فقہ

بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (دوسری قسط)

شیخ مقبول احمد سلفی

سوال(1):عورت توعموما گھر میں ہی فرض نماز ادا کرتی ہے اور وہ فرائض میں قرآن کی تلاوت اونچی قرات سے کرنا چاہتی ہو تو کیا فجرو مغرب اورعشاء کی نماز میں وہ اونچی قرات کر کے نماز کی ادائیگی کر سکتی ہے؟

جواب : نماز عورتوں پر بھی ویسے ہی فرض ہے جیسے مردوں پر البتہ جہاں نماز میں عورتوں کے لئے خصوصیت ہے وہ حالت ان کے لئے مستثنی ہوگی۔ جہری نمازیں یعنی فجر، مغرب اور عشاء مردوں کی طرح عورتوں کے حق بھی میں جہرا مسنون ہیں لہذا وہ گھر میں ان نمازوں کی ادائیگی جہرا کرسکتی ہیں البتہ اگر ان کی آواز کوئی اجنبی مرد سننے والا ہو تو فتنے سے بچنے کے لئے سرا  پڑھے۔

سوال (2): اس جملے کا مجھے ترجمہ معلوم کرنا ہے : مَا أَعَانَ عَلَى نَظْمِ مُرُوءَاتِ الرِّجَالِ كَالنِّسَاءِ الصَّوَالِحِ۔

جواب: تاریخ دمشق لابن عساکر اور المجالسة وجواهر العلم للدينوري میں مذکور ہے کہ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ نے ذکر کیا ہے کہ عرب کے بعض حکماء کا کہنا ہے : "مَا أَعَانَ عَلَى نَظْمِ مُرُوءَاتِ الرِّجَالِ كَالنِّسَاءِ الصَّوَالِحِ ".یعنی مردوں کی مروت کی تنظیم و حفاظت میں نیک عورتوں نے جتنی مدد کی اتنی کسی نے نہیں کی۔

اس قول میں نیک عورتوں کی تعریف کی گئی ہے کہ ان کی وجہ سے مردوں کی اصلاح ہوتی ہے اور ان کے اخلاق ومروت کی حفاظت ہوتی ہے۔

سوال (3):دوران طواف نماز کے وقت کچھ عورتیں اپنے مردوں کے ساتھ نماز کے لئے مردوں کی صف میں کھڑی ہو جاتی ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے اوراسی طرح عید ین کی نمازوں میں بعض مقامات پر گلیوں میں رش کی وجہ سے اکثر عورتیں اور مرد آگے پیچھے ایک ساتھ نماز میں کھڑے ہو جاتے ہیں، اس کا بھی کیا حکم ہے ؟

جواب : عورتوں کی صف مردوں سے الگ اور آخر میں ہونی چاہئے اس وجہ سے عورتوں کو حرم میں نماز پڑھتے وقت، یا عیدین، نماز جمعہ اور فرائض مردوں کے ساتھ ادا کرتے وقت سب سے آخر میں مردوں سے الگ صف بناکر نما زادا کرنا چاہئے اور عموما عورتوں کے لئے مساجدومصلی میں جگہیں مخصوص کردی جاتی ہیں ان میں ہی نماز پڑھنا چاہئے لیکن اگر کبھی رش کی وجہ سے مردوں سے آگے نماز پڑھنا پڑجائے اس حال میں کہ نکلنے کا اختیار نہیں تو اس حالت میں پڑھی گئی نماز درست ہےلیکن ایک ہی صف میں مردوں کے ساتھ مل کر کھڑا ہونا جائز نہیں ہے، ہاں کافی رش ہو اور مردوں کے دائیں بائیں ذرا ہٹ کے نماز پڑھ لی گئی تو بھی درست ہے۔ اختلاط(رش کی وجہ سےمرد کے ساتھ کھڑا ہونا پڑجائے) کی وجہ سے عورت جماعت سے نماز چھوڑ دیتی ہے تو جائز ہے۔

سوال (4): کسی نے پیانو(Piano) بجانے کے لئےخریدا  اور بعد میں اسے اپنے گناہ کا احساس ہوا تو كیا اسے بیچ کر اس کا پیسہ حلال ہوگا؟

