فقہ

امام ابو حنیفہؒ اور اصولِ فقہ

ڈاکٹر حافظ عبداللہ 
اب اس بات میں کسی کلام کی گنجائش نہیں کہ صحابہ و تابعین اور پھر ائمہ مجتہدین کے پیش نظر نصوص سے استنباط اور نئے مسائل کا حل تلاش کرنے کے دوران باقاعدہ قواعد و ضوابط ہوتے تھے جن کو وہ پیش نظر رکھتے تھے۔ لہٰذا فقہ کے اصول و قواعد کی موجودگی اور دوران استنباط و استخراج ان کا استعمال یقینی اور قطعی ہے ۔ البتہ تحقیق طلب امر یہ ہے کہ اصول فقہ کے موضوع پر سب سے پہلے باقاعدہ کس نے کتاب تالیف کی؟ اگرچہ اس بات کا قطعی اور یقینی طور پر تعین کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے کہ کسی علم میں اولین تالیف کا شرف کس کو حاصل ہوا جبکہ علوم کی تدوین و ترتیب اور تصنیف و تالیف اپنے ابتدائی مراحل میں ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ ابتدائی تالیفات و تصانیف کا ایک بڑا ذخیرہ زمانہ کے دست برد سے محفوظ بھی نہ رہا ہو ۔ دور حاضر کے ایک معروف محقق ڈاکٹر عبدالوہاب ابوسلیمان نے بجا فرمایاہے:
’’قوموں میں علوم کا ظہور اچانک نہیں ہوتا، بلکہ وہ غور و خوض اور گہری فکر کے ایک زمانہ سے گزرتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے معانی روشن ہوجاتے ہیں، ذہنوں میں ان کی حدود واضح ہوجاتی ہیں اور ان کی تدوین کے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ اپنی نمو اور نکھار میں قانون تطور و وتدریج سے گزرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ (کسی علم کی ) ابتدا اور اس ( علم کی ) زمام تھامنے والے اولین افراد کا تعین مشکل ہوتا ہے ۔ یہی معاملہ علمِ اصول فقہ میں پہلی تالیف ( کے تعین ) کے بارے میں بھی ہے ۔ مختلف اہل مذاہب کے مابین (اصول فقہ میں ) پہلی تالیف کے بارے میں اختلاف ہے ، باوجودیہ کہ بعض ( اہل مذہب ) کا دعویٰ اس مسئلہ پر اجماع کا ہے ۔ ‘‘ 1؂
دورِ تدوین میں فقہی مکاتبِ فکر کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مختلف بلادِ اسلامیہ میں متعدد ائمہ مجتہدین ، اجتہاد و استنباط کے ذریعہ لوگوں کی رہنمائی کررہے تھے۔ علامہ ابنِ حزمؒ فرماتے ہیں:
’’ثم أتی بعد التابعین فقھاء الامصار: کأبی حنیفۃ، و سفیان، و ابن أبی لیلی بالکوفۃ، و ابن جریج بمکۃ ، ومالک و ابن الماجشون بالمدینۃ، و عثمان البتی و سوار بالبصرۃ ، و الأوزاعی بالشام ، و اللیث بمصر ، فجروا علی تلک الطریقۃ من أخذ کل واحد منھم عن التابعین من أھل بلدہ فیما کان عندھم ، و اجتھادھم فیما لم یجدوا عندھم ، و ھو موجودعندغیر ھم، و لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا‘‘ 2؂

