فقہ

میت کی طرف سے عمرہ کرنے کا حکم

مقبول احمد سلفی

آج زمانے کی ترقی، وسائل کی فراوانی، دولت کی کثرت اور اسفار کی سہولت فراہم ہونے سے حج وعمر ہ جیسی عظیم الشان عبادات کی ادائیگی میں کافی آسانی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ اللہ کے عظیم فضل واحسان میں سے ہے۔ اس فضل سے بہت سےمالی فقیر ومسکین بھی اجر وثواب میں غنی ہوگئے، بہت سے عاصی کعبۃ اللہ کی زیارت سے فیضیات ہوکر دھنی ہوگئے، بہت سی ترسنے والی آنکھوں نے قریب سے روئے زمین پہ رب الجلال کے پہلے گھر کا دیدار کرلیا۔ آج اللہ کے فضل کی وجہ سے حرمین شریفین کی زیارت کرنے والوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے، یہ فضیلت مالداروں کے علاوہ کم پیسے والوں کو بھی اکثر میسر ہوجارہی ہے۔ اس فضل ربانی پر جس قدر حمد وثنا بیان کی جائے کم ہے۔

آج کل بڑی تعداد میں دنیا کے کونے کونےسے لوگ عمرہ کی ادائیگی کے لئے آتے ہیں، اپنی جانب سے عمرہ ادا کرنے کے بعد اکثر کے دل میں میت کی جانب سے خصوصا فوت شدہ والدین کی طرف سے عمرہ بدل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ  اپنے ملک سے ہی وفات یافتہ والدین کی طرف سے عمرہ کرنے آتے  ہیں۔ بسااوقات کچھ علماء میت کی طرف عمرہ کرنے سے منع کرتے ہیں ایسے میں عام لوگوں کے دل میں تردد پیدا ہوتا ہے اور صحیح بات جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ میت کی جانب سے عمرہ کیا جاسکتا ہے کہ نہیں ؟

میں نےدلائل کا بنظرغایر مطالعہ کیا تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ جس طرح میت کی جانب سے حج کرسکتے ہیں اسی طرح میت کی جانب سے فقط عمرہ بھی کرسکتے ہیں۔ آئیے اس سلسلے میں چند دلائل پہ غور کرتے ہیں اور میت کی جانب سے عمرہ کرنے کے جواز کا علم حاصل کرتے ہیں۔

سب سے پہلے وہ حدیث پیش کرتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زندہ شخص دوسرے زندہ عاجز شخص کی جانب سے جس طرح حج کرسکتا ہے اسی طرح عمرہ بھی کرسکتا ہے۔

عن أبي رزينٍ رجلٌ من بني عامرٍ أنَّهُ قالَ: يا رسولَ اللَّهِ إنَّ أبي شيخٌ كبيرٌ لاَ يستطيعُ الحجَّ ولاَ العمرةَ ولاَ الظَّعن. قالَ: احجج عن أبيكَ واعتمر.(صحيح أبي داود:1810)

ترجمہ : حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا : اے اللہ کے رسول میرے باپ بہت بوڑھے ہیں، حج و عمرہ نہیں کرسکتے اور نہ ہی سواری پر بیٹھ سکتے ہیں ؟ { تو کیا میں ان کی طرف سے حج و عمرہ کروں ؟ } آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرو۔

اس میں کوئی شک اور اختلاف نہیں ہے کہ عمرہ بھی حج ہی کی طرح ہے، جس طرح ایک شخص اپنی جانب سے فریضہ حج ادا کرنے کے بعد بھی نفلی حج باربار کرسکتا ہے اسی طرح عمرہ بھی باربار کرسکتا ہے۔ اس کی دلیل ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

العمرةُ إلى العمرةِ كفَّارَةٌ لمَا بينَهمَا، والحجُّ المبرورُ ليسَ لهُ جزاءٌ إلا الجنَّةُ .(صحيح البخاري:1773)

ترجمہ: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

ان دونوں احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایک زندہ شخص اپنے لئےصرف حج یا صرف  عمرہ کرسکتا ہے اسی طرح کسی غیر کی طرف سے بھی صرف حج یا صرف عمرہ  بھی کرسکتا ہے۔ جن لوگوں نے یہ کہا کہ عمرہ کو حج پہ قیاس کرنا صحیح نہیں ہے ان کا کہنا درست نہیں ہے، یہاں قیاس ہی نہیں واضح طور پر نص سے یہ معنی ومفہوم نکلتا ہے۔ آگے بھی اس بات کا ذکر آئے گا۔

اب وہ دلیل دیکھیں جس میں میت کی جانب سے حج کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

أنَّ امرأةً من جُهينةَ، جاءت إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقالت : إن أمي نذرت أن تحجَّ، فلم تحج حتى ماتت، أفأحجُّ عنها ؟ قال : نعم، حجي عنها، أرأيتِ لو كان على أمكِ دينٌ أكنتِ قاضيتِة ؟ . اقضوا اللهَ، فاللهُ أحقُّ بالوفاءِ .(صحيح البخاري:1852)

