فقہ

بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل(8)

شیخ مقبول احمد سلفی

سوال(1): بیوہ عورت جواپنے بچوں کی خاطردوسری شادی نہ کرے تو کیا وہ قیامت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو گی ؟

جواب : ایسی ایک حدیث ابوداؤد، مسند احمد، الادب المفرد، المعجم الکبیراور الجامع الصغیر میں موجود ہے، ان الفاظ کے ساتھ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أنا وامرأةٌ سفعاءُ الخدَّينِ كَهاتينِ يومَ القيامة وأومأ يزيدُ :بالوسطى والسَّبَّابةِ امرأةٌ آمت من زوجِها ذاتُ منصبٍ وجمالٍ حبست نفسَها علَى يتاماها حتَّى بانوا أو ماتوا.

ترجمہ:میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب و زینت سے محرومی کے باعث بدل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے(یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا) عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہو گئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہو جائیں یا وفات پا جائیں۔

اس حدیث کو شیخ البانی نے متعدد جگہ پر ضعیف کہا ہے۔ (السلسلة الضعيفة:1222، ضعيف أبي داود:5149، ضعيف الترغيب:1511، نقد النصوص:13)

یہاں یہ بتانا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ بیوہ کا اپنے بچوں کی پرورش اور شادی نہ کرنے کے سلسلے میں اور بھی روایات آئی ہیں مگر کوئی بھی صحیح نہیں ہے،

ایک روایت یہ ہے :

أنا أولُ من يفتح بابَ الجنةِ ؛ إلا أني تأتي امرأةٌ تبادرني، فأقول لها : ما لكِ، ومن أنتِ ؟ ! فتقول : أنا امرأةٌ قعدتُ على أيتامٍ لي .

ترجمہ: میں سب سے پہلے جنت کو دروازہ کھولوں گا سوائے ایک عورت کے جو مجھ سے پہل کرے گی، میں اس سے پوچھوں گا تم کون ہو؟ تو وہ کہے گی کہ میں وہ عورت ہوں جو بچوں کی وجہ سے بیٹھی رہی۔

اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے۔ (السلسلة الضعيفة:5374)

دوسری روایت میں عرش کا سایہ پانے کی فضیلت بیان ہوئی ہے:

ثلاثة في ظل العرش يوم القيامة يوم لا ظل إلا ظله : واصل الرحم، يزيد الله في رزقه ويمد في أجله، وامرأة مات زوجها وترك عليها أيتاما صغارا، فقالت : لا أتزوج، أقيم على أيتامي حتى يموتوا أو يغنيهم الله الخ۔۔

ترجمہ: تین طرح کے لوگ قیامت میں عرش کے سایہ تلے ہوں گے جب اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ صلہ رحمی کرنے والا، اللہ اس کے رزق میں زیادتی کرتا ہے اور اس کی عمر میں درازی دیتا ہے۔ اور وہ عورت جس کا شوہر وفات پاجائے اور چھوٹے یتیم بچے چھوڑ جائے تو عورت کہے کہ میں شادی نہیں کروں گی، یتیم بچوں کے ساتھ رہوں گی یہاں تک کہ مرجائیں یا انہیں اللہ اپنے فضل سے غنی کردے۔

اس روایت کو شیخ البانی نے بہت ہی ضعیف کہا ہے۔ (ضعيف الجامع:2580)

لہذا معلوم یہ ہوا کہ بیوہ کا بغیر شادی کے رکی رہنےیا بچوں کی وجہ سے شادی نہ کرنے کی فضیلت سے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ہے البتہ ایسی عورت کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ مناسب رشتہ ملے تو شادی کرلیں، اس سے عزت نفس، پاکدامنی، مالداری اور تعاون جیسے بڑے فوائد حاصل ہوں گے۔ شوہر کی وفات پہ صبرکرنے سے صبر کا بدلہ اوربچوں کی کفالت کا ثواب اپنی جگہ ثابت ہے، عنداللہ وہ اس کا مستحق ہو گی۔

سوال(2): اگر والد مجبورا بیٹی کی شادی بے دین لڑکا سے کرے تو بیٹی کو کیا کرنا چاہئے اور اسی طرح اگر شادی کے بعد لڑکی کو معلوم ہوکہ لڑکا بے دین ہے سمجھنے سے بھی نہیں سمجھتا تو ایسی صورت میں کیا کرے جبکہ دوسری طرف دونوں سوالوں میں باپ کی عزت کا بھی سوال ہے ؟