جواب : اگر پیانو اس دوکان والے کو لوٹا سکتا ہے جس سے خریدا ہے تو بہتر ہے اور واپس لیا گیا پیسہ بھی حلال ہے اور دوکاندار واپس نہ لے تو کسی دوسرے شخص کے ہاتھوں بیچنے پر اس شخص کے گناہ میں شریک ہوجائے گا اس لئے کسی دوسرے شخص کے ہاتھوں بیچنے سے بہتر ہے کہ اسے توڑ کر ناقابل استعمال بنادے۔

سوال (5):کیا ریاض الجنہ میں نماز پڑھنے کی کوئی خصوصیت ہے ؟

جواب : ریاض الجنہ یہ وہ مبارک جگہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر یعنی حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے منبر شریف کے درمیان میں ہے، اس کا نام ریاض الجنۃ یعنی جنت کا باغیچہ ہے، یہ نام اس لئے پڑا کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے:

ما بين بيتي ومِنبَري رَوضَةٌ من رياضِ الجنةِ، ومِنبَري على حَوضي(صحيح البخاري:1196,صحيح مسلم:1391)

ترجمہ: میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا ممبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہوگا۔

اس حدیث کی روشنی میں اس مقام کی بڑی فضیلت معلوم ہوتی ہے، یہ دنیا کا مبارک مقام اور زمیں کا مبارک ٹکڑا ہے لہذا اگر کسی کو مسجد نبوی ﷺ آنے کا موقع ملے تو یہاں عبادت، ذکر، اللہ سے دعا اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا چاہئے۔ اس جگہ پہ نبی ﷺ سے بھی خاص طور سے عبادت کرنا ثابت ہے۔ یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مسجد نبوی میں) حاضر ہوا کرتا تھا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابومسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں، انہوں نے کہا: إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا (صحيح البخاري:502)

ترجمہ: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ بھی یہاں خاص کرنماز ادا کیا کرتے تھے۔

کنزل العمال (34950) اور مسند الفردوس (5676) میں ضعیف سند سے ایک روایت ہے :من سره أن يصلي في روضة من رياض الجنة فليصل بين قبري ومنبري۔

ترجمہ: جسے ریاض الجنہ کی کیاری میں نماز ادا کرنا پسند آئے وہ میری قبر اور میرے ممبر کے درمیان نماز پڑھے۔

سوال (6):”لاحول ولاقوة الاباللہ ” کا صحیح ترجمہ بتا دیں اوراس کے ساتھ "ما شاء اللہ لاقوة الاباللہ” بھی پڑھ سکتے یا صرف "لا قوة الا بالله” پڑھنا کیسا ہے؟ نیزتینوں میں زیادہ اجر کس کلمہ میں ہے ؟

جواب : "لاحول ولاقوة الاباللہ ” کو حوقلہ کہا جاتا ہے، یہ اذان میں حیعلتین کا جواب ہے اور نبی ﷺ کے فرمان میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اس کا معنی ہے :[نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر ممکن نہیں]۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

يا عبدَ اللهَ بنَ قيسٍ، قُلْ لا حولَ ولا قوةَ إلا باللهِ، فإنها كنزٌ من كُنوزِ الجنةِ (صحيح البخاري:7386)

ترجمہ:عبداللہ بن قیس! «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا کرو کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

اس لئے اس عظیم ذکر کا کثرت سے ورد کرنا چاہئے اور”ما شاء اللہ لاقوة الاباللہ” بھی ایک ذکر ہے، یہ سورہ کہف کی (39) آیت میں آیا ہے۔ ان الفاظ کے ذریعہ اللہ کا شکر بجا لاسکتے ہیں اور اسی طرح کسی کو کسی کا مال، اولاد یا کسی کا حال اچھا لگے تو یہ کلمہ کہہ سکتے ہیں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نظر بد سے حفاظت ہوگی۔ اور محض "لاقوۃ الاباللہ” کا ذکر نہیں ملتا اس لئے نظر بد سے بچنے کے لئے "ما شاء اللہ لاقوة الاباللہ” اور ذکر کے طورپر "لاحول ولاقوة الاباللہ ” کہا جائے۔

