا کی یہ بھی خوش قسمتی رہی کہ ان کو زندگی میں حکیم نورالدین جیسے ساتھی (جو بعد میں ان کے پہلے خلیفہ بنے) میسر آگئے اور مرزا کی موت کے بعد ان کے لڑکے بشرالدین محمود (ان کے دوسرے خلیفہ ) ان دونوں نے قادیانیت کو باضابطہ مذہب کی شکل دی، مرزا نے اپنی زندگی میں جتنے بھی دعوے کئے ان سب میں حکیم نورالدین کا بھی مشورہ شامل رہتا تھا۔

سب سے پہلے مرزا کو داعی اسلام اورمتکلم کے طو رپر پیش کیاگیا، اسلام کی حقانیت پر ان کے مختلف رسائل، مضامین، کتابیں کچھ ان کے بھی لکھے ہوتے تھے کچھ دوسروں سے بھی ان کے نام سے لکھوائے جاتے تھے (بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی کتاب ’’چند ہم عصر‘‘ میں لکھا ہے کہ مرزا کی پانچ جلدوں میں شائع ہونے والی مشہور کتاب براہین احمدیہ کا دو تہائی حصہ سر سید کے علمی رفیق مولوی چراغ علی کا ترتیب دیا ہوا ہے) بڑی تعداد میں شائع کئے گئے۔ دھیرے دھیرے علاقے میں شہرت ہونے لگی لوگ جان گئے تو اس شہرت کا فائدہ اُٹھا کر 1880 میں مرزا نے اپنے مجدد اسلام ہونے کا دعویٰ کیا پھر آگے چل کر مامو رمن اللہ، مہدی بن گئے، درمیان ’’محدث ‘(جس سے غیبی گفتگو کی جائے) بھی رہے، پھر 1882 میں کہا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے بلکہ ان کا انتقال ہوگیا ان کی قبر کشمیر میں ہے، حدیثوں میں جس عیسیٰ کی قرب قیامت میں آنے کی بشارت دی گئی ہے وہ عیسی بن مریم او رمسیح موعود میں ہوں 1891 میں ایک اور غضب ہوا مرزا نے خود کو حضور ﷺ کے نقش ثانی (True Copy)کے طور پر ’ظلی نبی‘ اور ’بزوری نبی‘ ہونے کا اعلان کردیا، معاملہ اور بھی آگے بڑھا 1901 میں باقاعدہ مکمل اور صاحب شریعت نبی بن گئے…!

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1890 سے پہلے تک خود کوحضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے پر لعنت بھیجتے تھے (روحانی خزائن، آسمانی فیصلہ ص 213)، بات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہی 1904 میں مرزا نے خود کو آریوں کا اوتار اور ہندوئوں کے کرشن کنہیا وغیرہ ہونے کے دعوے بھی کئے، (سلسلہ احمدیہ ص 51)۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ہر دعوے کے لیے دلیل کی بھی ضرورت پڑتی ہے، مرزا سے بھی دلیل کا مطالبہ ہوا تو انتہائی مضحکہ خیز احمقانہ دلیلیں اور تاویلات پیش کی گئیں، مثلاً مرزا عیسیٰ بن مریم کیسے بن گئے؟ کہتے ہیں کہ ’’میں نے ایک عرصے تک خود میں زنانہ خصوصیات کو محسوس کیں ایسے میں اللہ تعالیٰ نے ’’قوت رجولیت‘‘ کا اظہار فرمایا (نعوذ باللہ) مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارے کے رنگ میں حاملہ ٹہرایا گیا، پھر کم وبیش دس ماہ کے بعد پیدائش ہوئی اس طرح میں عیسیٰ بن مریم ٹہرا، (تلخیص از کشتی نوح ص 47) اس تاویل پر معاصرین نے خوب خوب لتے لئے پھر پوچھا گیا کہ عیسی تو دمشق میں نازل ہوں گے مینارسے سیڑھی کے ذریعے زمین پر تشریف لائیں گے ان کے بدن پر دو چادریں ہوں گی بالوں سے قطرات ٹپک رہے ہوں گے، قادیان اور دمشق میں تو ہزاروں میل کا فاصلہ ہے، جواب دیکھئے! کہتے ہیں کہ ’’قادیان میں بھی چونکہ یزیدی طبیعت کے پلید لوگ رہتے ہیں اس لئے استعارے کے رنگ میں قادیان بھی دمشق ہے۔ رہی  بدن کی دوچادریں تو یہ دراصل میری دو بیماریاں ہیں ایک بدن کے اوپری حصے میں سردرد، مراق اور  دوسری بدن کے نچلے حصے میں ذیابیطس اور اس کی وجہ سے پیشاب کے قطرات، (ایضاً)