جواب: مسلم سماج کا یہ بڑا المیہ ہے کہ بہت سے باپ اپنی لڑکیوں کی شادی جبرا ایسے لڑکے سے کردیتے ہیں جوبے دین ہوتا ہے یاجسے لڑکی بے دینی کی وجہ سے ناپسند کرتی ہے۔ ایسے باپ اولاد کےحق میں ظالم ہیں انہیں اللہ کے یہاں حساب دینا ہوگا اور یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے جن کا محاسبہ شدید ہےلہذا باپ کو اپنی اولاد کے حق میں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ لڑکیوں کو چاہئے کہ شادی سے پہلے جب لڑکے کے بے دین ہونا کا علم ہو تو اس شادی سے انکار کرے اور اگر جبرا والد شادی کرادیتے ہیں تو اس شوہر کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ اللہ سے ہدایت کی خوب دعا ئیں کرے۔ معمولی دین واخلاق کی کمی ہو تو اس کے ساتھ نباہ کی کوشش کرے، اس کی تکلیف پر صبر کرے اور جب تک وہ مسلمان کہلائے جانے کے لائق ہے اس کے ساتھ زندگی گزارسکتی ہے مگر ایسی غلطیاں (شرک وبدعت ) کرے جن سے اسلام سے باہر ہوجاتا ہے تو اس وقت علماء سے اپنی صورت حال کا ذکر کرکے اس کے ساتھ رہنا جائز ہے یا نہیں معلوم کرکے پھر اپنی زندگی کا فیصلہ کرے۔

سوال(3): ایک مسلمان آدمی پہلے شرک کیا کرتا ہے پھر سچی توبہ کرلیا یہاں پوچھنا یہ ہے کہ پہلے والا سارا عمل ضائع ہوگیا یا باقی رہے گا؟

جواب : متعدد نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک سارے اعمال کو ضائع کردیتا ہے اور توبہ سارے گناہوں کو مٹا دیتى ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ(الشورى: 25)

ترجمہ: وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کی) برائیوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتا ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے :

التائبُ من الذنبِ كمن لا ذنبَ لهُ(صحيح ابن ماجه:3446)

ترجمہ: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے سرے سے کوئی گناہ ہی نہیں کیا۔

جب بندےنے سچی توبہ کرلی ہے تو اللہ سے حسن ظن رکھے اور اللہ بندوں کے گمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس نے شرک کرکے جو گناہ اکٹھا کئے تھے اللہ نے سب معاف فرمادیا ہے اور جب سارے گناہ معاف ہوگئے تو اسے گزشتہ احوال کے متعلق فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ہاں آئندہ ہمیشہ شرک وبدعت سے بچنے کی کوشش وفکر کرے۔

سوال(4): جو بچہ مرا ہوا پیدا ہو اس کا نام رکھ کردفن کرنا چاہئے یا بغیر نام کے کفن دفن کردینا چاہئے ؟

جواب : نبی ﷺ نے نومولود کا نام ساتویں دن رکھنے کا حکم دیاہے لہذا جو بچہ سات دن سے پہلے وفات پاجائے یا مردہ حالت میں پیدا ہو ایسی صورت میں نہ اس کا عقیقہ ہوگا اورنہ ہی اس کا نام رکھا جائے گا۔ غسل وکفن دے کر اور نماز جنازہ ادا کرکے دفن کردیا جائے گا۔ جب بچے کا کسی سبب آپ خود اسقاط ہوجاتا ہے ایسے بچے اگر چار ماہ بعد گرجائیں تو ان کا بھی غسل وکفن کے ساتھ نماز جنازہ ہے لیکن جو چار ماہ سے قبل ہی گرجائیں تو انہیں بغیر غسل کے کپڑے میں لپیٹ کر بغیر جنازہ پڑھے دفن کردیا جائے۔

سوال(5): ایک عورت کا ایک بیٹاتھا جو اس کی زندگی میں ہی وفات پاگیا،اور دوبیٹیاں زندہ ہیں، ایسی صورت میں وفات پافتہ بیٹے کی اولاد (ایک بیٹا، تین بیٹی) یعنی پوتے پوتیاں دادی کی جائیداد میں حصہ دار ہوں گی ؟

