فقہ

آپ کے مسائل اور ان کا شرعی حل

شیخ مقبول احمد سلفی

سوال (1):ہمارے یہاں مکان صرف دو کمروں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے جگہ کی قلت ہے اور مجھے تہجد کی نماز بیڈ پر ہی ادا کرنی ہوتی ہے،کیا اس سے نماز کی ادائیگی ہو جاتی ہےاورکیا بیڈ پر کیا گیا سجدہ قابل قبول ہے؟

جواب: جگہ کی قلت یا زمین گیلی ہونے یا کیڑے مکوڑے کی تکلیف سے بچنے کی غرض سے ایسے بیڈ، تخت اورٹیبل پرنماز جائز ہے جو زمین پر ثابت ہو، اس طور پر کہ سجدہ کرتے وقت پیشانی اور ناک کو قرار وسکون حاصل ہو۔ تخت پر موجود خفیف گدا میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم نماز ادا کرتے وقت اسفنج وغیرہ کے موٹے گدا سے پرہیز کرنا ہےجس پر سجدہ کرنے سے پیشانی کو زمین پر استقرار نہ ہو۔

سوال(2):ایک مسجد ہے جس میں پہلی منزل پرنیچے مرد حضرات نماز پڑھتے ہیں اور اوپر والی منزل پرعورتیں نماز پڑھتی ہیں مائیکرو فون کے ذریعے کیا عورتوں کی نماز دوسرے منزلہ پر درست ہے؟

جواب:مسجد کے نیچے جماعت سےمرد نماز پڑھیں اور مرد امام کی اقتداء میں عورتیں اسپیکرکے ذریعہ مسجدکے بالائی حصے میں نمازاداکریں تواس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال(3):کیا دودھ پلانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب :بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ بچے کو دودھ پلانے کی وجہ سے وضوٹوٹ جاتا ہےحالانکہ احادیث میں کہیں یہ ناقض وضو ہونا ثابت نہیں ہے۔ مزید برآں دودھ ایک پاک اور طیب و طاہر چیز ہے اور پاک چیزوں کے بدن سے نکلنے کی وجہ سے بھلاوضو ٹوٹتا۔ جیسے کوئی تھوک دے تو وضو نہیں ٹوٹا، بدن سے پسینہ نکل گیا تو وضو نہیں ٹوٹا، آنکھ سے آنسو نکل آیا تو وضو نہیں ٹوٹا اسی طرح بچے کو دودھ پلانے سے بھی وضو نہیں ٹوٹے گا۔ سبیلین سے جب ناپاک چیز نکلے گی تب وضو ٹوٹے گایا ان چیزوں سے جنہیں اسلام نے ناقض وضو بتلایا ہے۔

سوال(4) : ایک جوان آدمی یوم النحر کو رمی اور طواف افاضہ وغیرہ سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کرلیا جبکہ اسے یہ معلوم تھا کہ احرام میں یہ ممنوع ہے ایسی صورت میں کیا کیا جائے گا؟

جواب: اگر کسی نے احرام کی حالت میں تحلل اول سے پہلے بیوی سے جماع کرلیا  تواس کا حج باطل ہوگیا۔ ایسے شخص پر اس حج کی قضا لازم ہے خواہ نفلی حج ہو یا فریضہ۔ اس کے علاوہ اس کے ذمہ ایک اونٹ ذبح کرنا ہے جسے مکہ کے فقراء ومساکین پر تقسیم کرے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

( إذا كان ) المحظور جماعاً قبل التحلل الأول في الحج، فإن الواجب فيه بدنة يذبحها في مكان فعل المحظور، أو في مكة ويفرقها على الفقراء(المجموع المتين من فقه و فتاوى العمرة و الحج لابن عثيمين)

ترجمہ: اگر ارتکاب کردہ ممنوعہ عمل جماع ہو جو کہ حج میں تحلل اول سے پہلے کیا گیا ہو تو اس میں اونٹ واجب ہو گا جو کہ اسی جگہ ذبح کیا جائے گا جہاں جماع ہو ا، یا پھر اسے مکہ میں ذبح کر کے فقرائے حرم میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