ایک جگہ حقیقۃ الوحی ص 521 میں خود کو آدم، نوح، ابراہیم، اسماعیل، موسیٰ، دائود، سلیمان، عیسیٰ وغیرہ کے برابر او رایک جگہ تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا (نزول مسح ص 72 او ریہ لکھتے وقت قلم کانپتا ہے کہ حضور ﷺ کی برابری بلکہ ان سے افضل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے مرزا نے لکھا ہے کہ ’’نبی کریم کے لئے تو صرف چاند گرہن (شق القمر کو مرزا گرہن کہتے تھے) کا معجزہ ظاہر ہوا مگر میرے لئے چاند اور سورج دونوں کے گرہن کا ‘‘ (تلخیص) مرزا کے لڑکے بشیرالدین (دوسرا خلیفہ) نے بھی کہا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی محنت اور ریاضت سے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ (اخبار الفضل جلد 5، 17؍جولائی)۔

مرزا کے ماننے والوں کی نظر میں مرزا کی بیوی، ام المومنین، ساتھ رہنے والے صحابی اور جانشین خلفاء راشدین کے برابر ہیں، مرزا کا مشہور شعر ہے۔

کربلا یست سیر ہر آنم٭ صد حسین است در گربیانم

(میرا روز مرہ کا چلنا پھر ناکربلا کے برابر ہے، او رحسین جیسے سینکڑوں میری جیب میں پڑے رہتے ہیں )

حضرت فاطمہؓ کے بارے میں مرزا کا جملہ دہرایا نہیں جاسکتا، بس ایک دعویٰ رہ گیا تھا خدائی کا تو آئینہ کی لات ص 564 میں خدا ہونے کا بھی دعویٰ کردیاگیا۔

یہ جاننا بھی دلچسپ ہوگا کہ مرزا کے پاس وحی لے کر آنے والافرشتہ کون سا تھا، مرزا کی کتابوں میں کئی نام ملتے ہیں، مثلاً ’’ٹیچی ٹیچی‘‘ (حقیقۃ الوحی 232) ’’درشنی‘‘ (تذکرہ ص 31) ’’خیراتی‘‘ (تریاق القلوب 142) ’’مٹھن لال‘‘ (تذکرہ ص 515) ’’شیر علی‘‘ (ایضاً ص 131)’’حفیظ ’‘ (ایضاً ص 757)۔

مرزا پر وحی بھی کئی زبان میں آتی تھی (1) عبرانی (ایک جملہ کہیں سے یاد ہوگیا تھا اسی کو وحی بتادیا) (2) انگریزی، بچپن میں انگریزی سے حرف شناش ہوچکے تھے روز مرہ کی بول چال میں جو انگریزی جملے مستعمل تھے وہ وحی بن گئے ’’I am with you/ I love You‘‘ ”I shall help you” (3۔ 4۔ 5)ہندی، پنجابی، اردو تو بول چال کی زبان تھی فارسی سرکاری زبان ان میں تووحی آنی ہی تھی (6)عربی میں جو کچھ وحی کی شکل میں نازل ہونے کا دعویٰ کیاگیا ہے وہ مختلف قرآنی آیات واحادیث کے ٹکڑوں کا غیر مربوط مجموعہ ہے۔ آیات واحادیث کے علاوہ اگر کچھ عربی میں لکھنے کی کوشش کی ہے وہ ہندوستانی عربی جو گرامر اور قواعد کے لحاظ سے غلط، بے ربط، بے معنی اور بے مقصد کلام معلوم ہوتا ہے۔ (حوالے کے لیے دیکھیں براہین احمدیہ جلد سوم ص 242، جلد چہارم ص 55۔ 554)