جواب : ہاں ایسی صورت میں بیٹیوں کا بھی حصہ ہے اور پوتے اور پوتیوں کا بھی حصہ ہے۔ بیٹی کو دوثلث ملے گا اور بقیہ میراث پوتے پوتی میں "مثل حظ الانثین کے تحت تقسیم ہوگی یعنی لڑکے کو دہرا اور لڑکی کو اکہرا۔

سوال(6): ہندوستانی حکومت کی طرف سے کنیا دان کی ایک اسکیم چل رہی ہے کہ بارہ سال تک ہرماہ ایک ایک ہزار روپئے پیسہ جمع کرنا ہے پھر مدت مکمل ہونے پر شادی کے نام سے لڑکی کے اکاؤنٹ میں پانچ یا چھ لاکھ روپئے آجائیں گے تو ایسی اسکیم میں حصہ لینا جائز ہے ؟

جواب : کنیا دان کی مذکورہ اسکیم انشورنس کا حصہ ہے اور تمام قسم کی تجارتی اسکیم ناجائز اور حرام ہیں۔ آپ جب اس اسکیم میں حصہ لیں گے تو اس کی اسکیم  یعنی گائڈ بک سے معلوم ہوگا کہ جب بچی کے باپ کی وفات ہوجائے یا اکسڈنٹ ہوجائے تو فوری طورپر معاوضہ ملتا ہے بلکہ باقاعدہ کاغذات میں ایل آئی سی کنیادان پالیسی بھی لکھا ہوگاگویا یہ بیمہ کی ہی قسم ہے اور یہ ناجائز ہے مسلمانوں کواس میں حصہ لینا جائز نہیں ہے۔

سوال(7): بیٹی کا عقیقہ ہے میں نے دو جانور خریدا ہے کیا ان دونوں کو ذبح کرتے وقت عقیقہ کی دعا کرنی ہے ؟

جواب : لڑکی کی جانب سے ایک بکرا ذبح کرنا مسنون اور کافی ہے،دوسرا بکرا ذبح کرنا بطور فخر ہو تو آدمی گناہگار ہوگا اور عقیقہ میں دعوت کھلانے کے مقصد سے ہو تاکہ کھانے والوں کا صحیح سے انتظام ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دونوں جانورذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے لینا یعنی بسم اللہ اکبر کہہ دینا کافی ہےیا یہ دعا پڑھیں :”بسم اللهِ والله أكبرُ، اللهم لك وإليكَ، هذه عقيقَةُ فلانٍ”۔

سوال(8): دیت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب : نبی ﷺ کا فرمان ہے :إنَّ العقلَ ميراثٌ بينَ ورثةِ القتيلِ على قرابتِهم، فما فضلَ فللعصبةِ (صحيح أبي داود:4564)

ترجمہ: دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہو گا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے۔

یہاں عقل سے مراد دیت ہے۔یہ حدیث دلیل ہے کہ دیت بھی بقیہ ترکہ کی طرح ہی میراث کے اصول کے تحت تقسیم ہوگی یعنی پہلے میت کا قرض چکایا جائے گا اور اس نے کسی غیروارث کے لئے کچھ وصیت کی ہو تو اس کا نفاذ عمل میں لایا جائے پھر وارثین پر تقسیم کی جائے گی۔

سوال(9): کیا عورت اپنے اپنے گھروں میں اسپیکر سے آنے والی آواز کے تحت امام کی متابعت میں نماز ادا کرسکتی ہے یا کسی جگہ تمام عورتیں جمع ہوجائیں اورامام کی متابعت میں نماز ادا کریں تو درست ہے؟۔

جواب : یہ مسئلہ اختلافی ہے، بعض علماء مثلا شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ وغیرہ نے اس شرط کے ساتھ گھر میں امام کی متابعت میں نماز ادا کرنے کو درست کہا ہے جب مسجد سے لیکر گھر تک صفیں متصل ہوں ورنہ امام کی اقتداء درست نہیں ہے۔ مردوں کو نبی ﷺ نے مسجد میں آکر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور ازواج مطہرات کا گھر مسجد نبوی سے متصل تھا پھر بھی انہوں نے آپ ﷺ کی اقتداء میں اپنے گھروں میں نماز نہیں ادا کیں جس سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی امام کی متابعت میں اپنے گھروں میں نماز نہیں پڑھ سکتا، نہ مرد اور نہ ہی عورت۔ عورت کی نمازاپنے گھر میں افضل ہے وہ اپنے گھر میں خود سے نماز ادا کرے یاکسی جگہ چند عورتیں جمع ہوجاتی ہوں تو کوئی عورت جماعت سے نماز پڑھاسکتی ہے۔

