عقائد

جشن عید میلاد النبی کی حقیقت

مقبول احمد سلفی

دنیا میں نبی ﷺ کی آمد باعث رحمت، آپ کی بعثت باعث تسکین وراحت اورآپ کی رسالت ونبوت باعث نجات وکامیابی ہے۔ ہمیں آپ کی ولادت مبارکہ پہ بیحد فرحت وانبساط ہے۔ ہم آپ ﷺ سے بیحد محبت کرتے ہیں۔ کائنات کی ہرچیز سے زیادہ بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ آپ سے محبت کرتے ہیں۔ اس بات پہ ایمان رکھتے ہیں کہ آپ ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ اور ہمارے اوپر محبت رسول ﷺ فرض وواجب ہے، اس فرض میں کوتاہی کرنے والا ایمان کی حلاوت سے محروم اور محبت رسول ﷺ کی چاشنی سے کوسوں دور ہے۔ وہ آدمی مومن نہیں ہوسکتا جب تک دنیا کی ہرچیز سے زیادہ نبی ﷺ سے محبت نہ کرے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے :

لا يؤمنُ أحدُكم حتى أكونَ أحبَّ إليه من ولدِه ووالدِه والنَّاسِ أجمعينَ(صحيح مسلم:44)

ترجمہ: کوئی شخص اس وقت تک مومنِ کامل نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے بال بچے، والد، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔

یہاں محبت کی تھوڑی وضاحت ہوجائے کہ مختلف قسم کے افراد سے محبت کا انداز بھی مختلف ہوتا ہے۔ والدین سے محبت کا طریقہ الگ ہے، اولاد سے اظہار محبت مختلف ہے، بیوی سے محبت برتنے کا اندازجداگانہ ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا اندازوطریقہ الگ ہے۔ محبت رسول کا مطلب اتباع رسول اور محبت سنت رسول اللہ ہے جو قرآن کی مذکورہ آیت سے ظاہروباہر ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:31)

ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے۔

اللہ کی محبت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی جائے اور رسول اللہ کی اطاعت وپیروی نہ صرف اللہ کی محبت ہے بلکہ نبی کی محبت بھی ہے۔ آل عمران کی اگلی آیت میں اتباع رسول سے منہ موڑنے والے کوایسا کافر کہا ہے جس سےاللہ محبت نہیں کرتا۔فرمان الہی ہے :

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران:32)

ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ منہ پھیریں تو بے شک اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔

اور حدیث رسول سے بھی پتہ چلتا ہے کہ سنت رسول سے محبت نبی ﷺ سے محبت ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے :

من أحبَّ سنَّتي فقد أحبَّني ومن أحبَّني كانَ معي في الجنَّةِ(مشكوة)

ترجمہ: جس نے میری سنت سے محبت کی گویا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔

٭ اس حدیث کو حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے مشکوۃ کے مقدمہ میں حسن کہا ہے۔ (تخريج مشكاة المصابيح:1/136)

یہی بات محبت رسول کے تقاضے سے بھی معلوم ہوتی ہے، آپ ﷺ سے محبت کا تقاضہ ہے کہ آپ کا احترام کیا جائے، آپ سے قلبی محبت کی جائے، آپ کی اطاعت اور آپ کی اتبا ع کی جائے، آپ پر درود پڑھا جائے، امہات المومنین،آل بیت، صحابہ کرام اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے محبت کی جائے اور بدعت وضلالت سے دور رہا جائے۔ آپ سے محبت کی نشانی ہے کہ آپ کی سنت سے محبت کریں، آپ کی سنت کا علم حاصل کریں، آپ کی سنت پر عمل پیراہوں اور آپ کی سنت کو پھیلائیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ محبت رسول ﷺ کا حقیقی معیار اطاعت رسول اور اتباع رسول ہے جوبغیراطاعت رسول کے محبت کا دعوی کرتا ہے وہ اپنے دعوی میں جھوٹاہے۔ اس کا نقشہ ایک عربی شعر میں بہترین اندازمیں کھیچا گیاہے۔

لوکان حبک صادقا لاطعتہ – ان المحب لمن یحب مطیع

شعر کا ترجمہ: اگر تمہاری محبت سچی ہوتی توتم اسکی اطاعت کرتے کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کامطیع و فرمانبردار ہوتا ہے۔