مرزا کی کتابوں میں مخالفین کے لئے خواہ وہ مسلمان علماء ہوں یا عیسائی پادری یا ہندو پرچارک سب کے لئے انتہائی سخت اشتعال انگیز، بلکہ مغلظات بھری زبان استعمال کی گئی ہے، مخالف کی محترم مذہبی شخصیات کی توہین، الزامات اور لعنت ملامت ان کی عام عادت ہے چنانچہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ کو شرابی، ااوارہ ان کے خاندان میں ان کی دادیوں، نانیوں کے لئے ناقابل تحریر الفاظ استعمال کئے ہیں (انجام آتھم ص 405)

ایک جگہ لکھا ہے    ؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو٭ اس سے بہتر غلام احمد ہے (دافع البلاء ص 2)

اسی طرح ہندوئوں اور آریہ سماج کی مذہبی شخصیات اور ان کے عقائد پرفحش جملے اور کریہہ اشارے کثرت سے کئے ہیں، عام طور پر حرام زادہ اور کنجریوں کی اولاد تکیہ کلام کے طو ر پر استعمال ہوا ہے (حوالے کے ئے دیکھیں آئینہ کمالات 547 اور نجم الہدی ص 15 وغیرہ)

غیر مسلم مخالفین کے خلاف اس بدزبانی اور دشنام طرازی کے دو خراب نتائج سامنے آئے، ایک تو یہ کہ اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جو ہندو مسلم فرقہ وارانہ اتحاد کی فضا قائم ہورہی تھی اس کو سخت نقصان پہنچا، دوسرا نقصان یہ ہوا کہ مرزا کی بدزبانی سے دوسرے لوگوں آریہ سماجیوں اور انگریز پادریوں کو اسلام، آنحضرت ﷺ، ازواج مطہرات او راہل بیت کے خلاف اسی انداز بلکہ اس سے بڑھ کر بدز بانی کا حوصلہ پیدا ہوگیا، اس سے پہلے اہل اسلام کے خلاف ایسی غلیظ زبان کبھی استعمال نہیں ہوئی تھی۔

ویسے مرزا صاحب صرف گفتار کے غازی تھے، جب بھی مخالف آمنے سامنے مباحثہ کا چیلنج کرتا ہمیشہ کنی کاٹ جاتے تھے، ہاں 1893 میں ایک مرتبہ امرتسر کے ایک انگریز ڈاکٹر مارٹن کی کوٹھی پر 22 مئی سے پانچ جون تک مناظرہ ہوا جس میں مرزا کو زبردست شکست ہوئی عیسائی مناظر کا نام آتھم تھا، عیسائیوں نے مرزا کی اس شکست کو مسلمانوں کی شکست کے طور پر شہر ت دی اور مسلمانوں کو سخت خفت کا سامنا کرنا پڑا… اس کے بعد مرزا صاحب پھر کبھی براہ راست گفتگو کے لئے سامنے نہیں آئے، ہمیشہ اپنے الہامات سے پیشین گوئیوں وغیرہ سے مخالف کو ڈرانے اور دبائو میں لینے کی کوشش کرتے رہے مگر اس میں بھی کبھی کامیابی نہیں ملی۔ چنانچہ امرتسر مناظرے کی شرمندگی دور کرنے کے لئے مرزا نے پیشین گوئی کی کہ پادری آتھم 4 ستمبر 1884 تک مرجائے گااس دوران مرزا اور ان کے ماننے والوں نے ٹونے ٹوٹکے سے لے کر مبینہ طو رسے اس پر جسمانی حملے بھی کروائے دو مرتبہ گولی بھی چلائی گئی مگر آتھم نہیں مرا تاریخ گزر گئی، آتھم کے لوگوں نے پورے شہر میں زبردست فتح کا جلوس نکالا اور مسلمانوں کو شرمسار کرنے کی کوشش کی، مسلمانوں میں مولانا حسین بٹالوی، اور مولانا ثناء اللہ امرتسری نے بھی کئی مرتبہ براہ راست مباحثے کی دعوت دی مگر مرزا کبھی سامنے نہیں آئے اور ان دونوں علماء کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہم لوگوں میں جو بھی جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں مرجائے گا (مرزا کا مولانا امرتسری کے نام خط 15اپریل 1970) نتیجہ یہ ہوا کہ 26 مئی 1908 کو وبائی ہیضے کا شکار ہوکر مرزا کی موت ہوگئی، اور اس کے بعد 12 سال تک مولانا بٹالوی اور 40 سال تک مولانا امرتسری حیات رہے۔ ان کے علاوہ پنڈت لیکھ رام اور پادری دوئی کی موت کی پیشین گوئی بھی کی وہ بھی حسب سابق پوری نہیں ہوئی۔

