فقہ

مسائل روزہ

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
عوام کو چاہیے کہ رمضان المبارک بالخصوص روزہ اور تراویح کے مسائل جاننے کے لیے اپنے قریبی علماء کرام سے رابطہ رکھیں۔ بسا اوقات کسی بات کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ وہ بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اور کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ کسی بات کو معمولی سمجھتے ہوئے کر ڈالتے ہیں حالانکہ اس سے بہت بڑی نیکی ضائع ہو جاتی ہے اور گناہ گلے پڑ جاتا ہے۔ بالخصوص روزے کے مسائل میں غفلت برتی جاتی ہے اس لیے روزے کے احکام و مسائل کو مستقل طور پر لکھ دیا ہے تاکہ رمضان المبارک کی اہم عبادت ضائع ہونے سے بچ جائے۔
مسئلہ1: رمضان شریف کے روزے ہر مسلمان پر جو مجنون اور نابالغ نہ ہو فرض ہیں، جب تک کوئی عذر نہ ہو روزہ چھوڑنا درست نہیں اور اگر کوئی روزہ کی نذر مان لے تو روزہ فرض ہو جاتاہے اور قضا اور کفارے کے روزے بھی فرض ہیں اوراس کے سوا اور سب روزے نفل ہیں، رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کوئی گناہ نہیں البتہ عیدین کے دن اور بقر عید سے بعد تین دن روزہ رکھناحرام ہے۔
مسئلہ2: طلوعِ فجر سے لے کر سورج غروب ہونے تک روزے کی نیت سے کھانا اور پینا چھوڑ دیں اور خاوند و بیوی ہمبستر بھی نہ ہوں شریعت میں اس کو ’’روزہ‘‘ کہتے ہیں۔
مسئلہ3: زبان سے نیت کرنا اور کچھ کہنا ضروری نہیں ہے بلکہ جب دل میں یہ دھیان ہے کہ آج میرا روزہ ہے اورسارا دن کچھ کھایانہ پیا نہ ہمبسترہوا تو اس کا روزہ ہوگیا اور اگر کوئی زبان سے بھی کہہ دے کہ یا اللہ میں کل تیرا روزہ رکھوں گا ۔
مسئلہ4: اگر کسی نے دن بھر نہ تو کچھ کھایا نہ پیا صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہا لیکن دل میں روزہ کا ارادہ نہ تھا بلکہ بھوک نہیں لگی یا کسی اور وجہ سے کچھ کھانے پینے کی نوبت نہیں آئی تو اس کا روزہ نہیں ہوا۔ اگر دل میں روزہ کاارادہ کرلیتا تو روزہ ہوجاتا۔
مسئلہ5: شریعت میں روزہ صبح صادق کے وقت سے شروع ہوتاہے۔ اس لیے جب تک صبح صادق نہ ہو کھانا پینا وغیرہ سب کچھ جائز ہے۔بعض لوگ سحری کھاکر نیت کی دعا پڑھ کر لیٹے رہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اب نیت کرلینے کے بعد کچھ کھانا پینا نہیں چاہیے، یہ خیال غلط ہے جب تک صبح صادق نہ ہو کھاپی سکتے ہیں چاہے نیت کرچکے ہوں یا ابھی تک نہ کی ہو۔
مسئلہ6: رمضان شریف کے روزے میں بس اتنی نیت کرلینا کافی ہے کہ آج میرا روزہ ہے یا رات کو اتنا سوچ لے کہ کل میراروزہ ہے بس اتنی ہی نیت سے بھی رمضان کاروزہ اداہوجائے گا۔ اگر نیت میں خاص یہ بات نہ آئی ہوکہ رمضان کا روزہ ہے یا فرض روزہ ہے تب بھی روزہ ہوجائے گا۔
مسئلہ7: شعبان کی انتیسویں تاریخ کو اگر رمضان شریف کا چاند نکل آئے تو صبح کو روزہ رکھیں اور اگر نہ نکلے یا آسمان پر بادل ہوں اور چاند نہ دکھائی دے تو صبح کو جب تک یہ شبہ رہے کہ رمضان شروع ہوا یا نہیں ،روزہ نہ رکھیں۔بلکہ شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کریں۔
