ہِندو دھرم کیا ہے؟  (تیسری قسط)

تحریر: مولانا انیس احمد فلاحی مدنی… ترتیب:عبدالعزیز

ہندو دھرم کے مصادر:

                 ہندومت کی مقدس کتابیں نو ہیں: (۱) وید، (۲)اپنشد، (۳) پُران، (۴)مہابھارت، (۵)شریمد بھگوت گیتا، (۶)رامائن، (۷)یوگ واششٹھ، (۸)ویدانت، (۹)دھرم شاستر۔

                 (۱) وید: وید سنکسرت لفظ ہے جو ’’ود‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی جاننا، سوچنا، موجود ہونا، غور کرنا اور علم آتے ہیں۔ وہ تعلیمات جنھیں راہبوں اور سنیاسیوں نے دو ہزار قبل از میلاد کے طویل عرصہ میں اپنے شاگردوں کو قلمبند کرایا تھا ان کے مجموعہ کو وید کہتے ہیں۔ اس علمی تگ و تاز کے حاصل کو بھی وید کہتے ہیں جو ہندستان کے رہنے والے آریوں نے مختلف اطراف و جوانب سے دو ہزار قبل از میلاد کے طویل عرصے میں جمع کیا تھا۔

                (۲) مؤلف:ہندوؤں کے نزدیک اسے ’’منو‘‘ نام کے ایک شخص نے الہام کیا ہے اور ایک روایت کے بموجب قدیم رشیوں نے اپنے اعلیٰ روحانی مقامات کی بنا پر ان سچائیوں کو سن لیا تھا اور پھر ان کو الفاظ کا جامہ پہنا دیا۔ اسی لئے تمام ویدک ادب کو شرتی (سنا ہوا، الہامی) مانا گیا ہے اور یہ خدایا انسان کسی کا تصنیف کردہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس بعض ہندو مفکرین کا خیال ہے کہ وید مختلف سادھوؤں اور راہبوں کے افکار و خیالات کا مجموعہ ہے۔ لال بہاری ورما لکھتے ہیں: ’’وید کسی مخصوص کتاب کا نام نہیں ہے بلکہ وہ مختلف سادھوؤں کے افکار و خیالات کا مجموعہ ہے‘‘۔ پنڈت شری رام شرما کے نزدیک اس میں تین سادھوؤں کے افکار و خیالات درج ہیں۔

ویدوں کی تقسیم: ویدوں کی دو مشہور تقسیم یہ ہے ۔

                 (۱) زمانۂ تصنیف اور موضوع کے لحاظ سے وید کے چار حصے ہیں:

                [۱]  سمہتا: یعنی متن، یہ قدیم آریائی دیوی دیوتاؤں کی شان میں کہے گئے ہیں۔ یہ بھجنوں اور اس سے متعلق گیتوں کا مجموعہ ہے۔

                [۲]  براہمن: یعنی شرحیں، اس میں مذہبی رسومات، آدابِ زندگی، یگیہ اور ہون کے قاعدوں نیز ضابطوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

                [۳] آرنیکا: ارینہ کے جنگل کو کہتے ہیں۔ آرنیکا سے مراد و ہ کتابیں ہیں جو جنگل کی پرسکون فضا میں تصنیف کی گئیں۔ ان میں ظاہری اعمال کے مقصود اور روحانی مطالب کو اجاگر کرنے نیز ظاہر سے باطن کی طرف متوجہ ہونے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے اور قربانی کے بجائے فکر و مراقبہ پر کافی زور دیا گیا ہے۔

                [۴]  اپنشد: یعنی روحانی تعلیمات۔ اپنشدوں میں وحدۃ الوجود پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ انھیں ویدانت بھی کہتے ہیں کیونکہ یہاں پہنچ کر ویدوں میں بیان کی گئی تعلیمات اپنے آخری عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