مرزا کی کچھ پیشین گوئیاں تو ایسی ہیں جو آج تک قادیانیوں کے لئے ندامت کا سبب بنتی ہیں، مثلاً مرزا نے 1886 میں پیشین گوئی کہ کہ میری بیوی کو جو حمل ہے اس سے ایک ایسا لڑکا پیدا ہوگا جو میری نبوت کا معجزہ ہوگا، اس ہونے والے لڑکے کے بے شمار فضائل ومناقب بیان کرتے ہوئے یہاں تک کہدیا کہ کان اللہ نزل من السماء (جسے اللہ تعالیٰ خود آسمان سے اتر آیا ہو) نعوذ باللہ، مگر لڑکا نہیں پیدا ہوا لڑکی پیدا ہوگئی۔ مخالفین نے خوب لطف لیا مضحکہ اڑایا، مرزا نے بہت سی تاویلات کیں پھر کہا  کہ اس مرتبہ وہ ’’پسر موعود‘‘ ضرور پیدا ہوگا۔ 17 اگست 1887 کو لڑکا پیدا ہوا اس کا بھی انتقال ہوگیا، اس کے بعد مرزا کو کوئی اولاد نرینہ نہیں ہوئی، خود ان کا انتقال ہوگیا۔ مرزا کے بعد مخالفین نے خوب مذاق اڑایا، اشتہارات شائع ہوئے، آخر کار مرزا کے لڑکے بشرالدین محمود جس کی پیدائش اسی پیشین گوئی سے پہلے کی تھی اس نے دعویٰ کردیا کہ مرزا صاحب کو اپنا الہام سمجھنے میں تسامح ہوا ہے وہ پسر موعود خود میں ہوں۔

مرزا کی زندگی کی سب سے اہم پیشین گوی ’’نکاح آسمانی‘‘ کی ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ مرزا کا ایک خاندانی عزیز اور کاشت میں حصہ دار مرزا احمد بیگ کو کاشت کی زمینوں کے سلسلے میں مرزا کے دستخط کی شدید پیش آئی، وہ مرزا کے پاس آیا، مرزا نے دستخط کے لئے ایک عجیب وغریب مطالبہ کیا، مرزا نے کہاکہ دستخط اس وقت تک نہیں کئے جائیں گے جب تک تم اپنی نو عمر لڑکی محمد ی بیگم کا نکاح مجھ سے نہ کردو (واضح رہے کہ اس وقت مرزا کی عمر 60 سال کے آس پاس تھی) احمد بیگ بہت برہم ہوا اور واپس آگیا، اپنی لڑکی کے لئے اس نے دوسرا راستہ تلاش کرنا شروع کیا، مرزا کو اطلاع ہوئی تو اس نے رشتہ کو روکنے کے لئے پیشین گوئی کی اس لڑکی شادی جس سے بھی ہوگی وہ ڈھائی سال میں مرجائے گا۔ لڑکی کا باپ تین سال میں مرجائے گا، مگر احمد بیگ خوف زدہ نہیں ہواتو مرزا نے اپنے دیگرعزیزوں کی خوشامد کی کہ وہ احمد بیگ سے سفارش کریں میری بہت بدنامی ہورہی ہے اگر مجھ سے نکاح نہیں ہوا تو میں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں رہوں گا، مگر اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، مرزا نے اپنے بیٹے فضل احمد کی بیوی عزت بی بی پر دبائو ڈالا کہ وہ اپنی پھوپھی (احمد بیگ  کی بیوی اس کی پھوپھی تھی) پر دبائو ڈالے کہ اگر اس نے مجھ سے اپنی لڑکی کا نکاح نہیں کیا تو میرا بیٹا تم کو طلاق دے دے گا۔ بہو کے والد علی شیر پر بھی دبائو ڈالا کہ اگر اپنی لڑکی کی زندگی خراب ہونے سے بچاناچاہتے ہو تو محمدی بیگم کا نکاح مجھ سے کرائو، مگر یہ دبائو بھی کام نہیں آیا، مرزا نے فضل احمد سے کہہ کر عزت بی بی کو طلاق دلوادی، فضل احمد کی ماں (مرزا کی پہلی بیوی) نے اس پر احتجاج کیا تو اس کو بھی طلاق دے دی، فضل احمد کے بڑے بھائی نے جب اس پر سخت اعتراض کیا تو اس کو اپنی جائیداد سے عاق کردیا… مرزا صاحب بہت تلملائے، مخالفین نے بھی خوب نمک چھڑکا تمام پیشین گوئیوں کے باوجود ڈھائی سال ہنسی خوشی گزرگئے کچھ بھی نہ ہوا، اب مرزا صاحب نے اپنی مدت میں توسیع کی کہا کہ نکاح ضرور ہوگا یہ آسمانی فیصلہ ہے اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں ضرور آئے گی خواہ مطلقہ ہوکر آئے یا بیوہ ہوکر‘‘ (آئینہ کمالات 286)