مسئلہ8: انتیسویں تاریخ کوبادل یا گرد کی وجہ سے رمضان شریف کا چاند نہیں دکھائی دیا تو صبح کو نفلی روزہ بھی نہ رکھیں ہاں اگر ایسا اتفاق ہوجائے کہ ہمیشہ پیراور جمعرات یا کسی اور مقرر دن کا روزہ رکھتا تھا اور کل وہی دن ہے تو نفل کی نیت سے صبح کو روزہ رکھ لینابہتر ہے پھر اگر کہیں سے چاند کی خبر آگئی تو اسی نفل روزے سے رمضان کا فرض ادا ہوگیا اب اس کی قضانہ رکھیں۔
جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا:
مسئلہ1: اگرروزہ دار بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے یا بھولے سے خاوند و بیوی ہمبستر ہوجائیں تو ان کا روزہ نہیں گیا۔اگر بھول کر پیٹ بھرکر بھی کھاپی لے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔اگر بھول کرکئی دفعہ کھاپی لیا تب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
مسئلہ2: ایک شخص کو بھول کر کچھ کھاتے پیتے دیکھاتواگروہ اس قدرطاقت ور ہے کہ روزہ سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تو روزہ یاددلادینا واجب ہے اور اگر کوئی طاقت نہ رکھتا ہوکہ روزہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اس کو یادنہ دلاوے ،کھانے دیوے۔
مسئلہ3: تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتاچاہے جتنا ہو۔
مسئلہ4: اگرپان کھا کر خوب کلی غرغرہ کرکے منہ صاف کرلیا لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی تواس کا کچھ حرج نہیں، روزہ ہوگیا۔
مسئلہ5: ناک کو اتنے زورسے سْٹَرک لیاکہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا اسی طرح منہ کی رال سْٹَرک کر نگل جانے سے روزہ نہیں جاتا۔
مسئلہ6 : خون تھوک سے کم ہو اور خون کامزہ حلق میں معلوم نہ ہوتوروزہ نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ7: اگر زبان سے کوئی چیز چکھ کر تھوک دی تو روزہ نہیں ٹوٹا لیکن خواہ مخواہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔ ہاں! اگر کسی کا شوہر بڑا بدمزاج ہو اور یہ ڈرہوکہ ا گر سالن میں نمک وغیرہ درست نہ ہوا تو غصہ ہوگا،اس کو نمک چکھ لینا درست ہے اور مکروہ نہیں۔
مسئلہ8: کسی چیز کو اپنے منہ سے چباکرچھوٹے بچے کو کھلانامکروہ ہے البتہ اگر اس کی ضرورت پڑے اورمجبوری وناچاری ہوجائے تو مکروہ نہیں۔
مسئلہ9 : مسواک سے دانت صاف کرنا درست ہے چاہے سوکھی مسواک ہو یا تازی، اسی وقت کی توڑی ہوئی اگر نیم کی مسواک ہے اور اس کا کڑوا پن منہ میں معلوم ہوتاہے تب بھی مکروہ نہیں۔
روزہ ٹوٹ جاتا ہے صرف قضاء لازم ہے /کفارہ نہیں:
مسئلہ1: کسی نے زبردستی روزہ دار کے منہ میں کوئی چیز ڈال دی اور وہ حلق میں اتر گئی (روزہ فاسد ہوگیا قضاء واجب ہوتی ہے)
مسئلہ2: روزہ یاد تھا اور کلی کرتے وقت بغیر ارادے کے پانی حلق میں اتر گیا۔