                (۲) یگیہ اور ہون میں ویدک منتروں اور بھَجنوں کے مواقع استعمال کے لحاظ سے ویدک ادب کو چار ویدوں میں بانٹا گیا ہے۔ ان میں سے ہر وید کا پہلا حصہ ’’سمہتا‘‘، دو سرا ’’برہمن‘‘، تیسرا ’’آرنیکا‘‘ اور چوتھا ’’اپنشد‘‘ کہلاتا ہے۔ چاروں وید بالترتیب یہ ہیں:

                 [۱]رگ وید، [۲]سام وید، [۳]یجروید، [۴] اتھر وید۔

                رگ وید: اس کے لغوی معنی دعا اور تعریف کے آتے ہیں۔ مغربی محققین کے نزدیک یہ 1000 ق م سے 500 ق م کے درمیان کا تالیف کردہ ہے۔ رگ وید کے بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعض حصے افغانستان اور بلوچستان کے علاقے میں لکھے گئے ہیں اور بعض حصے بیاس اور سرسوتی کے درمیان کیونکہ ان میں جو موسم بیان کئے گئے ہیں وہ وہیں پائے جاتے ہیں۔ بعض حصوں میں پنجاب کے میدانوں اور دریاؤں کا ذکر ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ حصہ یہاں بھی لکھے گئے ہیں مگر یہ یقینی نہیں۔

                رگ وید میں دس اجزا (منڈل)، 64 ابواب (ادھیائے)، 1017 عناوین ابواب (سوکت) اور 10552 اشعار منتر ہیں۔

                رگ وید میں سب سے زیادہ اگنی (آگ کا دیوتا) کا ذکر آیا ہے، کیونکہ ویدوں کو جمع کرنے والے ’’وید ویاس‘‘ ایران کے مشہور مذہبی رہنما ’’زر تشت‘‘ کے ہم عصر تھے۔ زرتشت آتش پرست تھے۔ بعض تاریخی روایات کے بموجب ویدویاس ایران گئے تو وہاں زرتشت سے ملاقات کے دوران وہ مجوسی مذہب سے کافی متاثر ہوئے اور ویدوں میں زرتشت کی بیشتر تعلیمات درج کردیں۔ یہی وجہ ہے کہ رگ وید میں اگنی کا ذکر بار بار آیا ہے۔ اگنی کے علاوہ رگ وید میں 150 سے زائد دیوتاؤں کا تذکرہ پایا جاتا ہے جن میں مشہور درج ذیل ہیں۔

                اِندر (بجلی اور طوفان کا دیوتا)، سوریہ (سورج)، اوشا (صبح کا دیوتا)، گیان (علم کا دیوتا)، کام (شہوت کا دیوتا)، ورن (آسمان کا دیوتا)، وایو (ہوا کا دیوتا)۔ رگ وید کے منتر صبح و شام کی پوجا میں پڑھے جاتے ہیں نیز شادی کے موقع پر اور مردوں کے جسموں کے جلاتے وقت بھی اس کے منتروں کا جاپ کیا جاتا ہے۔

                (۲) یجر وید: یجر اور وید سے مرکب ہے۔یجر کے معنی ہیں یجن یعنی پوجا کرنا۔ یجر ان منتروں کو کہا جاتا ہے جن کے ذریعہ یگیہ (قربانی) کی جاتی ہے۔ اس وید میں قربانی کے قوانین اور طریقوں سے بحث کی گئی ہے۔ اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: [۱] شُکل یجروید، [۲] کرشن یجروید۔ آخری حصے میں الٰہیات کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔ حجم کے اعتبار سے یہ رگ وید کا ایک تہائی ہے۔

                (۳) سام وید: سام کے لفظی معنی امن و شانتی اور راحت کے آتے ہیں، لیکن یہاں اس کا مطلب شانتی نہ ہوکر گیت ہے۔ اس میں علم نغمات کی تفصیل ملتی ہے۔ ہندستانی موسیقی کے ساتوں نغموں کا ماخذ یہی کتاب ہے۔ یہ وید 810 اشعار پر مشتمل ہے جن میں 75 کے علاوہ بقیہ سبھی منتر رگ وید میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس میں 1549 منتر ہیں۔ اس وید کے منتر پوجا میں اور دیوتاؤں سے نصرت و مدد طلب کرتے وقت گائے جاتے ہیں، نیز ان قربانیوں کے موقع پر جن میں ’’سوم رس‘‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کے بعد بھجنوں کو پڑھنے کیلئے ایک پروہت مخصوص ہوتا ہے جس کو ’’ادگاتر‘‘ کہتے ہیں۔