مگر مرزا صاحب کا 1908 میں اسہال کی کثرت کی وجہ سے انتقال ہوگیا اور مسماۃ محمدی بیگم ان کا تو شہر سالہا سال تک حیات رہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تمام تضاد بیانیوں، دروغ گوئیوں، او رحماقت مآبی کے باوجود کچھ لوگ ایسے آمنا صدقنا کہنے والے موجود تھے جنہوں نے لاکھوں روپیہ مرزا کو براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں لکھنے کے لئے دیا، مگر پچیس سال کے عرصہ میں مرزا نے صرف پانچ جلدیں شائع کیں او رکہدیا کہ پانچ اور پچاس میں صرف ایک نقطے کا فرق ہے، اس لئے اتنی ہی کافی ہیں (براہین احمدیہ جلد 5 ص 1) ایسے کھلے فریب کے باوجود ان کی عقیدت میں فرق نہیں آیا سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کے پیچھے کتنا زبردست معشوق رہا ہوگا… مرزا کے بعد ان خلفا نے حلقہ وسیع کرنے کا کام پوری پلاننگ کے ساتھ انگریزوں کے تعاون سے شروع کیا او راپنا سیاسی وسماجی قد اتنا بلند کرلیا کہ 23۔ 1931 میں جو سرکردہ مسلمانوں پر مشتمل کشمیر کمیٹی بنائی گئی تھی دوسرا خلیفہ بشرالدین محمود اس کا صدر بنادیاگیا، دوسرے کئی قادیانی بھی اس کے ممبر بنے، علامہ اقبال کو بھی اس کا ممبربنایاگیا، علامہ اقبال نے بشرالدین کی صدارت پر سخت اعتراض کیا، ا س کا نتیجہ یہ ہوا کہ بشرالدین محمود کو ہٹا کر علا مہ اقبال کو صدر بنادیاگیا، مگر اس کمیٹی کے قادیانی ممبران کمیٹی کی کارروائی میں روڑے اٹکانے لگے، اس پر علامہ اقبال احتجاجاً کمیٹی سے مستعفی ہوگئے، ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد بشرالدین محمود اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ پاکستان چلاگیا، اور وہاں ربوہ کو اپنا مستقر بنایا، پاکستان میں بھی سیاسی اور سماجی اثر قائم کرنے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی رہا، وہاں کی افواج اور انتظامیہ میں بڑی تعداد میں قادیانی شامل ہوگئے، پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان قادیانی بنا، نیز منصوبہ بند کمیٹی کا سکریٹری ایم، ایم احمد جو کہ ایک وقت میں اتنا طاقتور تھا کہ یحییٰ خان کے بعد ملک کی صدارت کے لئے اس کا نام آرہا تھا وہ مرزا غلام احمد کا پوتا تھا۔