مسئلہ3: اپنے آپ ہی قے آگئی تو روزہ نہیں گیا چاہے تھوڑی سی قے ہوئی یا زیادہ۔ البتہ اگر اپنے اختیار سے قے کی اور منہ بھر کے تھی تو روزہ جاتارہا اور اگر اس سے تھوڑی ہو تو خود کرنے سے بھی نہیں گیا۔
مسئلہ4: تھوڑی سی قے آئی پھر آپ ہی آپ حلق میں لوٹ گئی تب بھی روزہ نہیں ٹوٹاالبتہ اگر قصداً لوٹالیاتو روزہ ٹوٹ جاتا۔
مسئلہ5: اگر کسی کو قے آگئی اور وہ یہ سمجھا کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس گمان پر پھر قصداً کھا لیا اور روزہ توڑدیاتوبھی قضاواجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ 6: دانتوں میں رہی ہوئی چیز کو زبان سے نکال کر نگل لیا جب کہ وہ چنے کے دانے کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اگر منہ سے نکال کر پھر نگل گیا تو چاہے چنے سے کم ہو یا زیادہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ 7: ناک میں ناس لینا۔
مسئلہ 8: دانتوں میں سے نکلا ہوا خون نگل گیا جب کہ خون تھوک سے زیادہ ہو۔
مسئلہ 9: بھول کر کچھ کھا پی لیا پھر یہ سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا پھر جان بوجھ کر کھا پی لیا۔
مسئلہ 10: یہ سمجھ کر کے ابھی صبح صادق نہیں ہوئی سحری کھالی، پھر معلوم ہوا کہ صبح صادق کے بعد کھایا پیا تھا یعنی صبح صادق ہوچکی تھی۔
مسئلہ 11: ابر یا غبار کی وجہ سے یہ سمجھاکہ آفتاب غروب ہوچکا ہے روزہ افطار کر لیا بعد میں معلوم ہوا کہ ابھی دن باقی تھا۔
مسئلہ 12: رمضان المبارک کے علاوہ اور دنوں میں کوئی روزہ جان بوجھ کر توڑ دیا۔
مسئلہ 13: عورت نے روزہ جان بوجھ کر توڑ دیا پھر اسی دن حیض آگیا یا بیمار ہوگئی یا بے ہوشی آگئی۔
مسئلہ 14: کسی عورت کو دیکھا اور سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا ہے اور کھا پی لیا۔
مسئلہ 15: عورت کا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا، چمٹ گیا، انزال ہوگیا تو روزے کی قضا واجب۔ حالت اکراہ میں روزہ توڑنے سے محض قضاء لازم کفارہ نہیں۔
مسئلہ 16: روزہ رکھنے کی صورت میں مرض کی شدت یا مدت مرض میں اضافے کا ظن غالب ہو توتوڑنا جائز ہے اور قضاء واجب ہے۔
مسئلہ17: حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا خود بخوددھواں چلا گیا یا گرد وغبار چلاگیا تو روزہ نہیں گیا البتہ اگر جان بوجھ کر ایسا کیا تو روزہ جاتارہا۔
مسئلہ18: لوبان (ایک قسم کی گوند جو آگ پر رکھنے سے خوشبو دیتا ہے )وغیرہ کوئی دھونی سلگائی پھر اس کو اپنے پاس رکھ کر سونگھا تو روزہ جاتارہا۔
