میدانِ دعوت کے مردِ مجاہدین

2

محبوب عالم عبدالسلام

ہندوستان کے تمام بڑے تجارتی شہروں میں خصوصاً دہلی، ممبئی اور جنوبی ہند کے شہروں میں تقریباً تمام مساجد میں امام و خطیب مقرر ہوتے ہیں۔ جو پانچوں وقت کی نمازیں پڑھاتے ہیں، عوام کو دینی مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے صبح و شام دروس کا اہتمام کرتے ہیں، جمعہ کے خطبے بھی حالاتِ حاضرہ اور اصلاحی موضوعات پر دیتے ہیں، اور وہاں کے خوش حال اور آسودہ حال لوگ اُن اماموں کو اچھا خاصا مشاہرہ بھی دیتے ہیں، ساتھ ہی اُن کے قیام و طعام کا عمدہ انتظام بھی کرتے ہیں۔ چناں چہ بعض حضرات انفرادی طور پر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور بعض فیملی سمیت وہاں دعوتی فریضہ نبھاتے ہیں۔ اِنھیں سہولتوں کو دیکھتے ہوئے علمائے کرام جوق در جوق اُن شہروں کی طرف رختِ سفر باندھتے ہیں، تاکہ دعوت الی اللہ کا فریضہ بھی بحسن و خوبی انجام پاسکے اور گھریلو اخراجات اچھے طریقے سے چلنے کے لیے معیاری تنخواہ بھی مل سکے۔ ہندوستان کی شمالی ریاستیں خاص طور سے ریاست اتر پردیش اور بہار چوں کہ دینی تعلیم و تعلم کے اعتبار سے کافی زرخیز اور سر سبز و شاداب علاقے ہیں۔ یہاں معتدبہ تعداد میں مدارس بھی پائے جاتے ہیں، تقریباً تمام مکاتب فکر کی بڑی بڑی علمی دانش گاہیں اِنھیں صوبوں میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علما بھی کثیر تعداد میں یہاں پائے جاتے ہیں۔ اور زیادہ تر اِنھیں صوبوں کے علما اور دعاۃ ہندوستان کے مختلف شہروں میں امامت و خطابت اور دعوت الی اللہ کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ شہروں کی بہ نسبت دیہی علاقوں کا حال یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے مکاتب قائم ہیں اور اب تو وہ بھی ناپید ہورہے ہیں، اس کی جگہ لوگ بورڈنگ اسکول کھول رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں کہیں کہیں عربی مدارس بھی قائم ہیں، جہاں جماعت رابعہ یا مرحلۂ عالمیت تک کی تعلیم کا بندوبست ہے۔ بہت سارے علما ان مکاتب و مدراس سے جڑے ہوئے ہیں، اور اپنی استطاعت کے بقدر جمعہ کے خطبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے پروگرام کے ذریعے بھی کارِ دعوت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں اگرچہ شہروں کی طرح آرام و آسائش میسر نہیں ہیں، قلتِ تنخواہ کے سبب گوناگوں مشکلات اور الجھنوں کا سامنا ہے، مگر پھر بھی علمائے کرام اپنی بساط کی حد تک دینی کاز کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

خدمتِ دین اور دعوت الی اللہ ایک اہم دینی فریضہ ہے، اور اس فریضہ کو نبھانے کے لیے ایک داعی کے اندر اخلاص، للہیت، علمی رسوخ، عقلی سوجھ بوجھ، امانت داری اور خیر خواہی جیسی صفات سے متصف ہونا از حد ضروری ہے۔ آدمی کہیں بھی دعوت کا فریضہ انجام دے، خواہ چھوٹا ادارہ ہو یا بڑا ادارہ، دیہات ہو یا شہر، خلوص و للہیت اور نیک نیتی اگر اس کے اندر موجود ہے، ملی تڑپ اس کے دل میں رچا بسا ہے تو اگر چہ وہ دنیاوی آرام و آسائش سے محروم ہے، خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے، مگر آخرت کی زندگی میں اُس کے لیے سعادت و کامرانی ہے، وہ دنیا کا خوش نصیب ترین انسان ہے۔ تاہم اگر اس کے اندر اخلاص کا فقدان ہے، اس کا مطمحِ نظر دنیا اور اُس کی ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے، ریا کاری و شہرت طلبی کے جراثیم اس کے اندر پنپ رہے ہیں تو ایسا داعی خواہ کتنی ہی بڑی علمی دانش گاہ میں چلا جائے، تمام سہولیات سے لیس ترقیاتی علاقے میں ہی کیوں نہ پہنچ جائے، اُس کی ساری کدو کاوش اور محنت و جستجو اللہ کی نظر میں اکارت و برباد ہیں، وہ دنیا میں اگر چہ نام کما لے، اپنے اردگرد حواری مورای کا ایک جتھا جمع کر لے، اپنے نام کے ساتھ سوابق و لواحق کا ایک دفتر کھول لے، فلک بوس عمارتیں تعمیر کروا لے، خوش حال زندگی بسر کرلے؛ مگر آخرت کی دائمی زندگی میں اس کے لیے سراسر خسارہ اور نقصان ہے۔

