دعوتسائنس و ٹکنالوجی

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟ (پارٹ-1)

ادریس آزاد

یہ ایک ایسا پُرانا سوال ہے جو ہمیشہ تروتازہ رہا۔’’کیا خدا ہے؟‘‘۔

اِس موضوع کو لے کر صدیوں پر محیط سوالات اور ان کے جوابات کے سلاسل سے کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں۔ لیکن عموماً دیکھا گیاہے کہ خدا کو ماننے اور نہ ماننے کا تعلق کتابوں اور عقلی دلائل سے نہیں ہے بلکہ جذبات سے ہے۔ ہم اگر ایک ’’کوانٹی ٹیٹِو‘‘ (Quantitative) ریسرچ کریں اور چھ ارب انسانوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے تصورِ خدا کا مطالعہ کرنے کی کوشش کریں تو ایک بات پورے ثبوت کے ساتھ سامنے آسکتی ہے کہ اِس تصور کا تعلق انسانی کی عقلی زندگی کے ساتھ نہیں بلکہ جذباتی زندگی کے ساتھ ہے۔

اس بات کو ہم ایک فرضی مثال سے سمجھتے ہیں، فرض کریں ایک شخص خدا کو مانتاہے۔ وہ اہل ِ علم اور عقل والا ہے۔ وہ صبح شام، خدا کے ہونے کے حق میں دلائل دے سکتاہے اور دیتارہتاہے لیکن اگر زندگی میں کسی موڑ پر اس کے ساتھ پے درپے ایسی زیادتیاں ہونا شروع ہوجائیں جن کا سبب بظاہر پوشیدہ ہو۔ وہ دیکھے کہ، ’آج پھر بچے بھوکے سوگئے‘۔ وہ دیکھے کہ اُس کی بیوی نے اِس بار بھی گرمیوں کے کپڑے نہیں بنائے۔ وہ دیکھے کہ دنیاکی زندگی کو بہتر کرنے کی ہر کوشش رائیگاں جارہی ہے۔ وہ اِن مسائل کو عقل کے زور پر متصوفانہ رنگ میں بیان کرنے کی ہزار کوشش کرے۔

وہ خدا کے اور زیادہ قریب ہوجانے کی نام نہاد خوشی کو باقاعدہ نفسیاتی طور پر محسوس بھی کرنے لگے، لیکن سچ یہ ہے کہ اُسے ’’خدا‘‘ سے ایک گِلہ، ایک شکوہ سا ہمیشہ رہے گا۔ وہ دل ہی دل میں اُسی خدا سے خفا ہوگا جس کے نام کا وہ کلمہ پڑھتاہے۔

یہ سب جذباتی چیزیں ہیں۔ غصے سے خدا کو چھوڑدینا۔ خوشی سے خدا کو پیارکرنے لگنا۔ ضرورت پڑنے پر خدا سے مانگنا۔ ڈرکے عالم میں خدا کو ایسے پکارنا جیسے بچہ ماں کو پکارتاہے۔ شدتِ غم میں اُس سے ناراض ہوجانا۔ یہ سب جذباتی کیفیات ہیں عقلی نہیں۔ تمام تر جذباتی کیفیات جسم میں موجود رطوبتوں کے نظام کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ خوشی، غم، غصہ، خوف، یہ سب کیمیائی تعاملات ہیں۔ کیمیائی ہیں تو لازمی بات ہے کہ ہم انہیں لیبارٹری میں بھی پیدا کرسکتے ہیں۔

خوشی، غم، افسوس، پریشانی، غصے اور نفرت کو ایک انجکشن کے ذریعے بھی جسم میں منتقل کیا جاسکتاہے کیونکہ یہ جذباتی کیفیات جسم میں موجود مختلف محلولوں کے اُتھل پتھل ہوجانے سے پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ جبکہ ’’خدا‘‘ کو عقل کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش یکسر فلسفیانہ عمل ہے جس کی فی الاصل کچھ خاص اہمیت نہیں کیونکہ لوگوں کا خدا کو ماننا یا نہ ماننا عقلی نہیں بلکہ جذباتی فیصلہ ہوتاہے۔

