دعوت

رسول اللہ ﷺ کی دعوتی حکمتِ عملی- دارِارقم کے حوالے سے

رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں دعوت و تبلیغ کے تعلق سے مختلف تجربات کیے ۔مکی دور کی ابتدا میں آپ نے انفرادی دعوت پر بہت زور دیا۔ اس زمانے میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعلیم و تربیت کے لیے دارِ ارقم کو مرکز بنایا۔ کچھ عرصے کے بعد علانیہ دعوت کا کام شروع کیا۔حج کے موقع پر مکہ آنے والے مختلف قبائل تک اسلام کی دعوت پہنچائی۔ مکہ سے باہر دوسرے علاقوں میں تشریف لے گئے۔ مدنی دور میں مختلف سلاطین او ر حکم رانوں کو دعوتی مکاتیب ارسال کیے۔ عرب کے مختلف علاقوں سے آنے والے وفود کو اسلامی تعلیمات سے آشنا کیا۔ آں حضرت ﷺ کی دعوتی زندگی کے یہ مختلف عناوین ہیں۔ اس مضمون میں دارِ ارقم کے حوالے سے آپؐ کی دعوتی حکمت عملی پر کچھ روشنی ڈالنی مقصود ہے۔
سیرت نبوی کے مکی عہد میں ’دارارقم ‘کوغیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ اُس زمانے میں، جب کہ دعوت اسلامی کے ننھے سے پودے میں کونپلیں پھوٹ رہی تھیں اورسعیدروحیں حلقہ بہ گوش اسلام ہورہی تھی،اس گھرنے نہ صرف یہ کہ انھیں تحفظ فراہم کیا اورسردارانِ قریش کے ظلم وستم کا شکار ہونے سے بچایا،بلکہ ان کی تعلیم وتربیت کا بھی موقع فراہم کیا اوررسول اللہﷺ پر نازل ہونے والے اللہ کے کلام کوسننے اورآپؐ سے دین سیکھنے کا معقول نظم کیا۔حقیقت یہ ہے کہ بیش تراکابرصحابہ دارارقم ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ اسی اہمیت کی بناپر مورخین نے دارارقم میں رسول اللہﷺ کے قیام کوسیرت نبوی کے اہم ترین واقعات میں شمارکیاہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جب وہ مکی عہد کی ابتدامیں کسی شخص کے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ کرتے ہیں تویوں لکھتے ہیں:
’’وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم کومرکزِ دعوت بنانے سے پہلے اسلام لائے۔‘‘
دارِارقم کی اس اہمیت کے باوجودمورخین اورسیرت نگاروں نے اسے تفصیلی بحث وتحقیق کا موضوع نہیں بنایاہے۔ ضرورت ہے کہ اس پر تفصیلی مطالعات کیے جائیں اور موجودہ دور میں اس کی معنویت آشکارا کی جائے۔
ایک خفیہ مرکزکی ضرورت
منصبِ نبوت سے سرفرازہوتے ہی اللہ کے رسولﷺ نے دعوت کاکام شروع کردیاتھا اورآپؐ کے قریب ترین لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے۔ اصحابِ سیر نے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں حضرت خدیجہؓ ،حضرت ابوبکرؓ،حضرت علیؓ اورحضرت زیدبن حارثہؓ کے نام لیے ہیں۔لیکن آپؐ نے حکمتِ عملی یہ اختیارفرمائی کہ ابتدامیں اعلانِ نبوت کرنے اورلوگوں کوکھلے عام اسلام کی دعوت دینے سے احتیاط برتی اورخفیہ طریقے سے اورانفرادی طورپرصرف ان لوگوں تک اسلام پہنچاتے رہے جن کے بارے میں امیدہوتی تھی کہ وہ نہ صرف یہ کہ اسے قبول کرلیں گے ،بلکہ اسے اس وقت تک راز میں رکھیں گے ،جب تک کہ دعوتِ عام کا حکم نہ آجائے۔
