قرآنیات

اس سے بڑھ کر کس کی بات ہوسکتی ہےجو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے

دوسری قسط

ترتیب:عبدالعزیز

داعیانہ رویّہ بڑے صبر اور نصیب کی بات ہے: جفا کے مقابلے میں دعا اور ظلم کے مقابلے میں احسان کہنے کو تو ایک آسان سی بات ہے مگر اس پر عمل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لئے بڑا دل گردہ، بڑا عزم، حوصلہ اور بڑی قوتِ برداشت چاہئے۔ وقتی طور پر ایک آدمی کی برائی کے مقابلے میں خاموش رہنا یا نیکی کا رویہ اختیار کرنا غیر معمولی بات نہیں؛ لیکن جہاں سالہا سال مخالفین کا رویہ بدلنے نہ پائے اور پھر جیسے ہی انھیں طاقت و اختیارات ملیں تو وہ بالکل بے قابو ہوجائیں، ایسے لوگوں کے ساتھ ہر برائی کے مقابلے میں نیکی کا رویہ اختیار کرنا اور کبھی بھی ضبط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا یہ آسان کام نہیں۔ یہ وہی شخص کرسکتا ہے جس نے سوچ سمجھ کر صبر کا رویہ اختیار کیا ہو اور وہ یہ فیصلہ کرچکا ہو کہ مجھے صلہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے لینا ہے۔ میں جیسے جیسے صبر دکھاؤں گا ویسے ویسے میرے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا جائے گا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بلند مرتبے کا انسان ہو۔ اس کی سوچ بہت بلند ، اس کا حوصلہ نا قابل شکست اور اس کی نگاہ دنیا کی بجائے ہمیشہ آخرت پر ہو۔ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے ہی لوگ نصیبے والے لوگ ہیں۔
بعض روایات میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو کسی شخص نے برا بھلا کہا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر تم اپنے کلام میں سچے ہو اور میں مجرم اور خطاکار ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمادے اور اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمادے۔ (قرطبی)
’’اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ سے پناہ مانگو، بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے‘‘۔(حٰمٓ السجدہ:36)
صاحب تفہیم القرآن نے اس پر ایک خوبصورت نوٹ لکھا ہے، ہم یہاں اسے نقل کر رہے ہیں۔
شیطان کی اکساہٹ کا علاج: شیطان کو سخت تشویش لاحق ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں کمینگی کا مقابلہ شرافت کے ساتھ بدی کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ایک ہی مرتبہ سہی، حق کیلئے لڑنے والوں اور خصوصاً ان کے سربر آوردہ لوگوں اور سب سے بڑھ کر ان کے رہنما سے کوئی ایسی غلطی کرا دے جس کی بنا پر عامۃ الناس سے یہ کہا جاسکے کہ دیکھئے صاحب، برائی یکطرفہ نہیں ہے، ایک طرف سے اگر گھٹیا حرکتیں کی جارہی ہیں تو دوسری طرف کے لوگ بھی کچھ بہت اونچے درجے کے انسان نہیں، فلاں رکیک حرکت تو آخر انھوں نے بھی کی ہے۔ عامۃ الناس میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ٹھیک انصاف کے ساتھ ایک طرف کی زیادتیوں اور دوسری طرف کی جوابی کارروائی کے درمیان موازنہ کرسکیں۔ وہ جب تک یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ مخالفین ہر طرح کی ذیل حرکتیں کر رہے ہیں مگر یہ لوگ شائستگی و شرافت اور نیک و راست بازی کے راستے سے ذرا نہیں ہٹتے، اس وقت تک وہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے رہتے ہیں، لیکن اگر کہیں ان کی طرف سے کوئی بیجا حرکت یا ان کے مرتبے سے گری ہوئی حرکت سرزد ہوجائے خواہ وہ کسی بڑی زیادتی کے جواب ہی میں کیوں نہ ہو تو ان کی نگاہ میں دونوں برابر ہوجاتے ہیں اور مخالفین کو بھی ایک شخص بات کا جواب ہزار گالیوں سے دینے کا بہانہ مل جاتا ہے۔ اسی بنا پر ارشاد ہوا کہ شیطان کے فریب سے چوکنے رہو، وہ بڑا درد مند و خیر خواہ بن کر تمھیں اشتعال دلائے گا کہ فلاں زیادتی تو ہر گز برداشت نہ کی جانی چاہئے اور فلاں بات کا تو منہ توڑ جواب دیا جانا چاہئے اور اس حملے کے جواب میں تو لڑ جانا چاہئے؛ ورنہ تمہیں بزدل سمجھا جائے گا اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ ایسے ہر موقع پر جب تمہیں اپنے اندر اس طرح کا کوئی نامناسب اور اشتعال محسوس ہو تو خبر دار ہوجاؤ کہ یہ شیطان کی اکساہٹ ہے جو غصہ دلاکر تم سے کوئی غلطی کرانا چاہتا ہے اور خبر دار ہوجانے کے بعد اس زعم میں مبتلا نہ ہوجاؤ کہ میں اپنے مزاج پر بڑا قابو رکھتا ہوں، شیطان مجھ سے کوئی غلطی نہیں کراسکتا ہے، یہ اپنی قوتِ فیصلہ اور قوتِ ارادی کا زعم شیطان کا دوسرا اور زیدہ خطرناک فریب ہوگا۔ اس کی بجائے تم کو خدا سے پناہ مانگنی چاہئے کیونکہ وہی توفیق دے اور حفاظت کرے تو آدمی غلطیوں سے بچ سکتا ہے۔
اس مقام کی بہترین تفسیر وہ واقعہ ہے جو امام احمدؒ نے اپنی مسند میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بے تحاشا گالیاں دینے لگا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموشی کے ساتھ اس کی گالیاں سنتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں دیکھ کر مسکراتے رہے۔ آخر کار جناب صدیق رضی اللہ عنہ کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا اور انھوں نے بھی جواب میں اسے سخت بات کہہ دی۔ ان کی زبان سے وہ بات نکلتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر شدید انقباض طاری ہوا جو چہرۂ مبارک پر نمایاں ہونے لگا اور آپ فوراً اٹھ کر تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اٹھ کر آپ کے پیچھے ہولئے اور راستے میں عرض کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے، وہ مجھے گالیاں دیتا رہا اور آپ خاموش مسکراتے رہے مگر جب میں نے اسے جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے؟ فرمایا: ’’جب تم خاموش تھے، ایک فرشتہ تمہارے ساتھ رہا اور تمہاری طرف سے اس کو جواب دیتا رہا مگر جب تم بول پڑے تو فرشتے کی جگہ شیطان آگیا، میں شیطان کے ساتھ تو نہیں بیٹھ سکتا تھا‘‘۔
(تفسیر روح الامین)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close