چنانچہ یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا ایسی ہستی کا وجود ممکن ہے جس کے ساتھ انسانوں کا عقلی نہیں بلکہ جذباتی تعلق ہے، ہمیں انسان کو پہلے اس کی جذباتی سطح پر دیکھنا ہوگا نہ کہ عقلی۔ تاکہ ہم اُس کے جذبات میں صداقت کی کسی گنجائش پر سائنٹفک طریقے سے غور کرسکیں۔ بظاہر تو انسان جذباتی سطح پر محض ایک جانور ہے۔ لیکن کیا ’’سرشاری‘‘، ’’استغنأ‘‘، ’’اُنس‘‘، ’’بے نیازی‘‘ اور’’دے جاوُو‘‘ بھی کیمیائی تعامل کے ذریعے پیدا ہونے والی کیفیات ہیں ؟ کیا دیانتداری سے کام کرنے کے بعد جو سکون ملتاہے وہ بھی خون میں پیداہونے والا کیمیکل ری ایکشن ہے؟ یقیناً نہیں۔ یقیناً ہم انسانی کیفیتات کی بعض منفرد شکلوں کو فقط مادے کا ارتقأ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے۔ اور ایسی کیفیات بھی قطعاً غیر سائنسی نہیں۔ فطرت پر رُوحانیت کا راج ہے۔ کائنات کا ذرّہ ذرّہ ’’مست قلندر درویش‘‘ ہے۔

دو بھیڑیں بھی ایک دوسرے کو کسی رُوحانی رشتے کی بنا پر پہچان لیتی ہیں چاہے انہیں مدت بعد ایک دوسرے سے ملوایا جائے۔ یوگا کے ماہرین بتاتے ہیں کہ سرشار کردینے والی کیفیات کا ایک جہان ہے جس کا کچھ تعلق خون میں ہونے والے کیمیائی تعامل کے ساتھ نہیں۔

اس پر مستزاد انسان اپنی نفسیاتی زندگی میں توھّمات کا مرقع ہے۔ یہ توھّمات اُس میں ’’بِلٹ اِن‘‘ (Built in) ہیں۔ دماغ کا ایک حصہ جس کا نام ’’ایمِگڈالا‘‘ (Amygdala) ہے مامور ہی اِسی کام پر ہے کہ ذرا سی تبدیلی کو چونک کر دیکھے اور روز کے معمول سے کچھ ہٹ کر پیش آئے تو توھّم کو بیدارکردے۔ بس، پھر توھّم کا کام ہے کہ وہ اس واقعہ کو معانی پہناتا چلا جائے۔ کوئی سائنسفک دماغ ہوگا تو وہ کئی جہات پر غورکریگا لیکن واقعہ میں ’’تکرار‘‘ کی صورت وہ بھی بالآخر توھّمات زدہ تخیلات قائم کیے بغیر نہ رہ سکے گا۔ کیونکہ ذہن میں پیدا ہونے والے خودکار خیالات کو روکنے کا ابھی کوئی طریقہ ایجاد نہیں ہوا۔ کوئی بڑے سے بڑا سائنس پسند ملحد اپنی جبلت میں سے توھّمات پسندی کو نہیں نکال سکتا۔ جن معاشروں سے ’’مذہب‘‘ بطور مذہب کے مفقود ہوتاجارہاہے، اُن معاشروں میں توھّمات بدستور موجود ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ توھّم پرستی انسان کو فطرت سے بطور تحفہ ملی ہے۔

’’وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی عمل (یعنی اپنے ذاتی، نفسیاتی تجربے) کے تکرارکوفطرت کے ساتھ اپنی کمیونکیشن سمجھتاہے‘‘۔

