دعوت

دارِارقم ۔ اولین مرکزِ دعوت

سیرتِ نبوی کے مکی عہد میں ’دارارقم ‘کوغیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ اُس زمانے میں، جب کہ دعوت اسلامی کے ننھے سے پودے میں کونپلیں پھوٹ رہی تھیں اورسعیدروحیں حلقہ بہ گوش اسلام ہورہی تھی،اس گھرنے نہ صرف یہ کہ انھیں تحفظ فراہم کیا اورسردارانِ قریش کے ظلم وستم کا شکار ہونے سے بچایا،بلکہ ان کی تعلیم وتربیت کا بھی موقع فراہم کیا اوررسول اللہﷺ پر نازل ہونے والے اللہ کے کلام کوسننے اورآپؐ سے دین سیکھنے کا معقول نظم کیا۔حقیقت یہ ہے کہ بیش تراکابرصحابہ دارارقم ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ 1؂ اسی اہمیت کی بناپر مورخین نے دارارقم میں رسول اللہﷺ کے قیام کوسیرت نبوی کے اہم ترین واقعات میں شمارکیاہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جب وہ مکی عہد کی ابتدامیں کسی شخص کے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ کرتے ہیں تویوں لکھتے ہیں:
’’أسلم قبل دخول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارالأرقم وقبل أن یدعوفیہا۔‘‘ 2؂
’’وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم کومرکزِ دعوت بنانے سے پہلے اسلام لائے۔‘‘
دارِارقم کی اس اہمیت کے باوجودمورخین اورسیرت نگاروں نے اسے تفصیلی بحث وتحقیق کا موضوع نہیں بنایاہے۔ اس معاملے میں قدیم سیرت نگاروں کوتومعذورقراردیاجاسکتاہے کہ واقعاتِ سیرت محض زمانی ترتیب سے بیان کردینا عموماً ان کے پیش نظر رہا ہے، لیکن مقامِ حیرت ہے کہ جدیدسیرت نگاروں نے بھی اسے درخورِاعتنانہیں سمجھا ہے اور اس پر دادِ تحقیق نہیں دی ہے۔
دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دورمیں ایک خفیہ مرکز بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟اس کے لیے دارِارقم کوکیوں منتخب کیاگیا؟اسے مرکزبنانے سے قبل کتنے افراداسلام قبول کرچکے تھے؟رسول اللہﷺ نے اس میں کتناعرصہ قیام کیا؟اس مدت میں مزیدکتنے افرادکوقبولِ اسلام کی سعادت حاصل ہوئی؟دارِارقم میں رسول اللہﷺ اوردیگرصحابہ کی مصروفیات کیارہتی تھیں؟یہ اوراس طرح کے دیگرسوالات ہیں،جن کے جوابات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔اس موضوع پر تحقیق کی ضرورت یوں بھی ہے کہ قدیم کتبِ سیرت میں اس سلسلے کی جومعلومات ملتی ہیں وہ باہم متضادہیں اوران سے کنفیوژن پیداہوتاہے۔ ضرورت ہے کہ بحث وتحقیق کے ذریعے ان کی تنقیح کی جائے اورصحیح صورت حال واضح کی جائے ۔
مکی عہد کی ابتدامیں ایک خفیہ مرکزکی ضرورت
منصبِ نبوت سے سرفرازہوتے ہی اللہ کے رسولﷺ نے دعوت کاکام شروع کردیاتھا اورآپؐ کے قریب ترین لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے۔ اصحابِ سیر نے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں حضرت خدیجہؓ ،حضرت ابوبکرؓ،حضرت علیؓ اورحضرت زیدبن حارثہؓ کے نام لیے ہیں۔ قرین قیاس ہے کہ آپؐ کی تین صاحب زادیاں(حضرت زینبؓ،حضرت رقیہؓاورحضرت ام کلثومؓ)بھی ،جواس وقت سنِ شعورکوپہنچ گئی تھیں،ضروراپنی والدہ کے ساتھ ایمان لے آئی ہوں گی۔لیکن آپؐ نے حکمتِ عملی یہ اختیارفرمائی کہ ابتدامیں اعلانِ نبوت کرنے اورلوگوں کوکھلے عام اسلام کی دعوت دینے سے احتیاط برتی اورخفیہ طریقے سے اورانفرادی طورپرصرف ان لوگوں تک اسلام پہنچاتے رہے ،جن کے بارے میں امیدہوتی تھی کہ وہ نہ صرف یہ کہ اسے قبول کرلیں گے ،بلکہ اسے اس وقت تک راز میں رکھیں گے ،جب تک کہ دعوتِ عام کا حکم نہ آجائے۔
حضرت ابوبکرؓ اپنی قوم میں بڑی عزت ووجاہت کے مالک تھے۔ تجارت پیشہ ہونے کی وجہ سے ان کے بڑے وسیع تعلقات تھے۔ ان کی کوششوں سے بہت سے حضرات حلقہ بہ گوش اسلام ہوئے۔ علامہ ابن کثیر ؒ نے ان کے ذریعہ اسلام قبول کرنے والوں میں خاص طورپر عثمان بن عفان،زبیربن عوام،طلحہ بن عبیداللہ،سعدبن ابی وقاص،عبدالرحمن بن عوف،عثمان بن مظعون،ابوعبیدہ بن الجراح، ابوسلمہ بن عبدالاسد اورارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہم کے نام ذکرکیے ہیں۔3؂ پھران لوگوں نے اپنے حلقۂ احباب میں کام کیا اوران کی کوششوں سے خاصی بڑی تعدادمیں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔
توحیدکے اقراراورشرک وبت پرستی سے براء ت کے بعد اللہ تعالی کی جانب سے سب سے پہلے نماز فرض کی گئی۔ رسول اللہﷺ پر پہلی مرتبہ وحی نازل ہونے کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کووضواورنماز کی تعلیم دی اورآپ نے اسے اسلام قبول کرنے والوں کوسکھایا۔ یہ لوگ مکہ کی سنسان گھاٹیوں میں چھپ کرنمازپڑھتے تھے،تاکہ کسی کوخبرنہ لگنے پائے۔کچھ ہی عرصہ کے بعد ایک دن اچانک ایک ایسا واقعہ پیش آگیا،جس سے اندیشہ پیداہوگیاکہ نہ صرف یہ کہ راز داری باقی نہیں رہ سکے گی، بلکہ مشرکین اوراہلِ ایمان کے درمیان تصادم شروع ہوجائے گا۔ ہوایہ کہ مسلمان مکہ کی ایک گھاٹی میں نماز اداکررہے تھے۔ انھیں مشرکین کے ایک گروہ نے دیکھ لیا۔ وہ انھیں برابھلاکہنے لگے۔ نوبت لڑائی تک جاپہنچی۔حضرت سعدبن ابی وقاصؓ نے ایک شخص کو ،جس کا نام روایتوں میں عبداللہ بن خطل تیمی یا عقبہ بن ابی معیط بیان کیا گیا ہے،اونٹ کی ایک ہڈی کھینچ کرماردی،جس سے اس کا سرپھٹ گیا۔4 ؂
اس واقعہ کے بعد رسول اللہﷺ نے ضرورت محسوس کی کہ کوئی ایسی جگہ متعین کردی جائے جہاں مسلمان اکٹھا ہوکر نماز اداکرسکیں اورجولوگ اسلام قبول کرتے جائیں وہ وہاں رہ کردین کی بنیادی تعلیم حاصل کرسکیں اوروہ جگہ مشرکین کی نگاہوں سے اوجھل بھی ہو،تاکہ وہاں پہنچ کرانھیں فتنہ وفسادپھیلانے کا موقع نہ ملے۔ حضرت ارقمؓ نے اس کام کے لیے اپنا مکان پیش کیا اوراس کی مخصوص پوزیشن کی وجہ سے رسول اللہ ﷺنے ان کی پیش کش قبول کرلی۔ اس طرح ان کا گھردعوت وتبلیغ کا اولین مرکز بن گیا۔
مولانا سیدجلال الدین عمری نے لکھا ہے:
’’اب ان لوگوں کے لیے جواسلام قبول کررہے تھے،ایک ایسی جگہ کی ضرورت محسوس ہورہی تھی جوان کا مرکزہو،جہاں وہ قرآن مجید کی تعلیم کے لیے جمع ہوسکیں جواس وقت حسبِ حال وہاں نازل ہورہاتھا،جہاں وہ رسول اللہﷺ سے ،جوسرچشمۂ ہدایت تھے، قدم قدم پر رہ نمائی حاصل کرسکیں،جہاں ان کی فکری،اخلاقی اورعملی تربیت ہوسکے،جہاں وہ باہم مل کر اس دین کو پھیلانے کے لیے باہم مشورہ کرسکیں اورتدابیرسوچ سکیں اورجہاں وہ ایک دوسرے سے مل کرعزم وہمت اورصبروثبات کا درس حاصل کرسکیں۔اس کے لیے حضرت ارقمؓ نے اپنامکان پیش کردیا، جوآبادی سے کسی قدر ہٹ کر صفاکی پہاڑی پرواقع ہونے کی وجہ سے اس مقصد کے لیے بہت موزوں تھا۔‘‘5 ؂
حضرت ارقمؓ ۔ مختصرحالاتِ زندگی
دارِارقم کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس صحابئ جلیل کی طرف ہے، اسے تاریخ الارقم بن ابی الارقم کے نام سے جانتی ہے۔
حضرت ارقمؓ کا تعلق قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان بنومخزوم سے تھا۔ ان کے والد کانام عبدمناف تھا، لیکن شہرت ابوالارقم کی کنیت سے ملی۔ والدہ کے نام اورخاندان کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض روایات کے مطابق ان کا نام تماضربنت حذیم تھا اوروہ بنوسہم سے تھیں۔ کچھ دوسری روایتوں میں ہے کہ ان کانام امیمہ تھا اوروہ عبدالحارث کی بیٹی تھی ۔بعض حضرات نے ان کا نام صفیہ اوران کے باپ کا نام حارث لکھا ہے اوران کا تعلق بنوخزاعہ سے بتایاہے۔حضرت ارقمؓ کی کنیت ابوعبداللہ اورابوعبدالرحمن تھی۔ ان کا سلسلۂ نسب یہ ہے: الارقم بن ابی ارقم عبدمناف بن اسدبن عبداللہ بن عمروبن مخزوم۔
حضرت ارقمؓ السابقون الاوّلون میں سے ہیں۔ انھیں بعثتِ نبوی کے بعد ابتدائی زمانے میں قبولِ اسلام کی سعادت حاصل ہوگئی تھی۔ ابن سعدؒ اورحاکم ؒ نے انھیں ساتواں مسلمان(سابع سبعۃ)قراردیاہے۔ ابن حجرؒ نے لکھا ہے کہ وہ دس افرادکے بعد اسلام لائے۔ ابن الاثیرؒ نے انھیں بارہواں مسلمان بتایاہے۔انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ارقمؓ،حضرت عبیدہ بن حارثؓ اورحضرت عثمان بن مظعونؓ ایک ساتھ ایمان لائے تھے۔اس وقت حضرت ارقمؓ کی عمرصرف سولہ سال تھی۔
سیرت نگاروں نے صراحت کی ہے کہ حضرت ارقمؓ غزوۂ بدر،غزوۂ احداوربعد کے تمام غزوات میں شریک رہے۔ البتہ عہدِخلفائے راشدین میں ان کی کسی سرگرمی کا پتہ نہیں چلتا۔ حضرت معاویہؓ کے عہدِخلافت میں53ھ یا 55ھ میں پچاسی (85)سال کی عمرمیں ان کا انتقال ہوا۔ان کی وصیت کے مطابق حضرت سعدبن ابی وقاصؓ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔6 ؂
دارِارقم کو مرکزِ دعوت بنائے جانے کی وجوہ
دارِارقم کومرکزِ دعوت بنائے جانے کے وقت تک بہت سے صحابہ اسلام قبول کرچکے تھے۔ وہ مختلف خاندانوں اوربطون سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں سے بعض خاندانی وجاہت اورمال ودولت کے اعتبارسے بھی بڑے مرتبے پرتھے، لیکن اللہ کے رسولﷺ نے ان میں سے کسی کے گھرکومرکزِ دعوت بنانے کے بجائے حضرت ارقمؓ کے گھرکواس کام کے لیے کیوں پسندفرمایا؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس وقت کے نازک حالات کے پیش نظرآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مرکزِ دعوت کوخفیہ رکھناچاہتے تھے اوراس اعتبارسے حضرت ارقمؓ کا گھربہت موزوں تھا۔ اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:
اول:حضرت ارقمؓ ابھی تک اپنے قبولِ اسلام کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھے اورمشرکین کواس کی خبرنہ لگ سکی تھی۔ اس بناپر کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ ان کے گھرمیں اللہ کے رسولﷺ اوراہلِ ایمان جمع ہوسکتے ہیں۔
دوم:حضرت ارقمؓ قبولِ اسلام کے وقت نوعمرتھے۔ اس وقت اگرمشرکینِ قریش یہ جانناچاہتے کہ اللہ کے رسول اپنے اصحاب کے ساتھ کہاں ملتے ہیں تووہ صحابۂ بنی ہاشم ،دیگر اکابر صحابہ ،حضرت ابوبکرؓ یا خود حضورکے گھرمیں آپؐ کوتلاش کرتے ، حضرت ارقمؓ جیسے نوعمرصحابی کے گھرکی طرف ان کاذہن نہیں جاسکتاتھا۔
سوم:حضرت ارقمؓ کا تعلق بنومخزوم سے تھا اوراس زمانے میں بنومخزوم اوربنوہاشم کے درمیان مخاصمت ومنافست اپنے شباب پر تھی۔ اس بناپر کسی شخص کے ذہن میں یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ اسلام قبول کرنے والے نئے افرادکی تربیت کے لیے بنومخزوم کے کسی فرد کے گھرکا انتخاب ہوسکتاہے۔
چہارم: حضرت ارقمؓ کا یہ گھرصفاکی پہاڑی کے پاس تھا،جوحرم میں قریشی مجالس سے کافی فاصلے پر اورالگ تھلگ تھا۔ مزیدبرآں اس کا محل وقوع صفاکا زیریں حصہ تھا، اس لیے اس گھرمیں داخل ہونے اوریہاں سے نکلنے والوں پر نظررکھنا آسان نہ تھا۔ اس کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس کی بناوٹ ایسی تھی کہ باہر سے کسی شخص کے لیے یہ جانناممکن نہ تھا کہ اندرکیاہورہاہے؟7؂
پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی نے دارِ ارقم کے انتخاب کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا ہے:
’’اس کے انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک سربرآوردہ متمول صحابی حضرت ارقم بن ابی ارقمؓ مخزومی کا مکان تھا۔اور اسی نسبت سے دارِ ارقم کہلاتا تھا اور صفا و مروہ کی تلہٹی میں مکانات اور آبادی سے الگ تھلگ واقع تھا۔ وہ بلا خلل تعلیم و تربیت، کردار سازی، اور اسلام پروری کے لیے انتہائی مناسب مقام تھا کہ بالارادہ ہی وہاں پہنچا جا سکتا تھا‘‘8 ؂
دارِارقم کوخفیہ رکھنے کی کوششیں
ان وجوہ سے دارِارقم ہمیشہ مشرکینِ قریش سے پوشیدہ رہا اوران کواس کی خبرنہ لگ سکی کہ اہلِ ایمان اس میں اللہ کے رسولﷺ سے آکرملتے اورآپ سے دین سیکھتے ہیں۔ چنانچہ روایات میں مذکورنہیں کہ کبھی انھوں نے اس پر دھا وابولاہو۔