                (۴) اتھر وید: اتھر اور وید سے مرکب ہے۔ اتھر کے معنی ہیں خوش حالی اور فلاح۔ اتھروکے معنی آگ اور اتھرون کے معنی پجاری کے ہوتے ہیں۔ اس وید میں پجاریوں کے ذریعہ آگ کی مدد سے خبیث اور شیاطین سے لوگوں کی مدد کرکے ان کی بھلائی اور خیر خواہی کا فریضہ انجام دینے کی تفصیل ہے۔ اس وید کے منتروں کو پڑھنے والے مخصوص  پروہت کو ’’ادھواریو‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں شیاطین کو بھگانے، خونخوار جانوروں اور درندوں سے محفوظ رہنے، تجارت اور جوئے میں فائدہ کے حصول نیز امن و راحت کو پانے کی دعائیں موجود ہیں۔ اسی لئے اتھروید کے معنی بعض لوگوں نے جادو ٹونا بھی بتایا ہے۔ اس کا انیسواں اور بیسواں باب رگ وید سے ماخوذ ہے او بقیہ ابواب کا طرز بیان تین ویدوں سے کافی مختلف ہے۔

                ویدوں کے طریقہ ہائے تفسیر: ویدوں کے مشہور تفسیری مسالک تین ہیں: (۱)ستام سایان کا طریقۂ تفسیر، (۲)ماکس ملّر کا طریقۂ تفسیر، (۳)دیا نند سرسوتی کا طریقۂ تفسیر۔

                (۱) سترام سایان کا طریقۂ تفسیر: اس مفسر کا تعلق عہد وسطیٰ یعنی مسلمانوں کے دور سے ہے۔ یہ ویدوں کے ان قدیم شارحین میں سے ہیں جنھوں نے اپنے زمانے میں رائج مذہبی رسوم و رواج کے زیر اثر ویدوں میں مذکورہ تلمیحات اور قصوں کو مہا بھارت کے اقتباسات کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک سترام کی تفسیر انتہائی مستند اور قابل اعتماد ہے۔ ماکس ملر کہتے ہیں: اگر سترام نے ویدوں کی تفسیر نہ کی ہوتی تو ہمارے لئے ویدوں کے اسرار و رموز کو سمجھنا مشکل ہوجاتا‘‘۔

                (۲) ماکس ملّر (Max Muller) کا طریقۂ تفسیر: ماکس ملّر جرمن کے رہنے والے تھے۔ آپ پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے مغربی طرز تحقیق کی روشنی میں ویدوں کو سمجھنے کی کوشش کی اور ویدوں کی تعلیمات سے یورپ والوں کو متعارف کرایا۔ اسی لئے ہندو آپ کی بڑی قدر کرتے ہیں اور آپ کو ’’موکش مولار‘‘ کے لقب سے نوازتے ہیں یعنی ماکس جس نے آواگون کے چکر سے نجات پالی۔

                (۳) دیا نند سرسوتی کا طریقۂ تفسیر: دیانند سرسوتی (1883-1824) انیسویں صدی کے ایک مشہور و معروف دینی مصلح گزرے ہیں۔ آپ نے ہندستان میں قدیم آریائی تہذیب کے غلبہ کی کوشش کی اور اس کیلئے 1857ء پنجاب میں آریہ سماج کی بنیاد رکھی جس کے اغراض و مقاصد میں سب سے خطرناک مقصد ’’شدھی‘‘ کی دعوت ہے۔ ’شدھی‘ کے معنی پاک کرنے کے آتے ہیں جس سے مراد ان کے نزدیک مسلمانوں کو دوبارہ ہندو دھرم میں واپس لانا ہے تاہ وہ پاک ہوجائیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے وہ شخص نجس ہوگیا ہے، لہٰذا دوبارہ ہندو بناکر اس کو پاک کرنا ضروری ہے۔