سوال(5): میں ایک خاتون ہوں میرے یہاں اذان کافی تاخیر سے ہوتی ہے کیا مجھے اذان کے بعد ہی نماز پڑھنا چاہئے جبکہ حدیث میں اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت آئی ہے ؟

جواب:بلاشبہ اول وقت میں نماز ادا کرنے کی فضیلت آئی ہے اس لئے مرد کی طرح عورت کو بھی اپنی نمازاول وقت میں ادا کرنی چاہئے تاکہ اسے یہ فضلیت حاصل ہو۔ اگر کہیں بستی میں اذان تاخیر سے ہوتی ہو تو عورت کو نماز کا وقت ہوتے ہی اول وقت میں نماز ادا لینی چاہئے۔

سوال(6):ہم خاتون کو کبھی کبھی گھر میں زیادہ مصروفیت رہتی ہے تو کیا فرض نماز کے اذکار کرنا لازم ہیں یا اگر کسی وجہ سے نہ کر پائیں تو کیا گناہ ہوگا یا اگر کبھی کام زیادہ ہوتو ان اذکار کو چلتے پھرتے یا بستر پر لیٹ کر بھی پڑھ سکتے ہیں؟

جواب : تکبیر تحریمہ سے نماز شروع ہوتی ہے اور سلام پھیرتے ہی نماز ختم ہوجاتی ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے:

مِفتاحُ الصَّلاةِ الطُّهورُ وتحريمُها التَّكبيرُ وتحليلُها التَّسليمُ(صحيح أبي داود:61)

ترجمہ:نماز کی کنجی وضو ہے، اس کی تحریم «الله اكبر» کہنا اور اس کی تحلیل «السلام علیکم» کہنا ہے۔

نماز کے بعد کے اذکار مستحب ومسنون ہیں، یہ واجب نہیں ہیں۔ کسی ان اذکار کو چھوڑدیا تو اس کی نماز صحیح ہے اور وہ گنہگاربھی نہیں ہوگا تاہم ان کے جو بڑے فضائل وفوائد ہیں ان سے محروم ہوجائے گا۔ کوئی مصروف آدمی نماز ختم ہونے کے بعد اس جگہ سے ہٹ جائے تو چلتے ہوئے یا بستر پر چلاجائے تو بستر پر ہی لیٹے یا بیٹھےنمازبعد کے اذکار پڑھ سکتا ہے شرط یہی ہے کہ یہ اذکار نماز کے فورا بعد ہو۔

سوال(7): اذان کے وقت عورتوں کا اپنے سر پردوپٹہ لینا کیسا ہے ؟

جواب:سر پہ دوپٹہ کا تعلق اذان سے نہیں ہے اس کا تعلق حجاب سے ہے، اگر ایسی بات ہوتی تو ضرور شریعت میں عورتوں کواس کا حکم دیا گیا ہوتا۔ مرد کی طرح عورتیں بھی مختلف حالات سے گزرتی ہیں مثلا غسل کررہی ہو،قضائے حاجت کررہی ہو، جماع کی حالت میں ہوکیا ان حالا ت میں بھی عورت کو سر ڈھکنا ضروری ہے ؟ ظاہر سی بات ہے شریعت میں ایسی کوئی دلیل وارد نہیں ہے۔ اذان کے وقت رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ سننے والا یا سننے والی اس کا جواب دے۔ ہاں کسی اجنبی مرد کی نظر پڑنے والی جگہ ہو تو جس طرح پورے بدن کو اس سے چھپانا ہے اسی طرح سر کو بھی چہرہ سمیت چھپانا ہے خواہ کوئی بھی وقت ہو۔