صحابۂ کرام پوری کوشش کرتے تھے کہ مشرکین کودارِارقم میں رسول اللہﷺ اوراہلِ ایمان کے اکٹھاہونے کی خبرنہ لگنے پائے۔ اس کے لیے وہ دارِارقم جاتے وقت اوروہاں سے نکلتے وقت خصوصی طورپر احتیاطی تدابیراختیارکرتے تھے۔ کتبِ سیرت میں دو واقعات مذکورہیں جن سے مسلمانوں کی غایتِ احتیاط کا پتہ چلتاہے:
(1)حضرت ابوذرؓ کا تعلق قبیلۂ غفارسے تھا۔انھیں خبرملی کہ مکہ میں ایک شخص ایک نئے دین کی طرف دعوت دے رہاہے توتحقیق حال کے لیے اپنے بھائی کوبھیجا۔ انھوں نے واپس جاکر جوکچھ بتایااس سے انھیں اطمینان نہیں ہوا توخودحاضرہوئے۔ ان کی ملاقات اتفاقاً حضرت علیؓ سے ہوگئی۔ ان سے حضرت ابوذرؓنے مقصدِسفربیان کیاتوانھوں نے اللہ کے رسولﷺ سے ان کی ملاقات کروانے کا وعدہ کیا۔انھوں نے حضرت ابوذرؓسے فرمایا:’’میں آگے آگے چلوں گا، آپ میرے پیچھے کچھ فاصلے پر رہیے گا۔ اگرمیں کوئی خطرہ محسوس کروں گا تودیوارسے لگ کرجوتاٹھیک کرنے لگوں گا، یا اس طرح بیٹھ جاؤں گا گویا پیشاب کررہاہوں۔ آپ آگے بڑھ جائیے گا۔‘‘9؂ روایت میں دارِارقم کی صراحت نہیں ہے ، لیکن گمان غالب ہے کہ اس زمانے میں اللہ کے رسولﷺ دارِارقم میں تھے اور حضرت علیؓ وہیں حضرت ابوذرؓ کوآپ ؐ سے ملاقات کروانے لے جارہے تھے۔
اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت علیؓ دارِارقم جاتے وقت خاص طورپر اس بات کا دھیان رکھتے تھے کہ دشمنوں میں سے کوئی انھیں دیکھ تونہیں رہاہے۔ اگرانھیں ذرابھی شک ہوتاتواپنا رخ تبدیل کرلیتے تھے۔
(2)ایک مرتبہ سردارانِ مکہ نے حضرت ابوبکرؓ کی بہت زیادہ پٹائی کردی۔ وہ بے ہوش ہوگئے۔ ان کے قبیلہ والوں نے انھیں اٹھاکرگھرپہنچایا۔ ہوش آتے ہی انھوں نے دریافت کیاکہ اللہ کے رسولﷺ اس وقت کہاں ہیں؟گھروالوں نے لاعلمی ظاہرکی توانھوں نے اپنی ماں کو ،جواس وقت تک ایمان نہیں لائی تھیں،حضرت ام جمیل فاطمہ بنت خطابؓ کے پاس بھیجا۔ حضرت فاطمہؓ نے تجاہل سے کام لیا، البتہ کہا کہ وہ ابوبکرؓکے پاس چل سکتی ہیں۔ وہاں پہنچ کرانھیں چپکے سے بتایاکہ اللہ کے رسولﷺ اس وقت دارِارقم میں ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ انھیں اس وقت تک قرارنہ آئے گا جب تک آپؐ کواپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔اس موقع پر راوی کہتاہے:
فامہلتا(ای أم جمیل و أم الخیر)حتی اذا ہدأت الرجل وسکن الناس خرجتابہ، یتکئ علیہما حتی أدخلتاہ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 10 ؂
’’وہ دونوں(یعنی ام جمیل اورحضرت ابوبکرؓ کی والدہ ام الخیر)رکی رہیں،یہاں تک کہ جب لوگوں کی آمدورفت تھم گئی اورسناٹاہوگیا تب وہ دونوں انھیں سہارا دے کر نکلیں، اس حال میں کہ وہ ان دونوں پر ٹیک لے کر چل رہے تھے۔ یہاں تک کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا‘‘
اس سے واضح ہے کہ ان خواتین نے حضرت ابوبکرؓ کواس وقت لے جانامناسب سمجھا جب لوگوں کی ان پر نظرنہ پڑے اوروہ یہ نہ جان سکیں کہ انھیں کہاں لے جایاجارہاہے۔
دارِارقم کو مرکزبنانے سے قبل اسلام قبول کرنے والے صحابہ
سیر الصحابۃ کے مؤلفین نے عہدِمکی میں اسلام قبول کرنے والے اصحابِ رسول کا تذکرہ کیا ہے توساتھ ہی یہ بھی صراحت کی ہے کہ ان میں سے کن اصحاب کورسول اللہﷺ کے دارِارقم کومرکزِ دعوت بنانے سے قبل اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ علامہ ابن حجرؒ نے چھ صحابہ وصحابیات کے ضمن میں اس کی صراحت کی ہے۔11؂ ان کے نام یہ ہیں:
(1)معمربن الحارثؓ (2)عبدالرحمن بن عوفؓ (3)مسعودبن ربیعہؓ (4)سعیدبن زیدؓ (5)اسماء بنت عمیسؓ (6)رملہ بنت ابی عوفؓ
علامہ ابن عبدالبرؒ نے دس صحابہ کے تذکرہ میں اس کی صراحت کی ہے۔12؂ ان میں سے اولین تین نام توابن حجرؒ کے مثل ہیں،بقیہ درج ذیل ہیں:
(4)حاطب بن عمرؓ (5)عامربن فہیرہؓ (6)عبداللہ بن جحشؓ (7)عبیدۃ بن الحارثؓ (8)عیاش بن ابی ربیعہؓ (9) واقد بن الحارثؓ (10)ابوحذیفہ بن عتبہؓ
علامہ ابن الاثیرؒ نے تیرہ صحابہ کے ضمن میں اس کی صراحت کی ہے۔13؂ ان میں سے اولین دس نام ابن عبدالبرؒ کے مطابق ہیں، (صرف واقدبن الحارث کے بجائے واقدبن عبداللہ مذکورہے)بقیہ تین نام یہ ہیں:
(11)ابوسلمہ بن عبدالاسدؓ (12)عثمان بن مظعونؓ (13)عبداللہ بن الارقم المخزومیؓ
سب سے طویل فہرست ابن سعدؒ کی کتاب الطبقات الکبریٰ کی روشنی میں تیارہوئی ہے۔ انھوں نے چھبیس صحابہ وصحابیات (تےئس صحابہ اورتین صحابیات) کے تذکروں میں صراحت کی ہے کہ وہ حضورؐ کے دارِارقم کومرکزِ دعوت بنانے سے قبل اسلام لائے۔14؂ بارہ نام ا بن الاثیرؒ کے مطابق ہیں(تیرہواں نام طبقات ابن سعد میں مذکور نہیں)، بقیہ صحابہ کے نام درج ذیل ہیں:
(13)سعید بن زیدؓ (14)اسماء بنت عمیسؓ (15)رملہ بنت ابی عوفؓ(16)ابواحمد بن جحشؓ (17)عبداللہ بن مسعودؓ (18)خباب بن ارتؓ(19)عامربن ربیعہؓ(20)خنیس بن خذافہؓ(21)ابوعبیدۃ بن الجراحؓ(22)عبداللہ بن مظعونؓ (23)قدامہ بن مظعونؓ(24)جعفربن ابی طالبؓ(25)فاطمہ بنت خطابؓ (26)عبیداللہ بن جحشؓ(یہ صاحب بعدمیں حبشہ میں جاکر مرتد ہوگئے تھے)
اس فہرست کو بھی مکمل نہیں کہاجاسکتا۔ اس لیے کہ اس میں بالکل ابتدا میں اسلام قبول کرنے والوں میں حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ، حضرت زیدبن حارثہؓ ،حضرت ابوبکرصدیقؓ اورحضرت علی بن ابی طالبؓ ،پھرحضرت ابوبکرؓ کی کوششوں سے اسلام لانے والوں : حضرت عثمان بن عفانؓ،حضرت زبیربن العوامؓ،حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ ،حضرت سعدبن ابی وقاصؓ،حضرت ارقم بن ابی ارقمؓ وغیرہ کے نام شامل نہیں ہیں۔
ابن اسحاق ؒ نے ابتدائی دورمیں اسلام قبول کرنے والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے،50صحابہ و صحابیات کے نام گنائے ہیں۔15؂ لیکن ان میں وہ لوگ بھی ہیں جودارِارقم کے مرکزِ دعوت بننے سے پہلے اسلام لائے تھے اوروہ لوگ بھی جنھیں اس کے بعدقبولِ اسلام کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔
دارِارقم میں آکراسلام قبول کرنے والے صحابہ
تذکرہ نگاروں نے کچھ صحابہ کے احوال بیان کرتے ہوئے صراحت کی ہے کہ انھوں نے اس زمانے میں اسلام قبول کیا تھا جب رسول اللہﷺ دارِارقم میں مقیم تھے۔ ایسے چند صحابہ کا تذکرہ ذیل میں کیاجاتاہے:
* ابوبکیربن عبدیالیل کے چاربیٹوں: عاقلؓ ،عامرؓ،خالدؓ اورایاسؓ نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا۔ ابن سعدؒ نے لکھاہے کہ رسول اللہﷺ کے دارارقم میں مقیم ہونے کے بعد ان حضرات نے سب سے پہلے آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کی۔16؂
* طلیب بن عمیرؓرسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زادبھائی تھے۔ انھیں بھی اسی دور میں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ، پھر ان کی کوشش سے ان کی ماں اورآں حضرت ﷺکی پھوپھی حضرت ارویٰ بنت عبدالمطلبؓ بھی مشرف بہ اسلام ہوئیں۔17؂
* حضرت مصعب بن عمیرؓ کومعلوم ہوا کہ اللہ کے رسولﷺ اسلام کی دعوت دے رہے ہیں اوردارِارقم میں مقیم ہیں۔ انھوں نے وہاں آکراسلام قبول کیا۔ وہ اپنی ماں اورخاندان کے لوگوں کے خوف سے اپنا اسلام چھپائے رہے۔ وہ چھپ چھپاکردارارقم آتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک مشرک نے انھیں دیکھ لیا اوران کے گھروالوں کوخبرکردی۔ اس کے بعد ان کی ابتلا وآزمائش کا دورشروع ہوگیا۔18؂
* حضرت عماربن یاسرؓ اورحضرت صہیب بن سنانؓ دونوں نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا۔عمارؓ کی ملاقات صہیبؓ سے دارارقم کے دروازے پر ہوئی۔ پوچھا: یہاں کیوںآئے ہو؟انھوں نے پلٹ کر یہی سوال ان سے کردیا: تم کیوںآئے ہو؟حضرت عمارؓنے جواب دیا:میں حضرت محمدﷺ کے پاس جاکران کی باتیں سننا چاہتاہوں۔صہیبؓ نے کہا: میں بھی اسی ارادے سے آیاہوں۔ دونوں ایک ساتھ گھر کے اندرگئے، آں حضرتﷺ کی باتیں سنیں اوراسلام لے آئے۔ابن سعدؒ نے لکھا ہے کہ ان سے قبل تیس سے کچھ زائد افراداسلام قبول کرچکے تھے۔19؂
بہ ہر حال مورخین اورسیرت نگاروں نے اجمالی طورپر ذکرکیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں قیام کے زمانے میں بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیاتھا:
وفیہا دعاالناس الی الاسلام فأسلم فیہا قوم کثیر 20؂
’’دارِارقم میں قیام کے زمانے میں آپؐ نے لوگوں کواسلام کی دعوت دی تو ان میں سے بڑی تعدادنے اسلام قبول کیا۔‘‘
أسلم فیہا جماعۃ کثیرۃ 21؂
’’دارارقم میں بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔‘‘
دارارقم کتنے عرصے تک مرکزِ دعوت بنارہا؟
درارارقم کے بارے ایک چیز یہ بھی تحقیق طلب ہے کہ اسے کب مرکزِ دعوت بنایاگیا اورکتناعرصہ اسے ایک خفیہ مرکزکی حیثیت سے استعمال کیاگیا؟
جمہوراصحابِ سیرنے بعثتِ نبوی کے بعد اولین مرحلۂ دعوت (خفیہ دعوت وتبلیغ )کوتین سال پر محیط قراردیاہے۔22 ؂ اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے حکمِ الٰہی فَاصدَع بِمَاتُؤمَر(الحجر:94)کے بہ موجب علانیہ دعوت وتبلیغ کا آغازکیا۔ان کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ ایمان لانے والے مکہ کی کسی گھاٹی یا پہاڑی درّے میں اکٹھاہوتے تھے اورمشرکین کی نگاہوں سے چھپ کرنماز پڑھتے تھے۔ ایسے میں ایک موقع پر مکہ کے بعض سرداروں نے انھیں دیکھ لیا تھا اورنوبت لڑائی تک پہنچ گئی تھی ،جس میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایک شخص کو ہڈّی مارکرزخمی کردیاتھا۔ اس کے بعدہی آں حضرت ﷺ نے دارارقم کا انتخاب فرمایاتھا۔لیکن یہ واقعہ کب پیش آیاتھا، اس کی تعیین میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔ مولانا صفی الرحمن مبارک پوری کے نزدیک حضرت سعدبن ابی وقاصؓ کے ساتھ اہلِ ایمان اورمشرکین کے مابین تصادم کا واقعہ 4 نبوی کا ہے۔ اس کے بعد پانچویں سنہ نبوت سے آپؐ نے حضرت ارقمؓ کے مکان کواپنی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ اجتماع کا مرکز بنایاتھا۔23 ؂ یہی بات عرب مصنف ڈاکٹرمہدی رزق اللہ نے بھی لکھی ہے۔24 ؂ اس کے مقابلے میں ان سیرت نگاروں کی رائے زیادہ باوزن معلوم ہوتی ہے جو اس واقعہ کو خفیہ مرحلۂ دعوت ہی کے دورکا قراردیتے ہیں۔ مولانا سیدابوالاعلی مودودیؒ نے لکھا ہے:
’’ڈھائی سال سے کچھ زیادہ مدت ہی گزری تھی کہ ایک ایسا واقعہ پیش آگیا،جس سے اندیشہ ہواکہ کہیں کفارمکہ سے قبل ازوقت تصادم شروع نہ ہوجائے‘‘
پھرابن اسحاق ؒ کے حوالہ سے وہ واقعہ بیان کرنے کے بعد ،جس میں حضرت سعدبن ابی وقاصؓ کے ہڈی کھینچ کرمارنے سے ایک مشرک کاسرپھٹ گیاتھا،لکھا ہے:
’’اس کے بعد حضورؐ نے بلاتاخیرحضرت ارقم بن ابی ارقمؓ کے مکان کو،جوصفاکے قریب واقع تھا، مسلمانوں کے اجتماع اوردعوت وتبلیغ کا مرکز بنادیا،تاکہ مسلمان یہیں جمع ہوکرنماز بھی پڑھیں اورجوجولوگ خفیہ طریقہ سے مسلمان ہوتے جائیں وہ یہاں آتے رہیں۔‘‘ 25 ؂
پروفیسر ےٰسین مظہرصدیقی نے بھی ایک جگہ یہی رائے ظاہر کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:
’’رسول اکرم ؐ نے ایک محفوظ جگہ پرایک اسلامی مرکز قائم کرنے کوسوچا۔۔۔وہ دارِارقم کے نام سے تاریخ اسلامی میں مشہورہے۔ خفیہ تبلیغ کے تقریباً ڈھائی سال گزرنے کے بعد 43نبوی/613ء کے وسط میں یہ مرکز قائم ہوا۔ رسول اکرم ﷺ اسی مرکز میں طویل قیام فرماتے اورمسلمانوں کوتعلیم وتربیت کاکام کرتے ۔‘‘26 ؂
لیکن دوسری جگہ انھوں نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے مکی دور کی ابتدا ہی میں دارِارقم کے مرکزِ دعوت بننے کی بات لکھی ہے:
