دعوت

داعیانہ کردار کی اہمیت عصرِ حاضر کے تناظر میں

معاشر ہ کی اصلاح کے لئے داعیانہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی سخت ضرورت ہے، اس سے ایک طرف معاشرہ اچھے اوصاف پر استوار ہوتاہے، معاشرہ سے جرائم بے حیائی اور بری باتوں کا خاتمہ ہوتا ہے، اور پورے معاشرہ میں امن وسکو ن اورمحبت ومودت کی خوشگوار فضاقائم ہوتی ہے،تودوسری طرف برادرانِ وطن کے سامنے اسلامی تعلیمات کے محاسن اور اس کی خوبیاں اجاگر ہوتی ہیں،

مزید پڑھیں >>

کہاں ہیں خیر کی طرف بلانے والے؟

اس رمضان میں اگر یہ عہد کریں کہ ہم اسلام کے مطابق زندگی گزاریں گے، خود بھی برائیوں سے بچیں گے اوراپنے سماج کو بھی برائیوں سے بچائیں گے توآپ کا یہ عمل دیش میں عزت واحترام میں اضافہ کاسبب بنے گا اورآخرت میں نجات کا ذریعہ۔ دنیا میں ہمیشہ دینے والے کی قدر ہوتی ہے مانگنے والے کی نہیں تو کیوں نہ ہم ملک کو اچھائیوں کی سوغات دینے والے بنیں ۔

مزید پڑھیں >>

رمضان المبارک: فضائل، فوائد اور مسائل!

جوشخص روزہ رکھتاہے، وہ صابربن جاتاہے کہ روزہ نام ہی کھانے پینے اورشہوات سے رکنے کاہے، انسان بازارجاتاہے، وہاں بہت سارے لوگوں کوکھانے پینے میں مصروف دیکھتاہے، طبیعت اس کی بھی چاہتی ہے اوربھوک بھی محسوس ہوتی رہتی ہے؛ لیکن پھربھی صرف اس وجہ سے ان چیزوں کوترک کردیتاہے کہ وہ روزہ سے ہے، اسی طرح کوئی اسے بُرابھلا کہتاہے، لیکن وہ جواب صرف اس وجہ سے نہیں دیتاہے کہ وہ روزہ سے ہے، ان چیزوں سے رکنا’’کفِ نفس‘‘ کہلاتاہے اورصبرکف نفس ہی کانام ہے۔

مزید پڑھیں >>

غیر مسلموں میں  دعوت: چند تجربات!

سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ہم نے اس حوالے سے غور کیا کہ عیسائی جو اہل کتاب ہیں ، ان تک ہمیں دعوتِ دین پہنچانا ہے؟ انھیں جہنم کی آگ سے بچانے کیلئے ہم تڑپیں اور ان تک موثر انداز میں اسلام کی دعوت پہنچانے کی بھرپور کوشش کریں ۔ پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں عیسائی بلدیاتی سطح پر صفائی اور سیوریج کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ گھروں میں کام کرنے والے بہت سی خواتین کا تعلق بھی عیسائیت سے ہے، لیکن ہمارا ان کے ساتھ کیسا رویہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

موجودہ حالات میں سرگرمیوں کا دائرہ اسلام کی دعوت پر مرکوز ہونا چاہیے!

ان حالات میں اسلام سے مکمل طور پر وابستگی اختیار کی جائے۔ساتھ ہی دیگر سرگرمیوں کو ذرا کم کرتے ہوئے اسلام کے آفاقی نظریہ اور اس کے عقائد سے برادران وطن کو منظم و منصوبہ بند انداز میں واقف کرایا جائے۔نیز اپنی تمام تر سرگرمیوں کے دائروں میں ایک بڑا یا سب سے بڑا دائرہ اسلام کی دعوت پر مرکوز کیا جانا چاہیے ۔یہی وقت کی آواز ہے اور یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کی روشنی میں ہم اورآپ کامیاب و سرخ رو ہوں گے!