پھر تابعین کے بعد مختلف علاقوں میں فقہاء ہوئے ، جیسا کہ ابو حنیفہ ، سفیان، ابن ابی لیلی کوفہ میں ، ابن جریج مکہ میں، مالک اور ابن ماجشون مدینہ میں اور عثمان البتی اورسوار بصرہ میں ، اوزاعی شام میں، لیث مصر میں۔ پس ان (فقہاء) نے اپنے اپنے شہر میں موجود تابعین سے جو کچھ ان کے پاس تھا، اسے اخذ کیا اور جو کچھ ان کے پاس نہیں تھا اس کے بارے میں اجتہاد کیا، اگرچہ( یہ اجتہادات ) دوسرے (شہر کے) لوگوں کے پاس موجود تھے۔ اللہ نے ہر شخص کو اسی کا مکلّف کیا ہے جو اس کے بس میں ہے۔
ان میں دو مکاتبِ فکر ایسے ہیں جن کا منہج زیادہ مقبول ہوا۔ ایک حجاز کا مکتبۂ فکر جس کی امامت امام مالک ؒ فرمارہے تھے اور اس کی بنیاد حضرت عمرؓ ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت عباسؓ کے فتاویٰ اور احکام پر قائم ہوئی اور دوسرا عراقی مکتبہ فکر تھا جس کی امامت امام ابو حنیفہؒ فرما رہے تھے اور اس کی بنیاد حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ، حضرت علیؓ، قاضی شریحؒ اور پھر ان کے تلامذۃ علقمہؒ ، ابراہیم نخعیؒ اور حمادؒ کے فتاویٰ اور احکام پر قائم تھی۔
لیکن ان دونوں مکاتب فکر میں سے عراقی مکتبۂ فکر کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ اس کے قائد امام ابوحنیفہؒ نے فقہ کی تدوین کے لیے باقاعدہ مجلس تشکیل دی جس کے لیے آپ نے اپنے تلامذہ میں سے چالیس ایسے افراد کا انتخاب فرمایا جو خاص خاص فنون میں ، جو تدوین و تکمیل فقہ کے لیے ضروری تھے، استادِ زمانہ تسلیم کیے جاتے تھے، مثلاً یحییٰ بن ابی زائدہ، حفض بن غیاث، قاضی ابو یوسف وغیرہ حدیث وآثارمیں نہایت کمال رکھتے تھے۔ امام زفرقوت استنباط میں مشہور تھے، قاسم بن معن اور امام محمد کو ادب اور عربیت میں کمال حاصل تھا۔
علامہ زاہد الکوثر ی فرماتے ہیں:
وکان أجلی ممیزات مذہب أبی حنیفہ، أنہ مذھب شوری، تلقتہ جماعۃ عن جماعۃ اِلی الصحابۃ رضوان اﷲ علیھم اجمعین بخلاف سائر المذاھب، فانھا مجموعۃ آراء لأ ئمتھا۔ 3؂

’’مسلک امام ابو حنیفہ کے اہم امتیازات میں سے یہ ہے کہ یہ مسلک شورائی ہے، اسے ایک جماعت نے دوسری جماعت سے حاصل کیا اور یہ سلسلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین تک ہے، اس کے برعکس دیگر مسالک ان کے ائمہ کی آراء کا مجموعہ ہیں۔
علامہ کوثری آگے فرماتے ہیں:
مغیرہ بن حمزہ کا بیان ہے کہ ابو حنیفہ کے اصحاب جنہوں نے ان کے ساتھ کتب کی تدوین کی ، چالیس افراد تھے جو کہ ( علم و مرتبہ میں) بڑوں کے (بھی ) بڑے تھے۔
اسد بن الفرات نے فرمایا: ’’امام ابو حنیفہ کے اصحاب جنہوں نے ان کے ساتھ کتب کی تدوین کی ، چالیس افراد تھے ۔ ان میں سے ابتدائی دس افراد میں یہ حضرات شامل تھے ۔ زفر بن ہذیلؓ ، داؤد طائیؓ، اسد بن عمرو، یوسف بن خالد اسلمی (امام شافعیؓ کے مشائخ میں سے ایک ) یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ (جوان کے لیے تیس سال تک کتابت کرتے رہے)۔ مجھے اسد بن عمرو نے بتایا کہ وہ حضرات کسی سوال کے جواب میں ابو حنیفہؓ کی موجودگی میں مختلف آراء دیا کرتے تھے ۔ ایک کا جواب کچھ ہوتا تو دوسرے کا جواب کچھ اور۔ پھر وہ مسئلہ کو امام ابوحنیفہ کے سامنے پیش کرتے اور ان سے پوچھتے۔ پس وہ ایسا جواب دیتے جو کہ جامع ہوتا یعنی اقرب ( الی الصواب)۔ اور کسی مسئلہ کے حل کے لیے تین دن تک بحث و گفتگو ہوتی رہتی، پھر وہ اسے دیوان میں لکھ دیتے ۔‘‘ 3؂ الف
فقہ حنفی کے طریقۂ تدوین سے متعلق علامہ شبلی فرماتے ہیں:
’’تدوین کا طریقہ یہ تھا کہ کسی خاص باب کا کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تھا، اگر اس کے جواب میں سب لوگ متفق الرائے ہوتے تو اسی وقت قلم بند کر لیا جاتا اور نہایت آزادی سے بحثیں شروع ہوتیں، کبھی کبھی بہت دیر تک بحث قائم رہتی، امام صاحب بہت غور اور تحمل کے ساتھ سب کی تقریریں سنتے اور بالآخر ایسا جچا تلا فیصلہ کرتے کہ سب کو تسلیم کرنا پڑتا، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ امام صاحب کے فیصلے کے بعد بھی لوگ اپنی اپنی آراء پر قائم رہتے ، اس وقت وہ سب مختلف اقوال قلم بند کر لیے جاتے، اس کا التزام تھا کہ جب تک تما م شرکائے جلسہ جمع نہ ہولیں کسی مسئلہ کو طے نہ کیا جائے۔ ‘‘4؂
علامہ کوثری تحریر فرماتے ہیں:
قول زفر: کنا نختلف اِلی أبی حنیفۃ و معنا أبو یوسف و محمد بن الحسن ، فکنا نکتب عنہ ، قال زفر، فقال یوما ابو حنیفۃ لأبی یوسف: و یحک یا یعقوب، لا تکتب کل ما تسمع منی ، فاِنی قد أری الرای الیوم و أترکہ غدا، و أری الرأی غدا، وأترکہ فی غدہ، انظر کیف کان ینھی أصحابہ عن تدوین المسائل ، اِذا تعجل احدھم بکتابتھا قبل تمحیصھا کما یجب۔‘‘5؂