                دیا نند نے ویدوں میں مذکورہ تاریخی واقعات کا انکار کرتے ہوئے ان تمام ہندو رسموں کو مسترد کر دیا جو قدیم زمانہ سے ہندستان میں چلی آرہی تھیں۔ ویدوں میں مذکورہ دیوتاؤں کی انھوںنے یہ تاویل کی کہ در حقیقت یہ تمام نام خدائے واحد کے متعدد مظاہر قدرت کا اظہار ہے۔ آپ کی تفسیر استعارات، مجاز اور تشبیہات سے پُر ہے۔ آپ کی یہ تفسیر ہندو سماج میں قبول عام حاصل نہ کرسکی۔

                وید اور تحریف:

                 ہندوؤں کے نزدیک وید الہامی ہیں لیکن خود ویدوں میں پائی جانے والی داخلی شہادتوں اور قرائن سے وید میں تحریف کا ثبوت ملتا ہے۔

                (۱) منتروں کی تعداد میں اختلاف: سوامی دیا نند نے رگ وید آدی بھاشیا بھومکا ہندی کے صفحہ 86 پر لکھا ہے کہ اتھروید کا پہلا حصہ منتر ’’ارم شتودیوی‘‘ ہے۔ لیکھرام کے نزدیک بھی اس کا پہلا منتر ’ارم شتودیوی‘ ہی ہے جبکہ موجودہ وید کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ منتر چھبیسواں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے پچیس منتر بعد میں ملائے گئے ہیں۔

                یجروید مطبوعہ ممبئی میں 25  ادھیائے اور 47منتر ہیں جبکہ یجروید مطبوعہ اجمیر میں 48منتر ہیں۔ پنڈت بردے نرائن ایم۔ ایس۔ سی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

                ’’ستونکرشی دیو وغیرہ تصانیف میں وید منتروں اور ان کے لفظوں نیز حرفوں تک کی جو گنتی دی ہوئی ہے وہ موجودہ ویدوں میں نہیں ملتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں میں کئی منتر ملائے گئے ہیں اور نکالے گئے ہیں‘‘۔ (رسالہ گنگا، ص243، مطبوعہ جنوری 1931ئ)

                منتروں کی تعداد میں اختلاف کے ساتھ ساتھ خود ویدوں کی تعداد کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ پنڈت سانتی دیو شاستری لکھتے ہیں:

                ’’پہلے تو آج تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ وید چار ہیں یا تین۔ منوسمرتی اور شت پت براہمن کی رو سے رگ وید، یجروید اور سام وید، یہ تین وید ہیں اور منڈک اپنشد کی رو سے وید چار ہیں‘‘۔ (رسالہ گنگا، ص 432، فروری 1931ئ)

                (۲) سوکتوں کے آخر میں ان کے مؤلفین کی تصریح: وید کے ہر سوکت کے آخر میں اس کے مرتب کا نام موجود ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وید ان 414 رشیوں کا کلام ہے جن کے نام سوکتوں کے آخر میں پائے جاتے ہیں نیز خود وید کے بعض منتروں میں بھی رشیوں نے یہ صراحت کی ہے کہ منتروں کے خالق ہم ہیں۔ چند منتر ملاحظہ ہوں:

                [۱] ’’اے گھوڑے والے ہم تمہارے لئے نیا منتر بناتے ہیں‘‘۔ (رگ وید: 21-16-4)

                [۲] ’’ہم آسمانی باز کے مانند تیز رفتار اگنی کو مخاطب کرکے نیا منتر بناتے ہیں‘‘۔ (4-15-7)

                [۳] ’’تمہاری پرستش کیلئے جو نئے گیت بنائے گئے ہیں یہ منتر تمہیں خوش کریں‘‘۔ (6-61-7)

                [۴] ’’گوتم کی اولاد نے تیری ثنا اور تعریف میں یہ منتر بنائے ہیں‘‘۔ (9-63-1)