وہ چونک جاتاہے۔ بار بار ایسا کیوں ہورہاہے؟ وہ سوچتاہے فطرت اسے کچھ سمجھانا چاہتی ہے۔ وہ ہمیشہ اُس تکرار کو کوئی نہ کوئی پیغام سمجھتاہے اور اسے ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرتارہتاہے۔ اِس کیفیت سے وقت کا بڑے سے بڑا ملحد بھی نہیں بچ سکتا۔آپ روز گھر سے نکلیں اور روز ایک بادل آپ کو دُور سے نظر آئے جو ہرروز ایک گھوڑے کی شکل میں ہو اور آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک جہاز کی شکل بنالے تو کب تک آپ اِس بات سے انکار کرینگے کہ وہ کوئی میسج نہیں ہے؟ دس بار کہ بیس بار؟ توھم میں ’’تکرار‘‘ کا ہونا ضروری ہے۔ حالانکہ وہ بادل ہر روز، اوروں کو بھی تو ویسے ہی نظر آنے چاہییں جیسے آپ کو دکھائی دیتےہیں۔

کسی انسان کے اعصاب جس قدر کمزور ہوتے ہیں اتنے ہی کم ’’تکرار‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی انسان کے اعصاب جتنے زیادہ مضبوط ہوتےہیں واقعہ میں اتنے ہی زیادہ تکرار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہی ’’تکرار‘‘ ہی تو ہے جسے ہم نام نہاد’’سائنسی طریقِ کار‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ سائنس کیا ہے؟ کسی بھی تجربے کو دہرایا جاسکے۔ اگر آپ نے آکسیجن کے ایک ایٹم کے ساتھ ہائیڈروجن کے دو ایٹم ملائے اور پانی بن گیا اور یہ عمل، آپ نے بار بار دہرایا اور ہر بار پانی بنا، تو ہم کہیں گے کہ آپ نے ’’سائنس سرانجام دی ہے‘‘۔ یہی تکرار توھّم کا بھی خاصہ ہے۔ اس سائنسدان کو کمزور اور نالائق سمجھا جاتاہے جس کا تجربہ ’’تکرار‘‘ کے کرائی ٹیریا سے کامیابی کے ساتھ نہ گزرسکے۔ بالکل ویسے جیسے کمزور اعصاب کا مالک شخص اپنے توھّم میں کم سے کم تکرار دیکھ کر بھی معنی تلاش کرنے بیٹھ جاتاہے۔ سائنسی تجربے اورتوھّم کے شخصی تجربے میں فرق یہ ہے کہ اوّل الذّکر کو دوسرے انسانوں کی موجودگی میں بھی سرانجام دیا جاسکتاہے۔ ثانی الذکر کو دوسرے انسانوں کی موجودگی میں اس لیے سرانجام نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ فرد کا ذاتی، نفسیاتی تجربہ ہے۔

انسان کے ذاتی، نفسیاتی تجربے میں توھّم ایک لازمی عنصر کے طور پر موجود رہتا ہے۔ اُسے نکالنا ممکن نہیں۔ ایک موٹرمکینک کام کے دوران، ایک ڈرائیور، ڈرائیونگ کے دوران، ایک ٹیچر کلاس میں، ایک سائنسدان لیبارٹری میں، غرض کوئی بھی اپنی ذاتی، نفسیاتی واردات کو نظر انداز نہیں کرسکتا اگر اس میں ’’تکرار‘‘ کا عنصر ہو۔ آپ کو لوہا راس آتاہے۔ آپ کو کوئی ہندسہ راس آسکتاہے، کوئی لَکی نمبر۔ آپ کو کسی شخص کا چہرہ دیکھ کر دن خراب ہوجانے کا ڈر ہوسکتاہے۔ آپ کو نظر لگ سکتی ہے۔ آپ کو اپنے اندرونی نفسیاتی حوادث کی بدولت ہزارہا ایسی کیفیات کا سامنا ہوسکتاہے جو کسی اورکو نہ ہوتی ہوں۔ ہم اپنے ساتھ تو بہت ذاتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں۔ ہم سجدے کی حالت میں، ویران اور خاموش سڑک پر آوارگی سے چلتے ہوئے، بند کمرے میں یا واش روم میں اپنے ساتھ کتنے’’ قریبی‘‘ ہوتے ہیں ؟ ہم آئینے کے سامنے اپنے ساتھ کتنے قریبی ہوتے ہیں۔ کتنی ہی تکراروں سے ہم واقف ہیں جو بچپن سے ہمارے ساتھ پیش آئیں۔ ہم کیوں نہ اپنے ہاتھ میں ہونے والی کھجلی کو کوئی میسج سمجھیں گے؟