زفرؒ فرماتے ہیں: ’’ہم ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ ہمارے ساتھ ابویوسف اور محمد بن حسن ہوتے۔ ہم ان کے اقوال لکھتے تھے۔ ایک دن امام ابوحنیفہ نے امام ابو یوسف سے فرمایا۔ ’’اے یعقوب، تمھارا بھلا ہو۔ جو کچھ مجھ سے سنتے ہو اسے نہ لکھ لیا کرو۔ میں آج ایک رائے قائم کرتا ہوں، کل اسے چھوڑ دوں گا۔ کل ایک رائے رکھوں گا ، پرسوں اسے چھوڑ دوں گا‘‘۔ دیکھئے کہ امام ابو حنیفہ اپنے ساتھیوں کو ، جب وہ بحث و تمحیص کے بغیر مسائل لکھنے میں جلدی کرتے تو انھیں تدوینِ مسائل سے کیسے منع کرتے تھے۔
علامہ کوثری الموفق المکی کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:
’’انہ وضع أبو حنیفۃ مذھبہ شوری بینھم لم یستبد فیہ بنفسہ دونھم اجتھادا منہ فی الدین و مبالغہ فی النصیحۃ ﷲ و رسولہ والمؤمنین، فکان یلقی المسائل مسألۃ مسألۃ و یسمع ما عندھم و یقول ماعندہ و یناظر ھم شہرا أو اکثر حتی یستقر أحد الأقوال فیھا، ثم یثبتھا أبویوسف فی الأصول حتی اثبت الأصول کلھا، و ھذا یکون أولی

امام ابو حنیفہؒ نے اپنا مسلک باہمی مشاورت کی بنیاد پر وضع کیا۔ انہوں نے خود کو برتر نہیں سمجھا اور اپنی رائے کو دوسروں پر مسلّط نہیں کیا۔ دین کے معاملے میں ان کی طرف سے اس کی پوری کوشش ہوئی۔ ایسا انھوں نے اللہ ، اس کے رسول اور مومنین سے خیر خواہی کے جذبے سے کیا۔ وہ ایک ایک مسئلہ پیش کرتے تھے اور (اپنے اصحاب سے) جو ان کے پاس ہوتے ان کے خیالات سنتے اور اپنی بات سناتے۔ اس طرح باہم ایک ایک مہینہ یا اس سے بھی زیادہ مباحثہ چلتا رہتا۔ یہاں تک کہ
و أصوب، و اِلی الحق أقرب، والقلوب الیہ أسکن وبہ أطیب، من مذھب من انفرد فوضع مذھبہ بنفسہ ، و یرجع فیہ اِلی رأیہ۔‘‘6؂

