فقہ

بلاشبہ جھینگا مچھلی حلال ہے

مقبول احمد سلفی

جھینگا مچھلی کے متعلق عوام میں غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں، اس کی وجہ علماء کے درمیان مختلف قسم کے فتاوے ہیں، کسی نے جھینگا کو مچھلی کہا، کسی نے مچھلی نہیں مانا۔ کسی نے اس کا کھانا جائزکہا، کسی نے ناجائزکہاتوکسی نے مکروہ تحریمی کہا۔ یہ مختلف قسم کے فتاوے لوگوں کے لئے الجھن کا سبب بنے ہوئے ہیں، میں نے اس الجھن کو دور کرنے کی ایک چھوٹی کوشش کی ہے۔

اس مسئلہ کو سلجھانے کے لئے سب سے پہلے دریائی حیوانوں اور مچھلیوں کے متعلق  شریعت کا حکم دیکھنا پڑے گا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے :

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعاً لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُماً وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِيَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ [المائدة : 96]

ترجمہ: ترجمہ: تمہارے لئے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے، تمہارے فائدے کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لئے حرام کیا گیا جب تک تم حالت احرام میں رہواور اللہ تعالی سے ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤگے۔

اس آیت میں محرم(جوحالت احرام میں ہو) کا حکم بتایاجارہے کہ وہ احرام میں صرف دریا کا شکار کرسکتا ہے، جب تک احرام میں ہےوہ خشکی کا شکار نہیں کرسکتا۔

آیت کا لفظ "صید "عام ہے جو دریا کی مچھلیوں سمیت تمام قسم کے حیوانوں کو شامل ہے۔ اور "البحر” سے مراد ہرقسم کے پانی کا اسٹور خواہ تالاب ہو، ندی ہو، نالہ ہو، دریاہو، سمندرہو۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ حیوان خواہ جانور ہویامچھلی جو پانی میں ہی زندگی بسر کرتاہو، پانی کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا وہ سب شکار میں داخل ہے اوراس کا کھاناہمارے لئے حلال ہے۔

اسی طرح حدیث میں ہے  جابر بن عبداللہ رضی اللہ سے روایت ہےکہ نبی ﷺ سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

هوَ الطَّهورُ ماؤُهُ الحلُّ ميتتُهُ( صحيح ابن ماجه:316)

ترجمہ: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔

اس حدیث میں دوباتوں کا ذکر ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ سمندر کا پانی پاک ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سمندر کا میتہ (مردار) حلال ہے۔ یہ میتہ کیا ہے ؟ اس سے کیا مراد ہے اس کی وضاحت  دوسری حدیث رسول ﷺ سے ہوجاتی ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے :

أحلَّت لَكُم ميتتانِ ودَمانِ، فأمَّا الميتَتانِ، فالحوتُ والجرادُ، وأمَّا الدَّمانِ، فالكبِدُ والطِّحالُ(صحيح ابن ماجه:2695)

ترجمہ:تمہارے لئے دو مردار اور دو خون حلال قراد دئیے گئے ہیں۔ مردار سے مچھلی اور ٹڈی مراد ہیں جبکہ خون سے جگر اور تلی مراد ہیں۔

اب بات واضح ہوگئی کہ سمندر کی مری ہوئی مچھلی ہمارے لئے حلال ہے۔ اس حدیث سے ایک مسئلہ اور بھی واضح ہوگیا کہ جب مردار مچھلی جائز ہے تو زندہ مچھلی خواہ کسی قسم کی ہو بدرجہ اولی جائز ہے۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ سمندر میں پائی جانے والی ہرقسم کی مچھلی کا شکار کرنا اور اس کا کھانا ہمارے لئے جائز ہے۔

کیا جھینگا مچھلی نہیں ہے ؟

اب ہم یہ جانتے کی کوشش کرتے ہیں کہ حنفیہ نے شک کی وجہ سے جھینگا نہ کھانا احوط کہااور اس کا کھانا مکروہ تحریمی لکھاہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟تلاش کرنے سے معلوم ہوتاہےکہ بعض حنفیہ کے یہاں جھینگا مچھلی میں شمار نہیں ہوتی، یہ ایک جانور ہے اور حنفیہ کے یہاں مچھلی کے علاوہ سمندر کا کچھ بھی حلال نہیں  جیساکہ البدائع، فتاوی ہندیہ اور درمختار میں لکھاہے۔ حالانکہ ائمہ ثلاثہ کے یہاں جھینگا پہ کوئی کلام نہیں۔

جھینگا کو عربی میں  جمبري، إرْبِيَان، رُوبِيَان، قُرَيْدِس، قَمرون اور بُرْغوث البحروغیرہ۔ انگریزی میں Prawns اور Shrimp، اٹلی میں Gambero، رومی میں Cammarus, اسبانی میں Camaron, ترکی میں Karides، فرنسی میں Crevettes کہتے ہیں۔ اس کی تقریبا دو ہزار اقسام پائی جاتی ہیں۔

 لغت کی کتاب، طب کی کتاب  اور علم الحیوان کی کتاب دیکھنے سے علم ہوتا ہے کہ ان ساری جگہوں میں جھینگا کو مچھلی کی ہی قسم لکھا ہے۔ قدیم  وجدیدکتب لغت وطب میں بھی جھینگا مچھلی کے طور پہ ملتی ہے۔ ابن بیطار نے اسے اربیان وروبیان لکھاہے۔ صاحب بن عباد نے اس کا وصف بتلایاہے کہ یہ تیڑھی انگلی کی طرح لال مچھلی ہے۔ جوہری اور فیروزآبادی نے سفید کیڑے کی طرح بتلایاہے۔ دمیری نے چھوٹے قسم کا لال رنگ والا کہاہے۔ داؤد انطاکی نے بہت پیروالا لال رنگ کا کیکڑے کی طرح مگر اکثر گوشت والا کہا ہے۔ ان ساری کتب میں مچھلی کی حیثیت سے اس کا وصف بتلایاہے۔

