فقہ

بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (بارہویں قسط)

شیخ مقبول احمد سلفی

سوال(۱):کیا شہید کی بیوی پر عدت ہے؟

جواب : اللہ تعالی کا فرمان ہے :

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ(البقرة:234)

ترجمہ: تم میں سے جو فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں۔

اللہ کے اس فرمان کے مطابق ہر عورت جس کا شوہر وفات پاجائے یاقتل و شہید کردیاجائے چارماہ دس د ن عدت گزارے گی سوائے حاملہ عورت کے۔ حمل والی عورت کی عدت وضع حمل ہے یعنی جب بچے کی پیدائش ہوگی اس وقت عدت مکمل ہوگی۔

سنن اربعہ میں زینب بنت کعب بن عجرہ کا واقعہ ہے جن کے شوہر ابوسعید خدری ؓ شہید (غلام نے قتل کیا)ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم دیا۔ (صحيح أبي داود:۲۳۰۰، صحيح الترمذي:۱۲۰۴، صحيح النسائي:۳۵۳۲، صحیح سن ابن ماجہ: ۲۰۳۱)

سوال(۲): بلاضرورت خلع طلب کرنے والی عورت کا کیا حکم ہے ؟

جواب : نکاح مردوعورت کے لئے سکون زندگی ہے جس کی بنیاد پاکیزہ اصولوں پر قائم ہے۔ اس رشتے کو بلاسبب توڑنے والا مرد یا توڑنے والی عورت اللہ کے یہاں گنہگار ٹھہریں گے۔ عورت کے لئےبڑی سخت وعید آئی ہے،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

أيُّمَا امرأةٍ سألت زوجَها طلاقًا في غيرِ ما بأسٍ فحرامٌ عليها رائحةُ الجنةِ(صحيح أبي داود:2226)

ترجمہ: جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔

یہ طلاق کی وعید ہے جبکہ بلاسبب خلع طلب کرنا شمار کی علامت ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

إِنَّ المختلِعاتِ والمنتَزِعاتِ، هُنَّ : المنافِقاتُ (صحيح الجامع:1938)

ترجمہ: {بلا ضرورت } اپنے شوہروں سے چھٹکارا لینے اور خلع کرانے والی عورتیں ہی منافق ہیں۔

ہاں،  اگر عورت شوہر میں دینی،  اخلاقی، معاشرتی اور مردانہ خرابی پائے تو خلع طلب کرسکتی ہے اس صورت میں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

سوال(۳):عورت سر کا مسح کیسے کرے جبکہ گھنے بال ہونے کی وجہ سے پیچھے سے واپس ہاتھ لانے سے بال بکھرنے کا ڈر ہے اور سر بھی ننگا ہوگا؟

جواب : عورت ومرد کے مسح میں کوئی فرق نہیں ہے،  اللہ تعالی کا فرمان ہے :”وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ” یعنی اپنے سروں کا مسح کرو۔ یہ فرمان مردوعورت دونوں کو شامل ہے۔ نبی نے ہمیں مسح کا طریقہ یہ بتلایا کہ تر ہاتھوں کو سر کے اگلے حصے پر پھیرتے ہوئے گدی تک لے جائیں اور پھر واپس آگے کی طرف لے آئیں اور شہادت کی انگلی سے کان کا اندرونی حصہ اور انگوٹھے سے بیرونی حصہ مسح کریں۔

عورت کو اپنا بال ننگا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی چوٹی ہو تو کھولنے کی ضرورت ہے۔ دوپٹے کے اندر سے بالوں پر ہاتھ پھیرلیں اور اجنبی مرد آس پاس نہ ہو تو سر ننگا ہونے اور بال بکھرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال(۴):بیوی نے پہلے مہر معاف کردیا پھر مہر کا مطالبہ کررہی ہے ایسا کرنا کیسا ہے ؟

جواب: اگر عورت کو مہر معاف کرنے کے لئے سسرال والے یا شوہر نے دھمکی یا طلاق کا خوف دلاکر مجبور کیا ہو اور مجبور ہوکربیوی نے مہر معاف کردیا ہو ایسی صورت میں یہ معاف کرنا لغو ہوگا اور شوہر کے ذمہ مہر باقی رہےگا اور بیوی مہر طلب کرے تو ادا کرنا واجب ہوگا، مطالبہ نہ بھی کرے تب بھی شوہر کو دینا ہوگا لیکن اگر بیوی نے ہوش وحواش میں اپنی مرضی سے معاف کردیا یا مہر لینے کے بعد شوہر کو ہدیہ کردیا تو دوبارہ مہر مانگنے کا حق بیوی کو نہیں ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے:

وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا (النساء:4)

