دعوت

دعوت کے طریقہ کار میں شدت پسندی

ابراہیم جمال بٹ
آج کل دعوت کے طریقہ کار میں خواہ مخواہ شدت پسندی پائی جارہی ہے ۔شاید یہ جملہ آپ کو عجیب سالگے کیوں کہ ہمارے ہاں عموماً صرف مذہبی انتہا پسندی کو ہی شدت پسندی سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اسلام کے نام لیواؤں کی اکثریت دو متضاد سوچ رکھنے والے گروہوں پر مشتمل ہے اور دونوں ہی انتہا پسندی کے شکار ہیں۔ چونکہ یہ دونوں طبقے دین اسلام کو خود پڑھ اور سمجھ کر اپنانے کی پالیسی نہیں اپناتے لہٰذا دونوں ہی شدت پسندسوچ کا شکار نظر آتے ہیں۔
ایک طرف وہ طبقہ ہے جس کی اکثریت جدید دنیاوی تعلیم سے آراستہ نہیں اور وہ اسے مغربیت سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ طبقہ اسلام کے راگ تو الاپتا ہے لیکن اسلامی تعلیمات کے بارے میں کچھ خاص علم نہیں رکھتا بلکہ اپنے اپنے گروہ یا مکتب فکر کی انگلی پکڑے بھیڑوں کے ریوڑ کی سی زندگی گزارتا ہے۔ ان میں سے کچھ اپنی ہر بات منوانے کے لئے شدت کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔ بد قسمتی سے ایسے مذہبی انتہا پرستوں کے لیے ہر مسئلے کا جواب بلا کسی حکمت شدت پسندی کی راہ اختیار کرتے ہوئے بات کو سامنے رکھنا بن گیا ہے، موقع ومحل نہ تو دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ جس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ جس شخص سے بات کی جاتی ہے وہ ایک ہی وقت میں ہماری بے حکمت و بے ترتیب زبانی گولی کا شکار ہو کر ڈھیر ہو جاتا ہے۔چنانچہ اسی طرز عمل کو اختیار کرنے والوں کے بارے میں کئی علما فرماتے ہیں :’’ جو دعوت بے حکمت اور شدت پسندی سے دی جائے اس کے نتائج الٹے ظاہر ہو جاتے ہیں اور جہاں دعوت کے میٹھے پھل نکلنے چاہیے وہاں ان کی اپنی سوچ کی وجہ سے میٹھے پھلوں کے بجائے کانٹے ہی کانٹے نظر آتے ہیں، اگرچہ دعوت کی راہ کانٹوں سے بھری پڑی ہوتی ہے لیکن کوئی کانٹوں کو خود ہی دعوت دے اور پھر کانٹوں کو آزمائش کہے اس سے بڑھ کر نیم حکیم کوئی نہیں ہو سکتا۔‘‘
چنانچہ آج اگر سوشل میڈیا پر بھی جہاں ہمیں اپنی فرینڈ لسٹ(دوستوں کی فہرست) میں موجود لوگوں کی ذاتی زندگی کی خبروں اور تصاویر سے محظوظ ہونے کا موقع ملتا ہے وہیں پر بہت سے لوگ ہمیں مختلف مذہبی ایشوز پر آپس میں لڑتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ اگر ایک شخص اپنے عالم کی تعریف میں کوئی بات شیئر کرے تو ایک دوسرے طبقہ سے وابستہ شخص فوراً اس کے خلاف فتووں کے انبار لگا دے گا اور کچھ ایسا ہی حال دوسری جانب بھی ہے۔ ہمیں اس فرقہ پرستی سے بلاتر ہو کر سوچنے اور دین کو خود سمجھنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ حقیقت یہی ہے کہ یہاں اکثر فرقے اور جو جماعتیں ہیں وہ صرف اپنے اپنے علما ء کی تقلید میں نہ صرف ایک دوسرے کو دن رات نوچتے ہیں بلکہ اس اندھی تقلید میں یہ تمام فرقے بہت سے خلاف قرآن و حدیث عقائد کو بھی اسلام کا حصہ مانتے اور دین میں ایجاد کردہ نئی نئی رسوم پر چلتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تو کافر تک بھی مانتے ہیں لیکن بہت سے معاملات میں ان کی ایک دوسرے سے نفرت کی انتہا کا یہ عالم ہے کہ ایک دوسرے کو حق کی دعوت دینے کے بجائے واجب القتل بھی قرار دیتے ہیں جس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم دن ورات ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں مصروف ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اگر ہم اپنے کلمہ گو بھائی کے حقیقی ہمدرد ہیں تو ہمیں اسے پیار محبت اور اخلاص سے حق کی دعوت دینی چاہئے اور اسکے جواب میں اگر وہ غصہ بھی دکھائے تو برا نہیں ماننا چاہیئے اور سورۃ العصر کے پیغام پر عمل کرتے ہوئے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے ۔ لیکن یہ سب تو تب ہو جب مسلمانوں کے یہ شدت پسند گروہ اور جماعتیں اس بات کو سمجھ پاتے، چونکہ سارا معاشرہ ہی فرقہ فرقہ بنا پڑا ہے لہٰذا کوئی بھی محبت اور رواداری کا ثبوت نہیں دیتا۔الا ماشاء اللہ۔