طاقت کے نشے میں وہاں ان کی سرگرمیاں ظلم وستم کی طرف بڑھتی گئیں، اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو جو قادیانی نہیں تھے کھلے عام کافر دائرہ اسلام سے خارج، جہنمی کہا جانے لگا (اخبار الاخبار ص 8) یہ بھی کہا گیا کہ مسلمانوں کو اپنی لڑکی نہ دی جائے بلکہ ان کی لڑکیاں زیادہ سے زیادہ لائیں جائیں تاکہ ہمارا مذہب آگے بڑھتا رہے، غیر قادیانی کا جنازہ حتی کہ غیر قادیانی بچے کا بھی جنازہ نہ پڑھا جائے، اسی وجہ سے ظفر اللہ خاں نے محمد علی جناح  کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ انتظامیہ میں بڑی تعداد قادیانی تھے اس لئے عام مسلمانوں کو سخت پریشانی اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ربوہ اسٹیشن پر کالج کے بچوں کے گروپ کی قادیانیوں نے زبردست پٹائی کی، متعدد ہلاکتیں ہوئی اور درجنوں زخمی ہوئے… ! ان سب کے نتیجے میں پاکستان میں زبردست سورش پیدا ہوئی تمام مسلک کے مسلمان متحد ہوئے اور قادیانیوں کے خلاف زور دار تحریک چلائی گئی جس کے لئے وہاں کے مسلمانوں کو بہت جانی ومالی قربانیاں بھی پیش کرنا پڑیں تب کہیں جاکر وہاں کی حکومت قادیانیوں کے خلاف قانون بنانے کے لئے مجبور ہوگئی۔ چنانچہ 7 دسمبر 1974 کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں حکومتی سطح پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا اعلان کیاگیا او ران کے اوپر تمام اسلامی شعار کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی، اب تک ان کی عبادت گاہیں مسجد، ان کی عبادت نماز اذان کہی جاتی تھی اب قانون کی رو سے وہ ان اصطلاحات کا استعمال نہیں کرسکتے تھے۔

پاکستان میں غیر مسلم قرار دئے جانے کے بعد ان کا خلیفہ مرزا ناصر انگلینڈمنتقل ہوگیا اور اسی انگریز کے دامن میں پناہ لی جس نے اس گروہ کو کھڑا کیا تھا۔

یہ سوال کیاجاسکتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود انگریز پادریوں کے خلاف بدزبانی کی ہے، برا بھلا کہا ہے کہ ایسے میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ گروہ انگریزوں کا ترتیب دیا ہوا ہے… اس کا جواب خود مرزا نے ’’گورنمنٹ عالیہ کے ‘‘نام ایک خط میں دیا ہے، لکھا ہے کہ ’’عیسائی اخبار ’’نورافشاں ‘‘ اور دیگر پادریوں کی حضورﷺ کے خلاف اشتعال انگیزی پر مسلمانوں میں گورنمٹ کے خلاف سخت غصہ پیدا ہوگیا تھا اسی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے میں نے بھی سخت زبان استعمال کی ہے (تریاق القلوب ص 10) مرزا نے انگریزوں کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور خود کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہونا تسلیم کیا ہے (تبلیغ رسالت جلد پانچ، ص 19) ملکہ وکٹوریہ کے خط میں مرزا نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے انگریز حکومت کی حمایت میں اتنی کتابیں لکھی ہیں کہ پچاس الماریاں بھر جائیں (مزید تفصیلات اس زمانے کے قادیانیوں کے اخبار الفضل میں دیکھی جاسکتی ہے)

آج کل مرزا کا پانچواں خلیفہ مرزا مسرور بھی لندن میں مقیم ہے، وہیں سے قادیانیوں کا ٹیلی ویژن چینل اور دیگر سرگرمیاں چل رہی ہیں، یہ لوگ کمزور ناخواندہ اور غریب مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانسنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، ہندوستان میں بھی اب ان کا سب سے بڑا سینٹر قادیان میں ہے جہاں سالانہ میلہ ہوتا ہے سارے ملک کے قادیانی شرکت کرتے ہیں، ان کا خلیفہ سیٹلائٹ کے ذریعے خطاب کرتا ہے، ممبئی میں بھی ان کا مشن قائم ہے، اسرائیل سے اس گروہ کے خصوصی تعلقات ہیں، اسرائیل میں قادیانیوں کا سب سے بڑا دفتر بھی قائم ہے۔ کھلے عام آمدورفت ہوتی رہتی ہے، وہاں سے ہر قسم کا تعاون بھی حاصل ہوتا رہتا ہے۔ آج کل قادیانی سرگرمیوں کی تفصیلات قادیان سے شائع ہونے والے اخبار ’’بدر‘‘ میں چھپتی رہتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close