ترجمہ:اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو،  ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھالو۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیوی خوش دلی سے کچھ مہر یا سارا معاف کردے تو شوہر کے لئے حلال ہے اور خوش دلی سے معاف کئے ہوئے مہر کا دوبارہ مطالبہ کرنا بیوی کے لئے جائز نہیں ہے۔

سوال(۵):ایک عورت کو حیض آیا ہے مگر وہ شرم کی وجہ سے جماعت والی نماز میں شامل ہونا چاہتی ہے تاکہ کسی کو حیض کا علم نہ ہو،  کیا اس کا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟

جواب : اللہ تعالی نے دین کے احکام بتانے میں شرم نہیں کیا اور نہ اس کے رسول نے شرم کیا جبکہ آپ بہت ہی حیا والے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی خواتین نے دینی احکام کی جانکاری حاصل کرنے میں بھی کسی قسم کی شرم محسوس نہیں کیں۔ اللہ نے قرآن میں ذکر کیا کہ اے نبی آپ سے لوگ حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور اسی طرح حدیث میں مذکور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم عہد رسول میں حیض سے ہوتے تو ہمیں صرف روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا۔ ان باتوں کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ کسی عورت کو حیض آجائے تو شرم کی وجہ سے نماز نہ پڑھے،  نبی نے حیض والیوں کو نماز اور روزہ سے منع فرمایا ہے :

أَليسَ إذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ ولَمْ تَصُمْ، فَذلكَ نُقْصَانُ دِينِهَا(صحيح البخاري:1951)

ترجمہ:کیا جب عورت حائضہ ہوجاتی ہے تو نمازاورروزہ نہیں چھوڑ دیتی ؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔

اگر کسی عورت نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ حیض کی حالت میں ہے پھر بھی نماز پڑھ لی ہے تو اسے اللہ سے توبہ واستغفار کرنا چاہئے اورہمیشہ کے لئے اس عمل سے باز رہنا چاہئے۔

سوال(۶):چھوٹے بچیوں کو بنا بازو کے رنگین اور بھڑکیلے لباس پہننانے کا کیا حکم ہے جبکہ آج کل یہ سماج میں عام ہے؟

جواب: بچیوں کے لباس بھی ہمیں صحیح اختیار کرنا چاہئے۔ یہ نہ بھولیں کہ ہم مسلمان ہیں اور آج کل خواتین کے جو کپڑے ریڈی میڈ ملتے ہیں اکثر فاحشہ عورتوں کی ہوتی ہیں۔ بچپن سے ہمیں اپنی بچیوں کو اسلامی ماحول میں ڈھالنا ہے، اسلام نے ہمیں بچوں کی اسلامی تربیت کا حکم دیا ہے،  جب لڑکیوں سے تربیت چھین لیں گے تو آگے وہ اسلام پر کیسے چلے گی ؟۔

ذرا سوچیں کہ جس بچی کو بچپن سے رنگین اور چھوٹے چھوٹے کپڑوں کی عادت ہوجائے وہ بعد میں پردہ کیسے کرے گی ؟آج جس قدر فتنہ عام ہے اس کے حساب سے بچپن سے بچیوں کی سخت نگرانی کے ساتھ اچھی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ بدقماشوں کی بھینٹ نہ چڑھے اور نظر بد کا بھی اپنی جگہ مسئلہ ہے اچھوں کی بھی نظر لگ سکتی ہے۔ اس لئے اپنی بچیوں کو اسلامی ماحول دیں۔

سوال(۷): گھر میں غیر مسلم خادمہ سے کام لینا جائز ہے ؟

جواب: نوکرانی مسلم ہو یا غیرمسلم، اس کے بڑے مفاسد ہیں۔ اگر شرعی حدود میں رہ کر نوکرانی سے کام لیا جائے تو اس سے گھریلو کام لینے میں حرج نہیں ہے۔ شرعی حدود میں سب سے اہم مردوزن کا اختلاط  نہ ہوناہے۔ اگر گھر میں نوکرانی کا سامنا مردوں سے ہو،  کھانے پینے کی چیز اس کے سامنے پیش کرے،  کام کرتے اختلاط ہو یا مرد کے ساتھ خلوت ہو تو ان صورتوں میں نوکرانی سے کام لینا جائز نہیں ہے۔ نوکرانی سے کام لیتے وقت  بڑے احتیاط کی ضرورت ہے اور مسلم خادمہ ہو تو بہتر ہے کہ وہ نظافت، پردہ اور دین واخلاق کا اہتمام کرسکے۔

سوال(۸):ایک شخص کو دو بیوی تھی، ایک پاس میں رہتی تھی اور دوسری الگ رہا کرتی تھی،اب اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے ایسی صورت میں کیا دونوں عورت پر عدت ہے یا صرف اس عورت پر جو پاس میں رہا کرتی تھی ؟

