عقائد

اہل سنت والجماعت کون ہیں؟

تحریر: علوی بن عبدالقادر السقاف (مشرف: الدرر السنیة)

 ترجمہ: الطاف الرحمن ابوالکلام سلفی

یہ بات معلوم ہے کہ دنیا اور آخرت کی سعادت اور نجات حق کی اتباع اور اہل سنت والجماعت کے طریقہ میں منحصر ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ آج ہرکوئی اہل سنت والجماعہ ہونے کا دعوٰی کرتا ہے، اور کچھ لوگ زبردستی یہ لقب اس گمان میں حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ صدیوں پہلے ان سے چھین لیا گیا تھا۔ ایسی صورت حال میں علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ لوگوں کو ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کے اصطلاحی لقب کی حقیقت سے روشناس کرائیں، ان کے اوصاف اجاگر کریں اور صحیح معنوں میں اس سے کون لوگ متصف ہیں اس کی وضاحت کریں۔
اس رسالہ میں اہل سنت والجماعت کے بعض خصائص اور امتیاز کی وضاحت کی گئی ہے ، اور ایک ایسے معیار کی طرف نشادہی کی گئی ہے جس سے ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کو پہچاننے میں ایک مسلمان کو مدد حاصل ہوگی ، تاکہ انہیں پہچان کر ان کے مسلک اور طریقہ پر چل سکے ، ان کے منہج پر کاربند ہوجائے، اور یوں ان کے زمرہ میں شامل ہوجائے۔
اس رسالہ کا مقصد اہل سنت والجماعت کے عقائد کا احصاء کرنا نہیں ہے، کیونکہ یہ عقیدہ کی کتابوں میں موجود ہے ، بلکہ اس رسالہ کا مقصد ’’اہل سنت والجماعت‘‘ اور دوسرے فرقوں کے درمیان موجود فرق کی پہچان کرانا ہے ، نیز اہل سنت والجماعت اور دوسرے فرقوں کے مابین تمیزکے لئے واضح خط کھینچنا ہے۔

▪ یہاں سنت سے مراد: وہ علم ، عقیدہ اور طریقہ ہے جس پر نبی کریم ﷺ تھے، یعنی ہر وہ چیز جو نبی اکرم ﷺ امت کے پاس لے کے آئے تھے وہ سنت ہے۔《1》
▪ اور جماعت جب سنت کے ساتھ آئے تو : اس سے مراد نبی ﷺ کے صحابہ اور ان کے منہج اور طریقہ پر چلنے والے لوگ ہیں۔《2》
’’اہل سنت والجماعت‘‘ نبی ﷺ کی اتباع کرنے اور آپ کے احوال سے واقفیت رکھنے میں سب سے زیادہ حریص ہیں، وہ صحابہ کرام کے منہج کے سب سے زیادہ موافق ہیں، اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ جو بھی اہل سنت کا دعوی کرے ، یا اپنے گروہ کا سلفی نام رکھ لے، یا اپنی جماعت کو اہل حدیث یا اہل اثر سے موسوم کرے وہ صحیح معنوں میں ویسے ہی ہوں گے ، ہرگز نہیں ! یہاں تو منہج اور اس کی اتباع اور تمسک کا اعتبار ہے ، نہ کہ نا م اور شہرت کا۔
معاملہ یہ ہے کہ آج ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کا دعویٰ تو سب کررہے ہیں ، لیکن ان کا یہ دعویٰ اور نسبت اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک ان میں درج ذیل علامات اور خصائص نہ پائے جائیں۔ یہ علامات ان کے درمیان فرق کرنے والے ہیں جو صحیح معنوں میں اس لقب کے مستحق ہیں اور جو صرف دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ اس سے عاری ہیں۔
ہم نے اسے پیراگراف کی شکل میں ذکر کیا ہے، تاکہ سمجھنے ، استیعاب کرنے اور اس کو عملی تطبیق دینے میں آسانی ہو، ان شاء اللہ:
● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ عقیدہ میں اپنا مصدر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کو مانتے ہیں، اسی طرح سلف نے جو عقیدہ دونوں وحی کے نصوص سمجھ کر اختیار کیا ہے اسے معیار حجت تسلیم کرتے ہیں ، لہذا وہ عقل ، کشف وذوق اورخواب وغیرہ کو نقل پر مقدم نہیں کرتے، اور نہ ہی کسی شیخ یا ولی کے کلام کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے کلام اور نبی ﷺ کے فرمان پر مقدم کرتے ہیں۔《3》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ اپنے کو عقیدہ میں کسی معین شخص یا معین فرقہ کی طرف منسوب نہیں کرتے ہیں، وہ اپنے کو صرف سنت رسول اور سلف صالحین کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ لہذا وہ اپنے کو نہ تو اشعری کہتے ، نہ ماتریدی، نہ جہمی، نہ جعدی ، نہ زیدی اور نہ ہی عبیدی کہتے ، اسی طرح نہ وہ اپنے کو معتزلہ کی طرف منسوب کرتے ، نہ مرجیہ اور قدریہ کی طرف…۔ ان کی نسبت ہوتی ہے تو صرف سنت رسول اور صحابہ کرام کی طرف یعنی ’’ ماأَنا علیہ وأَصحابی‘‘ جس پر نبی کریم ﷺ اور اور ان کے صحابہ تھے۔ 《4》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ اپنے کوآداب واخلاق اور تزکیۂ نفس میں کسی شخص یا طریقہ کی پیروی نہیں کرتے ، یہی وجہ ہے کہ وہ نہ اپنے کو جیلانی کہتے نہ رفاعی، نہ قادری ، نہ تیجانی، نہ نقشبندی ، نہ علویہ اور نہ ہی شاذلیہ وغیرہ ۔ بلکہ ان کے سلوک، تزکیہ اور اخلاق و آداب کا مصدر نبی کریم ﷺہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے  ’’ اِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلاَقِ‘‘[ مسند احمد : 8729] میں مکارمِ اخلاق کو پورا کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ اور جس شخصیت كا اخلاق قرآن ہے یہی ان کا مصدر ہے۔
سو جیسے وہ دین کے اصول میں صرف سنت اور جماعت کے نام سے ممتاز ہیں ویسے آداب وسلوک اور تزکیۂ نفس میں بھی سنت اور جماعت کے نام سے ہی ممتاز ہیں۔

