فقہ

سمندری سفر میں مرنے والے کی تدفین

مقبول احمد سلفی

میت کو زمین میں گڑھا کھودکر دفن کیا جائے گا یہی سنت طریقہ ہے لیکن اگر کوئی دریائی سفر پہ ہو اور اسی سفر میں موت واقع ہوجائے تو اس کی تین صورتیں ہیں ۔

پہلی صورت: یہ ہے کہ اگر ساحل قریب ہو اور میت میں تغیر کا امکان نہ ہو تو ضروری ہے کہ ساحل سمندر  پر پہنچا جائےوہاں پہنچ کر غسل دیا جائے ، تکفین کی جائے ، نماز جنازہ پڑھی جائے اور زمین میں دفن کیا جائے ۔

دوسری صورت : اگر ساحل دور ہو یہاں تک کہ وہاں پہنچنے میں سات آٹھ دن لگ جائیں اور میت کا جسم بدلنے کا خطرہ ہو،برف وغیرہ کا بھی انتظام نہیں کہ لاش کی حفاظت کی جاسکے  توپھرکم ازکم کوئی جزیرہ تلاش کیا جائے تاکہ وہاں دفن کرسکے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ آیت انفروا  خفافا وثقالا پڑھی تو فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہاد کا حکم دیا ہے اور ہم بوڑھے ہوں یا جوان ہمیں نکلنے کا حکم دیا ہے[ان کے عزم اور تیاری کو دیکھ کر ] ان کے بیٹھے کہنے لگے کہ آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جہاد فرمایا ہے اب ہم آپ کی طرف سے جہاد کریں گے [ مگر وہ خود نکلے ] پھر انہوں نے سمندری لڑائی میں حصہ لیا اور دوران جہاد جہاز ہی پر انتقال فرمایا ان کے رفقاء نے کوئی جزیرہ ڈھونڈنا شروع کیا تاکہ انہیں دفن کر سکیں مگر انہیں سات دن بعد اس میں کامیابی ملی [ ان سات دنوں میں ] حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک میں کوئی تغیر نہ آیا۔(مجمع الزوائد،صحیح ابن حبان)

أنَّ أبا طَلْحَةَ – رَضِيَ اللهُ عنه – رَكِبَ البحرَ فمات ، فلم يجِدُوا لَهُ جزيرةً إلَّا بعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فدفَنُوهُ فِيهَا ، وَلَمْ يَتَغَيَّرْ.(رواہ البیہقی)

ترجمہ: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سمندری جہاد میں حصہ لیا اور اسی میں وفات پاگئے تو لوگوں نے کوئی جزیرہ ڈھونڈنا شروع کیا تاکہ دفن کرسکیں مگر انہیں سات کے بعد ملا تو اس میں دفن کئے گئے اور ان کے جسم میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا۔

٭ اسے امام نووی، علامہ ذہبی ،علامہ شوکانی اور علامہ البانی وغیرہم نے صحیح قرار دیا ہے ۔

(الخلاصة:2/1031،تاريخ الإسلام:3/427،در السحابة:325،صحيح الموارد:1897)

تیسری صورت : اگرتلاش بسیار کے بعد جزیرہ بھی نہ مل سکے تو پھر لاش کو سمندر میں دفن کیا جائے گا۔

سمندر میں دفن کی صورت کیا ہوگی اس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں ۔

(1) حسن بصریؒ  کہتے ہیں کہ غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور نماز جنازہ پڑھی جائےگی اور سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ (الدیں الخالص 8/41 لمحمود محمد خطاب السبکی)

(2) حسن بصری  ؒسے ایک دوسری روایت ہے کہ تھیلے میں کرکے سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ [الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف 5/ 464]

(3) شافعیہ کا کہنا ہے کہ میت کو دوتختی کے درمیان رکھ کراسے رسی سے باندھ کر  سمندر میں ڈال دیا جائے گا تاکہ ساحل کی طرف چلائے اور کوئی مسلمان  اسے پاکر دفن کردے ۔ (الام للشافعی 1/304)