’’بعض سیرت نگاروں کا خیال ہے کہ خفیہ تبلیغ کے آخری زمانے میں جب مسلمانوں کی تعداد خاصی ہو گئی تھی،اس مرکزِ اسلامی کا انتخاب ہوا۔غالباً بعثتِ نبوی کے دو ڈھائی سال کے بعد، 612ء میں۔لیکن صحیح یہ ہے کہ دارِ ارقم کا مرکز خفیہ تبلیغ کے زمانے کی ابتدا ہی میں بن گیا تھا،کیوں کہ متعدد سابقین اوّلین نے دارِ ارقم ہی میں اسلام قبول کیا تھا۔،،27 ؂
اسی طرح تمام سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ حضرت عمربن الخطابؓ کے اسلام قبول کرنے تک مسلمان حرمِ مکی میں کھلے عام نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اپنے قبولِ اسلام کے بعد وہ رسول اللہﷺ اورصحابہ کو بہ اصرارحرم میں لے گئے اوروہاں علانیہ نماز اداکی ۔جن لوگوں نے انھیں روکنے کی کوشش کی ان سے مارپیٹ بھی کی۔
علامہ ابن کثیرؒ نے لکھاہے کہ صحیح یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کوقبولِ اسلام کی سعادت ہجرتِ حبشہ کے بعد 6نبوی میں حاصل ہوئی تھی۔28 ؂
اس سے معلوم ہوتاہے کہ دارِارقم بعثتِ نبوی کے بعد چھ سال تک مرکزدعوت بنارہا۔
مولانا سیدابوالاعلی مودودیؒ نے اس مدت کواوربھی وسیع کیاہے۔ لکھتے ہیں:
’’اسلام کی تاریخ میں دارِارقم کولازوال شہرت حاصل ہوئی۔تین سال کی خفیہ دعوت کا دورختم ہونے اورعلانیہ دعوتِ عام شروع ہوجانے کے بعدبھی یہ مسلمانوں کا مرکز رہا۔اسی میں حضورتشریف فرمارہتے تھے، یہاں آکرمسلمان آپ کے پاس جمع ہوتے تھے اورشعب ابی طالب کی محصوری تک اس کودعوتِ اسلام میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ‘‘29 ؂
جناب طالب ہاشمی نے لکھا ہے:
’’دارارقم کوحضرت عمرفاروقؓ کے قبولِ اسلام(6نبوت)تک یا شعبِ ابی طالب کی محصوری کے آغاز (7نبوت) تک مرکزِ اسلام کی حیثیت حاصل رہی ، اس کے بارے میں اختلاف ہے‘‘30 ؂
حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام تک مسلمانوں کی تعداد
حضرت عمربن الخطابؓ کے قبولِ اسلام کی جوتفصیلات کتبِ سیرت میں مذکورہیں، ان میں ایک بات یہ بھی لکھی ہوئی ہے کہ اسلام قبول کرنے والوں میں ان کا نمبرچالیسواں تھا۔31 ؂ بہ الفاظ دیگر ان سے قبل صرف انتالیس افرادکوقبول اسلام کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ بعض سوانح نگاروں نے ان افرادکے ناموں کی فہرست بھی درج کی ہے۔32 ؂ لیکن یہ بیان کہ 6 نبوی تک صرف چالیس افراد نے اسلام قبول کیا تھا، صحیح نہیں معلوم ہوتا۔
ابن اسحاق ؒ نے ابتدائی دورمیں اسلام قبول کرنے والوں میں پچاس افرادکے نام تحریرکیے ہیں۔ پھرلکھاہے:
’’ثم دخل الناس فی الاسلام ارسالا من الرجال والنساء حتی فشا أمرالاسلام بمکۃ وتحدّث بہ‘‘33 ؂
’’پھرلوگ ،مرداورخواتین ،اسلام میں جماعت درجماعت داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ مکہ میں اسلام کا ذکر پھیل گیا اوراس کے بارے میں ہرجگہ گفتگوہونے لگی‘‘
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے ایک ذیلی عنو ان ’تین سال کی خفیہ دعوت میں کتنا کام ہوا؟‘قائم کرنے کے بعد اس کے تحت لکھا ہے:
’’اب قبل اس کے کہ ہم علانیہ دعوت کے دور پر کلام شروع کریں،ہمیں یہ دیکھ لیناچاہیے کہ خفیہ دعوت کے اس تین سالہ دور میں کتنا کام ہوا تھا؟ قریش کے کن کن قبیلوں کے کون کون اورکتنے لوگ مسلمان ہوچکے تھے ؟اورقریش سے باہر کے لوگوں اورموالی اورغلاموں اورلونڈیوں میں سے کس کس نے اسلام قبول کرلیاتھا؟ ذیل میں ہم ان کی وہ فہرست دیتے ہیں جوبڑی تلاش وتجسس کے بعد ہم نے جمع کی ہے، کیوں کہ ان کی پوری فہرست کسی جگہ بھی یک جانہیں ملتی‘‘34 ؂
اس کے بعد مولانانے بہ اعتبارقبیلہ 129؍افرادکے نام درج کرنے کے بعد لکھا ہے:
’’اس طرح ابتدائی چارمسلمانوں کے ساتھ ان 129؍ کے ملنے سے ان لوگوں کی کل تعداد 133؍بن جاتی ہے، جو حضورکی دعوتِ عام شروع ہونے سے پہلے آپؐ پر ایمان لاکرجماعتِ مسلمین میں شامل ہوچکے تھے‘‘35 ؂
پروفیسر ےٰسین مظہرصدیقی نے خفیہ تبلیغ کے تین سالہ دور کا تجزیہ کرتے ہوئے سات نکات تحریرکیے ہیں۔ ساتواں نکتہ یہ ہے کہ’’ اس تین سالہ دورکے کل مسلمانوں کی تعدادکئی سو سے اوپر تھی‘‘۔36 ؂
ظاہر ہے کہ دارِارقم کے مرکزِ دعوت بنے رہنے تک اس تعدادمیں خاصا اضافہ ہوگیاتھا۔
دارِارقم ۔بعدکے زمانوں میں
حضرت ارقمؓ نے اپنے اس مکان کووقف علیٰ الاولادکردیاتھا۔ (ابن سعدؒ اورحاکمؒ نے وقف نامہ کی عبارت درج کی ہے37 ؂ ) یہ ان کے خاندان والوں کی نگرانی اوراستعمال میں رہا۔ یہاں تک کہ 140ھ میں دوسرے عباسی خلیفہ ابوجعفرمنصورنے حضرت ارقمؓ کے پوتے عبداللہ بن عثمان اوردیگرورثاء پر دباؤ ڈال کر اسے خریدلیا اوراسے اپنے بیٹے مہدی کودے دیا۔مہدی نے اسے اپنی بیوی خیزران کوتحفہ میں دے دیا۔ اس نے اس مکان کواپنی مرضی کے مطابق ازسرنوتعمیرکرایا،چنانچہ اس سے منسوب ہوکربعد میں یہ مکان دارالخیزران کے نام سے مشہورہوا۔اس میں ایک مسجدبھی تعمیرہوئی تھی۔38 ؂ بعد میں یہ سب علاقہ حرم میں شامل کردیاگیا۔ڈاکٹر محمدحمید اللہؒ کی بعض تحریروں سے متاخر عہد میں اس مکان کی تاریخ پرروشنی پڑتی ہے۔انھوں نے اپنے ایک مقالہ بہ عنوان’تبلیغ رسالت‘(زمانۂ تالیف 1950ء)،جو ان کی کتاب ’رسولِ اکرم کی سیاسی زندگی‘ میں شامل ہے، میں لکھا تھا:
’’حضرت ارقمؓ کا مکان آج بھی موجود ہے اور ترکی دور کے تحفظ کے بعد سعودی دور میں اس کی تزیین بھی ہوئی ہے اور اس تک جانے کی گلی کوبعض دوسرے مکان توڑ کر چوڑا کیا گیا ہے‘‘۔39 ؂
پھر کتاب کے کسی ما بعد ایڈیشن میں اس عبارت پر یہ حاشیہ لگایاہے:
’’اس تحریر کے بعد جب مسجدِ کعبہ کی ابن سعود، سعود اور فیصل کے زمانے میں توسیع ہوئی تو یہ مکان بھی غائب ہو گیا،حتیّٰ کہ مصلّی حنفی بھی، جو قدیم دار الندوہ کی جگہ تھا، ڈھا دیا گیا۔کاش ان مقاموں پر رنگین پتھروں وغیرہ کے ذریعے سے کوئی اشارہ اور کوئی علامت ہوتی۔‘‘40 ؂
دوسری جگہ انھوں نے لکھا ہے:
’’ 1932ء میں یہ گھر ابھی تک موجود تھا۔دروازے پر ایک کتبے نے 1946ء میں یہ نشان دہی کی کہ دار ارقم کو’ دار خیزران‘ کہا جاتا تھا۔اور یہ کہ اسے سلطنتِ عثمانیہ کے ایک مفتی فضل اللہ بن محمد حبیب نے خریدا تھا۔ سعودی حکومت نے اسے پہلے بحال کیا تھا اور وہاں ایک مذہبی اسکول قائم کیا تھا، لیکن بعد ازاں اسے مسجد کو وسیع کرنے کی خاطر گرا دیا گیا، کیوں کہ حاجیوں کی تعداد میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا تھا۔‘ ‘ 41 ؂
دروس و نصائح
جدید سیرت نگاروں نے دارِ ارقم کے واقعہ سے متعدد دروس و نصائح کا استنباط کیا ہے۔ دعوتی زندگی میں یہ دروس بڑی اہمیت رکھتے ہیں:
1۔ اس کا پہلا درس یہ ہے کہ دعوت کے فروغ و استحکام کے لیے ایک مرکز کا قیام ضروری ہے، جہاں بیٹھ کر دعوت کی تنظیم اور منصوبہ بندی کی جا سکے،کارِ دعوت انجام دینے والے باہم مشاورت کر سکیں، وابستگان کی تعلیم و تربیت کا نظم ہو، ان کے مسائل و مشکلات سے واقفیت حاصل کرکے ان کے ازالہ کی تدابیر اختیار کی جا سکیں ۔ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے دارِ ارقم کے بارے میں لکھا ہے:
’’قبولِ اسلام کا مرکز ہونے کے علاوہ وہ تعلیم گاہ،خانقاہ، تربیت گا، مشاورت گاہ، مسجد و مدرسہ، منزلِ نبوی اور بہت کچھ تھا۔وہ مکی دور کا مستقل اور عظیم اسلامی مرکز بن گیا تھا‘‘۔ 42 ؂
2۔ وابستگانِ دعوت و تحریک کے لیے ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً اجتماعات منعقد کرتے رہیں، تاکہ ان کے ایمان میں تازگی آتی رہے اور ان کی دینی معلومات میں اضافہ ہوتا رہے۔ڈاکٹر مصطفیٰ سباعیؒ نے لکھا ہے:
’’داعی کو چاہیے کہ وہ ہرروز یا ہرہفتہ، وقفوں وقفوں سے ،اپنے رفقاء کے اجتماعات منعقدکرتارہے اورانھیں دعوت کے طریق کاراوراس کے اسالیب وآداب کی تعلیم دیتارہے، تاکہ انھیں ایمان ویقین میں زیادتی حاصل ہو۔ اگرعلانیہ اجتماعات عام میں داعی کواپنی جان اوراپنے رفقاء کی ہلاکت کا خطرہ محسوس ہوتواس کے لیے واجب ہے کہ وہ خفیہ طورپر خصوصی اجتماعات منعقدکرے، تاکہ اہل باطل ان کے خلاف سازش یا منصوبہ تیارکرکے انھیں جوروستم کا ہدف نہ بناسکیں اوران کی ہلاکت کا اقدام نہ کرسکیں‘‘۔ 43 ؂
3۔ دعوت کے کسی مرحلے میں راز داری برتنا اور احتیاط ملحوظ رکھناانبیائی مشن کے مزاج کے منافی نہیں ہے، بلکہ یہ حکمت کا عین تقاضا ہے۔
شامی محقق ڈاکٹر سعید رمضان البوطی فرماتے ہیں:
’’اس میں شک نہیں کہ ان ابتدائی سالوں میں اسلام کی دعوت وتبلیغ میں نبی کریم ﷺ کی رازداری کا سبب اپنی جان کا خوف نہیں تھا۔ اس لیے کہ آپؐ کویقین تھا کہ جس اللہ نے آپ کو مبعوث کیا ہے اوراس دعوت کی ذمہ داری دی ہے وہی آپ کی حفاظت فرمائے گا اورلوگوں کوشرسے بچائے گا۔ لیکن اللہ عزوجل نے آپ کو الہام کیا۔۔۔ اوررسول کا الہام وحی کے قبیل سے ہوتاہے ۔۔۔ کہ ابتدائی مرحلے میں دعوت کا آغاز رازداری اورخفیہ طریقے سے کریں اوراسے صرف انہی لوگوں کے سامنے پیش کریں جن کے بارے میں گمان غالب ہوکہ وہ اس پرکان دھریں گے اورایمان لائیں گے۔ اپنے اس عمل کے ذریعے آپ نے کارِ دعوت انجام دینے والوں کوایک اہم تعلیم دی ۔ آپ نے انھیں احتیاط ملحوظ رکھنے اورظاہری اسباب اختیارکرنے کی تلقین کی اورواضح کیا کہ دعوت کے اہداف تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل اختیارکرنا عقل سلیم کا تقاضا ہے۔اس سے اشارہ ملتاہے کہ دعوتِ اسلامی کے علم برداروں کوہرزمانے میں دعوت کے اندازمیں لچک رکھنی چاہیے۔ جس زمانے سے ان کا تعلق ہواس کے مطابق دعوت پیش کرنے میں، جہاں جیسی ضرورت ہو،رازداری ،اعلان،نرمی یاسختی کوملحوظ رکھنا چاہیے‘‘۔44 ؂
4۔اگر جان کا خطرہ ہو یا ایمان کے نتیجے میں تشدد کا شکار ہونے کا اندیشہ ہو تو کوئی ایسی جائے پناہ تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں،جہاں رہ کر جان بچائی جا سکے اور ایمان کی حفاظت کی جا سکے۔ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی فرماتے ہیں:
’’اگرداعی کومحسوس ہوکہ کفارکی فتنہ پردازی کے باعث اس کی جماعت کے لوگوں کی زندگیاں اوراعتقادات خطرے کا شکارہیں تواسے چاہیے کہ وہ ان کے لیے ایسا مامن تلاش کرے جہاں وہ اہل باطل کی سرکشی اورظلم وزیادتی سے امان حاصل کرسکیں اوریہ چیز داعیان کے جذبۂ قربانی کے منافی نہیں ہے۔ اگرداعیان کی افرادی قوت کم ہوتواہلِ باطل ان کوموت کے گھاٹ اتارکران کی تحریک کوکچل سکتے ہیں۔ اس لیے داعیان کوچاہیے کہ وہ ایسے ناسازگار حالات میں اپنی دعوت اوروجود کوبچاکرکسی دارالامان کی طرف نکل جائیں، تاکہ ان کی دعوت کواستمراراورنشرواشاعت کو ضمانت حاصل ہوجائے‘‘۔ 45 ؂
ایک مختلف نقطۂ نظر
جدید سیرت نگاروں میں جناب خالد مسعود مؤلف ’حیات رسولِ امّی‘نے دارِ ارقم کے بارے میں ایک ایسا نقطۂ نظر پیش کیا ہے، جو قدیم و جدید تمام سیرت نگاروں سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رسول اللہﷺ کی دعوت کبھی خفیہ نہیں رہی۔ یہ بات آپ کے تبلیغی مشن سے میل نہیں کھاتی۔ مکی عہد کو خفیہ اور علانیہ دعوت کے مراحل میں تقسیم کرنا سراسر غلط ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ بات حیرت انگیز ہے کہ رسول اللہ ﷺ جسے عظیم المرتبت خاتم الانبیاء کے بارے میں آپ کے سیرت نگاروں نے یہ تأثرکیسے پھیلادیا اورامّت نے اس کو قبول کیسے کرلیا کہ بعثت کے بعدتین سالوں تک آپ نے خفیہ تبلیغ کی۔یہ بات رسولوں کی سنت سے مطابقت نہیں رکھتی اورحقائق کے بھی منافی ہے۔ اگرآپ نے قریش کی مخالفت کے خوف سے ایسا کیا توکیا اللہ تعالی کی وہ حفاظت آپ کوحاصل نہ تھی جوتمام رسولوں کوحاصل رہی ہے؟ پھر یہ سوال بھی پیداہوتاہے کہ تین سالوں کے بعد جب آپ نے علانیہ تبلیغ شروع کی، کیا اس وقت قریش کی عداوت ختم ہوچکی تھی؟ یا کیا اس عرصہ کے درمیان میں آپ نے چوری چھپے اتنی نفری مہیاکی تھی کہ آپ قریش کے مدِّمقابل بن کرآسکتے ؟ تاریخ گواہ ہے کہ ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے۔ اگریہ مان لیاجائے کہ آں حضرت ﷺ نے اس عرصہ میں دعوت کولوگوں کے علم میں لانے میں رکاوٹ پیداکی تو یہ اللہ تعالی کی ڈالی ہوئی ذمہ داری کے اداکرنے میں کوتاہی تھی ،جوحضورؐ کی عظمت وشان کے منافی ہے۔ خفیہ تبلیغ کی کوئی اورحکمت سیرت نگاربیان نہیں کرتے ۔ ہمارے نزدیک آپ ؐ کی جدوجہد کا کوئی دورخفیہ نہیں رہا‘‘۔46 ؂