اچھا! مان لیا کہ معروف قسم کے توھّمات سے آپ چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ آپ کو کٹر قسم کا وہابی ہونا پڑیگا۔ لیکن کیا وہ توھّمات جوفقط آپ اپنے ساتھ کرتےہیں، ان سے بھی چھٹکارامل جائے گا؟

’’سلیم کا فون جب بھی صبح صبح آتاہے، میرے ساتھ دن میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور پیش آتاہے‘‘

کیا اِس قسم کے ذاتی توھّمات سے آپ ’’کٹر وہابی‘‘ ہوکر بھی بچ پائینگے؟ ایسے تمام واقعات کو ہم فقط ایک خاص قسم کی ’’تکرار‘‘ کی وجہ سے ہی فطرت کی طرف سے اپنے لیے خاص پیغامات سمجھتے ہیں۔ ایسا ہرکوئی سمجھتاہے۔ کیا یہ واقعی فطرت کی طرف سے پیغامات ہوتے ہیں ؟

غالباً اقبال نے سچی وحی کی تین نشانیاں بتائی ہیں،

۱۔ اُس کی صداقت پر خود کو فوری یقین آجائے۔

۲۔ وہ کسی کے سامنے بیان کی جائے تو اس کی صداقت پر سننے والے کو فوری یقین آجائے۔

۳۔ اس کےنازل ہوتے ہی سابقہ عقیدہ فوراً ختم ہوجائے چاہے کتناہی پرانا اور مقدس کیوں نہ ہو۔
سوال یہ ہے کہ کیا فطرت کی طرف سے سچ مچ پیغامات نہیں آسکتے؟ اس بات کی تصدیق کا کوئی معلوم طریقہ نہیں۔ کیونکہ،

’’ یہ سائنس یعنی توھّمات، روحانی واردات، صوفیانہ تجربہ وغیرہ ‘‘

’’اور دوسری سائنس یعنی فزکس، کیمسٹری، بیالوجی وغیرہ‘‘

فقط اِسی بنا پر جُدا ہیں۔ ایک میں ’’تکرار‘‘ گواہوں کی موجودگی میں اور دوسری میں ’’تکرار‘‘ ذاتی، نفسیاتی تجربہ کے طور پر ممکن ہے۔ کسی کی ذاتی واردات پر گواہ نہیں لائے جاسکتے۔ ہاں ! کسی کی ذاتی واردات کے عملی اطلاق پر گواہ لائے جاسکتے ہیں۔ اس قضیہ کی رُو سے فزکس، کیمسٹری، بیالوجی بھی نصف روحانی اور نصف جسمانی سائنس ہے۔ کیونکہ آئن سٹائن کی ذاتی، نفسیاتی واردات کے عملی اطلاق پر گواہ لانا ممکن ہوگیا تھا سو وہ تسلیم شدہ سائنس بن گئی تھی۔

اگر ذاتی واردات کے عملی اطلاق پر گواہ لائے جاسکیں تو ذاتی واردات سائنس بن جاتی ہے۔ اس اصول کے تحت، جب کسی نبی کی ذاتی واردات کے عملی اطلاق پر گواہ جمع ہوجائیں گے تو ہم اسے بھی سائنس کہہ سکتےہیں۔ جیسے اسلام کو ہم ایک سائنس کہہ سکتے ہیں کیونکہ اسلام کا وجود رسول اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی واردات کے عملی اطلاق پر بہت سے گواہوں کی شہادت کے بعد ممکن ہوا۔اب چونکہ نیچرل سائنسز اور سوشل سائنسز میں ایک خاص قسم کا فرق ہے سو وہی فرق اس معاملے کی پیچیدگی کا باعث بنتااور دونوں سائنسز کو ایک دوسرے سے دُور رکھتاہے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close