فقہ

کینڈل مارچ: احتجاج یا تعزیت؟

مفتی شکیل منصور القاسمی

اسلام سراپا امن وآشتی کا مذہب ہے، دنیا میں  اسلام ہی نے سب سے پہلےحقوق انسانی کی بنیاد رکھی،حقوق انسانی کا اسلامی منشور انسان کے احترام، وقار اور مساوات پر مبنی ہے،اس نے تمام قسم کے امتیازات، ذات پات، نسل، رنگ، جنس، زبان، حسب و نسب اور مال و دولت پر مبنی تعصبات کو جڑ سے اکھاڑ کر تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ بحیثیت انسان تمام انسانوں :امیر، غریب، سفید، سیاہ، مشرقی، مغربی، مرد، عورت، عربی، عجمی، گورا، کالا، شریف اور وضیع کو یہ چھ 6 بنیادی حقوق فراہم کیے ہیں:

(1) جان کا تحفظ-

(2) عزت وآبرو کا تحفظ-

(3) مال کا تحفظ-

(4) اولاد کا تحفظ-

(5) روزگار کا تحفظ-

(6) عقیدہ ومذہب کا تحفظ-

یہ منشور پر امن معاشرتی زندگی کا ضامن ہے یعنی ان  بنیادی چھ حقوق کے ذریعہ انسان معاشرہ میں ہر طرح پرامن زندگی گزار سکتا ہے۔

انسانیت کو فراہم کردہ ان بنیادی حقوق پہ ظلم و تعدی کو اسلام قطعی برداشت نہیں کرتا

ظلم و زیادتی دیکھنے کا مشاہدہ کرنے والے کو نمبر وار ہدایت کی گئی ہے کہ

طاقت ہو تو دست وبازو سے روکے، نہیں تو زبان سے ظلم وجبر پہ آواز بلند کرے، یہ بھی نہ ہو تو دل سے اسے برا سمجھے، لیکن کسی طور ظالم کا ممد ومعاون نہ بنے !

ہر جمہوری ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی رعایا کی جان، مال، عزت وآبرو اور بنیادی حقوق کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ اگر ارباب اقتدار اور حکمراں رعایا کے کسی خاص طبقے کے ساتھ جانبداری کا مظاہرہ کرے، اسکے حقوق کی پاسداری نہ کرے یا دستور وآئین میں دیئے گئے اس کے حقوق یا مذہبی آزادی کو دبانے کی کوشش کی جائے تو اب اس طبقہ کی ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے بنیادی ومذہبی حقوق کی حصولیابی کے لئے اس ظالم حکمرانوں کے خلاف آٹھ کھڑے ہوں، آئینی ودستوری حقوق کے لئے طاقت بھر کوشش کرے۔ آئینی جد وجہد کے ساتھ پر امن عملی جد وجہد بھی جاری رکھے۔ ریاست کے ظلم وناانصافی کے سامنے خاموش ہوجانا اس کی زیادتی اور تعدی کو فروغ دینے کے مرادف ہے۔

ایسے موقع سے کی جانے والی کوشش کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ” افضل الجھاد ” کہکر تحسین فرمائی ہے۔

أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ(سنن النساي 4209)

مظلوم اور معاشرہ میں دبے اور پسے ہوئے طبقہ کے حقوق کی فراہمی اور بازیابی کی کوشش میں اسلام سے پہلے بھی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت فرمائی ہے اور اسلام کے بعد  خلفاء کے ادوار میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

سنہ 590 عیسوی ماہ ذی قعدہ میں عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر مکہ مکرمہ میں قریش کے معزز سرداروں کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیس سال کی عمر میں ایک معاہدے میں شرکت فرمائی تھی۔ جو "حلف الفضول” کے نام سے مشہور ہوا۔

یمن کے ایک تاجر (قبیلہ زبید کے) شخص پہ مکہ کے قد آور شخص عاص بن وائل نے ظلم کیا تھا۔ سامان لیکر قیمت ہضم کرگیا تھا۔ اس مظلوم کی مدد اور دکھی انسانیت کے ساتھ ہمدردی کی متحدہ آواز کے طور پر ایک کمیٹی قائم ہوئی۔

زمانہ جاہلیت میں بھی اس طرح کی کمیٹی قائم تھی جس کے روح رواں اور بانی مبانی "فضل ” نامی تین اشخاص تھے۔