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ اللہ کی عبادت میں خشوع و خضوع ایسا ہی اختیار کرتے ہیں جیسا کہ حکم ہے۔ وہ اپنی خواہش سے بدعی عبادات ایجاد نہیں کرتے ، اور نہ ہی دوسروں کے ایجاد کردہ بدعت پر عمل کرتے ہیں ۔ وہ خواہشات کو معبود بنا کر نہ تو نوحہ کرتے ، نہ ڈھول بجاتے اور نہ ہی رقص وسرور کی مجلسیں گرماتے ہیں۔ 《5》

●’’اہل سنت والجماعت‘‘ عبادت میں سے کچھ بھی غیر اللہ کے لئے انجام نہیں دیتے ۔ جیسے: دعا ، استغاثہ ، ذبح اور نذر ونیاز وغیرہ عبادات۔ جیسا کہ ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کے طریقہ کے مخالف گروہ اور فرقوں کا حال ہے۔《6》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ لوگوں کو قبروں کی زیارت پر ابھارتے ہیں ، کیونکہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اسی طرح اہل قبور پر سلام پیش کرنے اور ان کے لئے دعا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے یہاں قبروں سے تبرک حاصل کرنا ، صاحب قبر سے دعائیں طلب کرنا ، ان سے مدد کی فریاد کرنا ، قبروں کا چھونا یا اس کا طواف کرنا ، اور ذبیحہ پیش کرنا وغیرہ فاسد اعمال کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ۔ 《7》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘: اللہ عز وجل نے اپنے لئے جو صفات ثابت کئے ہیں یا رسول ﷺ نے ثابت فرمایا ہے اسے اللہ کے لئے بغیر تعطیل ( انکار) اور تاویل کے ثابت مانتے ہیں۔ جبکہ ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کے علاوہ فرقے اللہ کے صفات کا انکار کرتے ہیں، یا بعض کو ثابت مانتے ہیں اور کچھ کی تاویل کرتے ہیں۔ 《8》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کا عقیدہ ہے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے ، جو گھٹتا اور بڑھتا ہے ، اعضاء وجوارح کے عمل کو ایمان سے خارج نہیں کرتے جیسا کہ مرجیہ کا عقیدہ ہے ، اور نہ ہی مجرد معاصی اور کبائر کے ارتکاب کی وجہ سے اہل قبلہ کو کافر گردانتے ہیں ، جیسا کہ خوارج کا طریقہ ہے۔ 《9》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ اپنے مخالف فرقوں کو محض اختلاف کی وجہ سے کافر نہیں گردانتے ، سوائے یہ کہ ان فرقوں پر کفریہ اصول و ضوابط جمع ہوجائیں۔ جیسے : فرقہ اسماعیلیہ اور نصیریہ۔ 《10》