حضرت ابوبکرؓ اپنی قوم میں بڑی عزت ووجاہت کے مالک تھے۔ تجارت پیشہ ہونے کی وجہ سے ان کے بڑے وسیع تعلقات تھے۔ ان کی کوششوں سے بہت سے حضرات حلقہ بہ گوش اسلام ہوئے۔اصحابِ سیرنے خاص طورپر عثمان بن عفان،زبیربن عوام،طلحہ بن عبیداللہ،سعدبن ابی وقاص،عبدالرحمن بن عوف،عثمان بن مظعون،ابوعبیدہ بن الجراح، ابوسلمہ بن عبدالاسد اورارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہم کے نام ذکرکیے ہیں۔ پھران لوگوں نے اپنے حلقۂ احباب میں کام کیا اوران کی کوششوں سے خاصی بڑی تعدادمیں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔
توحیدکے اقراراورشرک وبت پرستی سے براء ت کے بعد اللہ تعالی کی جانب سے سب سے پہلے نماز فرض کی گئی۔ رسول اللہﷺ پر پہلی مرتبہ وحی نازل ہونے کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کووضواورنماز کی تعلیم دی اورآپ نے اسے اسلام قبول کرنے والوں کوسکھایا۔ یہ لوگ مکہ کی سنسان گھاٹیوں میں چھپ کرنمازپڑھتے تھے،تاکہ کسی کوخبرنہ لگنے پائے۔کچھ ہی عرصہ کے بعد ایک دن اچانک ایک ایسا واقعہ پیش آگیا،جس سے اندیشہ پیداہوگیاکہ نہ صرف یہ کہ راز داری باقی نہیں رہ سکے گی، بلکہ مشرکین اوراہلِ ایمان کے درمیان تصادم شروع ہوجائے گا۔ ہوایہ کہ مسلمان مکہ کی ایک گھاٹی میں نماز اداکررہے تھے۔ انھیں مشرکین کے ایک گروہ نے دیکھ لیا۔ وہ انھیں برابھلاکہنے لگے۔ نوبت لڑائی تک جاپہنچی۔حضرت سعدبن ابی وقاصؓ نے ایک شخص کو ،جس کا نام روایتوں میں عبداللہ بن خطل تیمی یا عقبہ بن ابی معیط بیان کیا گیا ہے،اونٹ کی ایک ہڈی کھینچ کرماردی،جس سے اس کا سرپھٹ گیا۔اس واقعہ کے بعد رسول اللہﷺ نے ضرورت محسوس کی کہ کوئی ایسی جگہ متعین کردی جائے جہاں مسلمان اکٹھا ہوکر نماز اداکرسکیں اورجولوگ اسلام قبول کرتے جائیں وہ وہاں رہ کردین کی بنیادی تعلیم حاصل کرسکیں اوروہ جگہ ایسی ہوجومشرکین کی نگاہوں سے اوجھل ہو،تاکہ وہاں پہنچ کرانھیں فتنہ وفسادپھیلانے کا موقع نہ ملے۔ حضرت ارقمؓ نے اس کام کے لیے اپنا مکان پیش کیا اوراس کی مخصوص پوزیشن کی وجہ سے رسول اللہ ﷺنے ان کی پیش کش قبول کرلی۔ اس طرح ان کا گھردعوت وتبلیغ کا اولین مرکز بن گیا۔
حضرت ارقمؓ کا تعلق قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان بنومخزوم سے تھا۔ ان کے والد کانام عبدمناف تھا، لیکن شہرت ابوالارقم کی کنیت سے ملی۔حضرت ارقمؓ کی کنیت ابوعبداللہ اورابوعبدالرحمن تھی۔ ان کا سلسلۂ نسب یہ ہے: الارقم بن ابی ارقم عبدمناف بن اسدبن عبداللہ بن عمروبن مخزوم۔ انھیں بعثتِ نبوی کے بعد ابتدائی زمانے میں قبولِ اسلام کی سعادت حاصل ہوگئی تھی۔سوانح نگاروں نے انھیں ساتواں، گیارہواں یا بارہواں مسلمان بتایاہے۔اس وقت ان کی عمرصرف سولہ سال تھی۔