سوال(7)میں بسااوقات بچوں کو سلانے کے لئے سونے کے اذکار پڑھاتی ہوں مگر اس وقت سوتی نہیں ہوں کیا مجھے سونے کے وقت اذکاردوبارہ پڑھنے ہیں ؟

جواب : سونے کے اذکار سونے سے قبل پڑھنا ہے، اگر کوئی بچے کو سلانے کے لئے اسے اذکار پڑھائے تو بلاشبہ پڑھنے والی کو بھی فائدہ ہوگا تاہم جب خود بستر پر سونے کے لئے جائیں تو اس سے قبل دوبارہ اذکار پڑھ لیں کیونکہ یہ اذکار بستر پر جانے کے وقت سونے سے قبل کے ہیں جب انسان سونے کی نیت سے اس سے ماقبل پڑھے۔ ہاں اگر بچوں کے سوتے وقت انہیں اذکار پڑھائے نیز خود بھی وہ اسی وقت سونے لگیں تو اپنی طرف سے بھی نیت کرلیں یہ ایک مرتبہ بھی کفایت کرجائے گا۔

سوال(8): میں چند مہینے پہلے میں عمرہ کرکے آئی ہو اوردوران طواف کعبہ ہی کو ہی دیکھتی رہی، جب واپس گھر آئی ہو تو معلوم ہوا کہ طواف کے دوران کعبہ کی طرف دیکھنا سخت منع ہے کیا واقعی یہ بات سچ ہے ؟

جواب : کعبہ کی طرف دیکھنا منع نہیں ہے خواہ طواف میں ہو یا بغیر طواف کے۔ اصل میں لوگوں میں یہ اعتقاد مشہور ہے کہ کعبہ کی طرف پہلی نظر پڑنے پر دعا کرنےسے قبول ہوتی ہے لیکن اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ہاں ایک ضعیف حدیث میں چار مقامات پر آسمان کا دروازہ کھلنے اور دعا قبول ہونے کا ذکر ہے، ان میں سے ایک خانہ کعبہ کی دیدار کے وقت ہے۔ یہ ضعیف حدیث ہے اس لئے دلیل نہیں پکڑی جائے گی۔ (دیکھیں : سلسلہ ضعیفہ : 3410)

بہرکیف! آپ کا طواف صحیح ہے، آئندہ یہ ذہن میں رہے کہ طواف میں کعبہ کی طرف دیکھنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی ہے عبادت، چلتے ہوئے نظر پڑجائے یا اس کی عظمت کا خیال کرکے اسے دیکھنے لگیں تو کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ اعتقاد نہ رکھیں کہ اس پہ نظر کرکے دعا کرنے سے دعا قبول ہوگی ورنہ نہیں۔

سوال(9):ایک شخص دن میں سوتا ہے تو کیا وہ رات کے اذکار پڑھے گا ؟

جواب: اس سلسلے میں علماء کے متعدد اقوال ہیں، بعض نے کہا ہے کہ یہ رات کے ساتھ ہی خاص ہے اور بعض نے کہا کہ دن میں سونے کے وقت بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ایک تیسرا قول جو مناسب معلوم ہوتا ہے جسے شیخ ابن باز نے اختیار کیا ہے کہ جو اذکار رات میں سونے کے ساتھ خاص ہیں وہ رات میں پڑھے جائیں مثلا مَن قرَأ بالآيتَينِ مِن آخرِ سورةِ البقرةِ في ليلةٍ كفَتاه(صحيح البخاري:5008)

ترجمہ: جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کے لئے کافی ہوجائیں گی۔

یہ رات میں سونے کے ساتھ خاص ہے اور نبی ﷺکا یہ فرمان کہ جب تم میں سے کوئی اپنے پستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو پہلے اسے اپنی چادر کے کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد کیا چیز داخل ہوگئی ہے۔ پھر یہ دعا پڑھے:

باسمِكَ ربِّي وَضعتُ جَنبي وبِكَ أرفعُهُ، إن أمسَكْتَ نفسي فارحَمها، وإن أرسلتَها فاحفَظها بما تحفَظُ بِهِ عبادَكَ الصَّالحينَ(صحيح البخاري:6320)

ترجمہ: اے میرے رب! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیری قوت سے میں اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔

یہ عام ہے، دن اور رات دونوں وقت سونے سے قبل پڑھ سکتے ہیں۔

سوال(10): مجھے کہیں سے ایک واقعہ ملا ہے اس کی حقیقت واضح کریں : ایک شخض اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے چھوڑنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔ اس کے جواب میں یہ الفاظ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمائے تھے‘ کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟ تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟ (بحوالہ البیان والتابعین 2/101 فرائض الکلام صفحہ 113)

جواب : سید قطب نے فی ظلال القرآن (1/606) میں یہ قول ذکر کیا ہے :

وما أعظم قول عمر بن الخطاب – رضي الله عنه – لرجل أراد أن يطلق زوجه؛ لأنه لا يحبها- "ويحك! ألم تبن البيوت إلا على الحب؟! فأين الرعاية وأين التذمم؟

ترجمہ: اور عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے عظیم قول میں سے ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو اس وجہ سے طلاق دینا چاہ رہاتھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا تو حضرت عمر نے اس سے کہا کہ کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟ تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟

اس معنی کے الفاظ حضرت عمررضی اللہ عنہ  کی طرف منسوب کنزالعمال میں ملتے ہیں :

فليس كل البيوت تبنى على الحب، ولكن معاشرة على الأحساب والإسلام(كنز العمال:16/554،رقم :45859)

ترجمہ: ضروری نہیں کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پر قائم ہو بلکہ دینداری اور خاندانی شرافت بھی گھروں کو سنوارنے کا ذریعہ ہوا کرتی ہیں۔

یہ ایک عمدہ بات ہے کہ جہاں میاں بیوی میں محبت میں کمی یا الفت کا فقدان ہو وہا ں صرف محبت کی کمی وجہ سے گھر توڑ دینا صحیح نہیں ہے بلکہ اخلاق ومروت، غیرت وحمیت، عزت وشرافت، مذہبی روایات اورتہذیبی اقدار کی بنیادپر اپنا گھر قائم رکھ سکتے ہیں۔

سوال(11):ایک عورت اگر شریعت کی پابند ہے جبکہ اس کے گھرکےمردحضرات بے دین ہیں مثلا بے نمازی، سود خور، شراب خور،جواڑی، عورتوں کی بےعزتی کرنےوالے اورانہیں مارنے پیٹنے والےتو کیا ایسے باپ، بھائی، چچا اس دیندارعورت کے ولی ہوسکتے ہیں جو زبردستی اس کی شادی کسی شرابی یا جواڑی سے کرنا چاہتے ہیں؟

جواب: اللہ نے عورت کی عفت وعصمت کی خاطر ہی ولی کا اہتمام کیا ہے لیکن ولی بے دین اور کفراکبرکا مرتکب ہو تو اس کی ولایت اس کے بعد والے ولی میں منتقل ہوجاتی ہے مثلا باپ بے دین ہے تو بھائی ولی بنے گا اور اگر بھائی بے دین ہے تو چچا میں سے جو دیندار ہو اسے ولایت کا حق ہوگا۔ اگرباپ نمازکا منکر نہیں، کبھی ادا کرنے والا اور کبھی چھوڑ دینے والاہو تو مسلمان ہی مانا جائے گا اور نماز کے علاوہ دیگر گناہ شراب نوشی، قماربازی اور سودخوری وغیرہ گناہ کبیرہ ہے مگر ان کاموں سے کوئی اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ایسا آدمی فاسق مانا جائے گا، اگر کوئی فاسق آدمی اپنی لڑکی کی شادی بے دین اور شرابی کبابی آدمی سے کرے تو لڑکی کو حق حاصل ہے کہ وہ اس شادی سے انکار کردے اور ولی کو بھی اختیار نہیں کہ وہ جبرا لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کسی بے دین سے کرائے۔ بعض علماء نے ولی کے لئے عدالت کی بھی شرط لگائی اس صورت میں فاسق ولی نہیں بن سکتا مگر صحیح قول کی روشنی میں فاسق ولی بن سکتا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ذکر کیاہے : النكاح بولاية الفاسق يصح عند جماهير الأئمة (مجموع الفتاوى:32/101) کہ جمہور ائمہ کے نزدیک فاسق کی ولایت نکاح میں صحیح ہے۔

