دعوت

اصلاحی جلسوں کی اصلاح کی ضرورت

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی جلسوں کی بڑی شاندار تاریخ رہی ہے۔ ان جلسوں کا معاشرے اور عوام دونوں کی اصلاح میں بڑا نمایاں کردار رہا ہے۔ جادہ حق سے منحرف لوگوں کو شاہراہ حق پر واپس لانے، ضلالت و گمراہی، فسق و فجور اور بد عملی کی زندگی گزار رہے افراد کو صراط مستقیم پر لا کھڑا کرنے کا ان جلسوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اسے بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ ہمارے علماء و اسلاف جو علم و عمل دونوں کا پیکر ہوا کرتے تھے انہوں نے اس باب میں ایسے نقوش چھوڑے ہیں جن سے ہماری دعوتی تاریخ کے صفحات روشن ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری، حضرۃالعلام مولانا ابو القاسم سیف بنارسی، مولانا محمد حسین میرٹھی، مولانا محمدجونا گڈھی، مولانا عبدالرؤف رحمانی و غیرھم رحمہم اللہ کے جلسوں اور تقریروں کی خوش گوار یادیں آج بھی سن رسیدہ حضرات و خواتین کے قلوب و اذہان کو سرور پہنچاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ندائے فطرت!

عالم ہستی میں دو ہی نظر یہ پائے جاتے ہیں ایک توحیداور دوسرے شرک ۔یہ دونوں نظریات اس جہان میں ہمیشہ سے ایک دوسر ے کے مد مقابل رہےہیں ۔مگراس وسیع و عریض دنیا میں چاند،سورج ،ستارے اور سیارے وغیرہ کا بے مثال نظم وضبط کےساتھ اپنے مقررہ وقت پر اپنی حرکا ت و سکنات کو انجام دینا اس بات کی گواہی دیتاہے کہ اس پورے عالمین کا ایک ہی مالک و حاکم ہے اور وہ وہی خدا ہے جس نے سارے جہاں کو خلق کیا ۔لہٰذا! بے جان بتوں کی پرستش سے باز آجائیں اور خدا وحدہ لاشریک کی عبادت کو اپنی فطرت بنالیں ۔

مزید پڑھیں >>

دعوت دین کا طریقہ قرآن و سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں

دین کی دعوت دینا سنت انبیاء ہے ۔حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر تمام انبیائے کرام نبیوں کے سردار حضور محمدمصطفیٰ ﷺ نے اللہ کے حکم سے یہ کام انجام دیا ۔ہر زمانے میں اللہ نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کیلئے انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا تا کہ اسکے بندے اللہ اور اس کے بھیجے ہو ئے پیغمبروں و رسولوں پر ایمان لا ئیں اور صحیح را ستے پر چلیں ۔پیغمبروں کی تمام تعلیمات میں عقیدہ تو حید کی تعلیم سب سے پہلے اور بنیادی تعلیم تھی ۔اس کام پر اللہ نے بڑا اجر و ثواب بھی رکھا ہے ۔دعوت ِدین کا کام جہا ں عظمت اور اہمیت کا حامل ہے وہیں یہ انتہائی سخت صبر آزما اور جوکھم (خطرناک مشکل )بھرا کام بھی ہے ۔

مزید پڑھیں >>

مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

در حقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہے، یوں سمجھئے تصورات کی دنیا اور کیفیت الگ ہے اور تصدیقات کی دنیا کچھ اور ہے، کون جان سکتا ہے کہ لکڑی کے بدصورت خول کو توڑنے کے بعد میٹھا اور خوبصورت پھل میسر آئے گا، بس یہی صورت حال ہندوستان کی ہے۔ ارادوں کو مضبوط کیجئے، پاؤں کو حرکت دیجئے، میدان عمل میں قدم رکھ کردیکھئے، شیطان کا بنایا ہوا خول ٹوٹ جائے گا اور حقیقت نظر آنے لگے گی، جو ہماری سوچ و فکر سے بالکل جدا اور مختلف ہے، بدصورت نہیں خوبصورت ہے، ہمیں دعوت نظارہ دے رہی ہے اور ہمارا استقبال کرنے کو بے چین ہے، بس ضرورت ہے نگاہوں پر پڑے پردوں کو چاک کر اس کیفیت کو محسوس کرنے کی، بہت ہی موزوں اور مناسب وقت میں یہ تحریک آگے بڑھ رہی ہے،اللہ تعالیٰ بازیاب فرمائے۔

مزید پڑھیں >>

ایمان کے تقاضے

جہاں گیرحسن مصباحی اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ’’میں نے جنات وانسان کو اپنی معرفت وعبادت کے لیے پیداکیا۔’’ (ذاریات:56) عبادت توتقریباً ہرمسلمان جانتاہے اورکرتابھی ہے لیکن جہاں تک معرفت الٰہی کی بات ہے تو اِس تعلق سے ہم انتہائی غافل …

مزید پڑھیں >>

دعوت اسلام میں میڈیا کا مفید استعمال

الطاف الرحمن ابوالکلام سلفی میڈیا ذرائع ابلاغ کا انگریزی نام ہے جس کے سہارے انسان اپنا فکروخیال دوسروں تک پہونچاتا ہے، عموما اسے دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے : ۱: پرنٹ میڈیا ۲: الکٹرونک میڈیا۔ یہ دونوں اقسام …

مزید پڑھیں >>