عام تباہی کے اسلحہ کا استعمال: اسلامی نقطۂ نظر – قسط۱

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

جنگیں زمانۂ قدیم میں بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن ان میں روایتی ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا تھا، اس وجہ سے ہلاکتیں اور تباہی و بربادی محدود پیمانے پر ہوتی تھی۔ بیسویں صدی میں ایک نئی صورت حال سامنے آئی کہ ایسے ہتھیار استعمال کیے جانے لگے جو بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے تھے اور جن سے بہت بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ پہلی جنگ عظیم (18۔1914ء) میں کیمیاوی اسلحہ کا استعمال کیاگیا، پھر جنگ عظیم دوم کے دوران میں نیوکلیائی اسلحہ کا تجربہ کیا گیا۔ امریکا نے اگست 1945ء میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، جس کے نتیجے میں ہیروشیما میں نوّے ہزار سے ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار کے درمیان اور ناگاساکی میں ساٹھ ہزار سے اسّی ہزار کے درمیان انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان میں سے نصف تعداد بم گرائے جانے کے پہلے ہی دن ہلاک ہوگئی تھی۔
ایسے ہتھیار، جن سے بڑے پیمانے پر تباہی مچتی ہے، ان کے لیے ایک نئی اصطلاح وضع کی گئی۔ وہ ہے : WEAPONS OF MASS DESTRUCTION (WMD) تاریخی طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اس اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے 1937ء میں Canterbury کے ایک آرک بشپ نے کیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ ایک مقبول اصطلاح بن گئی۔ اس سے مراد وہ اسلحہ ہیں جو انسانوں اور دیگر جان داروں کی بڑی تعداد کو ہلاک کردیں، یا شدید نقصان پہنچائیں اور انسانی تعمیرات اور قدرتی اسٹرکچرس کو تباہ و برباد کریں۔ ان میں تین طرح کے اسلحے شامل ہیں: جوہری (NUCLEAR) کیمیاوی (CHEMICAL) اور حیاتیاتی (BIOLOGICAL)۔ ان اسلحہ کی تباہ کاری کو دیکھتے ہوئے عالمی سطح پر عام بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے ان کی تیاری اور استعمال پر پابندی عائد کرنے کے معاہدے مرتب کیے گئے اور سب ہی ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ ان پر دستخط کریں۔ ان معاہدوں میں سے چند یہ ہیں:
– Partial Test Ban treaty (PTBT)
– Outer Space Treaty (OST)
– Nuclear Non-Proliferation Treaty (NPT)
– Comprehensive Test Ban Treaty (CTBT)
میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی سطح پر بھی اس موضوع کا خوب چرچا ہوا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2002ء میں امریکا میں ہوئے ایک سروے کے مطابق WEAPONS OF MASS DESTRUCTION سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ تھے۔
مسئلے کا سیاسی پہلو
اس مسئلے کا ایک پہلو سیاسی ہے۔ دنیا کے آٹھ ممالک نیوکلیائی اسلحہ رکھتے ہیں: امریکا، فرانس، برطانیہ، چین، شمالی کوریا، روس، ہندوستان اور پاکستان۔ عسکری تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس بھی نیوکلیائی اسلحے ہیں، لیکن وہ کھلے الفاظ میں نہ اس کا اقرار کرتا ہے نہ انکار۔ اب اس بات کی کوشش ہورہی ہے اور امریکہ اس میں پیش پیش ہے کہ مزید کوئی ملک نیوکلیائی صلاحیت نہ حاصل کرنے پائے۔ گزشتہ صدی میں نوّے کی دہائی میں عراق پر الزام عائد کیاگیا کہ وہ عام تباہی کے اسلحہ رکھتا ہے، پورا ملک کھنگال ڈالا گیا، مگر یہ اسلحہ نہیں ملے، اسی الزام کے تحت 2003ء میں عراق پر حملہ کرکے اسے تہس نہس کردیا گیا۔ اب یہی الزام ایران کے سلسلے میں بھی دوہرایا جارہا ہے۔ ایران صاف الفاظ میں اس سے انکار کرتا ہے، مگر کوتوال ہے کہ مان کر نہیں دے رہا ہے۔ القاعدہ کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ وہ نیوکلیائی اسلحہ کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ غرض یہ اصطلاح WEAPONS OF MASS DESTRUCTION اس حیثیت سے بھی کافی مقبول ہوگئی ہے کہ جس پر چاہے اس کا الزام لگادیا جائے اور اس کے بہانے اس پر جو پابندیاں چاہیں عائد کردی جائیں۔ 2003ء میں امریکا میں Lake Superior State University نے اصطلاحات کی ایک فہرست شائع کی اور بتایا کہ ان میں سب سے زیادہ misuse اور overuse اسی اصطلاح کا ہوا ہے۔
لیکن اس وقت ہم اس مسئلے کے سیاسی پہلو پر کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتے، صرف علمی حیثیت سے اس پر بحث کرنا اور اسلامی نقطۂ نظر واضح کرنا چاہتے ہیں۔
اسلام کی چند اصولی تعلیمات
زیر بحث موضوع پر آنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی چند اصولی تعلیمات بیان کردی جائیں، جن کا اس موضوع سے گہرا تعلق ہے:
1-  اسلام جنگ کے مقابلے میں امن کو اوّلیت دیتا ہے، لیکن جب جنگ ناگزیر ہوجائے تو اس سے پہلو تہی بھی نہیں کرتا۔ جنگ کے دوران میں وہ مقاتلین اور غیر مقاتلین کے درمیان فرق کرتا ہے۔ مقاتلین سے مراد وہ لوگ ہیں جو جنگ میں عملاً حصہ لیتے ہیں، یاحصہ لینے کی قدرت رکھتے ہیں یعنی جوان مرد اور غیر مقاتلین سے وہ لوگ مراد ہیں جو عموماً جنگ میں حصہ نہیں لیتے، جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار، زخمی، خانقاہ نشیں، معبدوں کے پجاری وغیرہ۔ جنگ کے دوران میں اسلام مقاتلین کو قتل کرنے کی اجازت دیتا ہے، جب کہ غیر مقاتلین کو قتل کرنے سے روکتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے میدان جنگ میں ایک عورت کی لاش دیکھی تو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا 1؂۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس موقع پر آپؐ نے یہ بھی فرمایا : ’’یہ تو لڑنے والوں میں شامل نہ تھی‘‘۔ پھر فوج کے سپہ سالار حضرت خالد بن الولیدؓ کو بلاکر سختی سے تاکید کی:
لاتَقْتُلَنَّ ذرّیّۃً وَلاَعَسِیْفاً۔ 2؂

