فقہ

منگنی کے بعد بھی لڑکا لڑکی اجنبی ہی رہتے ہیں

ندیم احمد انصاری

ارشادِ ربانی ہے : اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ۔ بے شک (معتبر) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ (آلِ عمران)دین اور مسائلِ دینیہ مسلمانوں کی خیر و بھلائی کے لیے نازل ہوئے ہیں۔ ان مسائل کا جاننا اور ان پر عمل کرنا فقط مولویوں یا ان کی شباہت رکھنے والوں کی ذمے داری نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ذمے داری ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ ہر موقع پر مسئلہ نہ جاننا عذر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مسائل سے عدم واقفیت اور اور ان پر عمل نہ کرنے کے سبب انسان کو دنیا میں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور آخرت میں تو ان کے لیے بد بختی مقدر ہی ہے۔ پھر بھی نہ جانے کیوں لوگ دین کے مسائل جاننے اور ان پر عمل برآمدکرنے کی فکر نہیں کرتے ! اگر کوئی جاننے والا ان کی رہنمائی کرنا بھی چاہے تو اول تو اس کی بات پر کان نہیں دھرا جاتا یا اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور صاف لفظوں میں کہہ دیا جاتا ہے کہ اپنا مسئلہ/فتویٰ اپنے پاس رکھ!یہ اکثر عوام کا حال ہے۔

دیگر مسائل کی طرح نکاح وغیرہ کا بھی یہی حال ہے۔ نکاح سے قبل لڑکے لڑکی کو ایک نظر دیکھ لینے کی شریعت نے اجازت دی ہے، اس کے علاوہ آپس میں کسی طرح کے معاملے کو شریعت نے درست قرار نہیں دیا۔ آج کل اس قبیل سے جو کچھ بھی نکاح سے قبل کیا جاتا ہے، شریعت کی رو سے وہ سب غیر درست ہے۔ بعض تو اپنی پسند کی شادی کے چکر میں سیکڑوں پر آنکھ سینکتے نظر آتے ہیں اور بعض روکا اور منگنی کے نام پر سب کچھ حلال سمجھنے لگے ہیں۔ افسوس تو اس پر ہے کہ بچے اور بچیاں نہیں، والدین نے بھی ان حرکتوں کو عیب سمجھنا چھوڑ دیا اور وہ خود جوان لڑکے لڑکیوں کو ملنے جلنے اور بات چیت کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پھر کوئی اونچ نیچ ہو جاتی ہے یا کسی سبب سے منگنی ٹوٹ جاتی ہے تو مرنے مارنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ نیز اس موقع پر اتنا تام جھام کیا جاتا ہے کہ اللہ کی پناہ! اس لیے خیال ہوا کہ آج اسی موضوع پر مختصر گفتگو کی جائے۔