                [۵] ’’ہم قابل تعریف اگنی کیلئے اپنی عقل سے اس منتر کو بناتے ہیں، جیسے بڑھئی رتھ بناتا ہے‘‘۔ (1-95-1)

                (۳) ویدوں میںمتعدد ہندستانی راجاؤں کے دان کی تعریف: ویدوں میں متعدد ہندستانی راجاؤں کے دان کی تعریف کی گئی ہے جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ وید انسانی کلام ہیں یا ان میں انسانی کلام کا وافر حصہ شامل ہے۔ اس قبیل کا ایک منتر ملاحظہ ہو: ’’مجھ کو راجہ پورو اور راجہ یدو نے غلام اور سو گائیں دان میں دیں‘‘۔ (رگ وید:47-10)

                (۴) ویدوں میں انسانیت کش تعلیمات کا پایا جانا: ویدوں میں فحش باتوں اور متناقض منتروں کے ساتھ ساتھ ایسی تعلیمات بھی پائی جاتی ہیں جو غیر انسانی اور غیر اخلاقی ہیں۔ بطور نمونہ چند تعلیمات سطور ذیل میں پیش کی جارہی ہیں:

                ’’شودر کو نیک صلاح نہیں دینی چاہئے‘‘ (رگ وید:110-70-8)

                ’’نیچی ذات والا اگر اونچی ذات والے شخص کا پیشہ اختیار کرتا ہے تو راجہ اس کی دولت چھین کر اسے ملک بدر کر دے‘‘۔ (رگ وید:110-53-3)

                ’’لڑکی باپ کی جائداد کی وارث نہیں‘‘۔ (اتھر وید:1/17۔ یجروید:5/8)

                ’’اگر کسی عورت کے دس خاوند ہوں مگر اس کے بعد برہمن اس کا ہاتھ پکڑلے تو وہ برہمن کی ہوجاتی ہے، برہمن ہی خاوند ہے نہ چھتی اور نہ ویش۔ تمام لوگوں میں اس امر کا اعلان کرتا ہوا سورج روز چلتا ہے‘‘۔ (اتھر وید:9/27/5)

                ان تفصیلات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ وید غیر الہامی ہیں اور اگر الہامی رہے بھی ہوں تو ان میں انسانی کلام کا کافی حصہ پایا جاتا ہے۔ اس امر کا اعتراف خود ہندو مفکرین اور دانشوروں نے بھی کیا ہے۔

                پنڈت رادھا کرشنن لکھتے ہیں: ’’ویدوں کی تعلیم حقیقی معرفت خداوندی سے فروتر ہے اور ہمیں نجات نہیں بخش سکتی‘‘۔ (فلاسفی آف اپنشد:ص 25)

                پنڈت جواہر لال نہرو رقمطراز ہیں: ’’بہت سے ہندو ویدوں کو خدائی کتاب سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ہماری یہ بڑی بدقسمتی ہے کیونکہ اس طرح ان کی حقیقت ہم سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ وہ صرف اس زمانے کی معلومات کا مجموعہ ہے۔ یہ بہت سی چیزوں کا غیر مرئی خزینہ ہیں‘‘۔ (دیکھئے تلاش ہند: 142)

                پنڈت گنگا پرساد لکھتے ہیں: ’’وہ منتر (رگ وید مندل:8، منتر38) اتنا فحش ہے کہ معمولی سنسکرت جاننے والا بھی اسے پڑھنے کی ہمت نہ کرے۔ ابھی تو لوگ اس لئے پڑھ لیتے ہیں کہ نہ پڑھنے والا سمجھتا ہے نہ سننے والا، لیکن کیا آریہ سماج کی یہی حالت رکھنی ہے۔اس منتر کو نہ نکالا گیا تو اس کے خلاف یا تو شدید مخالفت ہوگی یا تو لوگ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھ کر چھوڑ دیا کریں گے‘‘۔                                             (جاری)

موبائل: 9831439068           azizabdul03@gmail.com

تبصرے بند ہیں۔