سوال(12):کیا رمضان میں اعتکاف میں عورت طواف کر سکتی ہے کیونکہ ہم کتنا ہی دور سے طواف کریں نامحرم سے ضرور ٹکراتے ہیں اوررمضان میں رش بھی بہت ہوتا ہے؟

جواب: اعتکاف کی حالت میں بلاضرورت مسجد سے باہر جانا منع ہے اور مسجدحرام میں اعتکاف کرنے والی عورت کے لئے نفلی طواف کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، یہ مسجد ہی کا حصہ ہے۔ جس طرح مسجد حرام کے کسی حصہ میں معتکف عبادت کرسکتا ہے اسی طرح اس مسجد کے دوسرے حصہ مطاف میں آکر طواف کرسکتا ہے بلکہ بعض علماء نے اعتکاف کی حالت میں نفلی عبادت سے افضل طواف کرنا قرار دیا ہے۔ دوران طواف عورت مردوں سے ہٹ کر چلنے کی کوشش کرے، لاشعوری طور پر یا رش کی وجہ سے مردوں سے ٹکرا جانے پر کوئی گناہ نہیں ہے اور اعتکاف یا طواف میں کوئی نقص نہیں آئے گا۔

سوال(13): عورتوں میں برص کا مرض کثرت سے پایا جاتا ہے، یہ علاج سے بھی اکثر ٹھیک نہیں ہوتا، اس مرض کی وجہ سے عورتوں کی شادی میں کافی دشواری پیدا ہورہی ہے آپ اس سلسلے میں قرآن وحدیث سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب : برص سے نبی ﷺ نے پناہ مانگی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذُ بك من الجنونِ والجُذامِ، والبرصِ وسيِّئِ الأسقامِ»(صحيح النسائي:5508)

ترجمہ:اے اللہ! پاگل پن، کوڑھ، برص اور برے امراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

یہ ایک بیماری ہے اس وجہ سے اللہ کے رسول نے اس سے پناہ مانگی ہے، اویس قرنی رحمہ اللہ کو بھی یہ بیماری تھی اللہ سے دعا کی اکثر ختم ہوگئی سوائے ایک درہم یا دینار کے برابر۔ اسے شادی بیاہ میں عیب سمجھا جاتا ہے اور متعدی بھی تصور کیا جاتا ہے اس وجہ سے برص والے مرد یا برص والی عورت کی جلدی شادی نہیں ہوتی ہے۔ لوگ اس بیماری کو لاعلاج بھی سمجھتے ہیں اور کہتےہیں کہ اس کا علاج صرف  عیسی علیہ السلام  ہی کرسکتے تھے، ان کے بعد اب کسی کی یہ بیماری ٹھیک نہیں ہوگی جبکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے : ما أنزَلَ اللَّهُ داءً إلَّا أنزلَ لَه شفاءً(صحيح البخاري:5678)

ترجمہ: اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کا کوئی علاج(شفا) نہ ہو۔

اس لئے یہ بیماری جہاں لاعلاج نہیں، وہیں اس مرض والے سے شادی کی ممانعت بھی کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے۔ کوئی اگر برص والے یا برص والی سے شادی کرنا چاہے تو شرعا منع نہیں ہے اور شادی کے بعد اللہ پر توکل اور اس سے دعا کرتے ہوئے صحت مند اولاد کی امید کی جاسکتی ہے۔

اہل علم نے یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ شادی کے موقع پر جس میں یہ مرض ہو اس کو ظاہر کردینا چاہئے اور اگر کسی میں یہ مرض شادی کے بعد ظاہر ہوا تو دوسرے کونکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے اور چاہے تو اکٹھے بھی رہ سکتے ہیں۔

قبیلہ بنوغفار کی ایک عورت سے نبی ﷺ نے شادی کی، جب اس عورت نے اپنا کپڑا نکالا تو برص کی بیماری معلوم ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے جدا کردیا، یہ روایت ضعیف ہے اور اسی طرح سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ قول بھی ضعیف ہے: أيُّما امرأةٍ غُرَّ بها رجلٌ بها جنونٌ أو جذامٌ أو برصٌ فلها مهرُها بما أصاب منها وصداقُ الرجلِ على من غرَّه(إرواء الغليل:1913)

