دعوت

دعوت دین کی اہمیت وضرورت

سرا ج احمد برکت اللہ فلاحی
امت مسلمہ کا مقصد وجود: دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے۔یہ امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ علماء اور امت کے باشعور طبقہ پر بالخصوص فرض ہے کہ وہ دعوتِ دین کاکام انجام دیں۔ تبلیغِ دین کامشن ہرزمانے میں جاری رہا ہے اور موجودہ حالات میں بھی اس کی اتنی ہی ضرورت ہے۔نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے امتی کے مشن کو بیان کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ أَدْعُوْآ اِلَی اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَ مَآ أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔
(یوسف:108)

(اے نبی) آپ کہہ دیجیے یہ میرا راستہ ہے ،میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ ،میں اور میرے ساتھی بھی۔ اللہ پاک ہے اورشرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔
یہی امت کا اصل مشن ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ امت مسلمہ میں ہر دور میں کم از کم ایک ایسی جماعت کا وجود ضروری ہے جو عام لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اُمَّۃٌ یَدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُوْلٰءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔
(آل عمران: 104)

تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہونے چاہیے جونیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔
معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اندر ضرور بالضرورایک ایسی جماعت ہونی ہی چاہیے جو لوگوں کو خیروبھلائی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے ۔ عربی قواعد کی رو سے اس حکم میں تاکید درتاکید ہے ۔ نیز اس آیت کے سیاق میں علماء نے صراحت کی ہے کہ اہل کتاب کا ذکرکرنے کے بعد پہلے تو امت کو ہدایت دی گئی تقویٰ ، ایمان باللہ اورایک ساتھ متحد ہوکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی اور اختلاف وتفرقہ سے دور رہنے کی ۔آگے اس آیت میں امت کو خارج کا پروگرام دیا گیاہے کہ وہ دوسرے لوگوں کواسلام کی دعوت دیں اور اللہ کی بندگی واطاعت کی طرف انہیں بلائیں۔
ٍ قرآن مجید کی متعدد آیات میں نبی ﷺ کو صریح الفاظ میں دعوتِ دین کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسے النحل:125،آل عمران:64، المائدہ:67، الحج:67،اور القصص:87 میں یہ حکم موجود ہے ۔ ان آیات کے مخاطبِ اصلی تو خود نبیﷺ ہیں لیکن یہ احکام سارے ہی مسلمانوں سے متعلق ہیں۔ نبی ﷺ کے واسطے سے یہ پیغام پوری امت کو دیا جارہا ہے۔ فرداً فرداً سارے ہی مسلمان ان احکامِ قرآن کے مخاطب ہیں اور ان کا فرض بنتا ہے کہ اللہ کی طرف بلانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اس دعوت کو لے کر پوری دنیا پر چھاجائیں۔عام مسلمان ان احکام کی ادائی میں غفلت کے شکار ہوجائیں توبات کسی حد تک سمجھ میں آسکتی ہے اور ان کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا ہے ۔لیکن وارثین انبیاء بھی اس مشن کو بھلا دیں اور دعوت دین کا کام سرے سے ترک کردیں،کسی طرح قبول نہیں کیا جاسکتا۔
دعوت دین یعنی غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینا شہادتِ حق بھی ہے، اللہ کا واضح فرمان موجود ہے:
وَکَذَٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃَ وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا۔(البقرۃ:143)

اوراسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’’امت وسط‘‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو ۔
’’لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ‘‘اس امت کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کے لوگوں پر حق کی گواہ ہو۔ یعنی جس طرح رسول اکرمﷺ نے اپنے قول و فعل سے پوری زندگی حق کی گواہی دی اور اس کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اب امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کے لیے حق کی زندہ شہادت ہواور اس دین حق کا عملی ثبوت فراہم کرے۔امت مسلمہ کو دیکھ کر دنیا کو یہ معلوم ہوناچاہئے کہ اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کی زندگی کا مقصد کیاہے؟ اور انسانیت کے لیے حقیقی راہِ نجات کیاہے؟ اس گواہی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جس طرح نبی مکرمﷺ نے تبلیغ دین کا حق ادا کیا ، پوری زندگی اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچاتے رہے اسی طرح اس کا حق ادا کیا جائے اور پوری زندگی اس مشن کوزندہ اور قائم رکھاجائے۔
اس آیت کی شرح وتفسیر میں مفسرین کی یہ صراحت ملتی ہے کہ ہم مسلمانوں کوروزمحشر اللہ کی عدالت میں اس بات کی شہادت دینی ہوگی کہ اے اللہ تیرے رسولﷺ کے ذریعہ ہم کوجو ہدایت ملی تھی، ہم مسلمانوں نے اسے تیرے عام بندوں تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اے اللہ! ترے آخری نبی جناب محمد رسول اللہ ﷺکے واسطہ سے ہم کوجو دینِ حق ملا تھا، ہم نے اسے من وعن پوری دنیا تک پہنچادیا اور اسے قبول کرنے کی عام دعوت دی۔ظاہر ہے اس دنیا میں اگر ہم نے دعوت دین کاکام نہیں کیا اور اللہ کے بندوں تک دین حق کاپیغام لے کرنہیں پہنچے اور ان کو قبول اسلام کی دعوت نہیں دی تو آخرت میں اللہ کے دربار میں یہ گواہی ہم کیسے دے سکیں گے ؟جس کا اس آیت مبارکہ میں مطالبہ ہے اور جس گواہی کے لیے بہر حال پیش ہونا ہے۔
آخری خطبہ میں آپﷺ نے پورے مجمعِ عام سے گواہی بھی لی کہ تم سب اس بات کے گواہ رہنا کہ مجھ پر تبلیغ دین کی جو ذمہ داری تھی، میں نے اسے ادا کردیا ہے۔ اسی طرح آج دنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی یہ ذمہ داری ہم مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔غور کیجیے! کیا امت مسلمہ پوری دنیا کو مخاطب کرکے کہہ سکتی ہے کہ اے دنیا والو!تم سب گواہ رہنا کہ اللہ تعالی نے بحیثیت امت مسلمہ ہم پرتبلیغ دین کی جو ذمہ داری ڈالی تھی، وہ ذمہ داری ہم نے ادا کردی ہے۔ پوری دنیاتو کیا ہم اپنی بستی یا قرب وجوار کے غیر مسلم باشندوں کو مخاطب کرکے بھی ایسا نہیں کہہ سکتے ،کیوں کہ ہم نے مطلوبہ انداز میں ان تک دین کی بات پہنچائی ہی نہیں ہے۔
دوسری آیت جس میں امت مسلمہ کا مقصد وجود بتایا گیا ہے۔ وہ قرآن مجید کی تیسری سورہ آل عمران کی آیت نمبر110 ہے ۔ اللہ کا ارشاد ہے:
کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُوؤمِنُوْنَ بِاللّٰہِ۔(آل عمران:110)

(اب دنیا میں )وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں( کی ہدایت واصلاح )کے لیے میدان میں لایاگیا ہے ۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
اس آیت سے امت وسط کی مزید تشریح ہوتی ہے ۔امت وسط کا صاف مطلب ہے خیر امت یعنی سب سے اچھی وبہتر اور اشرف واعلیٰ جماعت۔ آج امت مسلمہ کو وہی حیثیت حاصل ہے جو پہلے بنی اسرائیل کو حاصل تھی۔ جس کا بیان مختلف اسالیب میں متعدد بار قرآن مجید میں آیا ہے۔ اس خیر امت کو اللہ نے دنیاکے جملہ انسانوں کی ہدایت ورہ نمائی کے لیے برپا کیا ہے۔ا س کا دائرہ عمل پوری دنیا ہے اور اس کی مخاطب پوری انسانیت یعنی دنیا میں بسنے والے سارے انسان ہیں۔ آخر ’’ اُخْرِجَتْ لِلنَّاس‘‘کیوں کہا گیا ہے؟ خیر امت کو برپا کیا گیا ہے معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے کے لیے ۔ یہ معروف کیا ہے؟ اورمنکر کسے کہتے ہیں؟ اس کی وضاحت اور لغوی وشرعی مفہوم بھی اس سے قبل کی آیت جس کا حوالہ دیا گیاہے، اسی سے ہوتی ہے۔ یعنی امت مسلمہ کے ذمہ ٹھیک وہی فرائض ہیں، جو نبی پاک ﷺ اور دیگر انبیاء کا فرض منصبی تھا۔ یعنی جس کارعظیم کے لیے نبی ﷺ کی بعثت ہوئی تھی بعینہ وہی مقاصد ہیں، جن کی انجام دہی کے لیے امت مسلمہ کو برپا کیا گیا ہے۔ بتلانا مقصود یہ ہے کہ امر بالمعروف ،نہی عن المنکر اور ایمان باللہ کارنبوت کی ایک قرآنی تعبیر وتوضیح ہے۔
دعوت دین دنیا کا سب سے عمدہ کام: اس دنیا کی سب سے بڑی سچائی اسلام ہے اور یہی نجات کا واحد راستہ ہے ۔ اس کی طرف لوگوں کو بلانا ،سب سے بڑی نیکی ہے۔ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت اللہ کا وجود ہے۔توحید کا پیغام عام کرنے اور انسانیت کو بندگئی رب کی دعوت دینا ہی سب سے بہتر کام ہے۔ ظاہر ہے جو لوگ اسلام کی دعوت دیں گے ان کی پہلی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس پر عمل کریں۔ نیک بنیں اور اپنے اعمال وکردار سے اس سچائی کو ثابت کریں ۔ قرآن مجید میں ایک جگہ اسی بات کو بڑے خوب صورت انداز میں کہا گیا ہے:
وَمَنْ اأحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔(حم السجدۃ:33)

اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا میں مسلمان ہوں۔
نبی اکرمﷺ کی احادیث میں کارِدعوت کے فضائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ فتح خیبر کے موقع سے جب آپﷺ نے آخری دن جھنڈا حضرت علیؓ کودیا تو ان سے فرمایا:پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینااور اے علیؓ !تمہارے ذریعہ اگرایک بھی شخص اسلام قبول کرلے تویہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں کے حصول سے بھی بہتر ہے۔(اللوء لوء والمرجان ج2ص192،حدیث:1557)
انبیائی مشن کے وارثین: انسانوں کی ہدایت ورہ نمائی کے لیے اللہ تعالی نے انبیاء کو مبعوث فرمایا ۔ اللہ کے ان برگزیدہ بندوں نے انسانوں کی رہ نمائی کی، ان کو مقصدِ زندگی سے آگاہ کیا ، خدا کی بندگی کاصحیح طریقہ بتایا ، زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا اور اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ معاملات ومعاشرت کے آداب سکھائے اور ان کی وحدت واجتماعیت قائم کی، دنیا اور اس کی نعمتوں کو برتنے کے اصول سکھائے، اللہ کے آخری رسول جناب محمدﷺ پر نبوت وہدایت کا یہ زریں سلسلہ ختم ہوگیا۔ اب انسانوں کی ہدایت ورہ نمائی کے لیے کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ اللہ کا ارشاد ہے:
مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ (الاحزاب:40)

(لوگو!)محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ،مگر وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔
متعدد احادیث میں نبی ﷺ نے بھی اس کی وضاحت کردی ہے کہ میں آخری نبی ہوں، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کسی نے نبوت کا دعوی کیا تو جان لینا کہ وہ شخص جھوٹااور کذاب ہے۔
جن مقاصد کے پیشِ نظر انبیاء ورسل بھیجے جاتے تھے اور تبلیغ دین، احقاق حق و ابطال باطل، شہادت حق ،اقامت دین، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جو ذمہ داریاں ان پر ڈالی جاتی تھیں ، اب وہ جملہ ذمہ داریاں امت مسلمہ کو انجام دینی ہیں۔ یعنی انسانوں کی ہدایت ورہ نمائی اور تبلیغ دین کا فریضہ اب امت مسلمہ کو انجام دینا ہوگا۔آخری نبیﷺ کی امت ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری تمام مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔البتہ علمائے امت جن کو نبیﷺنے باقاعدہ وارث بتایا ہے۔یہ علماء نبیﷺ کے علم وحکمت اور فہم دین وشریعت کے وارث ہیں اورامت مسلمہ کے اندر ان کا خاص مقام ہے۔(ابوداود، کتاب العلم ج 2 ص513) ظاہر ہے اعزازواکرام اور مقام ومرتبہ کے ساتھ جو ذمہ داریاں نبی ﷺکی تھیں، وہی ذمہ داریاں ان وارثین پربھی عائد ہوں گی اورا ن کی اصل ذمہ داری ہوگی کہ نبیﷺ کے مشن کو آگے بڑھائیں، اللہ کے دین سے غافل بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں اور ان کو اسلام کی دعوت دیں۔
اسلام دین فطرت بھی ہے: یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی بعض ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے انسانیت ہمیشہ اس کی طرف لپکتی رہی ہے۔ اس کے دامن میں پناہ لیتی رہی ہے۔اسے اختیار کرنے میں عافیت محسوس کرتی رہی ہے۔ اس ضمن میں اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسلام دین فطرت ہے ۔
فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَالَاتَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذَالِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ۔(الروم:30)