عورت ،بچے اور مزدور کو ہرگز قتل نہ کرو۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
لاتقتلوا شیخاً فانیاً ولا طفلاً صغیراً ولا امرأۃً۔ 3؂

نہ کسی بوڑھے ضعیف کو قتل کرو، نہ چھوٹے بچے کو نہ عورت کو۔
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آں حضرت ﷺ جب کہیں فوج بھیجتے تھے تو یہ ہدایت کرتے تھے:
لاتقتلوا الوالدان و اصحاب الصوامع۔ 4؂

بچوں اور خانقاہ نشینوں کو قتل نہ کرو۔
2-  اسلام امن کا علم بردار ہے۔ وہ کسی کے خلاف جارحیت کو پسند نہیں کرتا، لیکن اگر کوئی جارحیت کا مظاہرہ کرے تو اسے برداشت کرنے کی بھی تعلیم نہیں دیتا۔ مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں کے خلاف جنگ برپا کی تو مسلمانوں کو ان کا جواب دینے اور ان سے جنگ کرنے کی اجازت دی گئی:
وَقَاتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ (البقرۃ:190)

لڑو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِهمْ لَقَدِیْرٌ. الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن یَقُولُوا رَبُّنَا اللَّہُ۔ (الحج: 39۔40)

اجازت دے دی گئی (جنگ کی) ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیوں کہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے، صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ’’ہمارا رب اللہ ہے‘‘۔
فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ۔ (البقرۃ:194)