جواب : ایک شخص کی دو،تین یا چارجتنی بیویاں (اسلام میں مرد کو چار بیوی تک کی اجازت ہے)ہوں،  شوہر کی وفات پر ساری بیویاں عدت گزاریں گی خواہ وہ شوہر کے ساتھ رہتی ہوں یا الگ الگ۔

سوال(۹):جو عورت شوہر کی وفات کی عدت میں ہو کیا وہ عید گاہ جا سکتی ہے اور عید کے دن نئے لباس اورزینت کی چیزیں استعمال کر سکتی ہے؟

جواب : جب زینب بنت کعب بن عجرہ کے شوہر شہید کردئے گئے اور انہوں نے نبی سے کہا اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اجازت دے دیں کہ میں اپنے اقارب اور اپنے بھائیوں کے گھر چلی جاؤں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیا:امْكُثي في بيتِكِ الَّذي جاءَ فيهِ نعيُ زوجِكِ حتَّى يبلغَ الْكتابُ أجلَهُ(صحيح ابن ماجه:۱۶۶۴)

ترجمہ: جب تک اللہ کی مقرر کردہ مدت (موت کی عدت) پوری نہیں ہو جاتی، اسی گھر میں رہائش رکھو جہاں تمہیں اپنے خاوند کی وفات کی خبر پہنچی۔

یہ حدیث اور اس معنی کی متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے عورت شوہر کی وفات پہ لازمی طور پر شوہر کے گھر میں ہی عدت وفات گزارے گی اور بلاضرورت، بغیر کسی عذر کے گھر سے قدم نہیں نکالے گی۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے متوفی عنہا زوجہا کی عدت میں نمازعید سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جس کا شوہر وفات پاجائے اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے پڑوسی یا رشتہ داریا نمازعید یا اس کے مثل کسی کام کے لئے گھر سے نکلے بلکہ وہ اپنے گھر میں باقی رہے گی۔ (فتاوى نور على الدرب)

اس بنیاد پرعورت نمازعید کے لئے گھر سے باہر نہیں نکلے گی اور نہ ہی وہ اس دن زینت کی چیزیں استعمال کرے کیونکہ وہ سوگ منارہی ہے اور سوگ میں زینت اختیار کرنا منع ہے۔

سوال(۱۰):میت کو وضو کرانے کا کیاحکم ہے ؟

جواب : میت کو غسل دیتے وقت پہلے ناپاکی کی صفائی کی جائے پھر وضو کرایا جائے گا۔ میت کے حق میں وضو ضروری نہیں ہے بلکہ مستحب ہے جیساکہ عام غسل طہارت میں مستحب ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) کی وفات پر غسل دینے کے وقت فرمایا تھا:ابْدَأْنَ بمَيَامِنِهَا ومَوَاضِعِ الوُضُوءِ منها.(صحيح البخاري:167)

ترجمہ:غسل داہنی طرف سے دو اور اعضائے وضو سے غسل کی ابتداء کرو۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میت کی نجاست اور ناپاکی دور کرنے کے بعد استحبابی طور پر وضو کرایا جائے گا،  یہ وضو وجوبی طورپر نہیں ہے اس کی دلیل ایک صحابی کا واقعہ ہے جو اونٹنی سے گر کر وفات پاگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانی اور بیری سے غسل دینے کا حکم دیا،  آپ نے اسے وضو کرانے کا حکم نہیں دیا۔(الشرح الممتع)

سوال(۱۱):میت کے غسل وتکفین پہ غیر مسلم سے کام کاج کے لئے مدد حاصل کرنا شرعا کیسا ہے؟

جواب : بہتر اور افضل یہی ہے غسل وتکفین کا سارا کام مسلمان ہی انجام دے تاہم ناگزیر حالات میں میت کے غسل اور اس کی تجہیز وتکفین پہ بعض کام کاج کے واسطے غیرمسلم سے مدد لی جا سکتی ہے جیسے بازار سے کوئی سامان منگوانا تاہم خالص غسل اور تجہیزو تکفین کے لئے مدد نہیں لی جائے  گی۔شیخ صالح فوزان نے بیان کیا ہے کہ کسی کافر کا مسلمان کو غسل دینا جائزنہیں ہے کیونکہ میت کو غسل عبادت ہے اورعبادت کسی کافر کی جانب سے صحیح نہیں ہوگی۔

سوال(۱۲):کیا آپریشن کے بعد آنے والا خون نماز و روزہ کے لئے مانع ہے ؟

جواب : ولادت کے بعد آنے والا خون نفاس کا مانا جائے گا چاہے ولادت آپریشن سے ہو یا طبعی طورپر۔ اس بنا پر عورت کو جب تک نفاس کا خون آئے اسے نما زوروزہ سے رکنا ہوگا اور جب خون بند ہوجائے تب غسل طہارت کے بعد نماز شروع کرے۔

