فقہ

پے ٹی ایم کیش بیک: شرعی نقطہ نظر

مقبول احمد سلفی

انٹرنیٹ کے زمانے میں اکثر تجارت اسی سے جڑ گئی ہیں، لین دین کا انحصارتو اب سوفیصداس پرہوگیا ہے اور خریدوفروخت کے میدان میں انٹرنیٹ نے کافی سہولیات فراہم کردی ہے۔ گھر بیٹھے مرضی کا سامان دستیاب ہوجاتا ہے اور آمدورفت کی مشکلات واخراجات بچنے لگے۔

انٹرنیٹ سے جڑے موبائل کا ایک اپلیکیشن پے ٹی ایم (Paytm) اس وقت بڑی مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔ پے ٹی ایم نہ کوئی بنک ہے، نہ تجارتی کمپنی ہے اور نہ ہی مالیاتی ادارہ ہے، یہ محض ایک اپلیکیشن ہے۔ اس کے بنانے والے نے اس ایپ کو مختلف بنکوں، تجارتی اداروں، آن لائن خریدوفروخت اورلینڈلائن، موبائل، ریجارچ، بجلی، ٹکٹ(ٹرین، بس، جہاز)، ٹی وی، سنیما، فیشن، ہوٹل، گیس، دوا، علاج، انٹرٹینمنٹ، گیم، بیمہ، چیریٹی آفس وغیرہ سے مربوط کرکے ان کاموں کو اس ایک ایپ سے کرنا آسان کردیا ہے۔ حقیقت میں اس ایپ سے ہزاروں قسم کے مالیاتی، تجارتی اور معاملاتی ادارے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، ان میں کتنے غیرشرعی ادارے اور غیرشرعی عوامل موجود ہیں۔

یہاں سوال یہ ہے کہ پے ٹی ایم اپنے ایپ سے ٹرانجیکشن کرنے پر کیش بیک یعنی کچھ پیسہ واپس دیتا ہے۔ اس پیسے کا حاصل کرنا یا لیکر استعمال کرنا شرعا کیسا ہے ؟

ہوتا اس طرح ہے کہ کسی  نے اس ایپ کے ذریعہ  کوئی موبائل پچاس روپئے کا ریچارج کیا، یہ ریچارچ موبائل کمپنی سے ہوا، موبائل کمپنی سے لین دین پچاس روہئے کا ہوا۔ یہاں پر پے ٹی ایم کی جانب سے تیس روپئے کا کیش بیک ملتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب پے ٹی ایم موبائل کمپنی نہیں ہے تو کیش بیک کیوں اور کہاں سے دیتا ہے ؟

جب اس سوال کی حقیقت جانتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح گوگل کمپنی بلاگ، ویب سائٹ اور یوٹیوب پہ کمپنیوں کی تشہیر کرکے اس کا کچھ منافع ان سماجی روابط کے استعمال کنندہ کوبھی دیتا ہے اسی طرح کا معاملہ پے ٹی ایم ایپ میں بھی ہے۔

میں نے اس سے پہلے یوٹیوب پہ ویڈیو اپ لوڈ کرکے اس سے پیسے کمانے کے متعلق نوجوانوں کو آگاہ کیا تھا آج پے ٹی ایم کے متعلق عرض کرنا چاہتاہوں کہ اگر اس ایپ کے محض استعمال سےیعنی اس کے ذریعہ موبائل ریچارج یا کسی قسم کے بل کی ادائیگی پہ کیش بیک ملتا ہے تو اس کے لینے میں رکاوٹ نہیں ہوتی مگر میرے سامنے اس ایپ میں کئی رکاوٹیں ہیں۔

(1) یہ ایپ بیمہ، فلم، انٹرٹینمنٹ اور فیشن وغیرہ کی بھی تشہیر کرتا ہےاوربہت ساری آئن لائن تجارتی اشیاء کی برہنہ تصاویر کے ساتھ اشتہار موجود ہے۔

(2) ٹرانجیکشن پہ کیش بیک اشتہار پہ تعاون کے عوض ہے اور اوپر ہم نے جانا کہ اشتہار بازی میں کئی ساری شرعی خامیا ں ہیں۔

(3) اس ایپ میں کئی قسم کی آئن لائن تجارت بھی ہے جس کے متعلق دجل وفریب کا بھی امکان ہےنیز آن لائن خریدوفروخت میں سامان پہ قبضہ کئے بغیر اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنا عام ہے جوشرعا ناجائز ہےاور اگراس تجارت میں حرام چیزوں کی تجارت بھی ہو تو اس حرام چیزکی تشہیر میں معاون بننا بھی حرام ہے۔

(4) اس ایپ کو شیئر کرنے پر اس کا کوئی ساتھی موبائل ریچارج کرتا ہے یا بل جمع کرتا ہے تو شیئر کرنے والےسے پچاس روپئے ملنے کا وعدہ ہے۔ جس نے یہ ایپ شیئر کیا ہے اس کی وجہ سے کوئی اس ایپ سے فلم کا ٹکٹ خریدتا ہے یا بیمہ کرواتا یا اس کا پریمیم جمع کرواتا ہے تو اس گناہ کا ذمہ دار شیئرکرنے والا بھی ہوگا۔ اسی طرح آن لائن تجارت میں کوئی کمپنی فراڈی ہویا قبضہ کرنے سے پہلے سامان بیچنے والی ہوتو انوائٹ کرنے والا بھی گنہگار ہوگا۔ ایپ شیئر کرنے سے عریاں تصاویر کا گناہ بھی اس پہ آئے گا۔