مسئلہ19: کسی نے کنکری یا لوہے کا ٹکڑا وغیرہ کوئی ایسی چیز کھالی جس کو نہیں کھایاکرتے اور نہ اس کو کوئی بطور دواکے کھاتاہے تواس کا روزہ جاتارہا لیکن اس پرکفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ20: روزے کے توڑنے سے کفارہ جب ہی لازم آتاہے جب کہ رمضان شریف میں روزہ توڑ ڈالے رمضان شریف کے سوا اور کسی روزے کے توڑنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا چاہے جس طرح توڑے اگرچہ وہ روزہ رمضان کی قضا ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ اگر اس روزہ کی نیت رات سے نہ کی ہو یا روزہ توڑنے کے بعد اسی دن حیض آگیا ہو تواس کے توڑنے سے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ21: کوئلہ چباکردانت مانجھنا اورمنجن (ٹوتھ پیسٹ )سے دانت مانجھنامکروہ ہے اور اگراس میں سے کچھ حلق میں اترجائے توروزہ جاتارہے گا۔
مسئلہ22: کسی نے بھولے سے کچھ کھالیا اوریوں سمجھا کہ میراروزہ ٹوٹ گیا اس وجہ سے پھرجان بوجھ کر کچھ کھایاتواب روزہ جاتارہا فقط قضاواجب ہے، کفارہ واجب نہیں۔
جن صورتوں میں قضاء و کفارہ دونوں واجب ہیں:
مسئلہ1: ایسی چیز جو غذا یا دوا کے طور پر لذت کے لیے استعمال کی جاتی ہے جان بوجھ کر کھا پی لی تو اس صورت میں قضاء اور کفارہ دونوں واجب ہیں۔
مسئلہ 2: جان بوجھ کر روزہ کی حالت میں جماع( ہمبستری)کرلی۔
مسئلہ 3: سرمہ لگایا اور یہ سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا پھر جان بوجھ کر کھا پی لیا ۔
مسئلہ 4: مسواک کیا اور یہ سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا پھر جان بوجھ کر کھا پی لیا۔
مسئلہ 5: غیبت کی اور پھر سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا پھر جان بوجھ کر کھا پی لیا۔
مسئلہ6: اگر کوئی مرد کسی عورت کو جماع(ہمبستری) پر مجبور کرے اور پیش قدمی مرد کی جانب سے ہو تو مرد پر قضاء و کفارہ دونوں واجب ہیں اور عورت پر صرف قضاء لازم ہے، نیز ابتداء میں عورت راضی نہ
ہو اور بعد میں راضی ہوجائے اس وقت بھی عورت پر صرف قضاء ہوگی ،کفارہ نہیں۔
مسئلہ 7: عورت اگر کسی نابالغ بچے یا مجنون وپاگل سے صحبت کرائے تو عورت پر کفارہ لازم ہے۔
مسئلہ 8: عورت نے یہ جان کر کے آج مجھ کو حیض آئے گا روزہ توڑدیا پھر حیض نہیں آیا توقضاء اور کفارہ لازم ہے۔
مسئلہ9 : اگر ایسی چیز کھالی یا پی لی جس کو لوگ کھایاکرتے ہیں یاکوئی ایسی چیز ہے کہ یوں تونہیں کھاتے لیکن بطور دوا کے ضرورت کے وقت کھاتے ہیں تو بھی روزہ جاتارہااور قضا وکفارہ دونوں واجب ہیں۔
مسئلہ 10:روزے کی حالت میں حقہ پینے یا سگریٹ پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر یہ عمل جان بوجھ کر کیا ہو تو قضا و کفارہ دونوں لازم ہیں۔
نوٹ : قضاء کا مطلب یہ ہے کہ روزہ دوبارہ رکھے۔اور کفارے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے یا پھر لگاتار(بغیر ناغے کے) دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ ان دو ماہ کے دوران اگر درمیان میں کوئی روزہ چھوڑ دیا تو دوبارہ پھر سے شروع کرے، البتہ عورت حیض کے دنوں میں روزہ نہیں رکھے گی حیض ختم ہونے کے بعد پھر سے شروع کردے گی۔ اور حیض کی وجہ سے عورت کا تسلسل ختم نہیں ہوگا۔

مزید دکھائیں

محمد الیاس گھمن

مولانا محمد الیاس گھمن امیرعالمی اتحاد اہل السنت والجماعت ہیں۔

متعلقہ

Close