جب آپ کے زمانے میں اس کمیٹی کا احیاء ہوا تو اسے اسی نام کے ساتھ موسوم "حلف الفضول ” کردیا گیا

یہ معاہدہ در اصل مقتدر طبقہ کے ظلم وتعدی کے خلاف ایک اجتماعی آواز (احتجاج ) ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ایک عملی شکل تھی۔ آپ علیہ السلام کا فرمان ہے :

«لقد شهدت في دار عبدالله بن جدعان حلفًا ما أُحب أن لي به حمر النعم، ولو أُدعي به في الإسلام لأجبت»

   (لقد شَهِدتُ مع عمومَتي حِلفًا في دارِ عبدِ اللَّهِ بنِ جُدعانَ ما أُحبُّ أن لي بهِ حُمْرَ النَّعَمِ، ولَو دُعيتُ بهِ في الإسلامِ لأجَبتُ . .الراوي: عبدالرحمن بن عوف المحدث: الألباني – المصدر: فقه السيرة – الصفحة أو الرقم: 72۔

خلاصة حكم المحدث: سند صحيح لولا أنه مرسل. ولكن له شواهد تقويه وأخرجه الإمام أحمد مرفوعاً دون قوله, لو دعيت به في الإسلام لأحببت وسنده صحيح)

معاشرتی اور سماجی خلفشار کے خلاف انفرادی آواز مقتدر حلقوں کے لئے نقار خانے میں طوطے کی آواز سے زیادہ اثر نہیں رکھتی !

لیکن جب بہت سے افراد ہم آواز ہوکے اس کے ساتھ  اٹھ کھڑے ہوں تو پہر اجتماعیت کی قوت سامنے حکمراں مطالبات تسلیم کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔

ظلم وجور کے خلاف اجتماعی آواز اٹھانے کی ایک مثال سنت نبویہ سے تو اوپر آگئی

لیکن ظلم وجور کے خلاف سڑکوں پہ دھرنا دینے کی مثال بھی سنت نبوی میں موجود ہے، پڑوسی سے ستائے ہوئے پریشان حال ایک صحابی سے بطور چارہ کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جاؤ اور اپنا سامان گھر سے باہر نکال کر سڑک پر رکھ دو، انہوں نے ایسا ہی کیا، اب گزرنے والے لوگ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو وہ پڑوسی کے ظلم کی روداد سنا دیتے، چنانچہ ہر کوئی اسے لعنت ملامت کرتا، جب یہ بات پڑوسی کو معلوم ہوئی تو اس نے انہیں گھر بھیجا اور ہمیشہ کے لیے ظلم سے باز رہنے کا وعدہ کیا۔ اور یوں سڑک پہ پرامن احتجاج سے اپنا حق وصول ہوا :

جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يشكو جاره فقال اطرح متاعك على الطريق فطرحه، فجعل الناس يمرون عليه ويلعنونه، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال "يا رسول الله ما لقيت من الناس”، فقال : وما لقيت منهم؟ قال: "يلعنوني”، قال: لقد لعنك الله قبل الناس، قال: "إني لا أعود”، فجاء الذي شكاه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ارفع متاعك فقد كفيت. ورواه البزار بإسناد حسن بنحو إلا أنه قال: "ضع متاعك على الطريق أو على ظهر الطريق” فوضعه، فكان كل من مر به قال: "ما شأنك؟”، قال جاري يؤذيني فيدعو عليه فجاء جاره فقال: "رد متاعك فلا أؤذيك أبدا”. و”روى” أبو داود واللفظ له وابن حبان في صحيحه والحاكم وصححه على شرط مسلم: (جاء رجل يشكو جاره فقال له: «اذهب فاصبر»، فأتاه مرتين أو ثلاثا، فقال اذهب فاطرح متاعك في الطريق ففعل، فجعل الناس يمرون ويسألونه ويخبرهم خبر جاره فجعلوا يلعنونه فعل الله به وفعل، وبعضهم يدعو عليه فجاء إليه جاره فقال: "ارجع فإنك لن ترى مني شيئا تكرهه” (كتاب الزواجر عن اقتراف الكبائر باب الصلح، الكبيرة العاشرة بعد المائتين: إيذاء الجار ولو ذميا).(تفسير القران العظيم لإبن كثير ٧٤٦/٤ سورة النساء ١٤٧)

دوسری مثال دیکھیں !