کسی ایک قول پر استقرار ہوجاتا ، پھر امام ابو یوسف اسے کتاب الأصول میں تحریر کرتے۔ یہاں تک تمام اصول کا انضباط عمل میں آگیا۔ اس لیے مسلک امام ابوحنیفہ اولیٰ، قرین صواب، حق کے زیادہ قریب، قلوب کے لیے باعث اطمینان اور پاکیزہ ترین ہے، اس مسلک کے مقابلہ میں جس کو ( اس کے بانی نے ) انفرادی طورپر وضع کیا اور اس(مسلک) کا مرجع اس کے (بانی) کی رائے ہے۔‘‘
اسی طرح ایک مسئلہ کی متعدد صورتیں زیر بحث لائی جاتیں اور خوب بحث و تمحیص کے بعد اسے تحریر کیا جاتا ۔ علامہ کوثری فرماتے ہیں:
’’ اورابو حنیفہؒ کا اپنے ساتھیوں کو فقہ سکھانے کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مسائل پر متعلق گفتگو کرتے ہوئے کسی مسئلہ پر ایک رائے پیش کرتے اور اس کی تائید میں ان کے پاس جو دلائل و براہین ہوتے انھیں پیش کرتے۔ پھر اپنے ساتھیوں سے پوچھتے کہ کیا ان کے پاس اس (رائے ) کے معارضہ میں کچھ(دلائل ) ہیں۔ پس جب انھیں اپنی رائے کو تسلیم کرتا ہوا پاتے تو خود ہی جو کچھ انہوں نے پہلے کہا اس پر رد کرنا شروع کرتے ، یہاں تک سامعین ان کی دوسری رائے کے درست ہونے کے قائل ہوجاتے تو ان سے اپنی اس نئی رائے کے بارے میں ان کی رائے طلب کرتے ۔ پھر جب دیکھتے کہ ان کے پاس کوئی بات نہیں تو تیسری رائے سامنے لاتے ۔ پھر سب کا رحجان اس تیسری رائے کی طرف ہوجاتا۔ آخر میں ان میں سے ایک رائے کو جو کہ صائب ہوتی ، واضح دلائل سے محکم کرتے۔ یہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا امتیازی طریقۂ تفقہ ہے ۔ ‘‘7؂
اس مجلسِ تدوین فقہ نے، جس میں محدثین ، فقہاء، لغت و عربیت کے ائمہ اوراستنباط و اجتہاد کے ماہرین شریک تھے جو مسئلہ تحریر کرنے سے پہلے خوب غور و فکر ، بحث و نظر اور نقد و جرح کرتے تھے، عرصہ تیس سال میں اپنا کام مکمل کیا۔ اس مجلس کی مذکورہ ہئیت اور طریقہ کار اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ اس میں نہ صرف فروع اور جزئیاتِ فقہ کو زیر بحث لایا جاتا ہوگا، بلکہ استنباط کے اصول و قواعد کی روشنی میں ان پر بحث ہوتی ہوگی اور خود استنباط کے اصول و قواعد کی بھی تنقیح و ترتیب کا کام ہوتا ہوگا۔ اس کے ساتھ اگر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ عراق کا یہ مکتب فکر قیاس اور رائے کو استعمال کرنے کے لحاظ سے مشہو ربھی تھا تو کچھ تعجب نہیں کہ خود اس مکتب فکر کے امام حضرت ابوحنیفہ ؒ رحمۃ اللہ علیہ نے قیاس اور استنباط کے اصول و قواعد سے متعلق کتاب تصنیف فرمائی ہو یا املا کروائی ہو۔ جیسا کہ علامہ کوثریؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’ومما یذکر فی مؤلفات الاقدمین من کتب ابی حنیفۃ کتاب الرأی ذکرہ ابن ابی العوام۔ ‘‘8؂

’’قدماء کی تالیفات کے ضمن میں امام ابو حنیفہ کی کتابوں میں سے کتاب الرأی کا تذکرہ ملتا ہے۔ اسے ابن ابی العوام نے ذکر کیا ہے ۔ ‘‘
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جمع و تدوین کے اولین دور کے سب سے بڑے مصنف امام ابو حنیفہ تھے۔ ان کا کوئی معاصر اس میں ان کا ہم سر نہیں ۔
ابن حجر مکیؒ فرماتے ہیں:
’’لم یظھر لاحد من ائمۃ الاسلام المشہورین مثل ماظہر لابی حنیفۃ من الاصحاب والتلا میذ و لم ینتفع العلماء و جمیع الناس بمثل ما انتفعوا بہ و باصحابہ فی تفسیر الاحادیث المشتبھۃ و المسائل المستنبطۃ و النوازل وا لقضاء والاحکام، جزاھم اﷲ خیرا، و قد

’’امام ابو حنیفہ کے جتنے اصحاب و تلامذہ مشہور ہوئے، اتنے ائمہ اسلام میں سے کسی کے بھی نہیں ہوئے۔ اسی طرح علماء اور دیگر حضرات احادیث مشتبہ، مسائل مستنطبہ ، نوازل، قضاء، اور احکام کے سلسلے میں جتنا فائدہ ان سے اور ان کے اصحاب سے اٹھایا اتنا کسی اور سے نہیں اٹھایا۔ اللہ انہیں بہترین جزا عطا کرے۔