ترجمہ: ایسا کوئی مرد جو کسی ایسی عورت کے ذریعہ دھوکہ دی گئی جسے پاگل پن یا کوڑھ یا برص کی بیماری لاحق تھی تو اس کا مہر وہی ہے جو اس کے ذریعہ مرد کو لاحق ہوا اور مرد کا مہر اس پر ہے جس نے اسے دھوکہ دیا۔

مختصر یہ ہے کہ برص ایک بیماری اور انسانی عیب ہے جس سے تنفر ممکن ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ اس مرض میں مبتلا مرد/عورت کی شادی نہیں ہوسکتی، جو کسی کا سہارا بن کراللہ سے اجر کا طالب ہو وہ شادی کرسکتا ہے اور دھوکہ میں برص زدہ سے شادی ہوجانے پر نکاح فسخ کرنا ہی ضروری نہیں ہے چاہے تو اسے باقی رکھ سکتا ہے۔

سوال(14): ایک عورت جنبی تھی اور اسی حالت میں ماہواری شروع ہوگئی تو جنابت کے لئےغسل کب کرے، حیض سے پاک ہوکر یا اس سے پہلے ہی؟

جواب: جنابت ایک ناپاکی ہے اور حیض ایک دوسری ناپاکی ہے، اگر عورت فورا غسل جنابت کرلیتی ہے تو اس سےجنابت کی ناپاکی ختم ہوجاتی ہے مگر نماز نہیں پڑھے گی اور نہ ہی روزہ رکھے گی کیونکہ وہ حیض کی حالت میں ہے۔جب حیض سے پاک ہوتب طہارت کے واسطے دوسرا غسل کرےاور نماز پڑھنا شروع کرے۔ غسل جنابت بالفور کرنے سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ جنابت کی ناپاکی ختم ہوجائے گی اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ قرآن کی تلاوت کرسکتی ہے کیونکہ جنبی کے لئے قرآن کی تلاوت منع ہے جبکہ حائضہ کے لئے ممانعت کی کوئی صحیح اور صریح دلیل نہیں ہے۔

سوال(15): کیا خاتون کو تھوڑے لمبے ناخن رکھنے میں شریعت اسلامیہ کی طرف سے کوئی قباحت ہے ؟

جواب: ناخن کاٹنے کا تعلق صفائی سے ہے اور یہ دس فطری امور میں سے ایک ہے۔ ناخن کاٹنے میں مرد وعورت دونوں برابر ہیں یعنی دونوں کو ناخن کاٹنے کا حکم ہوا ہے۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

وُقِّتَ لنا في قصِّ الشاربِ، وتقليمِ الأظفارِ، ونتفِ الإبطِ، وحلقِ العانةِ، أن لا نتركَ أكثرَ من أربعينَ ليلةً .(صحيح مسلم:258)

ترجمہ: ہمارے لیے مونچھیں کترنے، ناخن تراشنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سےزیادہ نہ چھوڑیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد ہو یا عورت زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک اپنے ناخن چھوڑ سکتا ہے، اس سے زیادہ دن ہونے پر واجبی طورپر اپنا ناخن کاٹنا ہوگا ورنہ گنہگار ہوں گے۔

کسی مسلمان عورت کے لئے لمبے ناخن رکھنا جائز نہیں ہے، اس میں فطرت کی مخالفت، فساق وفجار خواتین اور حیوانات کی مشابہت کے ساتھ اپنے اندر نجاست پالنا بھی ہے۔ بھلا مومنہ عورت، نماز و روزہ کا اہتمام کرنے والی اورطہارت وپاکیزگی کا پیکر اپنے ہاتھوں میں نجاست کیسے پالے گی ؟۔ لمبے ناخن کی تہ میں گندگی جمتی رہتی ہےاس لئے ہفتہ ہفتہ ہی اس کی صفائی بہتر ہے پھرلمبے ناخن رکھنے والیاں اپنے ہاتھوں کی نمائش بھی کرتی ہیں کیونکہ لمبے ناخن رکھے ہی جاتے ہیں نمائش کے لئے، اس پر مستزاد اکثر اس پہ نیل پالش کی جاتی ہے جس سے وضو نہیں ہوتا۔ گویا گناہ کے ساتھ یہ عمل عبادت میں بھی مخل ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close