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مشرف باسلام ہوجانے کی خوشی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم علانیۃً سڑکوں سے ہوئے اور مشرکین وسرداران قریش کو اپنی قوت وحشمت کا دکھاتے ہوئے مسجد حرام داخل ہوئے، اب تک چھپے چھپائے رہتے تھے، لیکن آج کے اجتماعی مظاہرے سے دشمنوں پہ خاصا رعب طاری ہوا، اور یہ سڑکوں پہ مظاہرے حضور کی معیت میں ہوئے :

روى أبو نعيم في الحلية بإسناده إلى ابن عباس رضي الله عنهما وفيه: فقلت: يا رسول الله ألسنا على الحق إن متنا وإن حيينا؟ قال: «بلى، والذي نفسي بيده إنكم على الحق إن متم وإن حييتم»، قال فقلت: "ففيم الاختفاء؟ والذي بعثك بالحق لتخرجن”، فأخرجناه في صفين: حمزة في أحدهما، وأنا في الآخر، له كديد ككديد الطحين حتى دخلنا المسجد، قال فنظرت إلي قريش وإلى حمزة فأصابتهم كآبة لم يصبهم مثلها، فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ الفاروق. وفرق الله به بين الحق والباطل” انتهى (حلية الأولياء 1/40).

وأورد صاحب الإصابة في أسماء الصحابة هكذا: "وأخرج محمد بن عثمان بن أبي شيبة في تاريخه بسند فيه إسحق ابن أبي فروة عن ابن عباس أنه سأل عمر عن إسلامه فذكر قصته بطولها وفيها أنه خرج ورسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين حمزة وأصحابه الذين كانوا اختفوا في دار الأرقم فعلمت قريش أنه امتنع فلم تصبهم كآبة مثلها، قال فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ الفاروق” انتهى (الإصابة 2/512).

وذكره ابن حجر ـ رحمه الله ـ في فتح الباري قائلاً: "وروى أبو جعفر بن أبي شيبة نحوه في تاريخه من حديث ابن عباس، وفي آخره "فقلت يا رسول الله ففيم الاختفاء؟”، فخرجنا في صفين: أنا في أحدهما، وحمزة في الآخر، فنظرت قريش إلينا فأصابتهم كآبة لم يصبهم مثلها”، وأخرجه البزار من طريق أسلم مولى عمر عن عمر مطولاً” انتهى (فتح الباري 7/59)

جائز حقوق کی وصولی یا معاشرتی ظلم وجور کے احتجاجی دھرنا کی حیثیت محض” انتظامی اور تدبیری ” ہے، اس کی حیثیت شرعی نہیں ! شرعی امور کی بنیاد "اتباع ” پہ ہوتی ہے، جبکہ دنیوی اور تدبیری وانتظامی امور کی بنیاد ” اِبتِدَاعْ” پہ ہوتی ہے، یہ فرق ملحوظ نہ رکھنے سے تطبییق حکم شرعی میں الجھنوں اور شبہات کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا !

احتجاج کا کوئی خاص طریقہ شریعت میں متعین نہیں ! شرعی اور ریاستی آئین کی حدود میں رہتے ہوئے جائز، موثر، قابل سماع اور زود اثر احتجاجی طریقوں کو اپنایا جاسکتا ہے۔

موم بتتیاں جلانا گوکہ پہلے کبھی کسی اور پس منظر میں انجام دیا جاتا ہو ! لیکن عالی احوال اور ان کے احتجاجی مظاہروں پہ نظر رکھنے والے باخبر احباب بخوبی واقف ہیں کہ اب کینڈل کی حیثیت پرامن مظاہرے کی بن گئی ہے

کسی خاص مقام پہ دوسری حیثیت بھی اگر برقرار ہو تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا

پوری دنیا میں حتی کہ برائے نام اسلامی ملکوں میں بھی “المسايرة بالشموع” کینڈل مارچ پرامن احتجاج ہی کا استعارہ بن گیا ہے، اس میں عالم اسلام کے نامور علمی شخصیات شریک ہوتی ہیں، ایسے مظاہروں کو منظم کر نے کے لئے اخبارات میں باضابطہ ہفتوں قبل سے اشتہارات نکلتے ہیں۔

ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنے یا اپنے  ریاستی حقوق کے مطالبہ کے لئے کینڈل مارچ کے ذریعہ لوگ سڑکوں پہ آکے حکمرانوں پہ اپنے حقوق منوانے کے لئے دبائو بناتے ہیں۔