دارِارقم کو مرکزِ دعوت بنائے جانے کی وجوہ
دارِارقم کومرکزِ دعوت بنائے جانے کے وقت تک بہت سے صحابہ اسلام قبول کرچکے تھے۔ وہ مختلف خاندانوں اوربطون سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں سے بعض خاندانی وجاہت اورمال ودولت کے اعتبارسے بھی بڑے مرتبے پرتھے، لیکن اللہ کے رسولﷺ نے ان میں سے کسی کے گھرکومرکزِ دعوت بنانے کے بجائے حضرت ارقمؓ کے گھرکواس کام کے لیے کیوں پسندفرمایا؟اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت کے نازک حالات کے پیش نظرآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مرکزِ دعوت کوخفیہ رکھناچاہتے تھے اوراس اعتبارسے حضرت ارقمؓ کا گھربہت موزوں تھا۔ اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:
اول:حضرت ارقمؓ ابھی تک اپنے قبولِ اسلام کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھے اورمشرکین کواس کی خبرنہ لگ سکی تھی۔ اس بناپر کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ ان کے گھرمیں اللہ کے رسولﷺ اوراہلِ ایمان جمع ہوسکتے ہیں۔
دوم:حضرت ارقمؓ قبولِ اسلام کے وقت نوعمرتھے۔ اس وقت اگرمشرکینِ قریش یہ جانناچاہتے کہ اللہ کے رسول اپنے اصحاب کے ساتھ کہاں ملتے ہیں تووہ صحابۂ بنی ہاشم ،دیگر اکابر صحابہ ،حضرت ابوبکرؓ یا خود حضورکے گھرمیں آپؐ کوتلاش کرتے ، حضرت ارقمؓ جیسے نوعمر صحابی کے گھرکی طرف ان کاذہن نہیں جاسکتاتھا۔
سوم:حضرت ارقمؓ کا تعلق بنومخزوم سے تھا اوراس زمانے میں بنومخزوم اوربنوہاشم کے درمیان مخاصمت ومنافست اپنے شباب پر تھی۔ اس بناپر کسی شخص کے ذہن میں یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ اسلام قبول کرنے والے نئے افرادکی تربیت کے لیے بنومخزوم کے کسی فرد کے گھرکا انتخاب ہوسکتاہے۔
چہارم: حضرت ارقمؓ کا یہ گھرصفاکی پہاڑی کے پاس تھا،جوحرم میں قریشی مجالس سے کافی فاصلے پر اورالگ تھلگ تھا۔ مزیدبرآں اس کا محل وقوع صفاکا زیریں حصہ تھا، اس لیے اس گھرمیں داخل ہونے اوریہاں سے نکلنے والوں پر نظررکھنا آسان نہ تھا۔ اس کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس کی بناوٹ ایسی تھی کہ باہر سے کسی شخص کے لیے یہ جانناممکن نہ تھا کہ اندرکیاہورہاہے؟
دارِارقم سے قبل اوراس میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ
سیر الصحابۃ کے مؤلفین نے عہدِمکی میں اسلام قبول کرنے والے اصحابِ رسول کا تذکرہ کیا ہے توساتھ ہی یہ بھی صراحت کی ہے کہ ان میں سے کن اصحاب کورسول اللہﷺ کے دارِارقم کومرکزِ دعوت بنانے سے قبل اسلام کی سعادت حاصل ہوئی تھی اور کون دارِ ارقم میں آکر اسلام لائے تھے۔ ابن سعدؒ نے چھبیس صحابہ وصحابیات (تےئس صحابہ اورتین صحابیات) کے تذکروں میں صراحت کی ہے کہ وہ حضورؐ کے دارِارقم کومرکزِ دعوت بنانے سے قبل اسلام لائے تھے۔ ابن اسحاق ؒ نے ابتدائی دورمیں اسلام قبول کرنے والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے45؍صحابہ و صحابیات کے نام گنائے ہیں۔لیکن ان میں وہ لوگ بھی ہیں جودارِارقم کے مرکزِ دعوت بننے سے پہلے اسلام لائے تھے اوروہ لوگ بھی جنھیں اس کے بعدقبولِ اسلام کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔
مولانا مودودی ؒ نے بڑی تلاش وتحقیقکے بعد خفیہ دعوت کے تین سالہ دور میں اسلام قبول کر نے والوں کی فہرست تیار کی ہے،اس میں بہ اعتبارقبیلہ ۱۲۹؍افرادکے نام درج کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’ ابتدائی چارمسلمانوں کے ساتھ ان ۱۲۹؍ کے ملنے سے ان لوگوں کی کل تعداد ۱۳۳؍بن جاتی ہے، جو حضورکی دعوتِ عام شروع ہونے سے پہلے آپؐ پر ایمان لاکرجماعتِ مسلمین میں شامل ہوچکے تھے‘‘
یہ گھر تقریباً تین چار سال، حضرت عمر فاروقؓ کے قبولِ اسلام (6 نبوی) تک مرکزِ دعوت بنا رہا۔ تمام سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ حضرت عمربن الخطابؓ کے اسلام قبول کرنے تک مسلمان حرمِ مکی میں کھلے عام نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اپنے قبولِ اسلام کے بعد وہ رسول اللہﷺ اورصحابہ کو بہ اصرارحرم میں لے گئے اوروہاں علانیہ نماز اداکی ۔
دارِ ارقم میں انجام دی جانے والی سرگرمیاں
دارِارقم نئے اسلام لانے والوں کے لیے خفیہ پناہ گاہ تھا۔ وہ لوگوں کی نظروں سے بچ بچاکروہاں آتے تھے اوردین کی بنیادی باتیں سیکھتے تھے۔ رسول اللہﷺ بھی وہاں وقتا فوقتا تشریف لاتے تھے اوران لوگوں کوتعلیم وتربیت اورتزکیہ کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ وہاں کی اہم ترین مصروفیت قرآن کریم کا سیکھنا اورسکھانا تھا۔ موجودہ دورکے ایک عرب سیرت نگارڈاکٹرعلی محمد الصلابی نے لکھا ہے:
’’نبی کریمﷺ نے دارِارقم میں جونصابِ درس تیارکیاتھا اورجس کے مطابق آپ صحابۂ کرام کوتعلیم دیتے تھے، وہ قرآن کریم پر مبنی تھا۔ وہی اخذواستفادہ کا واحد ذریعہ تھا۔ آں حضرت ﷺ نے صرف اسی ذریعے پر اکتفاکیا۔ آپؐ نے صرف قرآن کریم کوایسامنہج اورایسی بنیادی فکرقراردیا،جس کے ذریعے مسلم فرد،مسلم خاندان اورمسلم معاشرہ کی تربیت ہو۔ روح القدس تازہ بہ تازہ قرآنی آیات لے کررسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے تھے اورصحابۂ کرام انھیں رسول اللہﷺ کی زبانِ مبارک سے براہ راست سنتے تھے۔ اس طرح وہ ان کے دلوں میں جاگزیں ہوجاتی تھیں، ان کی روحوں میں سرایت کرجاتی تھیں اوران کی رگوں میں خون کی ماننددوڑتی تھیں۔ان کے قلوب وارواح قرآن سے ہم آہنگ اوراس سے اثرپذیرہوتے تھے۔ اس طرح ان میں سے ہرایک اپنے اقدار،احساسات ،مقاصد،کردار اورامنگوں کے اعتبارسے ایک نیاانسان بن جاتاتھا۔‘‘