ترجمہ: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر اسے حج کیے بغیر موت آگئی ہے۔ آیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟آپ نے فرمایا::ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔ مجھے بتاؤ اگر تمھاری ماں کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟اللہ کا حق بھی ادا کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ لائق ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔

یہ حج نذر ہے اور نذر کا مطلب یہ ہے کہ جس نےکوئی نذر مانی اسے پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اگر پورا کئے بغیر مرجائے تو اس کے اولیاء میت کی طرف سے نذر پوری کریں گے۔ ایک دوسری حدیث میں ماں کے بجائے بہن کا ذکر ہے۔ إن اختي قد نذرت ان تحج وإنها ماتت(صحيح البخاري:6699)

ترجمہ: میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے؟

ایک تیسری حدیث میں نذر کے بغیر ایک عورت کا واقعہ اس طرح مذکور ہے کہ میری ماں جو وفات پاگئی ہے انہوں نے کبھی حج نہیں کیا۔

إنها لم تحجَّ قط . أفأحجُّ عنها ؟ قال ” حُجِّي عنها (صحيح مسلم:1149)

ترجمہ:انہوں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا:ہاں، ان کی طرف سے حج کر لے۔

بظاہر یہ الگ الگ واقعات ہیں، ان سے ایک بات تو بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جس نے کبھی حج نہ کیا ہو اس کی وفات ہوجائے تو اس کی جانب سے حج یا عمرہ کیا جاسکتا ہے۔

اس حدیث کے علاوہ ایک عمومی حدیث ملتی ہے جس میں ایک صحابی میت کی طرف سے حج کرتےہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

أنَّ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم سمعَ رجلاً يقولُ: لبَّيْكَ عن شبرمة. قالَ: من شبرمةَ؟ قالَ: أخٌ لي أو قريبٌ لي. قالَ: حججتَ عن نفسِكَ؟ قالَ: لا. قالَ: حجَّ عن نفسِكَ ثمَّ حجَّ عن شبرمةَ.(صحيح أبي داود:1811)

ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا:«لبيك عن شبرمة» حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: شبرمہ کون ہے؟، اس نے کہا: میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اپنا حج کر لیا ہے؟، اس نے جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اپنا حج کرو پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا۔

سنن ابن ماجہ میں اس حدیث پہ باب قائم ہے "بَابُ :الْحَجِّ عَنِ الْمَيِّتِ”(باب: میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان)

اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حج بدل کرنے والے سے یہ پوچھا کہ شبرمہ کون ہے ؟ اور پوچھا کہ اپنا حج کیا کہ نہیں ؟ اور کوئی سوال نہیں کیا کہ حج فریضہ تھا کہ نہیں ؟

اس حدیث سے اور اوپر والی احادیث سے صاف صاف ظاہر ہے کہ جس نے زندگی میں حج یا عمرہ نہ کیااس کی جانب سے حج یا عمرہ انجام دیا جاسکتا ہے۔ عمرہ بھی حج کی طرح ہے جیساکہ اوپر حدیث بھی گزری ہے۔ محض عمرہ کرنا، محض حج(افراد) کرنا یا حج وعمرہ (قران وتمتع) کرنا ساری صورتیں جائز ہیں۔ اس وجہ سے جیسے ایک زندہ شخص اپنی جانب سے یہ ساری صورتیں انجام دے سکتا ہے میت کی طرف سے بھی انجام دے سکتا ہے یعنی کوئی چاہے تو میت کی طرف سے محض عمرہ کرسکتا ہے، کوئی چاہئے تو میت کی طرف سے محض حج ادا کرسکتا ہے اور کوئی چاہے تو میت کی طرف سے حج وعمرہ دونوں ادا کرسکتا ہے۔

اہل علم کا ماننا ہے کہ جس کے اوپر حج یا عمرہ فرض نہیں ہے اگر اسے کوئی پیسہ دے کر حج کرائے تو حج وعمرہ صحیح ہے حتی کہ ایک مسکین و فقیر کو بھی پیسہ دے کر حج کرایا جاسکتا ہے۔ جب زندہ غریب شخص کو پیسہ دے کر حج وعمرہ کرایا جائے تو حج  وعمرہ ہوجائے گا  تو  میت اس سے بھی زیادہ نیکیوں کا محتاج ہے کیونکہ اس کے عملوں کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے،اس وجہ سےمیت کی جانب سے حج یا عمرہ نفلی طور پر بھی ادا کیا جاسکتا ہے یعنی کسی کے اوپر حج یا عمرہ فرض نہیں تھا اس کا انتقال ہوگیا ہے تو اس کی جانب سے اولیاء حج وعمرہ کر سکتے ہیں۔

ایک اہم بات کی طرف مزید اشارہ کردینا مناسب سمجھتا ہوں کہ حج وعمرہ خالص بدنی عبادت نہیں ہے بلکہ بدنی کے ساتھ مالی بھی ہے اور میت کی طرف سے مالی صدقہ کرنے میں اہل علم کے یہاں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان ساری باتوں کاخلاصہ یہ ہوا کہ میت کی طرف سے حج کی طرح عمرہ بھی کرسکتے ہیں۔