اس کے بعد ابتدائی عہد میں ایمان لانے والوں میں سے 35 ؍صحابہ و صحابیات کے نام درج کرنے کے بعد لکھا ہے:
’’سیرت کی قدیم ترین کتابوں کے مطابق نبوت کے پانچویں سال تک مسلمانوں کی تعدادسواسو سے زیادہ ہوچکی تھی۔ سوال پیداہوتاہے کہ بالکل ابتداہی میں قریش کے تمام خاندانوں کے اچھے افرادکومتأثرکرکے ان کے دلوں کوجیت لینے والی دعوت کیا خفیہ تھی؟ اوراتنے لوگوں کا اسلام کیا مخفی رہ سکتاتھا کہ قریش کی لیڈرشپ کوتین سالوں تک کا نوں کان خبرنہ ہوئی کہ وہ اس آنے والے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوئی تدبیر کرسکتے؟‘‘47 ؂
پھر اگر بعثت کے ابتدائی زمانے میں خفیہ دعوت کا معاملہ نہیں تھا تو رسول اللہﷺ اور ایمان لانے والے صحابۂ کرام دارِ ارقم میں کیوں جمع ہوتے تھے ؟اس کا جواب خالد مسعود صاحب یہ دیتے ہیں:
’’دارِارقم کے انتخاب کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ بیت اللہ سے کوہِ صفاکی طرف یعنی جانبِ جنوب میں تھا۔ اس گھرمیں نماز پڑھتے ہوئے خانۂ کعبہ (ابراہیمی قبلہ) اوربیت المقدس(اہل کتاب کا قبلہ)دونوں کوبیک وقت قبلہ بناناممکن تھا۔ چوں کہ قبلہ کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح حکم نازل نہیں ہواتھا۔ نبی ؐ نے اہلِ کتاب کے معروف قبلہ کو اپنے اجتہاد سے اختیارکرلیا۔ آپ کوابراہیمی قبلہ سے علےٰحدگی بھی ناگوارتھی ، اس لیے آپ دونوں قبلوں کوجمع کرتے۔ آپؐ کا طریقہ مسجدحرام کے اندربھی یہی تھا کہ آپ رکنِ یمانی اورحجرِاسودکے درمیان کی دیوارکوسامنے رکھ کر نماز اداکرتے تھے، تاکہ دونوں قبلہ جمع ہوجائیں‘‘۔48 ؂
راقمِ سطور کا احساس ہے کہ یہ تاریخ نویسی اور سیرت نگاری نہیں ، بلکہ بے بنیاد دعووں اور نام نہاد استنباطات کی روشنی میں تاریخ گھڑ نا ہے۔ حدیث، سیرت ، تراجمِ صحابہ اور تاریخ کی تمام کتابیں صراحت کرتی ہیں کہ بعثت کے بعد کچھ عرصہ رسول اللہ ﷺ نے انفرادی طور پر،رازداری کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا کام کیا، پھر علانیہ دعوت شروع کی۔ یہ کسی خوف یا مخالفین کی جانب سے تشدد اور ایذا کے اندیشے سے نہ تھا، بلکہ حکمت پر مبنی ایک منصوبہ بند عمل تھا۔ سیرت میں رازداری برتنے اور غایت درجہ احتیاط ملحوظ رکھنے کے واقعات کثرت سے مروی ہیں۔ یہ واقعات ابتدائی زمانے سے لے کرآخری دور تک کا احاطہ کرتے ہیں۔ دارِ ارقم کے علاوہ بیعتِ عقبہ اولیٰ و ثانیہ، سفرِ ہجرتِ مدینہ، غزوۂ بدر، غزوۂ احزاب اور سفرِ غزوۂ تبوک وغیرہ اس کی روشن مثالیں ہیں۔ اس بدیہی حقیقت کا انکار کرکے دارِ ارقم کو مرکز بنانے کی جو وجہ موصوف نے تحریر کی ہے وہ خود ساختہ ہے اور سورۂ یونس کی آیت87 سے جو استدلال کیا ہے وہ مو شگافی کے سوا کچھ نہیں۔مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی نے اس موضوع پر بہت اچھی بحث کی ہے ،لکھتے ہیں:
’’سارے سیرت نگاروں کاکہنا ہے کہ تبلیغِ دین تین سال تک خفیہ خفیہ ہوتی رہی، جس کا مرکز دارِارقم بن ابی ارقم تھا۔ اہل اسلام اپنی نمازیں بھی پہاڑی گھاٹیوں میں یادوسرے پوشیدہ مقامات میں اداکرتے تھے۔ خفیہ تبلیغ کے تعلق سے یہ سوال کیاجاسکتاہے کہ کیا یہ انداز اہلِ کفرکے خوف یا اہلِ اسلام کی بزدلی پر مبنی تھا؟ شجاعت ومردانگی اورحق پرستی کا تویہ تقاضاہوناچاہیے تھا کہ اول روز ہی سے اعلانِ حق کردیاجاتا اورکسی طاقت سے کوئی خوف نہ ہوتا، خواہ نتیجہ کچھ بھی ہوتا۔ظاہراً توصورتِ حال ایسی ہی نظرآتی ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ اندازِ خفامبنی برخوف نہ تھا، بلکہ تقاضائے حکمت تھا۔زندگی میں بے شمار مراحل ایسے آتے ہیں جب دو قدروں کا باہم ٹکراؤ ہو جاتا ہے اور وہ ایسا موقع ہوتا ہے کہ کسی ایک کو مقدّم اور دوسرے کو موخّرکرنا پڑتا ہے اور اس تقدیم و تاخیر میں انسانی عقل و فراست امتحان میں پڑ جاتی ہے۔ انسانی زندگی میں محض خیر و شر ہی کی کش مکش نہیں ہوتی، بلکہ بسا اوقات دو خیروں اور دو شرّوں کی کش مکش بھی اسی طرح سامنے آجاتی ہے کہ کسی ایک ہی کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت خیر کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ دو شرّوں میں کم تر کو اور دو خیروں میں انفع کو اختیارکر لیا جائے۔حضور کی بصیرت نے ان دو خیروں۔۔۔جرأت مندانہ اعلان اور حکیمانہ پوشیدگی۔۔۔ میں انفع و اصلح کو اختیار فرمایا۔ اظہارِ شجاعت کا موقع ہر وقت نہیں ہوتا۔ اگر اس کا بے موقع استعمال ہو تو یہ مردانگی ’تہوّر‘بن جاتی ہے۔ شجاعت اور تہوّر میں وہی فرق ہے جو رحم اور بزدلی میں، سخاوت اور اسراف میں یا کفایت شعاری اور بخل میں ہے۔‘‘ 49 ؂
سیرتِ نبوی اور تاریخِ اسلام میں دارِ ارقم کی غیر معمولی اہمیت ہے ۔ اسی وجہ سے اس کو’ دارالاسلام‘ بھی کہا جاتاتھا۔ 50 ؂ ضرورت ہے کہ اس سے حاصل ہونے والے دروس کو موجودہ دور میں رہ نما بنایا جائے اور اس کی روشنی میں دعوت کے فروغ اور استحکام کی راہیں تلاش کی جائیں۔
***

حواشی و مراجع:
1۔ ابن عبد البر،الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1995ء،1؍219(الارقم بن ابی الارقم مخزومی مشھور کبیر اسلم فی دارہ کبار الصحابۃ فی ابتداء الاسلام)
2۔ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ،دار صادر بیروت،ب ت
ابن حجر العسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 1995ء
ان کتابوں میں متعدد صحابہ کے ضمن میں، جن کے نام آگے آ رہے ہیں، یہ عبارت ملتی ہے۔