(5) چونکہ اس ایپ میں سیکڑوں پروگرام موجود ہیں جن میں سے چند کا میں نے ذکر کرہی دیا کہ یہ غیرشرعی ہیں مزید اور کتنے غیرشرعی کام اس میں موجود ہیں کون مسلمان اس کی تصدیق کرے گا ؟ جب معاملہ مشکوک ہے تو چند پیسوں کے لئے کیوں اپنا ایمان ضائع کریں ؟

(6) خود ريچارج کرنے پر تیس روپئےجبکہ انوائٹ کرنے پہ پچاس روپئے کیش بیک کے طور پر ملتے ہیں اور ایپ والے نے ہر نئے دوست کے ٹرانجیکشن پہ پچاس روپئے کہہ کر روزانہ ایک ہزار روپئے کمانے کا لالچ دیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے ہزار روپئے کی فکر میں جس جس کو بھی یہ ایپ بھیجا جائے گا اس ایپ کے اندر موجود غیرشرعی امور کا گناہ بھیجنے والے کے سر بھی جائے گا۔

(7) نٹورک مارکٹنگ کی طرح اس میں بھی بڑا بڑا لالچ دیا گیا ہے، اوپر ایک لالچ گزرا کہ روزانہ ایک ہزار کمائیں، دوسرا لالچ یہ ہے کہ ہر گھنٹہ دو سو آدمی سوفیصد کیش بیک پاتا ہے اور تیسرا سب سے بڑا لالچ لکھ پتی بننے کا ہے، وہ یہ ہے کہ ہر ہفتہ ریچارج یا بل کی ادائیگی پر ایک لاکھ کا لکی ڈرا سے نکالا گیا کیش بیک پانے کا موقع ملے گا۔ تیسرا لالچ اس ایپ کا سب سے بڑا جھانسہ ہے۔

(8) اس ایپ میں بڑی تعداد میں آن لائن شاپنگ کی اشیاء نظر آتی ہیں، ان پہ کئی کئی ہزار کا کیش بیک لکھا ہوا ہے مجھے لگتا ہےکہ سامان پہ بڑی قیمت کا کیش بیک بس دکھاوا ہے، اصل قیمت میں اضافہ کرکےاس کا نام کیش بیک رکھ دیا گیاہے۔

ان چند باتوں کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ اس ایپ سے پیسہ کمانا شرعی نقطہ نظر سے جائز نہیں معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس ایپ میں دھوکہ کا امکان بھی ہے، غیرشرعی تجارت بھی ہے اور حرام کام پہ تعاون بھی ہے۔ اگر صرف ریچارج یا بل کی ادائیگی پہ کیش بیک ہوتا اور کسی قسم کی غیرشرعی چیز کی تشہیر نہ ہوتی تو پھر جواز کی گنجائش تھی مگر ریچارج یا بل کی ادائیگی پہ کیش بیک اصل میں اس ایپ میں موجود مختلف تجارتی اداروں کی تشہیر اور ان سے معاملات کے عوض ہے جن میں غیرشرعی امور بھی پائے گئے ہیں۔

اس ایپ کی مقبولیت کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کے ذریعہ کمائی کررہے ہیں مجھے ان کے پیسوں سے حسد نہیں ہے تاہم ان کی کمائی کے غلط رخ سے ضرور تکلیف ہےاس بناپر یہ تحریر قلم بند کرنے پر مجبور ہوا ہوں۔ ایسے تمام مسلم بھائیوں کی خدمت میں عاصی بصداحترام یہ پیغام پیش کرتا ہے کہ لین دین کا جو بھی معاملہ کریں ادارے کی اصل آفس سے یا ان کی ذاتی ویب سائٹ سے کریں مثلا موبائل ریچارج کرنا ہو قدم قدم پہ دوکان موجود ہے وہاں سے ریچارج کریں، بجلی بل ادا کرنا ہے اس کی آفس جائیں یا اس کی ذاتی ویب سے پیمنٹ کریں، اسی طرح بنک کا کوئی کام کرنا ہے، اسی بنک سے کام کریں۔ آن لائن کوئی سامان خریدنا ہو تو براہ راست کمپنی کی ویب سائٹ استعمال کریں اور پہلےاس کےمتعلق اطمینان کرلیں پھر خریداری کریں۔

میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ معاملات اپنی جگہ اور کمائی اپنی جگہ۔ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ معاملات کو معاملات ہی رہنے دیں اور ڈھنگ سے معاملات کریں جو محفوظ ترین طریقہ ہو اور کمائی کو ایک الگ ذریعہ رہنے دیں اور حلال طریقے سے محنت ومشقت کے ساتھ روزی کمائیں۔ حلال طریقے سے کمائی گئی  کم روزی میں بھی اللہ  برکت دے گا اور بغیر محنت کی حرام روزی میں  کبھی برکت نہیں ہوتی۔

اللہ تعالی ہمیں حلال طریقے سے روزی کمانے کی توفیق دے اور اپنے فضل سے ہمیں خوشحال بنادے۔ آمین

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close