سوال(8): آج کل الٹراساؤنڈ سے جنین کا ناقص الخلقت ہونا معلوم ہوجاتا ہے تو کیا معذور پیدا ہونے والے بچے کا اسقاط جائز ہے؟

جواب:رابطہ عالم اسلامی کے اسلامک فقہ اکیڈمی نے اپنےایک سیمنار جو 10/2/1990 میں منعقد ہوا تھا اس میں یہ قرارداد پاس کیا ہے کہ اگر طبی رپورٹ کے ذریعہ جنین(بچہ) تخلیقی اعتبار سے عیب دار معلوم ہو تو حمل کی شروعات سے لیکر ایک سو بیس دن سے پہلے اسقاط کرسکتے ہیں لیکن اس کے بعد جنین کا اسقاط جائز نہیں ہے۔

اس سلسلے میں میرا یہ ماننا ہے کہ ڈاکٹروں کااکثرایسا گمان ہوتا ہے جبکہ اللہ سب سے اعلی حکیم ہے ہمیں اس بغیرکسی سوء ظن کے اپنے مہربان حکیم پہ کامل بھروسہ رکھنا چاہئے اور جنین کا اسقاط نہیںکرنا چاہئے چاہے جنین میں روح پھونگی گئی ہو یا نہیں پھونکی گئی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حمل ٹھہرجاتا ہے تو وہ ایک نفس ہے اور اس نفس کی اصل حالت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ محض گمان سے کسی نفس کا اسقاط قتل کے زمرے میں ہے۔ بسا اوقات اطباء کا گمان جنین کا ناقص الخلقت ہونا ہوتا ہے مگرصحیح صورت میں پیداہوتا ہے۔ ممکن ہے جنین میں پہلے تخلیقی اعتبار سے کوئی عیب نظر آرہا ہو اللہ نے اسے ماں کے پیٹ میں ہی شفا دیدی ہو۔ تخلیق کے متعلق اللہ کی اپنی تدبیروحکمت ہوتی ہے کسی کواندھا تو کسی کو پاگل تو کسی کو کالا تو کسی کو گورا پیدا کرتا ہے۔ اس میں بھی اللہ کی طرف سے آزمائش اور بچوں کے لئے اس میں صبر کے بے انتہا اجر ہوتا ہے۔ جیسے ہم کسی زندہ پاگل یا معذور انسان کا قتل نہیں کرسکتے اسی طرح ماں کے پیٹ میں بھی جنین کا قتل جائز نہیں ہے الا یہ کہ ماں کی جان کو خطرہ ہو تو حمل کے کسی بھی مرحلہ میں اسقاط جائز ہے۔

سوال(9): میت کے غیرضروری بال کی صفائی نہ کی جائے تو کیا میت نجس ہی رہتا ہے؟

جواب: اگرمیت کےغیرضروری بال مونچھ(بغل اور زیرناف چھوڑکر) اور ناخن بڑے ہوں تو ان کی صفائی کر دینی چاہئے لیکن اگرعمدا یا سہواصفائی نہ بھی کی گئی تو غسل سے میت کو پاکی حاصل ہو جاتی ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ مومن ناپاک ہی نہیں ہوتایعنی مومن معنوی طورپرپہلے سے پاک ہی ہوتا ہے۔

سوال(10):کیا اشیاء لیتے اور دیتے وقت دایاں ہاتھ ہی استعمال کرنا چاہئےیا بایاں بھی استعمال کر سکتےہیں؟

