فقہ

غصہ کی حالت میں طلاق

تحریر: علامہ یوسف القرضاوی

ترتیب : عبدالعزیز
علامہ یوسف القرضاوی دورِ جدید کے ایک دیدہ ور اور صاحب بصیرت عالم دین، محقق اور مصنف ہیں۔ قرآن و حدیث پر ان کی گہری نظر ہے۔ امت کے ائمہ، فقہاء اور ماہرین علوم اسلامیہ کے افکار و خیالات کا موصوف نے دقت نظر اور باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے۔ دور حاضر کے مسائل اورپیچیدگیوں سے بخوبی واقف ہیں اور اسلام سے متعلق جو سوالات ابھر رہے ہیں ان کا جواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔
سوال: میں فطری طور پر ایک نہایت غصہ ور شخص ہوں۔ جب مجھے غصہ آتا ہے تو اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا۔ اکثر اس غصہ کی وجہ سے بیوی سے میرا جھگڑا ہوتا رہتا ہے اور میں ایک سے زائد بار اسے شدید غصہ کی حالت میں طلاق دے چکا ہوں، حالانکہ طلاق دینا میرا مقصد نہیں تھا اور نہ میں نے اس بارے میں کبھی سوچا ہے۔ دو طلاق دینے کے بعد بعض اہل علم حضرات نے فتویٰ دیا کہ میں ان دو طلاقوں کے بعد بھی بیوی کی طرف رجوع کر سکتا ہوں۔ کچھ دنوں کے بعد پھر شدید جھگڑا ہوا اور میں نے پھر طلاق دے دی۔ اب اہل علم کہتے ہیں کہ حلالے کے بغیر میری بیوی میرے لئے جائز نہیں ہے۔ اب میں بڑی مشکل میں ہوں۔ میری ازدواجی زندگی تباہ ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس تباہی سے نکلنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
جواب: سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ حلالہ اگر قصداً صرف اس لئے کیا جائے کہ بیوی اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ آئے تو یہ حرام ہے اور اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ عمرؓ بن الخطاب فرماتے تھے کہ اگر میرے پاس ان دونوں کو لایا جائے تو میں انھیں سنگسار کردوں۔
چنانچہ آپ اگر حلالے کا انتظام محض اس لئے کریں کہ آپ کی بیوی آپ کی طرف لوٹے آئے تو یہ ایک حرام کام ہوگا۔
اب میں اصل سوالوں کا جواب دیتا ہوں۔
غصہ کی تین قسمیں ہیں۔
۱) ایک وہ غصہ ہوتا ہے جو ذرا ہلکا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے ہوش و حواس اور عقل قابو میں رہتے ہیں۔ اس غصہ کی حالت میں وہ جو کچھ کہتا ہے یا کرتا ہے سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ اس قسم کے غصہ میں اگر کوئی شخص طلاق دیتا ہے تو تمام فقہاء کے نزدیک طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
۲) دوسرا غصہ وہ ہوتا ہے جو انتہائی شدید ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے اور عقل قابو میں نہیں رہتی۔ غصہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں انسان بلا سوچے سمجھے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ حالانکہ ایسا کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا ہے۔ اس قسم کے غصے میں تمام فقہاء کے نزدیک طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
۳) تیسرا غصہ وہ ہوتا ہے جو ان دونوں حالتوں کے درمیان ہوتا ہے۔ نہ بہت دھیما اور ہلکا ہوتا ہے اور نہ اتنا شدید کہ غصے سے انسان پاگل ہوجائے۔ اس قسم کے غصہ میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک واقع ہوجاتی ہے اور بعض کے نزدیک نہیں ہوتی۔
میری نظر میں راحج کا قول یہ ہے کہ ایسی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ درج ذیل دلائل کی بنا پر:
الف: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’اغلاق کی حالت میں نہ طلاق ہوتی ہے اور نہ غلام کی آزادی‘‘۔ (مسند احمد، ابو داؤد، حاکم)
شارحین نے اغلاق کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مراد ہے شدید غصہ یا زبردستی، یعنی اگر کسی نے غصہ کی حالت میں طلاق دی یا کسی کی زبردستی کی وجہ سے طلاق دی تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔
ب: اللہ کا فرمان ہے: ’’جو بے معنی قسمیں بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا‘‘۔ (البقرہ:225)
ج: حقیقت یہ ہے کہ غصہ کی حالت میں انسان صحیح فیصلہ کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یعنی قاضی غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ دے‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ طلاق بھی ایک قسم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بیوی کے سلسلے میں اس کیلئے جائز نہیں کہ وہ غصہ کی حالت میں طلاق دے۔ اگر دے دیتا ہے تو مناسب بات یہی ہوگی، اس طلاق کا اعتبار نہ ہو۔
د: نشے کی حالت میں طلاق نہ واقع ہونے کے سلسلے یں جو بھی دلیلیں میں نے پچھلے فتوے میں پیش کی تھیں، وہ ساری دلیلیں یہاں بھی پیش کی جاسکتی ہیں، بلکہ غصے کی حالت تو نشے کی حالت سے بدتر ہوتی ہے کیونکہ شرابی کبھی اپنے آپ کو قتل نہیں کرسکتا اور نہ اپنے بچے کو بلندی سے نیچے پھینک سکتا ہے، لیکن غصے کی حالت میں انسان ایسا کرسکتا ہے۔
آخر میں میں واضح کرتا چلوں کہ وہ کون سے غصہ ہے جس میں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
علامہ ابن القیمؒ اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کی رائے کے مطابق یہ وہ غصہ ہے جس میں انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور وہ بغیر کسی ارادے کے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ غصے کی حالت میں وہ کچھ ایسی حرکتیں کرتا ہے، جو نارمل حالت میں نہیں کرسکتا۔ اور اس کی علامت یہ بھی ہے کہ غصہ ختم ہوجانے کے بعد انسان کو اپنی ان حرکتوں پر شرمندگی اور ندامت ہو جو اس نے غصے کی حالت میں کی ہو۔ اگر غصہ ختم ہوجانے کے بعد طلاق کے فیصلہ پر نادم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر گز طلاق دینے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close