رسول اللہ ﷺ دارِارقم میں آنے والوں کی بہ راہ راست نگرانی اورتربیت فرمایاکرتے تھے۔ آپ ان کے عقائد وافکارکی اصلاح فرماتے،ان کے اخلاق وکردارکوسنوارتے ،انھیں لاحق ہونے والی تکالیف اورمشرکین سے پہنچنے والی اذیتوں پرانھیں صبرکی تلقین فرماتے، ان کی ڈھارس باندھتے اوران کے اندرجرأت وہمت اورعزیمت واستقلال پیداکرتے۔ ڈاکٹرصلابی نے لکھا ہے:
’’دارِارقم تعلیم وتربیت کا وہ عظیم الشان مدرسہ تھا، جس سے انسانیت آگاہ ہوئی ہو۔اورکیوں نہ ہو،جب کہ اس کے معلم رسول اللہ ﷺ تھے، جوپوری انسانیت کے معلم تھے اوراس کے تلامذہ وہ داعیان وہادیان اورربانی قائدین تھے، جنھوں نے انسانیت کوغلامی کوبیڑیوں سے آزادکرایا اورانھیں تاریکیوں سے نکال کرروشنی میں لائے۔ان لوگوں کی اللہ تعالی نے اپنی نگرانی میں ایسی تربیت کی، جیسی نہ ان سے پہلے کسی کی ہوئی نہ ان کے بعد ۔ دارِارقم میں رسول اللہ ﷺنے توفیقِ الٰہی سے صحابۂ کرام کی اولین جماعت کی تشکیل فرمائی،جنھوں نے بعد میں اسلام کی دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔رسول اللہﷺنے اس خفیہ مرحلہ میں دارِارقم میں ان نابغۂ روزگارافرادکی تربیت فرمائی، جنھوں نے توحید،جہاداوردعوت کا عَلَم بلندکیا، پوراجزیرۃ العرب ان کے آگے سرنگوں ہوگیااورانھوں نے نصف صدی میں عظیم الشان فتوحات انجام دیں۔‘‘
دروس و نصائح
دارِ ارقم کے واقعہ سے متعدد دروس و نصائح کا استنباط ہوتا ہے۔ دعوتی زندگی میں یہ دروس بڑی اہمیت رکھتے ہیں:
1۔ اس کا پہلا درس یہ ہے کہ دعوت کے فروغ و استحکام کے لیے ایک مرکز کا قیام ضروری ہے، جہاں بیٹھ کر دعوت کی تنظیم اور منصوبہ بندی کی جا سکے،کارِ دعوت انجام دینے والے باہم مشاورت کر سکیں، وابستگان کی تعلیم و تربیت کا نظم ہو، ان کے مسائل و مشکلات سے واقفیت حاصل کرکے ان کے ازالہ کی تدابیر اختیار کی جا سکیں ۔ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے دارِ ارقم کے بارے میں لکھا ہے:
’’قبولِ اسلام کا مرکز ہونے کے علاوہ وہ تعلیم گاہ،خانقاہ، تربیت گا، مشاورت گا، مسجد و مدرسہ، منزلِ بنوی اور بہت کچھ تھا۔وہ مکی دور کا مستقل اور عظیم اسلامی مرکز بن گیا تھا‘‘۔
2۔ وابستگانِ دعوت و تحریک کے لیے ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً اجتماعات منعقد کرتے رہیں، تاکہ ان کے ایمان میں تازگی آتی رہے اور ان کی دینی معلومات میں اضافہ ہوتا رہے۔ڈاکٹر مصطفیٰ سباعیؒ نے لکھا ہے:
’’داعی کو چاہیے کہ وہ ہرروز یا ہرہفتہ، وقفوں وقفوں سے ،اپنے رفقاء کے اجتماعات منعقدکرتارہے اورانھیں دعوت کے طریق کاراوراس کے اسالیب وآداب کی تعلیم دیتارہے، تاکہ انھیں ایمان ویقین میں زیادتی حاصل ہو۔ اگرعلانیہ اجتماعات عام میں داعی کواپنی جان اوراپنے رفقا کی ہلاکت کا خطرہ محسوس ہوتواس کے لیے واجب ہے کہ وہ خفیہ طورپر خصوصی اجتماعات منعقد کرے، تاکہ اہل باطل ان کے خلاف سازش یا منصوبہ تیارکرکے انھیں جوروستم کا ہدف نہ بناسکیں اوران کی ہلاکت کا اقدام نہ کرسکیں‘‘۔