3۔ ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ،تحقیق: مصطفیٰ عبد الواحد، دار المعرفۃ بیروت، 1983ء،1؍437،439، ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم و الملوک،دار الکتب العلمیۃ بیروت،،1997ء، 1؍ 541
4۔ ابن اسحاق،السیرۃ البنویۃ،تحقیق احمد فرید المزیدی ، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت،2004ء،1؍ 190، ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار احیاء التراث العربی، بیروت،1994ء،1؍ 300
5۔ سید جلال الدین عمری، مقالہ: مکی دور میں رسول اللہ ﷺ کی دعوتی حکمت عملی،سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ، اپریل۔ جون 1998ء، س 22 6۔ حضرت ارقمؓ کے حالاتِ زندگی کے لیے ملاحظہ کیجیے:الاصابۃ،1؍196۔198،الاستیعاب،1؍218۔219،ابن الاثیر الجزری،اسد الغابۃ بی معرفۃ الصحابۃ،دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ب ت،1؍187۔188۔اردو کتابوں کے لیے دیکھیے: حاجی معین الدین ندوی، مہاجرین، دار المصنفین اعظم گڑھ، جلد اوّل،ص364۔367،طالب ہاشمی، خیر البشر ﷺ کے چالیس جاں نثار، مرلزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، 2010ء،ص 105۔111
7۔ محمد علی الصلابی، السیرۃ النبویۃ: عرض وقائع و تحلیل احداث،منیر الغضبان، المنھج الحرکی للسیرۃ النبویۃ، مکتبۃ المنار،طبع؍6،ص49،د۔ ابراھیم علی محمد احمد (السودان) می السیرۃالنبویۃ قراءۃ لجوانب الحذر و الحمایۃ ،1417ھ،مھدی رزق اللہ احمد، السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الاصلیۃ۔ دراسۃ تحلیلیۃ، مرکز فیصل للبحوث و الدراسات الاسلامیۃ،الریاض،1992ء ،ص195
8۔ پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی،مکی اسوۂ نبوی۔ مسلم اقلیتوں کے مسائل کا حل،اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی، 2010ء،ص73
9۔ صحیح بخاری:3861،صحیح مسلم:2474
10۔ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ، 1؍439۔441۔علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ اس دن پیش آیا تھا جب حضرت حمزہؓ اسلام لائے تھے۔ اس وقت تک38؍ افراد اسلام قبول کر چکے تھے۔
11۔ الاصابۃ،ملاحظہ کیجیے مذکورہ صحابہ کے تذکرے
12۔ الاستیعاب،ملاحظہ کیجیے مذکورہ صحابہ کے تذکرے
13۔ اسد الغابۃ،ملاحظہ کیجیے مذکورہ صحابہ کے تذکرے
14۔ طبقات ابن سعد،ملاحظہ کیجیے مذکورہ صحابہ کے تذکرے
15۔ سیرۃ ابن اسحاق،1؍186۔187
16۔طبقات ابن سعد،3؍388
17۔حوالۂ سابق،8؍42
18۔حوالۂ سابق،3؍116
19۔حوالۂ سابق،3؍247
20۔طبقات ابن سعد،تذکرہ حضرت ارقمؓ۔ابو عبد اللہ الحاکم، المستدرک علی الصحیحین، دار الکتب العلمیۃ، بیروت،ب ت
21۔الاستیعاب،1؍218
22۔ سیرۃ ابن ہشام،1؍299۔ امام حلبی نے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ خفیہ دعوت کی مدت چار سال تھی۔ پانچویں سال آپ نے علانیہ دعوت شروع کی۔ ملاحظہ کیجیے السیرۃ الحلبیۃ،المطبعۃ الازہریۃ مصر،1؍ 319۔ بلاذری نے بھی یہی بات لکھی ہے۔ملاحظہ کیجیے: انساب الاشراف،1؍ 116
23۔صفی الرحمٰن مبارک پوری، الرحیق المختوم(اردو)، المجلس العلمی علی گڑھ،1988ء، ص 141
24۔السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الاصلیۃ ، ص 195
25۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی، سیرت سرور عالم، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، 1986ء، طبع پنجم،2؍ 154۔155
26۔پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی،تاریخ تہذیب اسلامی، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی، 2012ء،112
27۔ مکی اسوۂ نبوی،ص 73
28۔السیرۃ النبویۃ لابن کثیر،1؍ 442
29۔سیرت سرور عالم،2؍155
30۔ خیر البشر کے چالیس جاں نثار،ص 108
31۔ ابن سعد نے متعدد اقوال درج کیے ہیں۔ ایک قول کے مطابق حضرت عمرؓ چالیس افرادکے بعد اسلام لائے۔ دوسرے قول میں یہ تعداد چالیس سے زائد(نیّف و اربعین) مذکور ہے۔ تیسرے قول کے مطابق وہ چالیس مردوں اور دس عورتوں کے بعد اسلام لائے۔چوتھے قول میں 45؍ مردوں اور 11؍ عورتوں کا تذکرہ ہے۔
32۔ یوسف بن حسن بن عبد الھادی المبرد(909ھ) محض الصواب فی فضائل امیر المومنین عمر بن الخطاب،تحقیق: عبد العزیز بن محمد بن عبد المحسن، عمادۃ البحث العلمی، الجامعۃ الاسلامیۃ المدینۃ المنورۃ،1420ھ
33۔ سیرت ابن اسحاق،1؍ 187
34۔سیرت سرور عالم،2؍ 155
35۔حوالۂ سابق
36۔ تاریخ تہذیب اسلامی،1؍ 109
37۔ طبقات ابن سعد،تذکرہ حضرت ارقمؓ ، المستدرک، 3؍575
38۔طبقات ابن سعد، المستدرک حولہ سابق،السیرۃ الحلبیۃ 1؍319،الازرقی، اخبار مکۃ و ما جاء فیھا من الآثار۔۔، خیر البشر کے چالیس جاں نثار،ص 110۔111
ٍ 39۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ، رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی ، تاج کمپنی دہلی، 1987ء،ص 85
40۔ حوالہ سابق
41۔ڈاکٹر محمد حمید اللہ، پیغمبر اسلام ﷺ، فرانسسی سے ترجمہ: پروفیسر خالد پرویز، ملی پبلی کیشنز نئی دہلی، 2009ء،ص 113۔ 114
42۔ مکی اسوہ نبوی، ص 74
43۔ مصطفی السباعی،سرور انسانیت بہ طرز پند و نصائح، مترجم: نور الٰہی ایڈوکیٹ، نقوش رسول نمبر،ادارہ فروغ اردو لاہور ،12؍ 389
44۔ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی، دروس سیرت، مترجم: محمد رضی الاسلام ندوی، نشریات لاہور،2007ء ،ص 130۔131
45۔ سرور انسانیت،ص 389۔390
46۔ خالد مسعود، حیات رسول امّی، قرآن و سنت اکیڈمی نئی دہلی، 2004ء، ص 110۔111
47۔ حوالہ سابق، ص 113
48۔ حوالہ سابق،120۔121
49۔ مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی ، پیغمبر انسانیت ، ادارۂ ثقافت اسلامیہ لاہور، 1995ء، ص 53۔ 54
50۔طبقات ابن سعد، تذکرہ حضرت ارقمؓ ، المستدرک ،3؍575

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close