بعض ذکر منھم بعض متأخری المحدثین فی ترجمتہ نحو الثمانماءۃ مع ضبط أسماءھم و نسبھم بما یطول ذکرہ۔‘‘9؂

متأخرین محدثین نے اما م ابو حنیفہ کی سوانح میں نام و نسب کے ساتھ ان کے آٹھ سو اصحاب اور تلامذہ کا تذکرہ کیا ہے، اس کا ذکر باعث طوالت ہوگا۔ ‘‘
علامہ کوثری نے مذہب حنفی کے پھیلاؤ کی اصلی وجہ اس اجماعی طریقۂ تدوین کو قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابو حنیفہؒ اپنے اصحاب سے اپنی رائے کے قبول پر اصرار نہیں کرتے تھے۔ بلکہ انھیں آمادہ کرتے تھے کہ اپنی آراء پیش کریں۔ یہاں تک کہ ان کے سامنے مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ، پس وہ بات قبول کرلیتے جو دلیل سے واضح ہوجاتی تھی اور اسے چھوڑ دیتے جو دلیل سے رد ہوجاتی۔ وہ فرماتے تھے: ’’کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ ہماری رائے کے مطابق رائے اختیار کرے جب تک یہ نہ جان لے کہ ہم نے یہ قول کیسے اختیار کیا۔ ‘‘ 10؂
اس دور میں نہ صرف امام ابو حنیفہؒ کی کتب متداول و مروج ہوئیں، بلکہ بڑے بڑے ائمہ ان سے استفادہ کرتے تھے۔
امام مالکؒ نے خالد بن مخلد قطوانی کو خط لکھ کر امام ابوحنیفہؒ کی کتابیں طلب کیں اور انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔ 11؂
عبدالعزیز الدراوردی سے روایت ہے :
أن مالکا کان ینظر فی کتب أبی حنیفہ و ینتفع بھا .12؂

امام مالکؒ ، امام ابو حنیفہؒ کی کتب دیکھا کرتے تھے اور ان سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’من لم ینظر فی کتب ابی حنیفۃ لم یتبحر فی الفقہ۔‘‘13؂

جس نے امام ابو حنیفہؒ کی کتابیں نہیں دیکھیں، اس نے فقہ میں عبور حاصل نہیں کیا۔
زائدہ بن قدامہ نے ایک مرتبہ سفیان ثوریؒ کے سرہانے ایک کتاب پائی جس کو وہ دیکھا کرتے تھے، انہوں نے ان سے اس کو دیکھنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دے دی، اس کے بعد زائدہ بن قدامہ کہتے ہیں:
’’فاذا کتاب الرھن لابی حنیفۃ ، فقلت لہ تنظر فی کتبہ ؟ فقال: وددت انھا کلھا عندی مجتمعۃ انظر فیھا، فما بقی فی شرح العلم غایۃ، و لکن ماننصفہ۔‘‘14؂

وہ امام ابو حنیفہؒ کی کتاب الرھن تھی ، میں نے کہا: کیا آپ ان کی کتابیں دیکھتے ہیں؟ فرمایا’’ میں تو چاہتا ہوں کہ ان کی سب کتابیں میرے پاس ہوں اور میں ان کو دیکھتا رہوں۔ انہوں نے علم کی شرح میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر ہم ان سے انصاف کا معاملہ نہیں کرتے ۔
عبداللہ بن داؤ و واسطی کا قول ہے :
’’من اراد ان یخرج من ذل العمی و الجھل و یجد لذۃ الفقہ فلینظر فی کتب ابی حنیفۃ۔‘‘ 15؂

’’جو چاہتا ہے کہ اندھے پن اور جہالت کی ذلت سے نکلے اورفقہ کی لذت پائے تو وہ امام ابو حنیفہؒ کی کتب کا مطالعہ کرے۔ ‘‘
خطیب بغدادیؒ سجادۃ راوی کا بیان نقل فرماتے ہیں:
’’دخلت أنا و ابو مسلم المستملی علی یزید بن ھارون۔ وہو نازل ببغداد علی منصور بن المھدی۔ فصعدنا الی غرفۃ ھو فیھا فقال لہ أبو مسلم : ماتقول یا أبا خالد فی أبی حنیفۃ و النظر فی کتبہ ؟ قال: انظروا فیھا ان کنتم تریدون أن تفقھوا فانی ماریت احدا من الفقھاء یکرہ النظر فی قولہ ‘‘ 16؂