●’’اہل سنت والجماعت‘‘ کفار ، ملحدین اور مشرکین ومرتدین سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ،ان سے دشمنی اور بغض رکھتے ہیں، جبکہ مومنوں سے بقدر ایمان وعمل محبت اور دوستی کرتے ہیں اور ان کی مددر کرتے ہیں ( اسی طرح بقدر بدعت و معاصیات ان سے بغض رکھتے ہیں ) ۔ 《11》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے محبت کرتے ہیں، وہ سب صحابہ کو عادل مانتے ہیں، تمام صحابہ کے ساتھ آل بیت اور نبی ﷺ کی ازواج مطہرات (امہات المؤمنین ) سے محبت کرکے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہیں ، جو انہیں برا بھلا کہتا ہے یا ان سے دشمنی رکھتا ہے اس سے براء ت اختیار کرتے ہیں، اسی طرح جو ان کے مرتبہ میں غلو کرتا ہے ، انہیں انسانی درجہ سے اوپر سمجھتا ہے یا انہیں معصوم کہتا ہے ان سے بھی براء ت اختیار کرتے ہیں۔ 《12》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ اپنا فقہ: اجماع ، کتاب اللہ اور سنت صحیحہ سے اخذ کرتے ہیں، وہ اقوال صحابہ وتابعین اور تبع تابعین کو ( اس باب میں) معتبر سمجھتے ہیں، اور مسلمانوں کے اکابر علماء کی اتباع کرتے ہیں ، جیسے : ابوحنیفہ ، مالک ،شافعی اور احمد بن حنبل ۔ اور ان کے بعد کے علماء ، فقہاء اور ائمہ متبوعین ومتبعینِ سنت کی بھی اتباع کرتے ہیں ، جو امت میں خیر سے مشہور ہیں۔ 《13》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کے نزدیک تمام مسلمان شریعت کے یکساں مکلف ہیں ، یہاں عام اور خاص کا اعتبار ہے نہ خاص الخواص کا کوئی اعتبار ہے، اور نہ ہی ان کے یہاں شریعت اور حقیقت میں کوئی فرق ہے، بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ دین اور شریعت ایک ہی شیء ہے جسے رب واحد نے نبی رحمت ﷺ پر تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل فرمائی۔ 《14》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ ہر چیز میں توسط واعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں، غلو اور تقصیر ، افراط وتفریط ، اورنرمی وسختی میں وسطیت اختیار کرنا ان کا طرۂ امتیاز ہے۔ 《15》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ اتحاد واتفاق پیداکرنے میں سب سے زیادہ حرص رکھنے والے ہیں، ان کاعقیدہ ہے کہ: جہاد ، جمعہ وجماعات ہر بھلے اور فاجر کے پیچھے جائز ہے، وہ اہل بدعت اور گنہگاروں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز سمجھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ اتفاق کو پسند کرتے ہیں، اور افتراق کو حد درجہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کچھ لوگ اپنے کو ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کی طرف نسبت کرنے میں غلطی پر ہیں ، کیونکہ نسبت تو کرتے ہیں مگر ان کا منہج سمجھتے ہیں نہ ہی اسے اختیار کرتے ہیں، لہذا جوبھی اپنے کو ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ ان کے طریقہ کو اختیار کرے ، اور ان کے طریقہ پر چلے، ( آج) شرفِ لقب کی طمع نے اس شخص کو بھی ’’اہل سنت والجماعت‘‘ میں داخل کردیا ہے جو در اصل ان میں سے نہیں ہے۔ 《16》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ میں عالم ، فقیہ ، خطیب، داعی ، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والے ، ڈاکٹر ، انیجینیر ، تاجر ، مزدور ، مالدار ، فقیر ، کالے ، گورے ، عربی اور عجمی سب شامل ہیں۔ ان کا منہج لوگوں کے کسی ایک گروہ کے ساتھ خاص نہیں ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ : علم ، دین ، نسب اور سیادت کسی خاص قوم کی جاگیر نہیں ہے۔ وہ اللہ کے اس قول پر عقیدہ رکھتے ہیں{اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ}[الحجرات: 13]اللہ کے نزدیک تم سب میں با عزت وہ ہے جو سب سے تقوی شعار ہو۔《17》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ میں عابد و زاہد بھی ہیں، اور عاصی و مرتکب کبیرہ بھی ، وہ معصوم عن الخطاء نہیں ہوتے ، ان کی خطاء اور گناہ انہیں اہل سنت والجماعت سے خارج نہیں کرتی، بلکہ کبھی ان سے معمولی بدعت بھی سرزد ہوجاتی ہے، لیکن جوں ہی انہیں معلوم ہوتا ہے بہت جلد حق کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ لہذا یہ چیزیں انہیں ’’اہل سنت والجماعت‘‘کے زمرہ سے خارج نہیں کرتیں۔《18》

● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ حق کی اتباع کرتے ہیں اور مخلوق پر رحم کرتے ہیں، معاصی وگناہ کو ناپسند کرتے ہیں اور گنہگاروں کے ساتھ مہربانی کا برتاؤ کرتے ہیں ، اور بدعت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بدعتیوں پر نظر شفقت فرماتے ہیں۔《19》
یہی ’’اہل سنت والجماعت‘‘ ہیں ، یہ تھیں ان کے بعض خصائص اور علامتیں ۔
اللہ کے فضل وکرم کے ذریعہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کے زمرہ میں شامل فرما ، اور امت کو اس بات پر اکٹھا کردے جس پر وہ اکٹھا ہیں۔ آمین.

——————————-
■ (مترجم کی طرف سے) تقریبی حوالہ جات:

[《1》 ((مباحث في عقيدة أهل السنة والجماعة للدكتور ناصر بن عبد الكريم العقل)) (ص: 13)۔
《2》 (( مباحث في العقيدة أهل السنة والجماعة)) (ص: 13، 14)۔
《3》 [الأحزاب: 36] ، [الحجرات: 1] ((مجموع الفتاوی لإبن تيمية)) (3/347) ، ((العقیدة الأصفهانية)) (1/156).
《4》 ((مجموع الفتاوى لإبن تيمية)) (3/347)۔
《5》((مجموع الفتاوى))(11/531) ، ((الاعتصام)) (2/355). اور رقص و سرور کے بدعت ہونے پر ابن حجر نے قرطبی سے اتفاق نقل کیا ہے۔ ((فتح الباري)) (2/442) ۔
《6》((الإرشاد)) للسعدي: الردة (ص: 205). ((الدين الخالص)) لصديق حسن خان (2/104)، ((مجموع الفتاوى)) (1/71، 291، 351)، ((مدارج السالكين)) (1/374)۔
《7》 ((الدين الخالص)) (باب في رد الإشراك في العبادات) (2/52).
《8》 ((مجموع الفتاوى)) لشيخ الإسلام ابن تيمية (13/252)۔
《9》 ((التمهيد)) (9/238)،رواه ابن الجوزي في ((مناقب الإمام أحمد)) (ص: 228) وابن أبي يعلى في ((طبقات الحنابلة))۔ (1/130) ،((شرح ثلاثيات المسند)) (2/218).
《10》 ((الرد على البكري)) (ص:260)۔
《11》 ((مجموع الفتاوى لإبن تيمية)) (28/201-209).
《12》 ((الوجيز في عقيدة السلف الصالح)) (1/165-170) ۔
《13》 ((أعلام الموقعين)) لابن قيم الجوزية (2/294)۔
《14》 [الذاريات : 56] ((طريق الهجرتين وباب السعادتين)) (ص: 418) ، ((تفسير القرطبي)) (17/169).
《15》 ((تفسير القرآن العظيم)) لابن كثير (1/345).
《16》 ((مجموع الفتاوى)) ( 4/50).
《17》 ((شرح مسلم للنووي)) (13/67)، ((شرف أصحاب الحديث للبغدادي)) (ص: 4).
《18》 ((درء تعارض العقل والنقل)) (7/462) ((الإستقامة)) (1/150).
《19》 ((الرد على البكري:2/490)). ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بدعتیوں سے اللہ کے لئے دشمنی اور قطع تعلقی اختیار کی جائے گی۔ ((شرح السنة)) (1/227) ((عقيدة السلف وأصحاب الحديث)) (ص123)۔[/ARB]

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close