سوال(10): کیا شوہر اپنی بیوی کی نانی کے لئے محرم ہے ؟

جواب : سورہ نساء آیت نمبر تئیس میں محرمات کا ذکر ہے، ان میں ساس بھی ہے اور ساس کے ہی تابع لڑکی کی نانی اور دادی بھی ہے لہذا شوہر اپنی بیوی کی نانی کے لئے محرم ہے۔

سوال(11): شوہر بے دین ہے، ایسی صورت میں میرے لئے اللہ سے دعا کرنا کہ مجھے دیندار شوہردے کیسا ہے؟

جواب :ایک وقت میں عورت ایک ہی مرد کے ساتھ زندگی گزارسکتی ہے اس کے لئے بیک وقت دو مرد سے شادی کرنا حرام ہے، اس بناپر جو دعا پوچھی جارہی ہے اس میں دوسرے مرد یا دوسری شادی کا ذکر ہے جبکہ موجودہ شوہر کے ہوتے ہوئے ایسی دعا کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں اس دعا سے مراد یہ ہو کہ اللہ اس کے شوہر کو نیک بنادے تو کوئی مسئلہ نہیں تاہم دعائیہ جملے بھی درست کرلئے جائیں کہ اے اللہ میرے شوہر کو دیندار وصالح بنادے۔

سوال(12): کسی کی ایک ماں اور دو باپ ہے پہلا باپ سے ایک لڑکی پیدا ہوئی اور دوسرا باپ سے لڑکا، اب سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں میں شادی ہو سکتی ہے؟

جواب :لڑکا اور لڑکی دونوں ایک ماں سے ہیں، یہ دونوں آپس میں سگے بھائی بہن ہیں اور سگے بھائی بہن کا آپس میں نکاح حرام ہے۔

سوال(13): کیا یہ بات صحیح ہے کہ سفید بالوں کو اکھیڑنے سے منع کیا گیا ہے اور عورت بھی اس میں شامل ہے ؟

جواب : ہاں سفید بالوں کو اکھیڑنا منع ہے مردوں کے لئے بھی اورعورتوں کے لئے بھی، نبی ﷺ کافرمان ہے :

لا تنتِفوا الشَّيبَ ما من مسلِمٍ يشيبُ شيبةً في الإسلامِ إلَّا كانت لَهُ نورًا يومَ القيامةِ إلَّا كتبَ اللَّهُ لَهُ بِها حسنةً وحطَّ عنهُ بِها خطيئةً(صحيح أبي داود:4202)

ترجمہ: سفید بال نہ اکھیڑو،اس لئے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو تو وہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا اور اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا۔

لہذا کوئی مرد یا عورت اپنے سر کے بال نہ اکھیڑے بلکہ سفیدی ظاہر ہونے پر اسلام نے ہمیں کالے خضاب کے علاوہ دوسرے رنگ سے بدلنے کا حکم دیا ہے۔

سوال(14):فاطمہ رضی اللہ عنہا رات میں دفن کی گئیں اور اس کی وجہ کیا تھی؟

جواب : صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رات میں دفن کیا تھا۔

فلما تُوُفِّيَتْ دفنَها زوجُها عليُّ بنُ أبي طالبٍ ليلًا(صحيح مسلم:1759)

ترجمہ: جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے خاوند سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے ان کو رات کو دفن کیا۔

تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ نے شدت حیا کی وجہ سے اسماء بنت عمیس کو پردہ پوش چارپائی تیار کرنے کی وصیت کی تھی اور رات میں دفن کرنا بھی حیا کے باعث تھا تاکہ ان کی وصیت کے مطابق کوئی انہیں دیکھ نہ سکے جوکہ اس ٹکڑے سے واضح ہوتا ہے۔

وجعلَتِ لها مثلَ هودجِ العروسِ فقالتْ أمرَتْني أنْ لا يدخلَ عليها أحدٌ وأَريْتُها هذا الذي صنعتُ وهيَ حيةٌ فأمرَتني أنْ أصنعَ ذلكَ عليها.