تکملۃ المعاجم العربیۃ از مستشرق رینہارت آن دوزی  (8/221) میں قریدس کا وصف مصر کے روبیان سے ذکر کیاہے۔ محیط المحیط از پطرس بستانی (متوفی:1300ھ) صفحہ 725 پر قریدس کے متعلق لکھا ہے :

القريدس: سمكة صغيرة بقدر الجرادة أو أكبر قليلا وتشبهها.یعنی قریدس(جھینگا) ایک چھوٹی مچھلی ہے جو ٹڈی کے مثل یا اس سے تھوڑی بڑی اوراس کے مشابہ ہوتی ہے۔

معجم الالفاظ الزراعیۃ از مطففی شہابی (مکتبہ لبنان) صفحہ 197 پر یہ عبارت ہے۔ الاربیان: ضرب من السمک وھوالقریدس فی الشام والجمبری فی مصر۔ یعنی اربیان(جھینگا) ایک قسم کی مچھلی ہے، ملک شام میں اسے قریدس اور مصر میں جمبری کہتے ہیں۔

ابوبکر بن درید(متوفی:321 ھ)نے جمھرۃ اللغۃ (3/1236) میں لکھا ہے : الاربیان:ضرب من الحیتان یعنی اربیان (جھینگا) مچھلی کی ایک قسم ہے۔ زبیدی نے تاج العروس میں سفید کیڑے کی طرح مچھلی بتایاہے۔

جوہری (متوفی : 393ھ)نے  الصحاح (6/2351) میں لکھا ہے : الاربیان بکسر الھمزہ، ضرب من السمک بیض کالدود( اربیان، ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ، ایک قسم کی مچھلی جو سفید کیڑا کی طرح ہے )

کمال کی بات ہے علامہ مجد فیروزآبادی(متوفی :817ھ)  جوکہ حنفی المسلک ہیں انہوں نے القاموس المحیط کے اندر لکھاہے : الاربیان بالکسر:سمک۔ یعنی اربیان(جھینگا) مچھلی ہے۔

اس طرح بے شمار لغت کی کتابوں سے حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ کتب لغت کے علاوہ مختلف علوم  وفون کی کتابوں میں بھی اسے ایک مچھلی ہی مانا گیاہے۔

ابوہلال عسکری (متوفی :395ھ) نے ” التلخیص فی معرفۃ اسماء الاشیاء میں اربیان (جھینگا) کو ایک چھوٹی مچھلی کہاہے۔ ابوالعلاءمعری (متوفی: 449ھ) نے "رسالۃ الملائکۃ” میں <وھوضرب من السمک> کے ذریعہ اسے مچھلی قرار دیاہے۔

یاقوت الحموی (متوفی: 626ھ) نے معجم البلدان میں بھی مچھلی کی قسم کہاہے ٍٍ۔

مذکورہ بالا مختصرحوالوں سے پتہ چلتاہے کہ قدیم وجدید لغت اور مختلف علوم کی کتاب میں جھینگا مچھلی ہی مانی جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ عرف عام میں بھی مچھلی سے ہی متعارف ہے۔ اس لئے ہم دیکھتےہیں کہ جھینگا مچھلی مارکیٹ میں ملتی ہے نہ کہ گوشت کی دوکان پہ اور ہوٹلوں میں بھی مچھلی کی فہرست میں شامل ہے۔

حنفیہ کے یہاں سمندر کی ساری مچھلیاں حلال ہیں۔ امام سرخسی نے "المبسوط ” میں لکھا ہے :جمیع انواک السمک حلال یعنی ہرقسم کی مچھلی حلال ہے۔ گویا حنفی فقہ کی روشنی میں بھی جھینگا حلال ہے۔ چنانچہ حنفی عالم ظفر احمد عثمانی تھانوی رحمہ اللہ نے اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 199 پر لکھا ہے : وبالجملة فكل ما كان من جنس السمك لغة وعرفا فهو حلال بلا خلاف كالسقنقور والروبيان ونحوهما .( منجملہ جو لغت اور عرف میں مچھلی ہو وہ بغیر اختلاف کے حلال ہے جیسے کوتری, جھینگا اور ان جیسی۔ )

لغت کی کتاب، کتب طب وحیوان، عرف عام میں جھینگا مچھلی ہے یہ ثابت ہوگیا، اسی طرح حنفی اہل لغت نے بھی اسے مچھلی لکھاہے اور ساتھ ہی مشہور حنفی عالم نے بصراحت جھینگا حلال لکھاہے۔ نیز قرآن وحدیث  کی روشنی میں جھینگا حلال ہے وہ پہلے ہی ثابت کیاگیاہے بلکہ یہاں تک قرآن سے ثابت ہے کہ مچھلی کے علاوہ پانی پہ منحصر سارے حیوان حلال ہیں۔ ساتھ ہی کھانے پینے کی چیزمیں اصل حلت ہی ہے سوائے اس کے جس کو نام لیکر حرام کہاگیاہو۔ جھینگا ان حیوان میں سے نہیں جن کی ممانعت آئی ہے گویاقاعدے کی رو سے بھی اس کا حلال ہونا ثابت ہے۔

لہذا ایک ثابت شدہ چیز کو مکروہ  اور ناجائز کہنا اللہ کے حدود سے تجاوز ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close