لہٰذا جو تم پر زیادتی کرے ، تم بھی اس پر زیادتی کرو جتنی اس نے کی ہے۔

3-  اسلام اپنی ریاست کو مضبوط اور مستحکم دیکھناچاہتا ہے۔ اتنی مستحکم کہ اس کے دشمن اسے نرم چارہ نہ سمجھیں اور اس کی طرف غلط نظر اٹھاکر نہ دیکھیں۔ اسی لیے وہ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَعِدُّواْ لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّن قُوَّۃٍ وَّمِن رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللّہِ وَعَدُوَّکُمْ وَآخَرِیْنَ مِن دُونِہِمْ لاَ تَعْلَمُونَہُمُ اللّہُ یَعْلَمُہُمْ۔ (الانفال: 60)

اور تم لوگ جہاں تک تمھارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیّا رکھو، تاکہ اس کے ذیعے سے اللہ کے اوراپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کردو جنھیں تم نہیں جانتے ، مگر اللہ جانتا ہے۔
اس آیت میں دو الفاظ قابلِ غور ہیں: ایک ’قوۃ‘، جو نکرہ ہے اور نکرہ میں عموم پایا جاتا ہے، اس میں ہر طرح کی عسکری قوت شامل ہے۔ بہ طور مثال آیت میں گھوڑوں کاتذکرہ ہے، جو زمانۂ نزول قرآن میں عسکری طاقت کاایک مظہر تھے اور حدیث میں اس کی تعبیر ’تیز اندازی‘ سے کی گئی ہے (الا إن القوۃالرمی 5؂) دوسرا لفظ ’ترہبون‘ ہے۔ اس کے ذریعے عسکری طاقت کے حصول کا مقصد بیان کردیاگیا، یعنی دشمن کو خوف زدہ کرنا۔ مفسّر ابوحیان نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’اس کامطلب یہ ہے کہ جب کفار کو معلوم ہوگا کہ تم نے جنگ کے لیے کتنی تیاری کر رکھی ہے، کتنی قوت جمع کررکھی ہے اور کتنے گھوڑے مہیا کر رکھے ہیں تو وہ اپنے پڑوسی کافروں کو تمھاری جنگی تیاریوں کے بارے میں بتاکر خوف زدہ کردیں گے اور جب وہ تمھارے سلسلے میں اپنے پڑوسیوں کو خوف زدہ کردیں تو وہ خود تم سے اور زیادہ خوف زدہ رہیں گے‘‘۔ 6؂
اس آیت سے یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ عسکری تیاری کرنا اوراس کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کرنا اور اسلحہ فراہم کرنا جنگ بھڑکانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ دشمن کو دست درازی سے روکنے کی ایک تدبیر ہے۔اس کی ضرورت ہر زمانے میں محسوس کی گئی ہے اور آج بھی یہ تسلیم شدہ ہے۔ یہ انسانی قدروں اور اخلاقی اصولوں کے منافی نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس ان کی پاس داری کی ایک موثر تدبیر ہے۔ یہ جنگ کا ماحول پیدا کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ جنگ نہ ہونے اور امن قائم رہنے کی ایک تدبیر کے طور پر ہے۔ علامہ رشید رضا نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’یہاں بہ قدر استطاعت قوت اور گھوڑوں کی فراہمی کو اس سے خاص کردیا گیاہے کہ اس کا مقصد ان لوگوں کو خوف زدہ کرنا ہو جو علانیہ دشمن ہیں اور جو چھپے ہوئے اور گم نام دشمن ہیں اور جو آئندہ اہل ایمان کے دشمن بن کر سامنے آئیں گے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ’ارہاب‘ اس کے نزدیک جنگ کو روکنے کے لیے ہے، نہ کہ جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے۔ وہ کہتا ہے کہ تیار رہو، تاکہ دشمن تم سے خوف زدہ رہے، ممکن ہے اس طرح وہ تم پر حملہ کرنے سے باز رہے۔ یہ بعینہٖ وہی بات ہے جو آج کے ملکوں میں مسلح امن کے نام سے جانی جاتی ہے، جس کی بنیاد یہ ہے کہ ضعف درحقیقت طاقت ور کو کم زور پر دست درازی کی ترغیب دیتا ہے‘‘۔ 7؂