یکسو ہوکر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو ،قائم ہوجاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی۔ یہی بالکل درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
لوگوں کے دلوں میں اسلام کی پیاس موجودہے کیوں کہ جو حلقۂ اسلام سے باہر ہیں ان کو مسلسل اپنی فطرت سے جنگ کرنی پڑتی ہے۔ کوئی عجب نہیں کہ ان کو مسلسل تصادم سے نجات کا موقعہ ملے تو وہ فوراً اس بے اطمینانی کے ماحول سے باہرنکل آئیں۔
اسلام میں عدل وانصاف ہے،عزت واحترام ہے،انسانوں کی ہرطرح کی ضروریات کی رعایت ہے۔ہر شخص صرف اپنے ہی اعمال کا جواب دہ ہے اورکسی پر اس کی طاقت وقوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے۔ اس کے عقائد بہت ہی شفاف اور عقل وفہم میں آنے والے ہیں۔ عبادات سے لے کر معاشرت ومعاملات بلکہ زندگی کے ہر میدان کے لیے مفصل ہدایات ہیں۔اس کی مذہبی کتاب وحی الہی پر مبنی ہے اور ہمیشہ کے لیے خردبرد سے محفوظ ہے۔ اس کی دیگر تعلیمات کا بھی پورا ذخیرہ مستند تاریخی روایات پر مشتمل ہے اورصدیوں کی تاریخ ان احکام وتعلیمات کا عملی ثبوت ہے۔
اسلام کی یہ بعض ایسی خوبیاں ہیں جو کسی بھی حقیقت پسند آدمی کو ایمان لانے پر مجبور کردیتی ہیں۔اگر ان خوبیوں کو کسی غیر مسلم یا مشرک کے سامنے بیان کیا جائے تو کم ازکم وہ ان چیزوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتااور ظاہر ہے یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے جسے کوئی حقیقت پسند دل تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
بعض غلط فہمیاں اور ان کا ازالہ: بہت سے مسلمان اب بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ اللہ صرف ہمارا معبود ہے ، قرآن مجید صرف ہماری کتاب ہے اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ صرف ہم مسلمانوں کے نبی اور رسول ہیں ۔یہ بہت بڑی غلط فہمیاں ہے ۔
1۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام صرف مسلمانوں کا دین نہیں ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کا دین ہے اور اس دین کو اپنانے والے مسلمان کہلاتے ہیں۔دنیا کا ہر انسان اس کا مخاطب ہے۔ اس لیے ہمارا فرض ہے کہ غیر مسلم بھائیوں کو اس دین سے متعارف کرائیں اور ان کو اسے اختیار کرنے کی دعوت دیں۔
2۔ قرآن مجید جملہ انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیاگیاہے۔اللہ کی یہ آخری کتاب انسانوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے مطالعہ کے بغیر مقصدِوجود،خالق ومخلوق کا تعلق، عبد ومعبود کی حقیقت،طریق بندگی،مالک حقیقی کی مرضی ومشیت اور زندگی گزارنے کا سیدھا اور سچا راستہ معلوم نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس لیے اس کی تعلیمات واحکام کوتمام انسانوں کے سامنے پیش کرنا ہوگا، اس کے احکام پر عمل کرکے دکھانا ہوگا اور اس پر ایمان لانے کی عام دعوت دینی ہوگی۔