3۔ دعوت کے کسی مرحلے میں راز داری برتنا اور احتیاط ملحوظ رکھناانبیائی مشن کے مزاج کے منافی نہیں ہے، بلکہ یہ حکمت کا عین تقاضا ہے۔
شامی محقق ڈاکٹر محمدسعید رمضان البوطی فرماتے ہیں:
’’اس میں شک نہیں کہ ان ابتدائی سالوں میں اسلام کی دعوت وتبلیغ میں نبی کریم ﷺ کی رازداری کا سبب اپنی جان کا خوف نہیں تھا۔ اس لیے کہ آپؐ کویقین تھا کہ جس اللہ نے آپ کو مبعوث کیا ہے اوراس دعوت کی ذمہ داری دی ہے وہی آپ کی حفاظت فرمائے گا اورلوگوں کوشرسے بچائے گا۔ لیکن اللہ عزوجل نے آپ کو الہام کیا۔۔۔ اوررسول کا الہام وحی کے قبیل سے ہوتاہے ۔۔۔ کہ ابتدائی مرحلے میں دعوت کا آغاز رازداری اورخفیہ طریقے سے کریں اوراسے صرف انہی لوگوں کے سامنے پیش کریں جن کے بارے میں گمان غالب ہوکہ وہ اس پرکان دھریں گے اورایمان لائیں گے۔ اپنے اس عمل کے ذریعے آپ نے کارِ دعوت انجام دینے والوں کوایک اہم تعلیم دی ۔ آپ نے انھیں احتیاط ملحوظ رکھنے اورظاہری اسباب اختیارکرنے کی تلقین کی اورواضح کیا کہ دعوت کے اہداف تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل اختیارکرنا عقل سلیم کا تقاضا ہے۔اس سے اشارہ ملتاہے کہ دعوتِ اسلامی کے علم برداروں کوہرزمانے میں دعوت کے اندازمیں لچک رکھنی چاہیے۔ جس زمانے سے ان کا تعلق ہواس کے مطابق دعوت پیش کرنے میں، جہاں جیسی ضرورت ہو،رازداری ،اعلان،نرمی یاسختی کوملحوظ رکھنا چاہیے‘‘۔
4۔ اگر جان کا خطرہ ہو یا ایمان کے نتیجے میں تشدد کا شکار ہونے کا اندیشہ ہو تو کوئی ایسی جائے پناہ تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں،جہاں رہ کر جان بچائی اور ایمان کی حفاظت کی جا سکے۔ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی فرماتے ہیں:
’’اگرداعی کومحسوس ہوکہ کفارکی فتنہ پردازی کے باعث اس کی جماعت کے لوگوں کی زندگیاں اوراعتقادات خطرے کا شکارہیں تواسے چاہیے کہ وہ ان کے لیے ایسا مامن تلاش کرے جہاں وہ اہل باطل کی سرکشی اورظلم وزیادتی سے امان حاصل کرسکیں اوریہ چیز داعیان کے جذبۂ قربانی کے منافی نہیں ہے۔ اگرداعیان کی افرادی قوت کم ہوتواہلِ باطل ان کوموت کے گھاٹ اتارکران کی تحریک کوکچل سکتے ہیں۔ اس لیے داعیان کوچاہیے کہ وہ ایسے ناسازگار حالات میں اپنی دعوت اوروجود کوبچاکرکسی دارالامان کی طرف نکل جائیں، تاکہ ان کی دعوت کواستمراراورنشرواشاعت کو ضمانت حاصل ہوجائے‘‘۔
سیرتِ نبوی اور تاریخِ اسلام میں دارِ ارقم کی غیر معمولی اہمیت ہے ۔ اسی وجہ سے اس کو’ دارالاسلام‘ بھی کہا جاتاتھا۔ ضرورت ہے کہ اس سے حاصل ہونے والے دروس کو موجودہ دور میں رہ نما بنایا جائے اور اس کی روشنی میں دعوت کے فروغ اور استحکام کی راہیں تلاش کی جائیں۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close