دعوت

پیغامِ حق کی ترسیل

اِنسانوں تک ہدایت اِلٰہی کی ترسیل کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور قرار پاتے ہیں۔  پہلا دور حضرت آدم علیہ السلام سےشروع ہوکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوتا ہے۔  تاریخ کے اس مرحلے میں اِنسانوں تک اُن کے خالق ومالک کی ہدایت، اُس کے پیغمبروں کے ذریعے پہنچتی رہی ہے۔ اِنسانی تاریخ کا دوسرا دور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے قیامت تک وسیع ہے۔  اس دور میں اِنسانوں تک پیغامِ ربانی کوپہنچانے کا کام اُمت مسلمہ کے سپرد کیا گیا ہے۔  تاریخ کے اِن دونوں ادوار میں دینِ حق کی اقامت اوراُس کے مکمل اظہار کا طریقہ ایک ہی رہا ہے جس کے بنیادی اجزاء ’’دعوت اور جہاد‘‘ ہیں۔  پہلے جُز— ’دعوت‘ —کے اصل ذرائع اِبلاغ اورترسیل ہیں جن کے لیے اِنسانوں سے ربط ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

اذان اور دعوت میں تعلق (چوتھی قسط)

 جس نے پوری دنیا کو ظلم وستم سے بھر دیا ہے، جمہوری نظام کے ظلم وستم کو صرف اسلامی نظام ہی ختم کر سکتا ہے اسلئے میدان سیاست میں  شدومد کے ساتھ اسلامی نظام کو پیش کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ امت مسلمہ کے فرض منصبی میں  شامل ہے۔

مزید پڑھیں >>

اذان اور دعوت میں  تعلق (دوسری قسط)

اس پوری کائنات میں  ایک بھی چیز بیکار اور بے فائدہ پیدا نہیں  ہوئی ہے، ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے پورے انسانوں  کے لیے ایک بھی حکم بیکار اور بے فائدہ نہیں  دیا، بلکہ اس نے تمام انسانوں  کے لیے تمام احکام ایک مقصد اور فائدہ کے تحت دیئے ہیں  اس لیے کسی شخص کو اگر اللہ کے کسی حکم میں  نقصان نظر آرہا ہے تو یہ اس کی عقل کا نقص ہے، لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں  زیادہ تر وہی انسان عقلمند شمار ہوتے ہیں  جو ناقص العقل ہیں

مزید پڑھیں >>

دعوت و جہاد اور اسوۂ نبوی

یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ ’’جہاد، دفاعی ہے یا اقدامی؟‘‘ یہ سوال چونکہ نامکمل شکل میں کیا جاتا ہے اس لیے مغالطہ آمیز ہے۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ ایمان لانے والوں کا کام حق پر خود عمل کرنا اور دنیا کے سامنے حق کا اظہار کرنا ہے تاکہ ہدایت کے طالبین، ہدایت سے محروم نہ رہیں ۔ اظہارِ دین کا یہ کام دعوت اور جہاد کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ دونوں کام لازم و ملزوم ہیں ۔ ذہنوں پر گمراہی کے غلبے کو مٹانے کا کام، دعوت کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگر دعوت کے اس کام میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے تو جہاد کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ البتہ اگر حق کی طرف بلانے، حق کو اختیار کرنے یا احکامِ الٰہی پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالی جائے تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

نگا راج راؤ، محمد عمران راؤ کیسے ہوئے؟

آج کل ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔ اس ویڈیو میں آر ایس ایس کے ایک کٹر ممبر نگا راج نے قبول حق کی اپنی کہانی جس دانشورانہ انداز سے بیان کی ہے وہ سننے اور سمجھنے کے لائق ہے۔ اس میں غور و فکر کا عنصر شامل ہے۔ صداقت اور سچائی سے لبریز ہے۔ کسی ایک جملہ یا بات میں نہ تصنع ہے اور نہ بناوٹ۔

مزید پڑھیں >>

وفدِ ثقیف کا قبولِ اسلام: دروس و نصائح

قبیلۂ ثقیف کا شمار عرب کے معزز، طاقت ور اور جنگ جو قبائل میں ہوتا تھا ۔یہ طائف میں آباد تھا ، جو مکہ سے پچاس(50) میل کے فاصلے پر واقع تھا ۔ہجرتِ مدینہ سے قبل اللہ کے رسول ﷺ دعوت کے نئے آفاق تلاش کرنے کی غرض سے طائف تشریف لے گئے تو اسی قبیلے کے افراد نے آپؐ کے ساتھ بد ترین معاملہ کیا تھااور آپ کو شدید جسمانی اذیتیں پہنچائی تھیں ۔