اس مذہبی کم علمی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدت پسند رویے نے ایک عام انسان کو دین اسلام سے مکمل طور پر متنفر کر دیا ہے۔ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کا نام تو لیتے ہیں لیکن یہ اسے محض ایک مذہب سمجھتے ہیں ، اسے ایک دین یعنی ایک مکمل نظام حیات کے طور پر نہیں دیکھتے۔ یہ لوگ دین کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے لہٰذا یہ شدت پسندانہ رویے کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ شاید یہی اسلام ہے اور نتیجتاً یہ اسلام یا اسلامی نظام کے حوالے سے شرمساری کا شکار بھی نظر آتے ہیں۔یہ اپنے بچوں کو اچھے اور مہنگے سکولوں اور کالجوں میں پڑھاتے ہیں لیکن دین کی ’’الف ب ‘‘بھی انہیں سکھائی نہیں جاتی۔ بس مولوی سے قرآن پڑھوا دیا اور بس، رمضان آیا تو روزے رکھ لیے بس، یہی مذہب ہے۔ لیکن اگر بچہ دین کی طرف ’’ضرورت‘‘ سے زیادہ توجہ دینے لگے، مذہبی باتیں کرے یا پھر داڑھی و حجاب کی طرف مائل ہو جائے تو ان کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں کہ یہ کیا ہوگیا اور کیوں ہو گیا۔۔۔؟ کیونکہ ان کے نزدیک مذہبی رحجان ہونے کا مطلب ہے شدت پسندی۔ اگر وہ اسلامی شعائر اختیار کریں تو انہیں ’’کٹر پنتھی ‘‘ کی لیبل چسپاں کی جاتی ہے اور بدقسمتی سے یہی طبقہ پھر ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم عہدوں پر فائز ہوتاہے۔جس کی وجہ سے وہاں نہ ہی امانت داری ملتی ہے اور نہ ہی کسی کو کسی انصاف کا موقعہ ملتا ہے۔ اس سب کو نامنہاد دین میں شدت پسندی اختیار کرنے کو مورد الزام ٹھہرایا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔اگر دیکھا جائے تو یہ صورتحال پہلے بھیانک ہے۔ کیونکہ جس نے دین کو ذاتی عبادات کے علاوہ دوسری ہر چیز سے باہر نکال کر مکمل لادینیت کو اپنا لیا ہے کہ ان کے نزدیک دین صرف اتنا ہی ہے جتنا انہوں نے سمجھا اور جس طرح انہوں نے سمجھا لہٰذا ان میں سے ہر کسی کا اپنا اپنا اسلام ہوتا ہے جس پر یہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ یعنی چاہا تو سود پر گھر بنا لیا اور اسے مجبوری سے تعبیر کرلیا کیونکہ یہ دین کو اس کی اصل کے مطابق نہیں بلکہ اپنی مرضی پر چلاتے ہیں یعنی ہم دین کے لیے اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے بلکہ دین کو اپنے لیے جیسے چاہیں گے بدل لیں گے۔ اسی لیے ان کی اکثریت کا زور اپنی ذاتی عبادت اور جنت کمانے پر ہوتا ہے۔اسی طرح جب بات نظام کی تبدیلی کی ہو تو یہ لوگ ہمیشہ دین اسلام کو نظر انداز کرکے لادین اصولوں اور ضابطوں کے تحت اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ یعنی جو جیسا چاہے اسلام اپنائے لیکن اسے اپنے گھر کی چاردیواری تک ہی رکھے کسی اور پر اس سب کو مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے کہ اس سے لڑائی ہوتی ہے۔
ظاہر ہے کہ دو قطعی مخالف سوچوں کی اس لڑائی نے ملت میں ہر طرف آگ لگائی ہوئی ہے جس کا نتیجہ ہر کوئی بھگت رہا ہے۔ ہمیں ایک بات سمجھ لینی ہوگی کہ مسائل کا حل ہمیشہ مسائل کی درست نشاندہی سے شروع ہوتی ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے تو ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ دعوت چاہے کسی بھی چیز کی جانب ہو، جب تک اس میں حکمت وموعظت کا خیال نہ رکھا جائے گا تب تک یہ بے جا شدت پسندی اختیار کرنا الٹا دعوت کی راہ کو تنگ کرنے کے برابر ہے۔ اگر ہم اپنے کلام میں شیرینی نہیں پاتے تو ہمیں اس دعوت کے کارخیر میں نہیں اترنا چاہیے بلکہ یا تو خاموشی اختیار کرنی چاہیے یا ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہیے جو ان صفات سے مذین ہوں۔ چنانچہ ایک عالم دین فرماتے ہیں:
’’مخالفین خواہ کیسی ہی ناگوار باتیں کر یں داعی کو بہرحال نہ تو کوئی بات خلافِ حق زبان سے نکالنی چاہیے، اور نہ غصے میں آپے سے باہر ہو کر بیہودگی کا جواب بیہودگی سے دینا چاہیے۔ انہیں ٹھنڈے دل سے بنا کسی شدت پسندی کے وہی بات کہنی چاہیے جو جچی تلی ہو، برحق ہو، اور ان کی دعوت کے وقار کے مطابق ہو۔‘‘