نئی صورت حال
عام تباہی کے اسلحہ کی ایجاد سے دنیا ایک نئی صورت حال سے دوچار ہوگئی ہے۔ ایک طرف ان کی خطرناکی اور ان کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی، انسانی جانوں کا ضیاع اور املاک کی بربادی ہے، جن کا دنیا تجربہ بھی کرچکی ہے، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اسلحہ کو موجودہ دور میں طاقت و قوت کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ جو ممالک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں انھیں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ انھوں نے جو ایٹمی اسلحے تیار کر رکھے ہیں ان سے وہ دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن چاہتے ہیں اور اس کے لیے کوشاں بھی ہیں کہ کوئی دوسرا ملک وہ صلاحیت حاصل نہ کرنے پائے۔
اسلام نقطۂ نظر
عام تباہی مچانے والے اسلحہ کی تیاری اوران کے استعمال کا مسئلہ مسلم امت کے درمیان زیادہ بحث و گفتگو کا موضوع نہیں بنا ہے۔ زیادہ تر علماء، مفکرین اور دانش وروں نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جن لوگوں نے اس پر کچھ لکھا ہے ان کی تحریریں بہت مختصر ہیں اور ان سے تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔
اس مسئلے پر علماء اور دانش وروں کے دو الگ الگ موقف پائے جاتے ہیں۔ کچھ حضرات ہیں جو موجودہ حالات میں عام تباہی کے اسلحہ کی تیاری کو جائز اور مسلم ممالک کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، تو کچھ دوسرے حضرات اس کے عدم جواز کی رائے دیتے ہیں۔ ذیل میں دونوں نقطہ ہائے نظر کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
جواز کے قائلین
موجودہ دور کے جن علماء کو ا پنے علمی کام کی وجہ سے عالمی سطح پر اعتبار و استناد حاصل ہوا ہے، ان میں سے ایک ڈاکٹر وھبہ الزحیلی ہیں (ولادت 1932ء) ۔ دمشق یونی ورسٹی میں فقہ کے استاد ہیں۔ اس موضوع پر انھوں نے اپنی دوتصانیف میں اظہار خیال کیا ہے۔ ایک آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی: دراسۃ مقارنۃ اور دوسری العلاقات الدولیۃ فی الاسلام مقارنۃ بالقانون الدولی الحدیث ہے۔ اپنی اول الذکر کتاب میں انھوں نے لکھاہے:
’’دو حالتیں ایسی ہیں جن میں ناگزیر طور پر غیر مقاتلین کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ ناگزیر حالات میں ممنوعات بھی جائز ہوجاتی ہیں (الضرورات تبیح المحظورات) یہ دو حالتیں درج ذیل ہیں:
اول: حملۂ عام کی حالت (حالۃ الغارات)، اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل طائف کے خلاف منجنیق کا استعمال کیا تھا، حالاں کہ آپ جانتے تھے کہ ان میں عورتیں، بچے، بوڑھے اور دیگر معذورین بھی ہیں۔ یہ ناگزیر صورت حال ہے اور ایسے ناگزیر حالات میں وہ چیزیں جائز ہوجاتی ہیں جو عام حالات میں ممنوع ہوتی ہیں۔ یہ چیز جنگی قانون میں جائز ہے۔ زمینی جنگ کے قوانین اس رائے کی تائید کرتے ہیں جس پر عمل ہورہا ہے۔ وہ یہ کہ کسی جگہ کا محاصرہ کرنے والی فوج کے لیے جائز ہے کہ وہ وہاں کی صرف تنصیبات پر حملہ نہ کرے، بلکہ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنائے، اس لیے کہ املاک کے نقصان، عمارتوں کے انہدام اور آبادی کی ہلاکت سے مدافعت کرنے والی فوج پر دباؤ پڑتا ہے اور وہ خود سپردگی پر آمادہ ہوجاتی ہے۔
