فقہ

نئے عیسوی سال کی آمد اور قابل توجہ چند امور

ہرقوم اپنے کلینڈر کے حساب سے نئے سال کے پہلے دن کی بڑی اہمیت دیتی ہے  اور اس دن کو بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ نیااور پہلا دن بھی دوسرے ایام سے کچھ الگ نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ نئے سال کے پہلے دن میں صرف خوشی ہی خوشی ہوتی ہے۔ دیکھا جاتا ہے غم میں ڈونے لوگ آج بھی غمگین ہی ہوتے ہیں۔ نئے سال پہ بھی لوگوں کو موت آتی ہے۔ اکسڈنٹ ہوتا ہے۔ مصائب و مشکلات پیش آتے ہیں پھر آج کے دن خوشی کے طور پہ منانے کا سبب و محرک کیا ہے ؟

مزید پڑھیں >>

ایان نام رکھنا کیسا ہے؟

نام رکھنے کے لئے سماج میں ایک عام طریقہ رائج ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ایک لفظ لے لیتے ہیں اور لوگوں سے اس لفظ کا معنی پوچھتے ہیں۔ اگر معنی خوبصورت ہوا تو نام رکھ لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی ترقی کی وجہ سے ابھی ایک دوسرا طریقہ ایجاد ہوا ہے و ہ یہ ہے کہ گوگل یا کسی ویب سائٹ سے ناموں کی لسٹ دیکھ کرخوبصورت معنی والا نام پسند کرلیتے ہیں جبکہ اس میں معنوی اور اعتقادی بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

گرم پانی سے وضو  اور غسل کا حکم

ٹھنڈی کے موسم میں گرم پانی اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈا پانی میسر ہونااللہ کی نعمت میں سے ہے، اس پہ اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے۔ پانی ٹھنڈ یا گرم ہونا یہ موسم کی طبیعت پہ ہے، موسم سرد ہوا تو پانی سرد ہوجائے گا اور گرم موسم سے پانی گرم ہوجائے گا۔ اللہ نے بندوں کو ایسی سہولت میسر کی کہ موسم کے ٹھنڈے پانی کو مختلف طریقوں سے گرم کرلیتے ہیں اور طبعی گرم پانی کو سرد بناکر اللہ کی اس بیش قیمت نعمت سے محظوظ ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

متعہ کی حقیقت از روئے قرآن

حقیقت یہ ہے کہ مطلق العنان اور عیاش اموی و عباسی حکمرانوں کی مرضی کے مطابق یہ متعہ والی روایات گھڑی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں متعہ سے متعلق ابتدائی روایات اہل سنت کے کتابوں میں ملتے ہیں۔ بعد میں جب شیعہ حکمرانوں جیسے آل بویہہ وغیرہ کا دور آیا تو ان حکمرانوں کی خوشنودی کے لئے یہاں بھی متعہ کا نظریہ داخل در مذہب کرلیا گیا۔

مزید پڑھیں >>

ربیع الاول 1439 کے سوال وجواب ( دوسری قسط)

سیاسی مجبوری کے تحت مزار کے کام میں مدد کرنا جائز نہیں ہے، نہ ہی عید میلاد یا مروجہ سلام جائز ہے۔ مذکورہ شخص کو چاہئے کہ کسی کو خوش کرنے کی بجائے اللہ کو خوش کرنے والا کام کرے ورنہ مزاروں کی توسیع پہ مالی امداد، عید میلاد اور مروجہ سلا م میں شرکت کی وجہ سے بدعتی کہلائے گا۔

مزید پڑھیں >>

بغیر عذر کے موزه یا جراب پہ مسح کرنا

اس سلسلے میں شیخ الاسلام ؒ اور ان کے شاگرد ابن القیم ؒ نے بہترین بات لکھی ہے کہ افضل صورت انسان کے لئے وہ ہے جو اس کے قدم کے موافق ہے یعنی اگر وہ موزہ پہنے ہوا ہے تو مسح کرنا افضل ہے اور اگر قدم کھلا ہوا ہے تو دھونا افضل ہے اور موزہ اس لئے نہ پہنے کہ اس پہ مسح کرنا ہے۔ (الإنصاف:1/378و زاد المعاد:1/199)

مزید پڑھیں >>

ماہ ربیع الاول  1439 ھ کے سوال وجواب

عورتوں کا لوہے کی چوڑی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ اس پر سونے کا پانی چڑھا ہو یا نہیں چڑھا ہو اور اس میں نماز بھی درست ہے۔ فقہ حنفی میں عورتوں کے لئے لوہے کی انگوٹھی پہننا اور اس میں نماز پڑھنا مکروہ لکھا ہے مگر اس بات کی قرآن وحدیث سے کوئی دلیل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

لباس کی شرعی حیثیت

لباس ایسی چیز ہے کہ معاشرتی ارتقا کے ساتھ اس میں تبدیلی ہوتی رہی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اسی طرح مختلف علاقوں کی جغرافیائی خصوصیات اور بعض دوسری چیزیں بھی لباس کی وضع قطع اور نوعیت پر اثرانداز ہوتی ہیں، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگوں کا لباس ایک ہی ہو یا کسی قوم یا علاقے کا لباس ہمیشہ ایک جیسا رہے۔ اس لیے شریعت نے کسی خاص قسم اور خا ص وضع کے لباس کا پابند نہیں کیا، البتہ ایسے سنہری اصول و ضوابط اور احکامات دیے ہیں، جن کی ہر زمانے اور ہر جگہ سہولت کے ساتھ پابندی کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

آپ کے سوالات اور ہمارے جوابات

بعض مسائل میں شریعت کی طرف سے وسعت ہوتی ہے وہاں وسعت پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ وہ مسائل میں جن میں وسعت کی گنجائش نہیں پھر بھی اس میں علمائے کے درمیان اختلاف پایا جاتاہو تو اختلاف کو قرآ ن وحدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا جیساکہ اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے اور جن کے پاس قوی دلیل ہو اسے اختیار کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں >>

اسلامک فقہ اکیڈمی کاستائیسواں فقہی سیمینار

اکیڈمی کی یہ خوش قسمتی ہے کہ شروع ہی سے اس کواکابرعلماء امت کی سرپرستی حاصل رہی ہے، چنانچہ حضرت مولاناسید ابوالحسن علی میاں ندوی ؒ، حضرت مولانامنت اللہ رحمانیؒ، حضرت مولانامفتی عبدالرحیم لاجپوری ؒاورحضرت مولانامفتی نظام الدین اعظمی فاروقی وحضرت مولاناسیدنظام الدین ؒ(پٹنہ)اکیڈمی کے سابق سرپرستان تھے۔ اب اس وقت حضرت مولانامحمد رابع حسنی ندوی صاحب صدرآل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ، وناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤاورحضرت مولانامحمد سالم صاحب قاسمی(نائب صدرآل انڈیامسلم پرسل لابورڈ، ومہتمم دارالعلوم وقف دیوبند)کی سرپرستی حاصل ہے۔

مزید پڑھیں >>