سوال(۱۳):کیا بیوی شوہر سے تعلقاتی مردوں کے بارے میں جانکاری لے سکتی ہے تاکہ میاں بیوی کے درمیان فتنہ وفساد اور سماج میں شر پھیلانے سے روکا جا سکے ؟

جواب : یقینا بیوی کا حق ہے کہ اگر شوہر کے حلقہ احباب پر شک ہو تو اس کے ساتھیوں کے دین و اخلاق کی جانکاری حاصل کرے اور یہ یقین سے معلوم ہو جائے کہ فلان شخص میاں بیوی کے درمیان فساد پیدا کرنے والا ہے یا شوہر کو برائی کے راستے پر لے جانے والا ہے یا سماج میں شرانگیزی کرنے والا ہے تو اپنے شوہر کو اس آدمی سے دور رہنے کی تاکید کر سکتی ہے بلکہ سختی کے ساتھ بیوی کو منع کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

مَن رَأَى مِنكُم مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بيَدِهِ، فإنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسانِهِ، فإنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وذلكَ أضْعَفُ الإيمانِ.(صحيح مسلم:29)

ترجمہ:جوشخص کوئی برائی دیکھے تو چاہئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے،  جسے اتنی طاقت نہ ہو وہ اپنی زبان سے اسے بدل دے اورجسے اس کی طاقت بھی نہ ہووہ اپنے دل میں اسے براجانے اوریہ ایما ن کا سب سے کمتردرجہ ہے۔

سوال(۱۴) : جیساکہ لوگوں میں دوا کھاتے وقت "ھوالشافی” کہنا رائج ہے کیا یہ دوا کھانے کی دعا ہے یا کوئی اور مخصوص دعا ہے ؟

جواب : نبی ﷺ سے دوا کھانے کی کوئی مخصوص دعا ثابت نہیں ہے۔ ھوالشافی عام طور سے مسلم اطباء نسخہ جات کے شروع میں لکھتے پڑھتے ہیں اس وجہ سے لوگوں میں یہ رائج ہوگیا۔ اصل میں ھوالشافی عقیدہ ہے کہ دوا کھانے والا اس ایمان و یقین کے ساتھ دوا کھائے کہ یہ بذات خود فائدہ نہیں کرے گی،  شفا تو اصل میں اللہ تعالی دینے والا ہے۔

کھانا کھاناہو، پانی پینا ہو، دوا کھانی یا پینی ہو شروع میں بسم اللہ کہیں جیساکہ حدیث سے ثابت ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں :

إذا أكَلَ أحدُكُم فليذكُرِ اسمَ اللَّهِ تعالى،  فإن نسِيَ أن يذكرَ اسمَ اللَّهِ تعالى في أوَّلِهِ فليقُلْ : بسمِ اللَّهِ أوَّلَهُ وآخرَهُ(صحيح أبي داود:3667)

ترجمہ : جب کوئی کھانا کھائے تو پہلے بسم اللہ کہے۔ اگر کھانے کے شروع میں بسم اللہ کہنا بھول جائے تو” بسمِ اللَّهِ أوَّلَهُ وآخرَهُ” (اس کھانے کا آغاز اور اختتام اللہ کے نام کے ساتھ کرتاہوں)کہے۔

سوال(۱۵):کسی کا کوئی عزیز وفات پاجائے اور اس کی یاد آجائے،  اس کی یاد میں رونا آجائے تو کیا کیا جائے یعنی ایسا کیا جائے کہ دل کو تسلی ہو؟

جواب : میت پہ رونا ایک فطری امر ہے جسے روکنا مشکل ہے، کچھ ایسے بھی عزیز ہوتے ہیں جن کی یاد مدتوں آتی ہے۔ کسی فوت شدہ رشتہ دار کی یاد میں رونا آجائے اس سے کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہاں ایسا رونا منع ہے جس میں نوحہ خوانی یعنی گریبان چاک کرنا اور چیخنا چلانا ہو۔

اگر کسی کو میت کی یاد آجائے تو کثرت سے ان کے لئے استغفار کرے، استغفار سے ان کے درجات بلند ہوں گے،  دل کی تسلی کے لئے ان کی جانب سے صدقہ وخیرات بھی کرسکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میت کی یاد سے ہمیں اپنا مرنا یاد آنا چاہئے،  ہمیں سوچنا چاہئے کہ یہاں کسی کو بقا نہیں ہے،  ہمیں بھی دنیا سے رخصت ہونا ہے، جب یہ سوچ پیدا ہوگی تو نیک کام کا خیال آئے گا اور اس طرح دل کی تسلی کے ساتھ آخرت میں نجات کی کوشش کریں گے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close