فقہ

آپ کے مسائل  اور ان کا شرعی حل

 شیخ مقبول احمد سلفی

سوال(1): کیا قبر پر جاکر یہ کہنا درست ہے کہ میرے لئے دعا کیجئے گا یا قبر والے لوگ دعائیں کرسکتے ہیں ؟

جواب : قبروالوں کو دنیا والوں کی کوئی خبر نہیں ہوتی جیسے دنیا والوں کو قبر والوں کے حالات معلوم نہیں ہوتے ۔ جب کوئی زندہ انسان مرے ہوئے کو پکارتا ہے تو مردہ اس کی آواز نہیں سنتا کیونکہ وہ موت کا ذائقہ کچھ چکے اور جب کسی کی موت واقع ہوجائے تو اس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں ، سننا بھی عمل ہے لہذا مردہ سن بھی نہیں سکتا ۔ اس وجہ سے کسی کی قبرپر جاکر اسے دعا کے لئے کہنا بے فائدہ ہے اور مردے کسی کے لئے دعائیں بھی نہیں کرتے ، وہ زندوں سے پورے طورپر پر بے خبر ہیں ۔

سوال(2): کیا محمد ﷺ کسی انسان کی موت کے بعد اس کی قبر میں تشریف لاتے ہیں؟

جواب:  کسی بھی حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ محمد ﷺ کسی کی وفات کے بعد اس کی قبر میں تشریف لاتے ہیں ، یہ لوگوں کی بے دلیل بات ہے ۔ قبر میں مردوں سے تین سوالات کئے جاتے ہیں ۔ تمہارا رب کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے اور تمہارے نبی کون ہیں؟ نبی کو اگر قبر میں تشریف لانا کہیں گے تو پھریہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ  اللہ بھی  قبر میں نزول کرتا ہے جبکہ اس کا کوئی قائل نہیں ہے ۔ مسند احمد کے الفاظ سے بدعتیوں نے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے وہ الفاظ اس طرح ہیں : ماھذاالرجل الذی کان فیکم؟ اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو تمہارے درمیان بھیجا گیا تھا؟  اس میں کہیں بھی ذکر نہیں کہ آپ وہاں جسمانی اعتبار سے موجود ہیں یا  کسی کی قبر میں آپ تشریف لاتے ہیں ۔ اگر ایسی بات ہوتی تو "کان” کا لفظ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی جس کے معنی تھا کے ہوتا ہے یعنی یہاں پہلے والی بات پوچھی جارہی ہے قبر میں موجود قریبی کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں ہے۔

سوال(3): بعض لوگ امیر خسرو کی مثال دیکر موسیقی اور قوالی حلال قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں ان کے پاس دلیل ہے اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟

جواب :  امیرخسرو صوفی شاعر ہیں اور صوفیوں کے یہاں بناؤٹی اسلام ہے ۔ ان لوگوں نے اپنے لئے موسیقی بھی حلال کرلیا ہے اور اسے اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں جبکہ ہرقسم کی موسیقی حرام ہے ۔ قوالی میں بھی ڈھول ، باجے اور موسیقی ہوتی ہے اس وجہ سے قوالی بھی حرام ہے ۔ ہمارے لئے معیار کتاب اللہ اور سنت رسول ہے ان دونوں سے ہٹ کر کسی بزرگ اور صوفی شاعر کی بات نہیں لی جائے گی ۔

سوال (4): بدر کی لڑائی میں اللہ نے چار ہزار فرشتوں سے مسلمانوں کی مدد کی کیا اس کی دلیل ملتی ہے ؟

جواب: بدر کے متعلق سورہ انفال آیت نمبر (9) میں اللہ تعالی نے ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ  مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے جبکہ آل عمران آیت (124) میں تین ہزار فرشتوں کے ذریعہ مدد کرنے کا ذکر ہے اور اس کے بعد والی (125) آیت میں پانچ ہزارفرشتوں  کا وعدہ ہے ۔

ان تینوں آیات  کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے اللہ نے ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ اہل بدر کے مسلمانوں کی مدد کی پھر مزید تین ہزار فرشتے مدد کے لئے آئے ۔ اس طرح مکمل چار ہزار کی تعداد ہوگئی ۔ پانچ ہزار کی تعداد میں مفسرین کے دو اقوال ہیں ایک قول تو یہ ہے کہ مدد کے واسطے پانچ ہزار فرشتوں کی تعداد پوری کی گئی اور دوسرا قول یہ ہے کہ مسلمانوں کو پانچ ہزار فرشتوں کی ضرورت نہیں پڑی چار ہزار سے ہی مدد کافی ہوگئی ۔

سوال(5): بعض علماء منی کو پاک کہتے ہیں ،میرا سوال یہ ہے کہ اگر منی کپڑوں میں کہیں لگی ہو تو اسے دھونا ضروری ہے یا نہیں ، اگر اسے دھونا ضروری ہے تو منی کو پاک کیسے کہیں گے ؟

جواب : منی اگر گیلی ہو تو اسے دھونا ہے یا کسی چیز سے پوچھ لینا بھی کافی ہے اور اگر خشک ہو گئی ہو تو اسے کھرچ دینا یا مل دینا  ہی کافی ہے۔ صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سےمروی ہے ،وہ فرماتی ہیں:لقد كنت أفركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فركاً ، فيصلي فيه۔یعنی میں نبی کریمﷺ کے کپڑوں سے منی کو کھرچ دیتی تھی اور ان میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔

یہ حدیث منی کے پاک ہونے کی دلیل ہے کیونکہ کھرچنے سے کوئی چیز مکمل طور پر زائل نہیں ہوتی اور اگرمنی نجس ہوتی تو اس کو کھرچنا کافی نہ ہوتا بلکہ دھونا لازمی ہوتاجبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبیﷺ کے کپڑوں پر منی لگی ہوتی تو میں اسے کھرچ دیتی اور آپ انہی کپڑوں میں نماز ادا کرتے جبکہ منی کا نشان کپڑوں میں موجود ہوتا ۔

سوال(6) :قبرستان میں قرآن خوانی کرنا منع ہے تو میت کو دفن کرنے کے بعد آداب دعاء کا خیال رکھتے ہو ئے دعاء شروع کرتے وقت سورہ فاتحہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب : نبی کریم ﷺ نے ہمیں دعا کے آداب بتلادئے ہیں ان آداب میں سورہ فاتحہ پڑھنا مذکور نہیں ہے لہذا ہمیں دعا کرتے ہوئے آداب نبوی کو ملحوظ رکھنا چاہئے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہا کہ دعا کے شروع میں یا دعا کے اخیر میں سورہ فاتحہ پڑھنا بدعت ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ سے وارد نہیں ہے کہ آپ دعا کے شروع میں یا دعا کے اختتام پر سورہ فاتحہ پڑھتے تھے اور عبادت کے معاملہ میں جو چیز نبی ﷺ سے وارد نہ ہو اسے ایجاد کرنا بدعت ہے ۔ (مجموع فتاوى ابن عثيمين:14/159) .

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close