میں اور ابو مسلم المستملی زید بن ہارون کے پاس گئے ، وہ منصور بن المہدی کے پاس بغداد میں مہمان تھے۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر اس کمرے میں پہنچے جس میں وہ تشریف فرما تھے۔ ابو مسلم نے ان سے کہا ’’اے ابو خالد ، آپ ابو حنیفہ اور ان کی کتب کے مطالعہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: اگر چاہتے ہو کہ تم میں تفقہ پیدا ہو تو ان کی کتابیں دیکھو۔ میں نے تو فقہاء میں سے کسی کو ان کے اقوال کے مطالعہ کو ناپسند کرتا نہیں دیکھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہؒ نہ صرف دورِ اول کے کثیر التصانیف مصنف تھے، بلکہ ان کی کتب اس قدر بلند پایہ تھیں کہ اس دور کے تمام اکابر ائمہ فقہ و اجتہاد ان سے استفادہ کرتے تھے۔ امام صاحب کی کتب کے ساتھ یہ اعتناء اور شغف صدیوں تک رہا ہے۔
قاضی اطہر مبارکپوریؒ رقم طراز ہیں:
’’امام صاحب کی کتابوں کے ساتھ اعتناء و شغف کا یہ حال تھا کہ پانچویں صدی کے ایک عالم کو زبانی یاد تھیں ، اور ان کا دعویٰ تھا کہ اگر دنیا سے یہ کتابیں ناپید ہوجائیں تو میں ان کو اپنی یاد داشت سے لکھوا سکتا ہوں ۔ سمعانی نے قاضی ابو عاصم محمد بن احمد عامری مروزی متوفی 415ھ کا قول نقل کیا ہے:’’لو نفدت کتب ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ لأملیتھا من نفسی۔‘‘ یعنی ’’اگر امام ابوحنیفہؒ کی کتابیں مٹ جائیں تو میں اپنی یادداشت سے اسے املا کروادوں۔‘‘ 17؂
اس سلسلہ میں ایک بات یہ بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس دور کے فقہاء و محدثین کے تلامذہ نے اپنے اساتذہ و شیوخ کی کتابوں کو ضبط کرکے روایت کیا جس کی وجہ سے ان کی کتابوں کا شمار تلامذہ کی تصانیف میں ہونے لگا۔ جیسا کہ اب کتاب الآثار امام ابویوسف اور کتاب الآثار امام محمد کے متعلق محقق ہوچکا ہے کہ یہ امام ابو حنیفہ کی تصنیف ہے جس کو آپ سے آپ کے تلامذہ نے روایت کیا۔
امام ابویوسفؒ کے تذکرے میں ، ابن خلکان شافعی اور ابن العماد الحنبلی نے لکھا ہے:
’’واول من وضع الکتب فی أصول الفقہ علی مذھب أبی حنیفۃ ، و أملی المسائل و نشرھا، و بث علم أبی حنیفۃ فی أقطار الارض۔‘‘18؂

’’انھوں نے امام ابو حنیفہؒ کے مسلک پر اصول فقہ میں سب سے پہلے کتب تصنیف کیں۔ مسائل املا کروائے اور ان کی اشاعت کی اور امام ابو حنیفہؒ کا علم ہر گوشۂ زمین میں پھیلایا۔ ‘‘
ابن ندیم نے امام ابوحنیفہؒ کے دوسرے شاگرد امام محمدؒ کے تذکرہ میں ان کی کتب کی فہرست میں کتاب اجتہادالرای ، کتاب الاستحسان اور کتاب اصول الفقہ کا ذکر کیا ہے۔ان تفصیلات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کی مجلس تدوین فقہ میں اصول فقہ واضح و منقح ہوچکے تھے بلکہ فقہ کی تدوین کے ساتھ ساتھ اصول فقہ کی باقاعدہ تدوین اور اس کی کتب تصنیف کرنے کا شرف بھی امام ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ ہی کو حاصل ہوا ہے۔
علامہ ابو الوفا الافغانی نے با لکل بجا فرمایا ہے:
وأما أول من صنف فی علم الاصول ۔ فیما نعلم ۔ فھو اِمام الائمۃ ، و سراج الامۃ ابو حنیفۃ النعمان رضی اﷲ عنہ حیث بین طرق الاستنباط فی ( کتاب الرای) لہ، و تلاہ صاحباہ القاضی ، الاِمام أبویوسف یعقوب بن اِبراھیم الأنصاری، و الاِ مام الربانی محمد بن الحسن الشیبانی رحمھما اﷲ۔19؂