رسول اللہﷺکے زمانے میں منگنی

عربی زبان میں منگنی کے لیے لفظ-خِطْبَۃ- استعمال ہوتا ہے، جو مخاطَبت اور خطاب سے مشتق ہے، اِس کے معنی ہوتے ہیں : بات چیت۔ اور خاص نکاح کی بات چیت کے لیے لفظ خِطْبۃَاستعمال ہوتا ہے۔ (المفردات)قواعد الفقہ میں التعریفات الفقہیہ کے تحت فرماتے ہیں : نکاح کے لیے عورت کی منگنی کرنے کو خِطبہ کہتے ہیں۔ حاصل یہ کہ ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق کے سامنے نکاح کی تجویز رکھے جانے کو منگنی کہا جاتا ہے۔ جب فریقِ ثانی اس تجویز کو منظور کر لیتا ہے تو منگنی کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ ازروئے شرع اس کی حیثیت ایک وعدے کی ہے، کسی عذرِ شرعی کے بغیر اسے توڑنا گناہ ہے۔ آں حضور ﷺ کے عہدِ مبارک میں جیسے نکاح میں سادگی تھی، ویسے ہی منگنی میں بھی سادگی تھی، اور تب منگنی حقیقی معنوں میں منگنی تھی۔ کسی نوع کا لین دین یا رسم ورواج کی پابندی نہیں تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحب زادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی بیوگی اور اختتامِ عدت کے بعد حضرت عثمان اور حضرت ابو بکر کے سامنے ان کے نکاح کی تجویز رکھی تھی، اس میں کسی رسم کی پابندی نہیں کی تھی۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے پیغام لے کر میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب آپ کے سامنے بیٹھا تو خاموش ہو گیا۔ بخدا آں حضرت ﷺ کے رعب و جلال کی وجہ سے کچھ بول نہ سکا۔ خود آپ ﷺ نے دریافت کیا: کیسے آئے ہو؟ کیا کوئی کام ہے ؟ میں خاموش رہا۔ تب آپ ﷺنے فرمایا: شاید تم فاطمہ کی منگنی کرنے کے لیے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ (البدایہ والنہایہ)جسے بہ اذنِ خداوندی قبول فرمالیا گیا۔ بس زبانی طور پر سب کچھ طے ہوگیا، نہ لوگ اکٹھا ہوئے اور نہ کوئی اہتمام ہوا۔ (معاشرتی مسائل)لہٰذا منگنی کے لیے سب کو جمع کرنا، بڑی تعداد میں مَردوں اور عورتوں کی حاضری، ان کی دعوت وغیرہ، شرعاً ضروری اور پسندیدہ نہیں، بلکہ خواتین کی موجودگی جن خرابیوں کو پیدا کرتی ہے وہ ظاہر و باہر ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔ (دیکھیے محمود الرسائل)

منگنی کے موقع پر انگوٹھی پہنانے کی رسم

قرآن وحدیث میں عورتوں کے لیے غیر محرموں سے پردہ کرنے کے احکام مفصلاً بیان فرمائے گئے ہیں، ان آیات و احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے غیر محرم سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی غیر محرم سے پردہ نہیں کرتا تو سخت گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور غیر محرم کو چھونا تو اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔ منگنی میں لڑکے کا از خود لڑکی کو انگوٹھی پہنانا درست نہیں ہے، کیوں کہ اجنبیہ کو- جو کہ غیر محرم ہے – چھونا لازم آرہا ہے اور یہ سخت گناہ ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق اجنبیہ عورت کو چھونا جائز نہیں۔ مخطوبہ بھی چوں کہ اجنبیہ ہی ہوتی ہے، لہٰذا اس کو بھی چھونا جائز نہیں۔ حدیثِ نبوی میں مخطوبہ کو دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے، اس لیے کہ اس میں ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے حضراتِ فقہاے کرام نے اس بات کی بھی اجازت دی ہے کہ شہوت کے باوجود آدمی مخطوبہ کو دیکھ سکتا ہے، کیوں کہ اس میں خلوت لازم نہیں آتی اور نہ اس میں شہوت پورا کرنا مقصود ہوتا ہے، بلکہ اقامتِ سنت مقصود ہوتی ہے۔ انگوٹھی پہنانے میں چوں کہ ایسی کوئی ضرورت نہیں، لہٰذا انگوٹھی پہنانا مطلقاً درست نہیں، چاہے شہوت کے ساتھ ہو یا بدونِ شہوت۔ بہر صورت حرام ہے۔ (نجم الفتاویٰ)

منگنی میں لین دین شرعاً ثابت نہیں

شریعت نے نکاح کے لیے تو مہر کو ضروری قرار دیا ہے لیکن منگنی کے لیے لین دین کو ضروری یا مستحب نہیں بتایا ہے، لہٰذا اس موقع پر کیا جانے والا لین دین شرعاً ثابت نہیں، اس سے بچنا چاہے ؛ بلکہ جو لین دین نام ونمود کی خاطر کیا جاتا ہے وہ ناجائز اور حرام ہے۔ اگر بہ وقتِ منگنی دی ہوئی اشیا منگنی ٹوٹنے کی صورت میں واپس کی جاتی ہیں، تو یہ دو شرطوں کے ساتھ درست ہے ؛ ایک یہ کہ وہ چیز جوں کی توں موجود ہو، ختم نہ ہوگئی ہو۔ دوسرے یہ کہ سامنے والے فریق نے انکار کیا ہو تو اس سے واپس لیا جائے، اگر سامنے والے نے انکار نہ کیا ہوتو اس سے کچھ واپس نہیں لیا جاسکتا۔ (فتوی محمودیہ)غرض یہ کہ اگر فریقین نے باہمی رضامندی سے منگنی توڑی ہو تو دونوں ایک دوسرے کی اشیا واپس کر دیں، اور اگر انکار ایک ہی فریق کی جانب سے ہو تو انکار کرنے والے کے پاس سے اشیا واپس لی جائیں، دوسرے فریق سے نہیں۔ (دیکھیے محمود الرسائل)