جواب: حسب ضرورت بائیں ہاتھ سے بھی کام لے سکتے ہیں بطور خاص جہاں دونوں ہاتھ کی ضرورت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شرف والے کام دائیں طرف سے کیاکرتے تھے اس لحاظ سے مسنون یہی ہے کہ شرف والا کام دائیں سے کیا جائے مگر ضرورت بائیں ہاتھ کی پڑے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال(11): کیا عورت اپنے سروں کے بال نیچے سے برابر کروانے کے لیے کٹوا سکتی ہے، عورت کا بال کٹوانے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب:مسلمان عورتوں کے لئے سر کے بال مکمل رکھنا واجب ہے اور بلاضرورت اسے مونڈوانا حرام ہے۔اسی طرح بال کٹوانا بھی جائز نہیں ہےچاہے شوہر ہی کا حکم کیوں نہ ہو،رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتوں کے بال پورے ہوتے تھے اور چھوٹے بالوں والی عورتیں وصل سے کام لیتی تھیں تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ان پر لعنت بھیجی۔حج و عمرہ میں عورت کا انگلی کے پور کے برابر بال کٹانے کا حکم ہے اور اگر عورت کوکسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے بال کٹانے کی ضرورت پڑجائے تو اس صورت میں جائز ہوگا۔نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے متعلق مسلم شریف میں ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

وكان أزواجُ النبيِّ -صلى الله عليه وسلم- يَأخذْنَ مِن رؤوسِهنَّ حتى تكونَ كالوَفْرَةِ (صحيح مسلم:320)

ترجمہ: بے شک نبی کریمﷺ کی بیویاں اپنے سروں کے بال کاٹ لیتی تھیں حتیٰ کہ کانوں تک لمبے ہوجاتے۔

اس حدیث کی بناپر بعض علماء نے عورتوں کو بال کٹانے کی رخصت دی ہے حالانکہ یہ حدیث ازواج مطہرات کے ساتھ ہی خاص ہے، انہوں نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد ترک زینت کے طور پرایسا کیاتھا۔ اگر کوئی عورت ضرورتا کٹانا چاہے تو اس کی اجازت ہے مگر فیشن کے طورپریا مغربی تہذیب کی نقالی کی خاطر یا مردوں سے مشابہت اختیار کرنے کی غرض سے عورت کا سرکے بال کٹاناان صورتوں میں حرام ٹھہرے گا۔

سوال(12): اسلام میں موسیقی حرام ہے اس کی کیا دلیل ہے؟

جواب:قرآن وحدیث میں متعدد نصوص ہیں جو موسیقی اور اس کے آلات کی حرمت پہ دلالت کرتے ہیں۔ اللہ کے فرمان میں لہوالحدیث (لغوبات) کی ممانعت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے مراد گانا بجانا لیا ہے، مجاہد نے ڈھول مراد لیا ہے اور اس کے متعلق حسن بصری نے کہا کہ یہ آیت گانابجانے اور مزامیر(آلات موسیقی )کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

لہوالحدیث کے علاوہ کوبہ (ڈھول) مزمار(موسیقی کاآلہ) اور معازف ( گانابجانے کے آلات ) کی ممانعت وارد ہے۔ چند احادیث دیکھیں :

٭ نبی ﷺ کا فرمان ہے:

إنَّ اللهَ حرَّم عليَّ – أو حرَّم – ؛ الخمرَ، والميسِرَ، والكُوبةَ(صحيح أبي داود:3696)

ترجمہ: اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر حرام فرمایا ہے یا کہا۔ حرام کی گئی ہے۔ شراب ‘ جوا اور ڈھول۔

٭نبی ﷺ کافرمان ہے:

صَوتانِ ملعونانِ، صَوتُ مزمارٍ عند نِعمةٍ، وصَوتُ وَيلٍ عند مصيبةٍ(السلسلة الصحيحة:427)

ترجمہ: دو آواز ملعون ہیں، ایک خوشی کے وقت باجے کی آواز اور دوسری غم کے وقت شور مچانے اور پیٹنے کی آواز۔

٭نبی ﷺ کا فرمان ہے :

في هذِهِ الأمَّةِ خَسفٌ ومَسخٌ وقَذفٌ، فقالَ رجلٌ منَ المسلِمينَ : يا رسولَ اللَّهِ، ومتَى ذاكَ ؟ قالَ : إذا ظَهَرتِ القِيانُ والمعازِفُ وشُرِبَتِ الخمورُ(صحيح الترمذي:2212)