ترجمہ: اور انہوں نے دلہن کی ڈولی کی طر(ایک پردہ پوش چادر چارپائی تیار) تیار کیں اور فرمایاکہ مجھے (فاطمہ) نے اس کا حکم دیا کہ کوئی اس کے قریب نہ آئے اور یہ جو چارپائی تیار کی ہوں اس کے بنانے کی وصیت مجھ سے انہوں نے اپنی زندگی میں کی تھیں۔

اس روایت کو جورقانی نے مشہور حسن کہا ہے۔ (الأباطيل والمناكير:2/81 )

سوال(15): کیا فرشتے قرآن نہیں پڑھتے ؟

جواب : فرشتے بھی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ فرشتوں کے متعلق ذکر کرنا اور نماز پڑھنا وارد ہے جو قرآن کی تلاوت پر دلیل ہے۔ جبریل علیہ السلام اللہ کی وحی قرآن لیکر آتے تو محمد ﷺپر پڑھتے اور آپ اسے حفظ کرتے، اس کا بھی ذکر قرآن میں ہےبلکہ پہلی وحی اقرا کے سلسلے میں تو تفصیل وارد ہے اور رسول اللہ ﷺ کا جبریل کے ساتھ رمضان میں قرآن کا دورہ کرنا بھی مذکور ہے۔ فرشتے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اس بات کی قرآن سے چند دلائل دیکھیں :

اللہ کا فرمان ہے :

فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا(الصافات:3)

ترجمہ: پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔

اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ فرشتے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔

اللہ کا فرمان ہے :

فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ(القيامة:18)

ترجمہ: جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔

یہاں "قراناہ” سے مراد یہ ہے کہ جب جبریل علیہ السلام اللہ کی جانب سے قرات پوری کردیں تب اس قرات کی اتباع کریں یعنی اس کے احکام وشرائع کی پیروی کریں اور لوگوں کو بھی بتلائیں۔

اللہ کا فرمان ہے :

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى(النجم:5)

ترجمہ: اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے۔

اللہ کا فرمان ہے :

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى(الأعلى:6)

ترجمہ: ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا۔

یعنی اللہ فرشتے کے ذریعہ محمد ﷺ کو ایسا پڑھوائیں کہ زبان پر جاری کردیں گے پھر اسے کبھی نہ بھولیں گے۔

سوال(16): کوئی عورت ظہر کے وقت حائضہ ہوجائے اور اسی طرح مغرب کے وقت پاک ہو تو اس کی نماز کی قضا کا کیا حکم ہوگا؟

جواب : عورت جس نماز کے وقت میں حیض سے ہوئی ہے پاک ہونے پر اس کی قضا دے گی مثلا ظہر کے وقت حیض آیا ہے تو جب پاک ہوگی ظہر کی قضا کرے گی اور جس نمازکے وقت حیض سے پاکی حاصل ہورہی ہے عورت اس وقت کی نماز ادا کرے گی ساتھ ساتھ وہ نماز بھی پڑھنی ہوگی جس کے ساتھ دوسری نماز جمع کی جاتی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر عصر کے وقت پاک ہوئی ہے تو ظہر بھی پڑھے گی۔

سوال(17): کافر کی غیبت کرنا کیسا ہے ؟

جواب: ہمیں اپنے مسلمان بھائی کی غیبت سے منع کیا گیا ہے اور کافر کے کفر وشرک اور فسق وفجور کوبیان کرنا غیبت نہیں ہے تاکہ اس کے کفر وشرک اور فسق وفجورسے دوسروں کو بچایا جاسکے اور کافر کی ہدایت کے لئے راستہ ہموار کیا جائے البتہ ذمی کافر کی غیبت سے علماء نےمنع کیا ہے۔

سوال(18):کیا نظر لگنے والے کا علم نہ ہو تو نیک آدمی کے وضو کے پانی سے غسل دیا جا سکتا ہے ؟