اور جس شخص نے علم اصول (فقہ) میں سب سے پہلے کتاب تصنیف کی ہمارے علم کے مطابق وہ امام الائمہ، سراج الائمہ ابوحنیفہ النعمان رحمۃ اللہ علیہ ہیں ، انہوں نے اپنی کتاب الرائے میں استنباط کے طریقوں کوبیان کیا ہے۔ ان کے بعد اصول فقہ میں کتابیں تصنیف کرنے والوں میں ان کے صاحبین امام ابو یوسف ، ابراہیم انصاری اور امام ربانی محمد بن حسن الشیبانیؒ کا نام آتا ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں شاہ ولی اللہؒ کی جلالتِ شان اور عظمتِ مقام کے باوجود ان کی اس بات سے اتفاق کرنا مشکل ہے :
أنی وجدت بعضھم یزعم أن بناء الخلاف بین أبی حنیفۃ و الشافعی رحمھما اﷲ علی ھذہ الأصول المذکورۃ فی کتاب البزدوی و نحوہ ، و انما الحق أن اکثرھا اصول مخرجۃ علی قولھم و عندی ان المسألۃ القائلۃ بأن الخاص مبین ولا یلحقہ البیان، و أن الزیادۃ نسخ

بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے درمیان بنائے اختلاف وہ اصول ہیں جو بزدوی کی کتاب وغیرہ میں مذکورہ ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ ان میں سے بیش تر اصول بعد میں ان ائمہ کے اقوال سے مستنبط کیے گئے ہیں۔ میرے نزدیک بہت سے اصول، مثلاً خاص مبیّن ہے، زیادتی نسخ ہے، عام خاص کے مثل
و أن العام قطعی کالخاص ، و أن لا ترجیح بکثرۃ الرواۃ وأنہ لایجب العمل بحدیث غیر الفقیہ اذا انسد باب الرأی ، و أن لا عبرۃ بمفھوم الشرط والوصف أصلا و أن موجب الأمر ھو الوجوب البتۃ ، وأمثال ذلک اصول مخرجۃ علی کلام الائمۃ، و انہ لا تصح بھا روایۃ عن أبی حنیفۃ و صاحبیہ۔ 20؂

