فقہ

ایام بیض کے روزوں کی فضیلت اور خواتین کے لیے خصوصی فائدہ

مقبول احمد سلفی

روزہ روحانی قوت کا اہم مظہر ہے،  اللہ تعالی نے قرآن میں روزہ کو تقوی کا سبب قرار دیا ہے۔ آج کے پرفتن دور میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں،  برائیاں بام عروج پر ہیں۔ آنکھ بند ہونے تک ہی دل ودماغ اور ہاتھ وپیر محفوظ رہتے ہیں، آنکھ کھلتے ہیں انسان گناہوں میں ڈوب سا جاتا ہے۔ سترہ اٹھارہ گھنٹے بیداری کے عالم میں آنکھوں سے، کانوں سے، زبانوں سے،ہاتھ وپیر سےاور دل ودماغ سے نہ جانے کس قدر گناہوں کا صدور ہوتا ہے۔ تنہائیوں کے گناہ اور بھی رسواکن ہیں، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

روزہ ایمانی قوت فراہم کرتاہے۔ زبان ودل، ہاتھ وپیر، آنکھ وکان اور جسم وروح کو پاکیزہ بناتا ہےاور اعضائے بدن کو روزے کی حالت میں رب کی رضا کا طالب بناتا ہے۔ اس لئے روزہ کا خاص اہتمام کرنے سے آج کے پرفتن دور میں خود کو شیطانی حملے اور زمانے کے شروفتن سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ رمضان کا فرض روزہ اپنی جگہ سال میں ایک بار آتا ہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک مسلمان جس قدر ہوسکے اپنی سہولت کے حساب سے نفلی روزے کا اہتمام کرتا رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے متعدد قسم کے نفلی روزے رکھے ہیں، ان میں ایک قسم ایام بیض کے روزوں کی ہے  جن کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ روزہ کے عمومی فضائل اپنی جگہ خصوصیت کے ساتھ بھی ایام بیض کے روزوں کے فضائل وارد ہیں۔ نبی ﷺ نے ان پر ہمیشگی برتی ہے اور اپنی امت کو بھی اس کی تاکید فرمائی ہے۔ ایام بیض کے روزوں کی فضیلت سے متعلق نبی ﷺ کا فرمان ہے:

صومُ ثلاثةِ أيامٍ صومُ الدهرِ كلِّه(صحيح البخاري:1979)

ترجمہ: ہرمہینے میں تین دن روزے رکھ لینا اس سے زمانے بھر کے روزے رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔

ایام بیض کے روزے ان عبادات اور روزوں میں سے ہے جن کی رسول اللہ ﷺنے وصیت فرمائی ہے چنانچہ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بيان كرتےہيں:

أوصاني خليلي بثلاثٍ، لا أدعُهنَّ حتى أموتَ : صومُ ثلاثةِ أيامٍ من كلِّ شهرٍ، وصلاةُ الضحى، ونومٌ على وِترٍ .(صحيح البخاري:1178)

ترجمہ:مجھے میرے جانی دوست (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں۔ ہر مہینہ میں تین دن روزے۔ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ نے مجھے فرمايا:

وإن بحَسْبِك أن تصومَ كلَّ شهرٍ ثلاثةَ أيامٍ، فإن لك بكلِّ حسنةٍ عشْرَ أمثالِها، فإن ذلك صيامُ الدهرِ كلِّه .(صحيح البخاري:1975)

ترجمہ: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔

دل کی صفائی اور اس کی پاکیزگی کے لئے یہ روزے نہایت ہی اہم ہیں، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْر(صحيح النسائي:2384)

ترجمہ: كيا ميں تمہيں سينہ كے دھوكہ اور وسوسہ كو ختم كر دينے والى چيز كے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر ماہ كے تين روزے ركھنا۔

اس حدیث میں "وَحَرَ الصَّدْرِ” سے مراد دل کا وسوسہ یا بغض وکینہ یا عداوت ودشمنی یا شدید غصہ ہے۔

سبحان اللہ کتنی اہم ترین حدیث ہے دلوں کی پاکیزگی کے لئے،  جو مومن ہمیشہ ان تین روزوں کا اہتمام کرے اس کادل صاف ستھرا رہے گا،  وہ جھگڑے لڑائی سے دور رہے گا۔ دل کے خطرناک امراض بغض وحسد، کینہ وکپٹ،  غیض وغضب اور چغلی وغیبت سے اللہ کی توفیق سے بچتا رہے گا۔

حضر کے علاوہ سفر میں بھی رسول اللہ ﷺ یہ روزے رکھا کرتے تھے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

كان لا يُفْطِرُ أيامَ البيضِ في حَضَرٍ و لا سفرٍ(السلسلة الصحيحة:580)

ترجمہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرو سفر میں ایامِ بیض (13۔14۔15) كا روزہ نہیں چھوڑا كرتے تھے۔

ایام بیض کے روزے قمری تاریخ کے حساب سے ہرماہ تیسرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو رکھنا ہے، آپ ﷺ نے ابوذررضی اللہ سے فرمایا:

يا أبا ذرٍّ إذا صُمتَ منَ الشَّهرِ ثلاثةَ أيَّامٍ،  فصُم ثلاثَ عشرةَ،  وأربعَ عشرةَ وخمسَ عشرةَ(صحيح الترمذي:761)

ترجمہ:ابوذر!جب تم ہرماہ کے تین دن کے صیام رکھو تو تیرہویں،  چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو رکھو۔

اگر کوئی وسط ماہ میں ایام بیض کے روزہ رکھا کرے تو بہتر ہے ورنہ کسی وجہ سے شروع ماہ یا آخر میں بھی تین روزے رکھنابھی جائز ہے۔