مزید پڑھیں >>

جبر کا مقابلہ اور دعوتِ اسلامی

اللہ کی عبادت اور بندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ انسان کی فطرت میں خالقِ کائنات کا شکر ادا کرنے اور اس کے آگے سر بسجود ہونے کا انتہائی قوی داعیہ موجود ہے۔ اس بنا پر — اگر فطرت مسخ نہ ہوئی ہو تو — ہر انسان اللہ کے آگے جھکنا چاہتا ہے اور اظہارِ بندگی کے لیے مراسمِ عبودیت بجالانا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حالات وظروف کا تنوع اور دعوت اسلامی

یہ واقعہ ہے کہ جب حالات و ظروف بدلتے ہیں  تو نئے چیلنجز سامنے آتے ہیں ۔ کسی ایک زمانے میں  بھی خطہ ارضی پر رہنے والے مختلف انسانی گروہوں  کے حالات یکساں  نہیں  ہوتے چنانچہ ان سے دعوتی مخاطبت میں  اس تنوع کا لحاظ ضروری ہے۔ اسی طرح زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ٹکنالوجی، وسائل کے استعمال کے طریقوں  اور ابلاغ کے ذرائع میں  تبدیلی آتی ہے۔ انسانوں  سے خطاب کرنے کے اسلوب پر اس تبدیلی کا اثر پڑنا لازمی ہے۔ خارج کی ان تبدیلیوں  کے علاوہ انسانی گروہوں  کے مزاج اور نفسیات میں  پائے جانے والے تنوع اور اُن کے داخل کی دنیا میں  واقع ہونے والے تغیرات کو بھی نظر انداز نہیں  کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

معاصر دنیا اور دعوت اسلامی

 کار دعوت سے متعلق ہر کارکن جانتا ہے کہ یہ کام بڑا وسیع ہے۔ اس کام کا بنیادی ذریعہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ ہماری مجلسوں میں اس کی بار بار یاد دہانی بھی ہمیں کرائی جاتی رہی ہے یعنی انسانوں سے انفرادی ربط اور گفتگو ہے۔ ہندوستان کروڑوں کی آبادی کا ملک ہے۔ یہاں ہر سطح کے لوگ آباد ہیں ۔ ذہنی صلاحیت، فکری پس منظر اور رجحانات کے اعتبار سے بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔یہ ساری آبادی جدید نظریات و فلسفوں سے واقفیت یا ان سے متأثر نہیں ہے۔ البتہ تعلیم یافتہ طبقے پر ان نظریات کا اثر پڑا ہے۔ ملک کے کار فرما عناصر، جن کا تعلق حکومت اور پالیسی سازی سے ہے اور جو ذرائع ابلاغ کی دنیا پر چھائے ہوئے ہیں، وقت کے غالب فکری رجحانات سے متأثر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اقامت دین ہندوستان میں: معنویت اور تقاضے!

رجحانات کی کش مکش کے اس ماحول میں امت مسلمہ کو دین کی اقامت کا فریضہ انجام دینا ہے۔ اس کے لیے مسلم مزاج کی تربیت ضروری ہے۔مسلمان اس وقت ہندتو کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ یہ تشویش بجا ہے۔ ہندتو کے مقابلے میں کمیونسٹ اور امبیدکر وادی حلقوں کے بارے میں مسلمان خوش گمان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے تشخص کی حفاظت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ان سیاسی طاقتوں سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں ۔ چناں چہ مسلمانوں کے درمیان بحث اور گفتگو اس موضوع پر ہوتی ہے کہ ان رجحانات میں کس کا ساتھ دیا جائے؟ مسلمان عوام اور ان کی سیاسی قیادت نے اب تک اس انداز سے سوچنا شروع نہیں کیا ہے کہ ان مختلف قوتوں پر انحصار (Dependence) اور ان سے سودا چکانے (Bargaining) کے بجائے کوئی اور راستہ بھی ہوسکتا ہے، جو مسلمانوں کے شایانِ شان ہو اور جس پر چل کر وہ نہ صرف اپنے تشخص کی حفاطت کرسکیں ، نیز اپنے مسائل حل کرسکیں ، بلکہ اپنے فرضِ منصبی کو بھی انجام دے سکیں ۔

مزید پڑھیں >>