کتاب و سنت میں دعوتِ دین اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بڑی اہمیت و فضیلت وارد ہوئی ہے۔ اللہ رب العالمین نے فرمایا : "وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ.” اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ( سورہ آل عمران آیت : 104)

اِس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بڑے ہی واضح انداز میں فرمایا کہ تمھارے اندر ایک ایسی جماعت کا ہونا ناگزیر ہے جو خدمتِ دین اور دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دے، دینی تعلیمات سے بے بہرہ لوگوں کو دین و شریعت کی باتیں بتائے، گناہوں میں ڈوبے ہوئے غافل انسانوں کے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کرے، خوابِ غلفت میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگائے، اور اُن کے اندر محبتِ الٰہی اور خوفِ الٰہی کا جذبہ جاگزیں کرے، اور سب سے اہم بات یہ کہ لوگوں کو آخرت کی فکر پر آمادہ کرے، دنیا کی حقارت اور اُس کی حیثیت سے آگاہ کرے۔

الحمدللہ الحاد و بے دینی، علمی و فکری تنزلی نیز اخلاقی انارکی کے اس دور میں بھی علمائے اسلام تحریری و تقریری اور عملی اعتبار سے دینی تعلیمات کو عوام الناس تک پہنچا رہے ہیں، اپنے اپنے طور پر اپنی بساط کے مطابق ہر عالم دین دعوت کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ جس منظم طریقے سے دعوت کے فریضے کو انجام دینا چاہیے، مسلکی اختلافات، باہمی خانہ جنگی، چند بے ضمیر ملت کے ٹھیکیداروں کا کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر بھی اس کا جائز استعمال نہ کرنے کی وجہ سے دعوتِ دین کا دائرہ زیادہ وسیع نہیں ہو پارہا ہے، علمائے کرام آپس میں ہی باہم دست و گریباں ہیں، کسی کو اگر بڑے عہدے  پر متمکن کیا جاتا ہے تو بجائے وہ دین کی دعوت کو وسیع کرنے کے اپنی دنیا چمکانے میں مست ہوجاتا ہے، ملت کا درد اس کے دل سے نکل جاتا ہے، قوم زوال و انحطاط کے عمیق گڑھے میں جاتی رہے مگر پھر بھی اُس کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔

 دور حاضر تو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اظہارِ رائے کے لیے مکمل آزادی اور کھلی چھوٹ ہے، اس لیے ہر کس و ناکس مفت میں مشورے اور فتوے بانٹ رہا ہے۔ تجزیے اور تبصرے کر رہا ہے، المیہ یہ ہے کہ امامت و خطابت سے جڑے ہوئے کچھ حضرات کو ملت کا غم اس قدر ستاتا ہے کہ بجائے خود اپنی ذات سے انقلاب آفریں کارنامے انجام دینے کے، بڑی بے باکی کے ساتھ اپنے سے کمتر عہدوں پر فائز لوگوں کو مفت کے مشورے تقسیم کر رہے ہیں، سوشل میڈیا جو کہ دعوت کا ایک عظیم پلیٹ فارم ہے، اس پلیٹ فارم کے ذریعے جہاں ہم غیر مسلموں تک دینی تعلیمات کو پہنچا سکتے ہیں، وہیں ناخواندہ مسلم طبقہ تک بھی آسان اسلوب میں دینی و اسلامی احکامات و مسائل کو پہنچا سکتے ہیں، مگر ہم سے یہ سب بَن نہیں پڑتا ہے، اس لیے امامت و خطابت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے آپ کو میدانِ دعوت کا سب سے بڑا مرد مجاہد تصور کر لیتے ہیں اور مشوروں کا پٹارہ کھول کر شوشل میڈیا کے در و دیوار پر بیٹھ جاتے ہیں۔ خود تو ممبئی اور جنوبی ہند کے ترقی یافتہ شہروں میں پندرہ، بیس ہزار مشاہرہ پر امامت و خطابت کرتے ہیں، اے سی والی مسجد کا آنند لیتے ہیں، وہاں زر داروں کے یہاں مرغ مسلم اڑاتے ہیں، وقتاً فوقتاً یادگار مقامات کی زیارت کرتے ہیں، بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اس کا پیسا الگ جمع کرتے ہیں، گھر آتے ہیں تو فلائٹ سے آتے ہیں، جاتے ہیں تب بھی فلائٹ کا سہارا لیتے ہیں اور نصیحت کرنا ہوتا ہے تو دیہاتوں میں چھ سات ہزار تنخواہ پر گزارا کرنے والے مولویوں کو نشانہ بناتے ہیں، اُنھیں مفت میں بھانت بھانت کے مشورے دیتے ہیں اور اُن سے امیدیں بھی وابستہ رکھتے ہیں کہ وہ مکتب میں بچوں کو پڑھائیں بھی، اُن کی ناک بھی صاف کریں، جمعہ کا خطبہ بھی دیں، عقیقہ اور قربانی کی دعا بھی پڑھیں، چرم قربانی بھی وصول کریں، گاؤں میں کسی کے یہاں شادی ہو تو نکاح بھی پڑھائیں، فصل تیار ہوجائے تو عشر بھی وصول کریں، مساجد میں دروس کا اہتمام بھی کریں، رمضان میں گلی گلی چندہ بھی کریں، کسی کا انتقال ہوجائے تو اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھائیں اور اگر کسی بچے کو سزا دے دیں تو گاؤں والوں کی ڈانٹ پھٹکار بھی برداشت کریں۔

آخر یہ مکتب کے مولوی بے چارے کون کون سی ذمے داری نبھائیں؟ خود تو دیہات اور مکتب کی پست تنخواہ کو چھوڑ کر شہر کی طرف رختِ سفر باندھ لیتے ہیں اور پھر وہیں سے سوشل میڈیا پر مشورے بانٹتے پھرتے ہیں۔ آخر یہ کون سی دانش مندی ہے؟ کیا یہی عدل و انصاف ہے؟ کچھ لوگوں کے مشورے تو اس قدر مضحکہ خیز ہوتے ہیں کہ اُنھیں دیکھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ شاید مُشیر صاحب کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے؛ اگر واقعی ان کی طبیعت مضمحل رہتی ہے اور نیم پاگل پنی کے شکار رہتے ہیں تو بہتر ہے آگرہ چلے جائیں یا پھر بریلی کا رخ کر لیں، مگر اللہ کے واسطے مکتب کے مظلوم مولویوں پر رحم کریں۔ ان کے پاس بھی بال بچے ہیں، ان کی بھی ضرورتیں ہیں، ان کے سینے میں بھی دل ہے، ان کو بھی دوا علاج کی حاجت پیش آتی ہے، اُنھیں بھی عمدہ عمدہ ڈشیں کھانے کو جی چاہتا ہے، اُنھیں بھی قسم قسم کے زرق برق لباس پہننے کی آرزو ہے، اُنھیں بھی بہترین برانڈ کی خوشبو اور عطریات پسند ہیں، مگر کیا کریں آرزوؤں کا قتل کرتے ہیں، تمناؤں کا گلا گھونٹتے ہیں؛ کیوں کہ تنخواہ وہی چھ سے سات ہزار ہوتی ہے۔ جس سے بچوں کا تن بھی ڈھانپنا ہے، پیٹ کی آگ بھی بجھانی ہے، بوڑھے ماں باپ کا بھی خیال رکھنا ہے، بیماری کے وقت دوا علاج بھی کروانی ہے، بیٹی اگر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے تو اس کے ہاتھ بھی پیلے کرنے ہیں، گھر میں مہمان آگئے ہیں تو اُن کی مہمان نوازی بھی کرنی ہے، پھر بھی اپنی بساط بھر کارِ دعوت میں منہمک اور طلبۂ مکاتب و مدارس کے تعلیمی و دینی مستقبل کو سنوارنے اور اُسے تابناک بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔

 مگر افسوس اِن سب چیزوں پر یہ لوگ کبھی غور نہیں کرتے! اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں مکتب کے مولویوں کی قلیل تنخواہ کے تعلق سے کبھی لب نہیں کھولتے! اُن کی مظلومیت بھری زندگی پر کبھی کوئی گہار نہیں لگاتے! بلکہ الٹا انھیں مشورے دیتے ہیں کہ مکتب کے مولویوں کو یہ کرنا چاہیے وہ کرنا چاہیے، اُنھیں مساجد میں دروس کا اہتمام کرنا چاہیے، یقیناً دروس کا اہتمام ہونا چاہیے، اُس کی ضرورت بھی ہے، ہماری دلی خواہش ہے کہ شہروں کی طرح یہاں بھی اس طرح کا عمدہ انتظام ہو، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، دراصل شہروں میں ہر چیز کے وسائل ہیں، امام صاحب کو معاوضے کے طور پر اچھی خاصی رقم ملتی ہے اسی لیے وہ فارغ البال ہو کر اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں، اور یہاں تو مساجد کے امام متعین ہی نہیں ہیں الا ما شاء اللہ، وہی مدارس و مکاتب کے معلمین ہیں جو تدریسی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ امامت و خطابت کی ذمہ داری بھی سنبھالے رہتے ہیں، بے چارے دن رات معاشی بحران کی وجہ سے ذہنی الجھنوں کے شکار رہتے ہیں، جمعیت، جماعت، اہل جبہ و دستار سب خاموش تماشائی بنے ہیں اور مزید اِن سے کیا کیا توقع رکھتے ہیں؟ مکتب میں رہ کر وہ کم ذمے داریاں نہیں نبھاتے ہیں۔ اگر شہروں کی طرح یہاں بھی تنخواہ کا معیار اونچا کر دیا جائے، ہر طرح کی سہولت مہیا کر دی جائے تو کوئی بعید نہیں کہ یہ مشورے قابلِ عمل نہ بن سکیں۔ یہاں بھی شہروں کی سی فضا قائم ہوسکتی ہے۔ اور رہا یہ سوال کہ یہ دعوتی کام ہے، للہ فی اللہ کیا جائے، اس میں پیسا کوئی معنی نہیں رکھتا، نیکی کے کام میں پیچھے کیوں؟ تو پھر اس کا جواب یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو شہر کی سہولت بھری زندگی چھوڑ کر خود مکتب میں حاضرِ خدمت ہونا چاہیے اور عملی نمونہ پیش کرکے بچے بچے کو دین کا علم بردار بنا کر ہی دم لینا چاہیے، ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے طبقے تک بھی دین کی باتیں پہنچانی چاہیے، ان شاء اللہ انقلاب بھی برپا ہوگا، ذہنیتیں بھی بدلیں گی، ماحول بھی اسلامی ہوگا، نبوی دور کی یادیں بھی تازہ ہوں گی اور لگے ہاتھوں عقبیٰ بھی سنورے گا۔ مگر حیف صد حیف ایسے لوگوں سے یہ سب ہو نہیں پاتا ہے اور دنیا کی سب سے ایڈوانس چیز مفت کا مشورہ دے کر اپنا پلو جھاڑ لیتے ہیں۔ آخر یہ کیسی عقل مندی ہے کہ مکتب کے مولویوں کی معیاری تنخواہ کے لیے کوئی کوشش نہ کی جائے، کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا جائے، مفلسی کی وجہ سے وہ چاہے غیروں کے در پر اپنی عزت نفس مجروح کریں، چاہے گھٹ گھٹ کر زندگی بسر کریں، ان چیزوں سے انھیں کوئی فکر نہیں پڑتا ہے، کوئی تڑپ نہیں رہتی ہے بس مفت کے مشورے رہ گئے ہیں جو کہ نہایت ہی آسان کام ہے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت سے نوازے… آمین

تبصرے