مسلح جلد وجہد یا پرتشدد مظاہرہ کے متبادل کے طور پہ یہ طریقہ احتجاج فروغ پارہا ہے، سیکورٹی فورسز اور امن عامہ عامہ بحال وبر قرار رکھنے  کے ذمہ ریاستی ادارے بھی اس مارچ کو اپنی آواز بلند کرنے میں فری ہینڈ دیتے ہیں۔

اگر یہ جلوس پر امن رہے، تشدد، جلائو، گھیرائو اور  ریاستی املاک کو نقصان پہونچانے جسے ہو ہائو اور شرانگیزیوں  سے محفوظ رہے، راہ گیروں، دکانداروں، بیماروں، ہاسپیٹلوں اور دیگر ضرورت مندوں کی  آمدورفت یا دیگر بنیادی انسانی حقوق اس احتجاج کی وجہ سے تعطل کا شکار نہ ہوں۔

تو احتجاج کے لئے اس کینڈل مارچ کے جواز میں کوئی محظور شرعی نہیں ہے۔

ہاں اگر یہ طریقہ اظہار سوگ، تعزیت یا ایصال ثواب کے لئے اپنایا گیا ہو تو پہر شرعا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے !

شریعت اسلامیہ میں سوگ اور ایصال ثواب کے سارے طریقے متعین کردیئے گئے ہیں، اب کہیں دوسری جگہ تاک جھانگ کے کوئی نیا طریقۂ تعزیت ایمپورٹ کرنے کی ہماری شریعت میں قطعی کوئی گنجائش نہیں !

بتصریح قرآن کریم ہرگروہ اور ہر جماعت خواہ اہل حق میں سے ہو یا اہل باطل میں سے اپنی ہی مزعومات ومعتقدات اور آئیڈیالوجی میں مگن ہے۔ "كل حزب بما لديهم فرحون”  ( الروم۔ 32)

اس بنیاد پر اگر کسی تہذیب ومعاشرت میں اجتماعی تعزیت کے موقع سے کچھ دیر کی "خاموشی” یا موم بتیاں جلانا یا جھنڈے سر نگوں کرنا مروج ہو تو یہ اس کا ” اندرون خانہ” معاملہ ہے۔ کسی کے عمل، طریقہ اور رواج کی تحقیر وتضحیک کئےبغیر اسلامی طریقہ تعزیت پہ عمل کی کوشش کرنی چاہئے۔ تعزیت کےیہ طریقے مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔ اسلامی طریقہ تعزیت سے ہٹ کے نئے نئے طریقے وضع کرنا افسوس ناک بھی یے اور اسلامی غیرت اور دینی حمیت کے خلاف بھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

جو شخص کسی دوسری قوم کے اخلاق وعادات اور طور طریقہ کی پیروی کرنے لگے وہ انہی میں سے ہوجاتا ہے۔

اس لئے مسلمانوں کو اپنے ہر عمل کو سنت اور شریعت کی کسوٹی پر جانچنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔

اگر مسلمان خاموشی والی نوعیت میں کہیں مبتلا ہوجائے تو موقع اور حالات کے لحاظ سے کوئی پہلو یا حکمت عملی اختیار کرلے۔

کینڈل مارچ کے سلسلے میں اوپر کی سطروں میں جو کچھ عرض کیا گیا وہ اس طالب علم کا اپنا مطالعہ ہے، دوسروں پہ اپنا موقف تھوپنے کا مزاج بحمد اللہ نہیں ہے، دلائل کی روشنی میں ارباب علم ودانش ومسافران علم وتحقیق اس بابت دوسرا موقف اپناتے ہوں تو یہ ان کا علمی حق ہے، باعتبار نیت وکاوش دونوں فریق ماجور و برحق ہونگے، ہاں ! دو مختلف نقطہائے نظر  میں شدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی ایک کو فیصلہ کن فتوی قرار دینا اور دوسرے فریق پہ غیر علمی وغیر شائستہ فقرے کسنا غلط ہے۔ ایسا بندہ عند اللہ ماخوذ ہوگا۔

مزید دکھائیں

مفتی شکیل منصور القاسمی

مضمون نگار کا تعلق سیدپور، بیگوسرائے، بہارسے ہے۔ جنوب امریکہ میں سات سالوں سے مقیم ہیں اور شیخ الحدیث اور صدر مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close