شرک وبدعت اور تصوف میں غرق نام نہادبعض مسلمانوں نے محبت رسول کا ڈھونگ رچ کر جشن عیدمیلادالنبی ﷺ کو امت اسلامیہ میں اس طرح سے رواج دیا ہے کہ سادہ لوح عوام انہیں ہی اصل محب رسول سمجھتے ہیں جبکہ یہ دین میں نئی ایجاد اور محبت رسول کے نام پر عداوت رسول کا چور دروازہ ہے۔

جشن عیدمیلادالنبی چار کلموں پر مشتمل سیکڑوں شرکیہ وبدعیہ اعمال کواپنے اندر سموئے ہواہے۔ پہلے چندوجوہ سے اس جشن کا رد ملاحظہ کریں۔

(1) اسلام میں دوہی سالانہ عید یں ہیں جن کی تعیین محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہے، یہ جشن عیدمیلادالنبی اسلامی عید میں اضافہ ہے جوبدعت میں شمار ہوگا۔

(2) اسلام میں کسی کے جنم دن منانے کا تصور ہی نہیں ہے، نبی ﷺ کی چار بیٹیاں پیداہوئیں، بیٹے پیداہوئے مگر کسی پہ جشن ولادت نہیں منایا، نہ ہی منانے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ اپنی ولادت باسعادت پہ بھی کسی سال ماہ ربیع الاول میں جشن ولادت نہیں منایا، نہ ہی کسی کو منانے کا حکم دیاجبکہ متعدد بار آپ کی زندگی میں ماہ ربیع الاول آیا۔ اور نہ اپنے طور پر ہی سہی کسی صحابی نے، تابعی یا تبع تابعی نے اسے منایاجو اس بات کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ جشن عیدمیلادالنبی غیرمسنون اور بدعت سیئہ ہے۔

(3) یہ بات باتقاق رائے متعین ہے کہ آپ ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کوہوئی مگر تاریخ پیدائش میں اہل علم اور اہل سیرکے درمیان اختلاف ہے۔ کسی نے دو، کسی نے آٹھ، کسی نے دس، کسی نے بارہ، کسی نے سترہ، کسی نے اٹھارہ اور کسی نے بائیس ربیع الاول بتایا ہے۔ زیادہ مشہور اقوال میں سے 9 اور 12 ربیع الاول ہے۔ اگر9/ ربیع الاول کو تاریخ پیدائش مانتے ہیں تو بارہ کو جشن عید میلاد منانا ایک طرح کا سخریہ اور کھلواڑ مانا جائے گا اور اگر 12/ ربیع الاول کو مانتے ہیں تو یہ دن تاریخ وفات بھی ہے۔ طاہرالقادری بریلوی نے لکھا ہے بارہ ربیع الاول کو صحابہ غمگین رہاکرتے مگر یہ پیٹ کے پجاری 12/ربیع الاول کو جشن مناتے ہیں اور حلوے پوڑی سے شیطانی پیٹ بھرتے ہیں۔ کیا یہی ہے محبت رسول اور محبت صحابہ؟

آپ اپنے اوپر قیاس کرکے دیکھ لیں کہ اگر 12/ربیع الاول آپ کے والدصاحب پیداہوئے ہوں اور اسی دن وفات بھی پاجائیں تو آپ یوم وفات منائیں گے یا یوم ولادت ؟ اپنا معاملہ ہوتو بات جلدی اورزیادہ سمجھ میں آتی ہے۔

(4) دنیاوالے جنم دن زندہ لوگوں کا مناتے ہیں کیونکہ مرنے کے بعد تو نہ ختم ہونے والاغم لاحق ہوتا ہے کوئی کیسے جنم دن منائے گا۔ زندہ رہتے ہوئے یوم پیدائش منانا تو سمجھ میں آتا ہے کیونکہ انسان کو مزید ایک سال ملنے پر خوشی ہوتی ہے گوکہ یہ بھی اسلام کی نظر میں جائز نہیں ہے میں صرف عقلی بات کررہاہوں۔ یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ نبی ﷺ کی وفات پانے پہ جشن میلاد منایا جائے جبکہ امت کو آپ کے جانے کا بہت بڑا غم ہے، خصوصا آج کے شرک وبدعت اور شروفسادسے پرزمانے میں آپ کی جدائی کا غم وہی محسوس کرسکتا ہے جس کے دل میں نبی سے سچی محبت ہوگی اورآپ کی وفات پہ وہی خوشی منائے گا جوشیطان کا چیلاہوگا۔

(5) آپ ﷺ کی تاریخ ولادت میں شدید اختلاف اس بات کا غمازہے کہ پہلے زمانوں میں آپ کی تاریخ پیدائش پہ جشن نہیں منایاگیا، اگر آپ کا یوم ولادت منایاگیاہوتا تو امت کو آپ کی تاریخ پیدائش کابخوبی علم ہوتا۔