معاذہ عدویہ نے پوچھا ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے:

أكان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يصوم من كلِّ شهرٍ ثلاثةَ أيامٍ ؟ قالت : نعم . فقلتُ لها : من أيِّ أيامِ الشهرِ كان يصوم ؟ قالت : لم يكن يُبالي من أيِّ أيامِ الشهرِ يصومُ .(صحيح مسلم:1160)

ترجمہ:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، پھر پوچھا کن دنوں میں؟ انہوں نے فرمایا: کچھ پرواہ نہ کرتے تھے کسی دن بھی روزہ رکھ لیتے تھے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک ماہ میں تین روزے رکھنا ایام بیض کے روزے کہلائے گے،  یہ تین روزے شروع میں بھی رکھے جاسکتے ہیں،  درمیان میں بھی رکھے جاسکتے ہیں اور آخر بھی رکھے جاسکتے ہیں نیز اکٹھے یا متفرق طور پر دونوں طرح رکھے جاسکتے ہیں۔

ایام بیض کے روزوں سے متعلق چند مسائل واحکام :

٭ ایام بیض کے روزے رکھنا مستحب ہےیعنی ا ن روزوں کی تاکید آئی ہے کوئی انہیں رکھے تو بڑا اجر پائے گا اور کوئی چھوڑ دے تو گناہ نہیں ہے۔

٭ تین روزوں کا اجر زمانے بھرروزہ رکھنےکے برابر ہے۔

٭ ایام بیض کے روزے میں انگریزی کلینڈرکا اعتبارنہیں ہوگا بلکہ قمری تاریخ کا اعتبار ہوگا اورافضل یہی ہے کہ مہینے کے تیسرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کا روزہ رکھے تاہم شروع یا آخر میں بھی متفرق یا اکٹھے رکھے جائیں تو کفایت کر ے گا۔

٭ کوئی ہرماہ تین روزے رکھنے کی نذر مان لے اور اسے یہ نذر پوری کرنا دشوار گزرے تو قسم کا کفارہ ادا کردے نذ ر ختم ہوجائے گی۔

٭رمضان کے قضا کی نیت سے ایام بیض کے دنوں میں روزہ رکھنا محض قضا کہلائے گی یعنی قضا اور ایام بیض کے روزوں کی ایک ساتھ نیت نہیں کی جائے گی،  پہلے قضا کے روزے مکمل کریں پھر جب وقت ملے تو ایام بیض کے روزے رکھیں۔

٭،  صوم عاشوراء، شوال کے روزے، صوم عرفہ اور ایام بیض کے روزے کی ایک ساتھ نیت سے تمام روزوں کا اجر ملے گا،  ان شاء اللہ

٭اگر کوئی ہرماہ ایام بیض کے روزے رکھتا رہا اور کسی دشواری کے سبب یا یونہی سستی سے کسی ماه  کا روزہ نہیں رکھ سکا تو کوئی گناہ نہیں ہے۔

خواتین اور ایام بیض کے روزے :

عورتوں کو اللہ تعالی نے گھروں کو لازم پکڑنے کا حکم دیا ہے۔ گھر میں رہتے ہوئے بچوں کی تربیت،  گھر کی دیکھ ریکھ اور شوہر کے سامان کی حفاظت بیوی کے ذمہ ہے۔ اکثر عورتیں گھریلو کام کاج سےجلد ہی فراغت حاصل کرلیتی ہیں پھر ادھر ادھر جاکر غیبت،  چغلی، لایعنی باتیں،  گھروں کے قصے کہانیاں ایک دوسرے سے کرتی ہیں،  اس طرح وہ اپنا گھر بھی توڑتی ہیں اور دوسروں کا گھر بھی برباد کرتی ہیں۔ یہ مرض عورتوں میں عام ہے جبکہ مرد دن بھر کام میں مصروف ہونے کے باعث بہت حد تک اس سے بچا رہتا ہے۔ جو مسلم عورت پانچ اوقات نمازوں کی پابندی کرے اور اپنی نمازوں میں خشو ع وخضوع پیدا کرے تو ہرگز زبان ودل کے مہلک امراض میں مبتلا نہیں ہوگی۔ دلوں کی طہارت وپاکیزگی کے واسطے ایام بیض کے روزے بہت مفید ہیں،  خصوصیت کے ساتھ رسول اکرم ﷺ نے ان روزوں کو سینے کے دھوکے اور وسوسے کے ازالہ کا سبب بتلایا ہے،  اوپر حدیث موجود ہے۔ لہذا تمام مسلمان عورتوں کو ایام بیض کے روزوں کا اہتمام کرنا چاہئے،  ان کے پاس فرصت بھی ہے،  گھروں میں رہتی ہیں اور ضرورت بھی ہے زبان پر تالا لگانے اور ذہن ودماغ کو روحانی سکون دلانے کی ہے۔ زبان، ضمیر، کان،  ہاتھ،  پیر وغیرہ پر قابو پانے کے لئے روزہ سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ الحمد للہ کتنی عورتیں ایام بیض کے روزے رکھتی ہیں اور خود کو امراض لسان، امراض قلب اور امراض بدن سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اگر کسی کو وسط ماہ میں ماہواری آتی ہو تو وہ شروع یا آخر ماہ میں تین روزے رکھ لیں،  یہ بھی کافی ہوجائے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ روزہ عورتوں کے ساتھ ہی خاص ہے بلکہ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں کے حق میں اپنے روز مرہ کے مشاغل وعادات کی وجہ سے زیادہ مفید ہے۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔ آمین

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close