عمرہ بدل کرنےکی نیت اور اس کا طریقہ :

میت کی طرف سے عمرہ کاوہی طریقہ ہے جو زندوں کے لئے ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے البتہ نیت کرتے وقت نام لینا چاہئے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ عمرہ کا احرام باندھتے وقت میقات پہ کہے۔ لبیک عمرۃعن فلاں۔۔ فلاں کی جگہ میت کا نام لے لیں۔ دل میں پہلے سے نام ہو اور عمرہ کی نیت کرتے وقت نام لینا بھول گئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ نیت کرنے کے بعد اسی طرح عمرہ کرنا ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ سے عمرہ کا طریقہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔

عمرہ بدل کے چند احکام ومسائل :

٭ عمرہ بدل کی شرط یہ ہے کہ عمرہ کرنے والا پہلے اپنا عمرہ کرچکا ہو تب ہی میت کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے۔

٭ میت نے عمرہ کی نذر مانی تھی یا وصیت کی تھی تو اس کے وارثین پر واجب کہ ترکہ سے عمرہ کرے لیکن اگر مال نہیں چھوڑا تواس صورت میں واجب نہیں ہے تاہم وارث کے لئے اپنے مال سے عمرہ بدل کرنے کا استحباب باقی رہتا ہے۔

٭میت نے عمرہ کی وصیت نہ بھی کی ہو تب بھی اس کی جانب سے عمرہ کرنا مشروع ہے یعنی عمومی طور پر میت کی طرف سے عمرہ کرسکتے ہیں اوراس کا ثواب میت کو پہنچے گا۔

٭ بعض لوگ جہالت کی وجہ سے ایک ساتھ ماں اور باپ دونوں کی جانب سے عمرہ کی نیت کرلیتے ہیں جبکہ ایک بار میں ایک نیت سے یا تو باپ کی طرف سے عمرہ کرسکتے ہیں یا ماں کی طرف سے۔

٭ مرد عورت کی طرف سے اور عورت مرد کی طرف سے عمرہ بدل کرسکتے ہیں۔

٭لوگوں میں جو یہ خیال مشہور ہے کہ میت کی طرف سے عمرہ ہوتا ہے اور زندہ کی طرف سے طواف ہوتا ہے غلط ہے۔ میت کی طرف سے عمرہ والی بات صحیح ہے مگر زندوں کی طرف سے طواف والی بات غلط ہے۔ زندہ بدنی طوپرعاجز شخص (جس کی شفایابی کی امید نہ ہو)کی طرف سے عمرہ کرسکتے ہیں مگر تندرست شخص کی طرف سے نہ طواف کرسکتے ہیں اور نہ ہی عمرہ۔

٭ والدین کے علاوہ دوسرے وفات پافتہ رشتہ دار کی طرف سے بھی عمرہ کرسکتے ہیں اور ایک میت کی طرف سے ایک بار عمرہ کافی ہے، زندہ خود نیکیوں کا محتاج ہے اس لئے اپنی جانب سے باربار عمرہ کرے۔

٭ سعودی عرب میں رہنے والوں کے لئے آسانی ہے وہ ایک سفر میں ایک ہی عمرہ پہ اکتفا کریں، یہی سنت ہے اور جو باہری ممالک سے عمرہ پہ آتے ہیں ان (آفاقی)کے حق میں بھی ایک سفر میں ایک ہی عمرہ مسنون ہے تاہم زندگی میں دوبارہ آنے کی امید نہ ہو اور وہ اپنا عمرہ کرنے کے بعد  اپنے وفات یافتہ والدین کی جانب سے عمرہ بدل کرنا چاہتے ہوں تو ایسی صورت میں بعض علماء نے جواز کا فتوی دیا ہے۔ عمرہ بدل کرنے کے لئے حدود حرم سے باہر جاکر کسی جگہ (مسجدہ عائشہ وغیرہ) سے احرام باندھ کر عمرہ کرسکتے ہیں۔

٭جس طرح عمرہ بدل کا اجر میت کو ملتا ہے اسی طرح عمرہ کرنے والے کو بھی ملے گا۔

٭ بہتر تو یہی ہے کہ میت کی جانب سے کوئی قریبی آدمی عمرہ کرے تاہم دوسرے کسی امین وصالح آدمی کو بھی اجرت دے کر عمرہ بدل کراسکتے ہیں، بعض لوگ محض مال کمانے کی غرض سے حج بدل یا عمرہ بدل تلاش کرتے ہیں جو کہ جائز نہیں ہے۔

٭ قرض کی ادائیگی کرنا آسان ہو تو قرض لیکر بھی میت کی جانب سے عمرہ بدل کرسکتے ہیں اور آسانی سے قرض نہیں چکاسکتے ہیں تو قرض لیکر خود کومشقت میں نہ ڈالیں۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close