جب ہم تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ساتویں صدی ہجری میں 625 ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے بہنوئی اور موصل کے قریبی شہر اربل کے گورنر ملک مظفر ابوسعیدکوکبوری نے ایجاد کیا۔ یہ فضول خرچ اور بداخلاق بادشاہ تھااور ناچ گانے کا رسیا تھا۔ اس کے زمانے کے (ایک کذاب، جھوٹی حدیثیں گھڑنے والا جسے معلوم تھا کہ بادشاہ میلادالنبی کا دلدادہ ہے )ابوالخطاب بن دحیہ نامی شخص نے بادشاہ کو خوش کرنے کے لئے میلاد پہ کتاب لکھی جس کا نام ہے "التنویر فی مولدالبشیرالنذیر”۔ جب کذاب مصنف نے اس کتاب کو شاہ اربل پر پیش کیاتو اس نے ابن دحیہ کو ایک ہزار سونے کا دینا رانعام میں دیاجو 375 تولہ سونا بنتا ہے۔ یہ گورنر بہت طمطراق اور فضول خرچی کے ساتھ عیدمیلاد مناتاتھااور ا س میں اپنی سلطنت کے سارے لوگوں کو بلاتا تھاجس کی وجہ سے ساری سلطنت میں یہ بدعت رواج پاگئی۔

اس زمانے کے میلادی جشن عیدمیلادالنبی پہ مختلف قسم کے اسباب وعوامل بیان کرتےہیں جنہیں ان کے رد کے ساتھ پیش کیاجاتا ہے۔

(1) کہاجاتا ہے کہ ہرسال جشن عیدمیلاد منانے سے محبت رسول میں اضافہ ہوتا ہے حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے نبی پاک کا ذکر دنیا میں سب سے زیادہ بلند کیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : ورفعنالک ذکر۔(اے نبی ہم نے آپ کے ذکر کوبلندکیاہے ) جب آپ کا ذکراذان،نماز،تلاوت،درس قرآن،درس حدیث، علمی مذاکرہ اور بیانات کے ذریعہ ہرآن ہوتارہتا ہے تو ذکرکے لئے سال میں صرف ایک دن متعین کرنا حب رسول نہیں ہےبلکہ حب رسول کے نام پہ دھوکہ ہے۔

(2) اسی طرح کہاجاتا ہے کہ اس جشن کے ذریعہ نبی کے اوصاف اور نسب کا جاننے کا موقع ملتا ہے۔ ایک مسلمان کے لئےنبی کی زندگی میں نمونہ ہے اس لئے ہمیشہ آپ کے سنن اور اوصاف کو جانناہے تاکہ ان اوصاف کے ہم بھی حامل بنیں جواوصاف ونسب کے جاننے کے لئے سال میں ایک دن متعین کرتے ہیں ان کے پاس جشن میلادسے دنیاوی غرض توہوگی مگر دینی غرض نہ ہوگی اور جب دینی غرض نہ ہوتوحب رسول کا دعوی کیسا؟

(3) اسی طرح یہ بھی کہاجاتا ہے کہ اس دن ذکرکرنے، تلاوت کرنے، درود پڑھنے، اظہارمحبت کرنے اور صدقات وخیرات کرنے کا موقع ملتاہے۔ یہ سارے جشن عیدمیلاد منانے کے جھوٹے بہانے ہیں، ان سے صرف دنیاوی غرض ہے، میں نے اوپر بھی کہاکہ نبی ﷺ کی ذات گرامی ایک مومن کے لئے نمونہ ہے۔ ایک مومن ہونے کی حیثیت سے ہمیں سدا آپ کا ذکرکرناچاہئے، آپ پردرودپڑھناچاہئے، آپ سے اور آپ کی سنت سے محبت کا اظہارکرنا چاہئے اور فقراء ومساکین میں صدقات وخیرات عام کرناچاہئے۔ ان کارخیرکے لئے سال کا ایک دن متعین کرنا جہاں دین میں نئی ایجاد (بدعت) ہے وہیں دین سے بے اعتنائی، بے توجہی، لاپرواہی اور رسول کی اطاعت میں خیانت ہے۔

اسی طرح میلادی حضرات قرآ ن وحدیث کے نصوص سے الٹاپلٹا مطلب نکالتے ہیں،انہیں توڑمروڑکربیان کرتے ہیں جس سے عوام کو دھوکہ ہوجاتا ہے۔ یہاں ان کے ذکر کا موقع نہیں ہے، تاہم آپ کو ایک قاعدہ بتادیتا ہوں جس سے میلادی دلائل کا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔

جاء الحق بریلویوں کی معتبر کتاب ہے، اس کے مصنف احمد یارخاں نعیمی میلاد کے متعلق لکھتے ہیں:لَمْ یَفْعَلْہُ أَحَدٌ مِّنَ الْقُرُونِ الثَّلَاثَۃِ، إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدُ(جاء الحق : ١/٢٣٦)

ترجمہ: میلاد شریف تینوں زمانوں میں کسی نے نہ کیا، بعد میں ایجاد ہوا۔

گویا جشن عید میلاد النبی نہ تو نبی ﷺ کے زمانے میں تھا، نہ ہی صحابہ کرام کے زمانے میں تھا اور نہ ہی تابعین و تبع تابعین کے زمانوں میں تھا۔

یہی مصنف اپنی اسی کتاب کے صفحہ 204 پربدعت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وہ اعتقاد یا وہ اعمال جو کہ حضور علیہ الصلاة والسلام کے زمانہ حیات ظاہری میں نہ ہوں بعد میں ایجاد ہوئے”۔

بریلوی مصنف کے ان دونوں عبارتوں کا خلاصہ اور مطلب یہ ہواکہ خیرالقرون میں جشن میلاد نہیں منایاجاتا تھا، یہ نبی کے بعد کی ایجاد ہے اس وجہ سے بدعت ہے اور ہربدعت ضلالت وگمراہی ہے جو جہنم میں لے جائے گی۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

وَكلَّ محدثةٍ بدعةٌ وَكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ وَكلَّ ضلالةٍ في النَّارِ (صحيح النسائي:1577)

ترجمہ: اور ہر نئی ایجاد بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

اس میلاد میں انجام دئے جانے والے شرکیہ وبدعیہ امور کو بھی دیکھیں کہ ان کا اسلام سے اور محبت رسول سےکیا واسطہ ہے ؟

روضہ رسول کی شبیہ بنانا، شرکیہ نعتیں، اشعاراورقوالیاں گانا، نبی کوحاضروناظرہونے کا عقیدہ رکھنااوراس عقیدے سے مجلس میں قیام کرنا، چراغان کرنااور اس پہ ہزاروں روپئے صرف کرنا، جھنڈیاں لگانا، نعلین شریفین کی تصویربنانا،اس پہ محمد ﷺ کا نام لکھنا،عورت ومردکا باہم اختلاط، ناچ گانا، باجاگاجا، ڈھول تماشہ، آتش بازی، بےہودہ حرکتیں، ناجائزکھیل کود، مشعل بردارجلوس وغیرہ کون سا اسلام ہے اور کیا یہ محبت رسول ہے ؟ یہاں عمل کی قبولیت کے متعلق معیار بھی جان لیں تاکہ اس معیار پر جشن عیدمیلادالنبی کو پرکھ کر دیکھ سکیں۔اللہ کے یہاں عمل کی قبولیت کے لئے تیں شرائط ہیں۔

پہلی شرط : عمل میں اخلاص پایا جائے۔ جشن عیدمیلاد میں اخلاص کا فقدان ہے، یہ صرف دنیا کو دکھانے کے لئے ایک قسم کی نوٹنکی ہے، اس میں شرک وکفر کا انجام دینا اپنی جگہ۔

دوسری شرط : عقیدہ توحیدکا پایاجانا۔ میلادیوں کا عقیدہ ہے نبی وفات نہیں پائے ہیں وہ حاضروناظر ہیں، آپ ﷺ کوعالم الغیب مانتے ہیں، آپ کو حاجت روا سمجھتے ہیں، ان کے علاوہ بہت سے کفریہ و شرکیہ عقائد ان کے یہاں پائے جاتے ہیں۔

تیسری شرط : عمل کا سنت کے مطابق ہونا۔ جشن عیدمیلاالنبی سنت کی مخالفت ہے کیونکہ سنت سے اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

کلام آخر یہ ہوا کہ جشن عیدمیلادالنبی منانا بدعت مروجہ ہے جو 625 ہجری میں ایجاد کی گئی۔ اس میں حب رسول کی کوئی بات نہیں پائی جاتی ہے، یہ حب رسول کے نام پر سراسر دھوکہ، فراڈ، دنیاطلبی، بدعات اور سیئات کوفروغ دینا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو محبت رسول کےاس جھوٹے دعوے اور جھوٹے دعویداروں سے بچائے۔ آمین

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close