(4) حنفیہ کا کہنا ہے کہ کشتی میں جس کی موت ہوجائے اور خشکی دور ہو تواسے غسل دیاجائے گا، كفن دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور پھر اسے سمندر میں ڈال دیا جائے گا۔ (نورالایضاح ونجاۃ الارواح :98)

(5) حنابلہ نے کہا کہ میت کو کسی بھاری چیز سے باندھ کر ڈالاجائے گا تاکہ سمندر کی گہرائی میں چلا جائے ۔ اس میں پردہ ہے اور دوتختی کے درمیان رکھنے سے میت کی ہتک اور اس میں تغیرپیدا ہوسکتا ہے ۔ بسااوقات ساحل سمندر پر عریاں پڑا ہوگا تو کبھی مشرکوں کے ہاتھ لگ جائے گا۔ (المغنی 2/373)

ابن المنذر نے اس سلسلے میں ایک اچھی رائے دی ہے کہ جس سمندر میں آدمی کی وفات ہوئی ہے اگر اس کی موجین مسلمانوں کے ساحل کی طرف جاتی ہوں تو امام شافعی کی بات پرعمل کیا جائے گا(یعنی دوتختی کے درمیان رکھ کراسے رسی باندھ کر  سمندر میں ڈال دیا جائے گا تاکہ ساحل کی طرف چلائے اور کوئی مسلمان  اسے پاکر دفن کردے ) اور اگر ایسا نہ ہو تو امام احمد بن حنبل ؒ کی بات پر عمل کیا جائے گا(یعنی کو کسی بھاری چیز سے باندھ کر ڈالاجائے گا تاکہ سمندر کی گہرائی میں چلا جائے ) ۔ [الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف 5/ 465]

خلاصہ یہ ہے کہ اگر سمندر ی جہاز میں کسی کی موت ہوجائے تو اس کے رقفاء کوشش کریں ساحل تک پہنچنے کی تاکہ زمین میں دفن کرسکے ، اگر یہ ممکن نہ ہوتو کسی جزیرہ کی تلاش کرے جہاں دفن کرسکے ۔ اگر کوئی جزیرہ بھی نہ ملے اور ساحل سمندر بہت دور ہو میت میں تعفن پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس میت کو غسل دے ، اس کو کفن پہنائے اور پھر جہاز میں سوار لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور کسی بھاری پتھر سے میت کو باندھ دیں اور سمندر میں ڈال دیں اسی میں میت کی حفاظت ہے ۔ ایک ضعیف اثر میں اس کا ذکر ملتا ہے ۔

عَن حجاج قَالَ سَأَلت عَطاء عَن الْمَيِّت يَمُوت فِي الْبَحْر قَالَ فَقَالُوا يكفنون ويحنطون ويغسلون وَيصلونَ عَلَيْهِ ويستقبلون بِهِ الْقبْلَة ويضعون على بَطْنه حجرا حَتَّى يرسب (مسائل الإمام أحمد 1085 : 2 / 406)

ترجمہ: حجاج سے روایت ہے انہوں نے عطاء سے پوچھا کہ سمندر کے میت كو کیسے دفن کیا جائے ؟ توانہوں نے کہا: میت کو کفن دیا جائے گا، اس کو خوشبو لگائی جائے گی،غسل دیا جائے گا، نماز جنازہ پڑھی جائے گی، قبلہ کا استقبال کیا جائے گا اور پیٹ پر پتھر رکھا جائے گا تاکہ ڈوب جائے ۔

ویسے آج کل بحری جہاز میں برف  اور فرج کا انتظام ہوتا ہے اس صورت میں  بہتر ہے کہ میت کو برف میں محفوظ کرکے ساحل تک پہنچاجائے اور قبر کھود کر اس میں دفن کیا جائے ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close