دعوت ایک فطری عمل ہے اور اس میں غیر فطری طریقہ اختیار کرنے کا مطلب ہے کہ ’’فساد‘‘۔ خدا بزرگ وبرتر نے جو چیز جس کام کے لیے بنائی اس کا طریقہ بھی سکھایا، اگر انسان خدا کے طریقے کو چھوڑ کر اپنا من پسند طریقہ چاہے وہ شدت کا طریقہ ہی کیوں نہ ہو اختیار کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے نتائج بھی اُلٹے ظاہر ہوں گے۔ کیوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے تو ایک وسیع تر مفہوم کے مطابق اسے ہی ’’فساد‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ اگر دیکھا جائے تو ’’انسانی زندگی کا آغاز صلاح سے ہوا ہے اور بعد میں اس درست نظام کو غلط کار انسان اپنی حماقتوں اور شرارتوں سے خراب کرتے رہے ہیں۔ اسی فساد کو مٹانے اور نظامِ حیات کو از سرِ نو درست کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبر بھیجتا رہا ہے اور انہوں نے ہر زمانے میں انسان کو یہ دعوت دی ہے کہ زمین کا انتظام جس صلاح پر قائم کیا گیا تھا اس میں فساد برپا کرنے سے باز آؤ۔‘‘
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو داعیان دین سے وابستہ اشخاص میں ایک اہم چیز حکمت وموعظت حسنہ کا اخلاقی ہنر ہونا چاہیے۔ یہ صفات اگر نہ ہوں تو جس صحیح کام کے ارادے سے وہ کام کرنا چاہتا ہے اس سے وہ نتائج نہیں نکلیں گے جو موثر ثابت ہوں۔داعیان حق کی کامیابی کا گُر یہ بھی ہے کہ آدمی فلسفہ طرازی اور دقیقہ سنجی کے بجائے لوگوں کو معروف یعنی ان سیدھی اور صاف بھلائیوں کی تلقین کرے جنہیں بالعموم سارے ہی انسان بھلا جانتے ہیں یا جن کی بھلائی کو سمجھنے کے لیے وہ عقلِ عام کافی ہوتی ہے جوہر انسان کو حاصل ہے۔ چنانچہ دعوت کے کام میں جہاں یہ بات ضروری ہے کہ طالبین خیر کو معروف کی تلقین کی جائے وہاں یہ بات بھی اتنی ہی ضروری ہے کہ جاہلوں سے نہ الجھا جائے خواہ وہ الجھنے اور الجھانے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ داعی کو اس معاملہ میں سخت محتاط ہونا چاہیے کہ اس کا خطاب صرف ان لوگوں سے رہے جو معقولیت کے ساتھ بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہوں۔بلا کسی شدت اور جہالت کے داعی کو معقول انداز میں یا تو ددعوت پیش کرنی چاہیے یا اگر سامنے جاہلیت پائے تو ان سے الجھے بغیر فی الخال پرہیز ہی کیا جائے۔ اسی دعوت کے بارے میں سید مودودیؒ ایک جگہ رقمطراز ہیں:
’’دعوت معقول دلائل کے ساتھ، مہذب وشائستہ زبان میں، اور افہام وتفہیم کی اسپرٹ میں ہونی چاہیے تاکہ جس شخص کو دعوت دی جا رہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہو سکے۔ دعوت دینے والے کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اتار دے اور اسے راہ راست پر لائے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مد مقابل کو نیچا دکھانا ہوتاہے۔ بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گری کرنی چاہیے جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھتا ہے کہ اس کی اپنی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ بڑھ نہ جائے اور اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفا یاب ہو جائے۔‘‘
یہی جذبہ لیکر اگر داعی دعوت کے میدان میں اتر جائے تو اس کے کام کا پھل انشاء اللہ ضرور حاصل ہو گا اور اگر جہالت، شدت پسندی اور غیر حکیمانہ طور طریقے سے لوگوں کو اپنی بات تھوپنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج الٹے نکلیں گے، جس کہ ساری تر ذمہ داری اصل معنوں میں اسی نیم حکیم داعی پر آئے گی۔ چنانچہ آج جس صورت حال سے ہم گزر رہے ہیں وہاں اس نیم حکیمی اور شدت پسندی کا رحجان زیادہ پایا جا رہا ہے ، جس کی وجہ سے سرگرمیاں اگرچہ بہت زیادہ ہو رہی ہیں لیکن ان سرگرمیوں کا حاصل نہ ہونے کے برابر ہو رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دعوت کے میدان میں اترنے والے جانبازوں کوحکمت اور موعظت حسنہ کا ہتھیار لیے ہوئے پیش ہونا چاہیے یہی فطری دعوت کا تقاضا ہے اور اسی فطری اور مسنون طریقہ دعوت سے قوموں کے اذہان تبدیل ہو گئے ہیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close