3۔ نبی اکرمﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپﷺ کی بعثت پوری دنیا والوں کے لیے عام ہے۔ نجات وکامیابی کے لیے اس آخری نبیﷺ پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت کرنا ہر شخص کے لیے لازمی ہے خواہ وہ کسی دین دھرم کا ماننے والاہو۔اس لیے ہمارا فرض بنتا ہے کہ دنیا کے سارے انسانوں کونبی ﷺکی اس حیثیت سے آگاہ کرائیں،ان تک آپﷺکا پیغام پہنچائیں ،آپ ﷺکی تعلیمات اور اسوۂ زندگی سے ان کو باخبر کرائیں اور جس طرح نبی پاک ﷺ نے ہزاروں لاکھوں غیر مسلموں اور مشرکوں کودوزخ سے نجات دلائی ہے، ہم بھی اس کی کوشش کریں۔
دعوتِ دین اورملکی حالات: جہاں تک ملک کے حالات کی بات ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ اس وقت باشندگان ملک میں ایک عجیب کیفیت پائی جارہی ہے۔ لوگ حق کی تلاش میں ہیں اور سچائی کے پیاسے ہیں۔یہاں تبدیلئ مذہب کے واقعات ہرروز پیش آرہے ہیں۔ جملہ مذہبی تنظیمیں اور جدیدافکار وخیالات کی حامل متعدد جماعتیں آج ملک میں اپنے دین یا افکار وخیالات کی اشاعت وفروغ میں لگی ہوئی ہیں ۔یہ کا م بڑی سرگرمی کے ساتھ انجام دیاجارہا ہے۔چوں کہ یہا ں کے عوام بہت سادہ ذہن رکھتے ہیں،حق پسند ہیں۔ نیزمذہب ودین کے حوالے سے یہاں بڑی جہالت پائی جارہی ہے۔اوہام وخرافات اورخودساختہ رسم ورواج سے یہ قوم عاجز آچکی ہے۔ اس لیے عوام کو جو سمجھ میں آتا ہے یا ان کے پاس جو پہلے پہونچتا ہے اس کی بات کو وہ عموماً تسلیم کرلیتے ہیں۔
ہمارے لیے یہ بہت اچھا موقع ہے کہ بنا بنایا ماحول ہے ۔ملک میں تبدیلئ مذہب کی آزادی ہے۔ نیا دین قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور نہ ہی اسے کوئی جرم سمجھا جارہا ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ سرگرمی کے ساتھ ہم دعوت کے میدان میں آگے بڑھیں ۔ مخاطب کے ذہن وخیالا ت ،رسم ورواج، اوہام وخرافات اور دین ودھرم کے تعلق سے ان کی سوچ کا مطالعہ کریں اور پوری تیاری کے ساتھ ان سے ملیں۔ ان کے سامنے دین حق کا تعارف کرائیں اور دین اسلام کی کھلے عام بلاخوف وخطر ان کودعوت دیں۔
یاد رہے اگر ہم اس میدان میں آگے نہ بڑھے تو اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ پورا کاپورا ملک عیسائی ہوجائے گا کیوں کہ بڑی تیزی کے ساتھ دن رات ایک کرکے عیسائی مبلغین گاؤں گاؤں پہونچ رہے ہیں۔ طبی ورفاہی خدمات کا سہارا لے کر بہت تیزی کے ساتھ عیسائیت کا پرچار کررہے ہیں۔
ایک اہم بات جو ذہن میں رکھنی چاہیے و ہ یہ کہ دعوتِ دین کے ذریعہ ہی خود مسلمانوں کی بھی اصلاح ہوگی اور وہ دین کے پابند ہوسکیں گے۔دوسری طرف برادران وطن کو صحیح سے اسلام سمجھنے کا موقع ملے گا، غلط فہمیاں دور ہوں گی، مسلمانوں کی صحیح پوزیشن ان کے سامنے آسکے گی اور روزِ قیامت ہم اللہ کی پکڑ سے بچ سکیں گے اور اگر اللہ کے کرم سے لوگوں کو قبول اسلام کی توفیق بھی ملتی رہی تو بہت جلد ملک کا ماحول بدل جائے گا۔ اس طرح انسانیت خود انسانوں کے ظلم وجور سے نجات پاکر اسلام کے سایۂ امن وعدل میں آسکے گی۔

مزید دکھائیں

سرا ج احمد برکت اللہ فلاحی

مضمون نگار سہ ماہی پیغام کے سب اڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Close