قطعی ہے، کوئی روایت کثرۃ رواۃ کی بنا پر قابل ترجیح نہیں ہے، غیر فقیہ کی حدیث پر عمل ضروری نہیں اگر اس سے رائے کا دروازہ بند ہوجائے، شرط اور وصف کے مفہوم کا اعتبار نہیں ، امر سے وجوب ثابت ہوتا ہے، وغیرہ۔ یہ تمام اصول ائمہ کے کلام سے بعد میں مستنبط کیے گئے ہیں ۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے صاحبین نے ان کا استنباط کیا ہے، یہ ثابت نہیں ہے۔
علامہ زاہد الکوثریؒ کا اس پر یہ محاکمہ گو سخت ہے، لیکن دلائل پر مبنی اور قابلِ توجہ ہے۔
’’مسلک حنفی کے اصول کے بارے میں انھوں نے کہا ہے کہ یہ متاخرین کے وضع کردہ ہیں۔ انہوں نے خبر احاد سے نص پر زیادتی کو اسی صنف میں شامل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امام شافعیؒ اور امام محمدؒ کے مناظرہ کا ذکرکیا ہے۔ اس سے خود انہی کی بات کی تردید ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ (اس معاملہ میں) ان کا مبلغ علم قلیل ہے، ان کی معلومات کا دائرہ تنگ ہے اور وہ متقدمین کی کتب سے جن میں کثرت سے مسلک حنفی کے اصول ائمہ قدما سے نقل کیے گئے ہیں، بے خبر ہیں۔ کیا ان کو عیسیٰ بن ابان کی کتاب الحجج الکبیر یا الصغیر، ابو بکر رازی کی الفصول فی الاصول اور اتقانی کی شامل، کتب ظاہر الروایہ کی شروح کی کچھ خبر نہیں ۔ اُن کتب میں کثر ت سے مسلک حنفی کے اصول ائمہ سے منقول ہیں۔ ‘‘ 21؂
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امام مالک بن انسؒ نے بھی اصول فقہ پر کلام فرمایا۔ اس پر ان کی مشہور تالیف موطا شاہد ہے جس میں ان قواعد و اصول کی طرف اشارہ ملتا ہے جو دوران اجتہاد و استنباط ان کے پیش نظر ہوتے تھے۔ اسی طرح ان کی وہ مکاتبت بھی جوفقیہ مصر حضرت لیث بن سعد ؒ سے ہوئی، بطورِ مثال پیش کی جاسکتی ہے ۔ لیکن آپ نے اجتہاد و استنباط کے اصول و قواعد کو کسی مستقل کتاب کی صورت میں مدوّن فرمایا ہو، اس کا سراغ نہیں ملتا۔
ڈاکٹر عبدالوہاب ابو سلیمان فرماتے ہیں:
’’مالکیہ کی رائے ہے کہ امام مالکؒ نے سب سے پہلے اصول فقہ اور غریب الحدیث میں کلام کیا ہے اور اپنی موطا میں کثرت سے ان کو بیان کیا ہے ۔ لیکن مالکیہ ، امام مالک کی اصول فقہ میں مستقل تالیف کا دعویٰ نہیں کرتے۔ بے شک وہ اولین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اصول فقہ میں سب سے پہلے کلام کیا۔ ہم نے ان کی لیث بن سعد سے مکاتبت کا ذکر پہلے کیا ہے ۔ جو کہ اصول (فقہ ) کی تدوین کے آغاز (کے) نمونہ ( کے طور پرپیش کی جاسکتی)ہے۔‘‘ 22؂
حاصل بحث یہ کہ جس طرح فقہ کی باقاعدہ تدوین کا آغاز حضرت امام ابو حنیفہؒ اور ان کے تلامذہ نے کیا، اسی طرح اصول فقہ یعنی استنباط و استخراج کے میدان میں بھی باقاعدہ تصنیف و تالیف میں اولیت کا شرف حضرت امام ابو حنیفہؒ اور ان کے تلامذہ امام ابویوسف و امام محمد کو حاصل ہے ۔
حواشی و مراجع
1؂ ڈاکٹر عبدالوہاب سلیمان ، الفکر الاصولی، دارالشروق، جدہ ، طبع دوم، 1984ء، ص:60
2؂ ابن حزم اندلسی، الاحکام فی اصول الاحکام، دارالحدیث بجوار ادارہ الازھر، مصر، 1984ء،
1(11)/237
3؂ الکوثری ، علامہ زاہد، فقہ اہل العراق و حد یثھم، ایچ ایم سعید کمپنی ، 1401 ھ ، ص:55
3؂ الف حوالہ سابق
4؂ شبلی نعمانی، سیرت النعمان، مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی ،س۔ن ، ص227
5؂ فقہ اہل العراق و حدیثھم، ص:55۔56
6؂ الکوثری، علامہ زاہد، حسن التقاضی فی سیرۃ الامام ابو یوسف القاضی ، ایچ ایم سعید کمپنی ، طبع
دوم، 1403 ھ ، ص:13
7؂ ایضاً
8؂ ایضاً، بلوغ الامانی فی سیرۃ الامام محمد بن حسن الشیبانی ، ایچ ایم سعید کمپنی ، 1400ھ ، ص:18
9؂ ابن حجر مکی، الخیرات الحسان، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، 1401ھ ، ص:23۔24
10؂ فقہ اہل العراق و حدیثھم، ص:56۔57
11؂ یسألہ ان یحمل الیہ شیئا من کتب ابی حنیفۃ ففعل، الدمشقی، محمد یوسف صالح، عقود
الجمان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ النعمان ، ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی، 1400 ھ ، ص:186
12؂ بلوغ الامانی، ص:18
13؂ مجلہ برھان ، ج۔100، شمارہ5، ص:17، بحوالہ اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ، ص81
14؂ ایضاً، ص:18۔19، بحوالہ اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ ، ص78
15؂ ایضاً
16؂ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، مکتبہ العربیہ بغداد، 1931ء ، 13/342
17؂ مجلہ برہان، ج۔100، ش:5، ص:25۔26
18؂ ابن خلکان، وفیات الاعیان و انباء ابناء الزمان، دارلثقافۃ بیروت، 1322ھ ، 6/382،
شذرات الذھب، 1/301
19؂ فقہ اھل العراق و حدیثھم، ص56
20؂ امام بزدوی، اصول السرخسی، تحقیق ابو الوفا الافغانی، دارالمعارف النعمانیہ، طبع اول 1981ء، ص3
21؂ شاہ ولی اللہ ، حجۃ اﷲ البالغہ، دارالتراث، قاہرہ، طبع اول ، 1355ھ ، 1/160
22؂ حسن التقاضی، ص98

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close