ترجمہ: اس امت میں خسف،مسخ اور قذف واقع ہوگا، ایک مسلمان نے عرض کیا : اللہ کے رسول! ایساکب ہوگا؟ آپ نے فرمایا:جب ناچنے والیاں اورباجے عام ہوجائیں گے اورشراب خوب پی جائے گی۔

٭سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا:

أنَّ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم قالَ في الجرسِ: مزمارُ الشَّيطانِ.(صحيح أبي داود:2556)

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے گھنٹی کے متعلق فرمایا :یہ شیطان کا ساز ہے۔

٭ عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا، قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ( صحيح أبي داود:4924)

ترجمہ: جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ؓ نے بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھ لیں اور راستے سے دور چلے گئے۔ آگے راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس طرح کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے ایسے ہی کیا تھا۔

سوال(13):ایک شخص نمازی نہ ہو اور بہت اچهے اخلاق و کردار کا مالک ہو،اگر ایسے شخص کا انتقال ہو جائے اور وہ بهی جلنے سے توایسے شخص کی موت کو شہادت کی موت کہا جائے گا؟

جواب: اگر کوئی آدمی نماز کی فرضیت کا انکار نہ کرنے والا ہو اور کبھی کبھار یا ہفتہ وار نماز ادا کرنے والا ہو تو ایسا شخص مسلم ہے اور جل کر مرنے والے کو حدیث میں شہید کہا گیا ہے۔

ابوداؤد(3111) میں "وصاحبُ الحريقِ شهيدٌ” اور نسائی(1845) میں "وصاحبُ الحرقِ شَهيدٌ ” کے الفاظ ہیں اس کا معنی ہے جل کر مرنے والا شہید ہے۔ اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے.

سوال(14): ماں کو اپنے میکہ سے جائیداد ملی ہے کیا اس جائیداد سے ماں جسے چاہے اسی کودے گی یا اس میں تمام اولاد کا حق ہے ؟

جواب: اولا یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ترکہ کی تقسیم موت کے بعد ہوتی ہے اور والدہ کی میراث بھی وفات کے بعد تمام اولاد اور شوہر و وارث میں تقسیم ہوگی۔ اگر والدہ زندگی میں اپنی ملکیت میں سے کسی اولاد کو کچھ ہدیہ دینا چاہے تو دے سکتی تاہم تمام اولاد کے درمیان عدل وانصاف کو قائم کرے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے :

اعدلوا بينَ أبنائِكُم، اعدلوا بينَ أبنائِكُم(صحيح النسائي:3689)

ترجمہ:اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو، اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

بخاری شریف میں ہے ایک شخص نے اپنے ایک بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا جب نبی ﷺ کو معلوم ہوا کہ دوسرے بیٹیوں کو نہیں دیا ہے تو حکم دیا کہ اس سے بھی غلام واپس لے لو۔(صحيح البخاري:2586)

سوال (15) : ایک شخص کمیشن دلال ہے جو بسا اوقات دونوں جانب کمیشن لیتا ہے اور کبھی وہ اس طرح کمیشن طے کرتا ہے کہ میں یہ مال تمہیں اتنے میں بیچ دوں گا اس سے زیادہ میرا حصہ ہےکیا اس طرح کی دلالی درست ہے ؟

جواب : اگر دلال دونوں جانب یعنی بائع اور مشتری کے لئے محنت کرتا ہے تو دونوں جانب سے کمیشن لے سکتا ہے اور کمیشن کی اجرت معلوم ہوتو جائز ہے ورنہ جائز نہیں ہے یعنی کوئی اس طرح معاملہ طے کرے کہ یہ سامان تمہارے لئے اتنے میں بیچوں گا اور اس سے زیادہ جو منافع آئے گا میں لوں گا، اس طرح دلالی میں منافع طے کرنا جائز نہیں ہے،یاتو فیصد متعین کرلے یا رقم کی تحدید کرلے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close