مزید پڑھیں >>

استقبال رمضان، قرآن اور اقامت دین کی جدجہد

آج جو عذر ہمارے پاس اس چھوٹی سی حکمرانی میں ہیں یہ عذر بڑی حکمرانی ملنے کے بعد مزید بڑھ جائیں گے۔ ہمارے ملک کے حکمران کیوں اسلام نافذ نہیں کرتے ؟ ان کے پاس بھی اسی طرح کے عذر ہیں جو ہمارے پاس گھر میں اسلامی ماحول بنانے میں درپیش ہوتے ہیں ۔اس لئے اپنے جسم پر نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں اسلام نافذ کریں تاکہ بڑی حکمرانی چلانے کا تجربہ حاصل ہو۔

مزید پڑھیں >>

رمضان المبارک کے فضائل

رمضان المبارک بندۂ مومن کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے باعث سعادت ہے ۔ یوں تو اللہ کی طرف سے بندوں کے لئے بہتیرے مواقع ایسے ہیں جو باعث اجروثواب ہیں مگررمضان مقدس کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ یہ رحمت وبرکت سے لبریز،بخشش وعنایت سے پر،مغفرت ورضوان کا مہینہ ہے ۔ اس کا ایک ایک دن اورایک ایک رات اور رات ودن کا ایک ایک لمحہ خیروبرکت سے معطر ہے ۔

مزید پڑھیں >>

دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک (آخری قسط)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ آپؐ اپنے تیس ساتھیوں کو لے کر آئیں اور ہمارے مذہبی علماء سے اسلام کی حقانیت پر بات کریں ۔ اگر وہ آپ کی باتوں سے مطمئن ہوں گے تو ہم لوگ ایمان لے آئیں گے۔ چوں کہ ماضی میں بنو نضیر نے رسول اللہ کے ساتھ بدعہدی کی تھی، اعتماد کو مجروح کیا تھا، اس لئے آپؐ نے انھیں پیغام دیا کہ تحریری معاہدہ کے بغیر ہم نہیں آسکتے ہیں ۔ بنو نضیر کسی طور بھی معاہدہ کیلئے تیار نہیں تھے۔ کچھ دن گزرنے کے بعد انھوں نے دوبارہ پیغام دیا کہ ہمارے تین علماء ہوں گے۔ آپ بھی اپنے ساتھ تین لوگوں کو لے کر آئیں ۔ اس بار انھوں نے اطمینان دلایا کہ اگر وہ آپ کی نبوت کی تصدیق کرتے ہیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ جب ان کا اصرار بہت بڑھا تو آپؐ ان کے علماء سے تبادلہ خیال کیلئے تیار ہوگئے۔

مزید پڑھیں >>

دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک (پانچوی قسط)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ یہود کے ساتھ حد درجہ نرمی اور حسن سلوک کا تھا۔ آپؐ بہت سے مذہبی امور میں ان سے اتفاق رکھتے تھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ جن امور کے بارے میں شریعت کا کوئی خاص حکم نہیں ہوتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی موافقت کرتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کیوں اور کیسے؟

مسلمانوں کو ہندوستان میں رہتے ایک طویل مدت گذر چکی ہے ۔یہاں مسلموں اور غیر مسلموں کی مخلوط آبادیاں ہیں ۔اس کے علاوہ بہت سے معاملات ہیں جن میں قدم قدم پر ان سے سابقہ پڑتا ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو مسلمان اپنے برادران وطن کے معاملات ،رسم و رواج،عقائد ،تہوار،اور تاریخ کا علم رکھتے ہیں اورنہ ہی غیر مسلموں کو اسلام اور مسلمانوں کی بنیادی باتوں کا علم ہے ۔ اور یہی ناواقفیت انہیں ایک دوسرے کے متعلق شکوک شبہات میں مبتلا کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>