جواب : نظر بد اتارنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جس کی نظر لگی ہو اسے کسی برتن میں وضوکراکر اور کمر تک کے حصے کو دھوکر اس پانی کو مریض کے سر پرپچھلی طرف سے انڈیل دیا جائے۔ جب سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو عامر بن ربیعہ کی نظر لگ گئی تو آپ ﷺ نے عامر کوغسل کرنے کا حکم دیا اور اس کے غسل کے پانی کوسہل کے جسم پر انڈیل دیا گیا جس سے وہ ٹھیک ہوگئے۔ جس کی نظر لگی ہو اس کا علم نہ ہو تو کسی بزرگ کے وضو کے پانی سے مریض کو غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ ایسی صورت میں رقیہ شرعیہ سے دم کیا جائے گا۔

سوال(19):کیا عورتوں کو جمعہ کے دن اذان اور خطبہ ختم ہونے کے بعد نماز پڑھنی چاہئے ؟

جواب : عورتوں پر نمازجمعہ فرض نہیں ہے لیکن مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ جب عورت جمعہ کے دن اپنے گھر میں نماز پڑھے تو ظہر کی نماز ادا کرے گی اور نماز کا وقت ہوتے ہیں اول وقت میں نمازظہر ادا کرلے اسے اذان یا خطبہ ختم ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم عورت اگر اذان کا جواب دیتی ہے تو اس میں اجر ہے۔

سوال(20) فرحت ہاشمی صاحبہ بیان کررہی تھی کہ قیامت میں ہرمومن کا سایہ ہوگا جبکہ لوگوں میں مشہور تو سات قسم کے لوگوں کا سایہ ہے اس کی کیا حقیقت ہے ؟

جواب : مجھے نہیں معلوم کہ یہ بات فرحت ہاشمی صاحبہ نے کہی ہے یا نہیں لیکن اگر کسی نے کہی ہے تو اس سے غلطی سرزد ہوئی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں اس بات کی حقیقت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يعرَقُ النَّاسُ يومَ القيامةِ حتَّى يذهبَ عرقُهم في الأرضِ سبعين ذراعًا، ويُلجِمُهم حتَّى يبلُغَ آذانَهم(صحيح البخاري:6532)

ترجمہ:قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ تم میں سے ہر کسی کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔

ایسی حالت میں سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ ان سات قسم کے لوگوں میں ایک صدقہ کرنے والا بھی ہوگا۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں :ورجلٌ تصدَّقَ بصدقةٍ، فأخفاها حتى لا تعلمَ شمالُهُ ما تُنْفِقْ يمينُهُ(صحيح البخاري:1423)

ترجمہ:اوروہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔

یعنی صدقہ عرش الہی کے سایہ کا سبب ہے اسی بات کو دوسری احادیث میں اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے۔

كُلُّ امرِئٍ في ظِلِّ صَدَقَتِه حتى يُفْصَلَ بينَ الناسِ، أو قال حتى يُحْكمَ بينَ الناسِ و في رواية حتى يُقْضَى بين الناسِ.(صحيح ابن خزيمة:2431، قال البانی إسناده صحيح على شرط مسلم)

ترجمہ:قیامت کے دن ہرمومن لوگوں کا فیصلہ ہونے تک اپنے صدقہ کے سایہ تلے ہوگا۔

إنَّ الصَّدقةَ لتُطفيءُ عَن أهلِها حرَّ القبورِ، وإنَّما يَستَظلُّ المؤمِنُ يومَ القيامةِ في ظلِّ صدقتِهِ(صحيح الترغيب:873)

ترجمہ: بے شک صدقہ اپنے صاحب کو قبر کی گرمی سے بچائے گا اور بے شک مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا۔

ان احادیث کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے دن ہرمومن کا سایہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ صدقہ عرش الہی کے سایہ کا سبب ہے یعنی جو مومن صدقہ دے گا وہ صدقہ کی وجہ سے سایہ کا مستحق ہوگا اورصدقہ کرنے والا سات قسم کے لوگوں میں سے ایک ہے جسے عرش الہی کا سایہ نصیب ہوگا۔

سات قسم کے لوگوں کے علاوہ ایک اور حدیث ملتی ہے، رسول اللہ کا فرمان ہے:من أنظرَ معسرًا، أو وضع عنهُ، أظلَّهُ اللهُ في ظلِّهِ (صحيح مسلم:3006)

ترجمہ: جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کر دے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں رکھے گا۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close