دوم: غیر مقاتلین کو ڈھال بنالینے کی حالت (حالۃ التترس)۔ فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر مشرکین کچھ مسلمانوں کو ڈھال بنالیں تو ان کی پروا کیے بغیر دشمنوں پر حملہ جاری رکھنا جائز ہے۔ اس میں ’مصالح مرسلہ‘ کا اصول کار فرما ہے۔ اسے ان لوگوں نے بھی جائز قرار دیا ہے، جو اس اصول کو اختیار کرنے میں بہت محتاط ہیں، مثلاً امام غزالیؒ ۔ انھوں نے شرط عائد کی ہے کہ مصلحت ناگزیر، قطعی اور کلی ہو تبھی اس کا اعتبار کیا جائے گا، جیسے تترّس، یعنی غیر مقاتلین کو ڈھال بنالینے کی حالت۔ اس حالت میں ان کی پروا نہیں کی جائے گی، تاکہ دشمن کو کامیاب ہونے کا موقع نہ مل سکے‘‘۔ 8؂
مولانا سید جلال الدین عمری نے جنگ کے اسلامی آداب سے بحث کرتے ہوئے ابن قدامہ حنبلیؒ کے حوالہ سے فقہاء کا نقطۂ نظر یہ بیان کیا ہے کہ ’’عورت، شیخ فانی، اپاہج، اندھے اور راہب پر میدان جنگ میں ہاتھ نہیں اٹھایا جائے گا۔ ہاں اگر وہ جنگ میں براہ راست حصہ لیں یا معاونت کریں تو مارے جاسکتے ہیں۔ اگر دشمن ان کم زور طبقات کو ڈھال بناکر، حتیّٰ کہ مسلمانوں کو آگے کرکے کوئی جنگی چال چلنا چاہے تو اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ اسی طرح عورتیں اور بچے وغیرہ کسی عمومی حملے کی زد میں آجائیں تو یہ جنگی مجبوری ہوگی۔9؂
عورت کے بارے میں ہدایہ کے حوالہ سے کہا ہے کہ ’’عورت باقاعدہ جنگ میں شریک نہ ہو، لیکن وہ قیادت کررہی ہو یا حملہ آور ہو تو اس کا جواب دیاجائے گا‘‘۔ 10؂
ایک دوسرے عالم دین شیخ محمد الغزالیؒ (م 1996ء) ہیں۔ ان کا تعلق مصر سے ہے۔ الاخوان المسلمون کے رہ نماؤں میں سے تھے، بعد میں بعض وجوہ سے اس سے تعلق باقی نہیں رہا تھا۔ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔
1995ء میں جب نیوکلیائی اسلحہ کے عدمِ استعمال کے معاہدے Nuclear Non-Proli feration Treaty (NPT)  پر دستخط کرنے کے لیے مختلف ممالک پر دباؤ ڈالا جارہاتھا، شیخ محمد الغزالیؒ نے یہ بیان جاری کیا:
’’مصری حکومت کسی ایسے معاہدے پر کیسے دستخط کرسکتی ہے، جس میں ایسے اسلحہ پر پابندی لگائی گئی ہو جو اس کے پاس موجود ہی نہ ہوں۔ ایسے اسلحے اسرایل کے پاس ہیں، اس لیے اسے اس معاہدہ پر دستخط کرنا چاہیے اور اگر وہ دستخط نہ کرے تو بین الاقوامی سطح پر اس کا بائیکاٹ کیاجانا چاہیے۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ نیوکلیائی صلاحیت حاصل کرنے اور اسے ترقی دینے کی کوشش کریں، تاکہ وہ اسرائیل پر سبقت لے جائیں، کیوں کہ اسرائیلی اسلحے مسلم ممالک کے لیے کھلا خطرہ ہیں‘‘۔ 11؂
تیسرے دانش ور، جنھوں نے نیوکلیائی اسلحوں کی تیاری کے جواز کی بات کہی ہے، پروفیسر خورشید احمد ہیں۔ موصوف جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور پاکستان کی قومی اسمبلی (سینیٹ) کے رکن ہیں۔ ایک علمی ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے چیرمین اور جماعت اسلامی پاکستان کے ترجمان ماہ نامہ ترجمان القرآن لاہور کے مدیر ہیں۔ موصوف نے اس موضوع پر ایک کتاب تصنیف کی ہے، جس کا نام ہے: Capping the Nation: Pakistan’s Security and the Nuclear Option۔ یہ اصلاً اس موضوع پر منعقدہ ایک سمینار میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔
1998ء میں ہندوستان اور پاکستان کے ایٹمی تجربات کے کچھ عرصہ کے بعد پروفیسر خورشید احمد صاحب نے ترجمان القرآن میں ایک اداریہ لکھا تھا۔ اس کے کچھ منتخب حصے ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں:
’’ہم جوہری صلاحیت کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ الحمد للہ ہم نے بنیادی صلاحیت حاصل بھی کرلی ہے اور اس کا کامیاب مظاہرہ بھی کردیا ہے، جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور ان تمام افراد اور اداروں کی خدمات کے معترف ہیں جنھوں نے اس کارنامے کو انجام دینے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ لیکن ہمیں اس ناقابل تردید تاریخی حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے کہ جہاں اسلحہ کی دوڑ ایک خسارے کا سودا ہے اور محض تفاخر کی خاطر اس خطرناک کھیل میں ہرگز شریک نہیں ہونا چاہیے وہیں مقابلے کی قوت اور کم سے کم ضروری سدّ جارحیت (Minimum Credible Deterrent)  قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ قوت اور سدِّجارحیت کوئی جامد (Static) تصور نہیں، بلکہ حرکی (Dynamic) تصور ہے، جس کے لیے مدّ مقابل کی صلاحیت ۔حملہ کرنے کی اور حملہ سہنے کی۔ کو سامنے رکھ کر ضروری حدود کا تعین کیا جاتا ہے‘‘۔ 12؂
آگے مزید لکھتے ہیں:
’’مغربی اقوام نے جدید ٹکنالوجی پراپنی اجارہ داری قائم کررکھی ہے۔ ضروری ہے کہ ہمیں نئی اور جدید ٹکنالوجی دیں اورٹکنالوجی منتقل کرنے کی تمام طفل تسلّیوں کے باوجود جو راہیں ہم پر بند کررکھی ہیں، بشمول ہمارے سائنس دانوں اور اعلیٰ درجے کے طالب علموں کے لیے مغربی درس گاہوں اور لیبارٹریوں کے درازوں کو بند کرنے کے، وہ کھولیں۔ اس کے بغیر نیوکلیر امتیاز (Apartheid) کا جو ظالمانہ اور استبدادی نظام قائم کیا گیا ہے وہ انسانیت کو مستقل طور پر دو طبقوں میں بانٹ رکھے گا ۔ایٹمی قوت سے آراستہ، بالا دست اور غالب اقوام اور ایٹمی صلاحیت سے محروم ان کے باج گزار ممالک۔ کیا پاکستان اور امت مسلمہ اس ذلت کے مقام کو قبول کرنے کو تیار ہے؟ اور کیا یہ ہمارے ایمان، خیر امت اور شہداء علی الناس کے مقام سے کوئی بھی مناسبت رکھتا ہے‘‘۔ 13؂
ان آراء کے حاملین نے اگرچہ اپنی تائید میں بعض نصوص پیش کی ہیں، لیکن ان پر مقامی حالات کا دباؤ صاف محسوس ہوتا ہے۔

(مضامین ڈیسک)



⋆ محمد رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

صنفی عدل: اسلامی نقطۂ نظر سے

کہا جاتا ہے کہ وراثت میں عورت کا حصہ مر دکے مقابلے میں نصف رکھا گیا ہے، یہ اس کی حق تلفی ہے۔ یہ بات درست طریقے سے اور مکمل نہیں کہی جاتی۔ ادھوری بات کہہ کر اسلام کے نظام وراثت کو عورت کی حق میں ظالمانہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت کو مرد کے دوش بدوش کھڑا کردینا اور اس سے ہر اس کام کا تقاضا کرنا جو مرد کرتا ہے، اس کے ساتھ ہم دردی نہیں ہے، بلکہ اس پر سراسر ظلم ہے۔