کیا منگنی توڑی جا سکتی ہے ؟

جیسا کہ ذکر کیا گیا، شرعاً منگنی کی حیثیت ایک وعدے کی ہے جس کا پورا کرنا واجب ہے اور بغیر کسی عذر کے اس کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ لہٰذا اگر کسی لڑکے کی منگنی اس کے بالغ ہونے سے پہلے ہی کر دی گئی ہو تو اب بالغ ہونے کے بعد وہ مختار ہے کہ اگر اس منگیتر سے نکاح کرنے میں اسے کوئی خرابی محسوس ہوتی ہو تو انکار کردے، لیکن اگر اس میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی تو اس کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا اور اس کے ساتھ نکاح کرلینا چاہیے۔ (دیکھیے فتاویٰ عثمانی)

والدین کے کہنے پر منگنی توڑنا

 منگنی نکاح کا وعدہ ہے اور جب تک کوئی معقول عذر پیش نہ آئے، اس وعدے کو پورا کرنا دیانتاً ضروری ہے، البتہ اگر کوئی معقول عذر پیش آجائے تو منگنی توڑی بھی جاسکتی ہے۔ اب اگر کسی کے والدین کسی معقول عذر کی بنا پر منگنی ختم کرنا چاہتے ہیں تو اولاد اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرے، اگر والدین کی بات معقول معلوم ہو اور کوئی عذر سامنے آجائے تو ان کے کہنے پر عمل کرتے ہوئے منگنی ختم کرسکتے ہیں، لیکن اگر والدین کسی معقول عذر کے بغیر منگنی ختم کرنے پر اصرار کررہے ہیں تو اولاد کے لیے ا س معاملے میں ان کی اطاعت واجب نہیں ہے۔ ان کو حتی الامکان راضی کرنے کی کوشش کرے اور نکاح کرلے، لیکن فیصلہ کرنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ عموماً والدین اپنی اولاد کی بھلائی ہی کی بات سوچتے ہیں، لہٰذا ان کی بات کو سرسری طور پر نظر انداز نہ کرنا چاہیے۔ (ایضاً)

منگنی کے بعد لڑکا اور لڑکی کا سلوک

شریعتِ مطہرہ میں اجنبیہ عورت کو دیکھنا اور اس کے ساتھ بات چیت کرنا حرام ہے اور منگنی ہوجانے کے باوجود لڑکی اجنبیہ عورت کے حکم میں ہوتی ہے۔ لہٰذا آپس میں ملاقات اور فون وغیرہ پر بات چیت کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ البتہ اگر کسی عورت کا نکاح ہوجائے اور رخصتی نہ ہوئی ہو تو اس عورت سے ملاقات اور فون وغیرہ پر بات چیت کرنا جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ملاقات اور بات چیت رخصتی کے بعد ہی کی جائے۔ (نجم الفتاویٰ)جیسا کہ مذکور ہوا -منگنی و عدۂ نکاح ہے، نکاح نہیں۔ جیسے قبل از نکاح دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں، منگنی کے بعد بھی یہی حکم باقی رہتا ہے۔ لہٰذا منگنی کے بعد بھی لڑکا لڑکی کے لیے اور لڑکی لڑکے کے لیے حرام ہی ہے۔ دونوں کا باہم خط و کتابت کرنا، فون پر بات چیت کرنا، ساتھ میں گھومنے جانا اور خلوت میں ملنا، یہ تمام باتیں حرام اور ناجائز ہیں۔

مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close