قرآنیات

ایاز نظامی اور مدرسہ

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک مضمون میں یہ بات عرض کی تھی کہ عام طور پر ہمارے ہاں پاکستان وہندوستان میں عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ عوام قرآن کا ترجمہ پڑھے گی تو گمراہ ہوجائے گی۔ (نعوذبااللہ من ذالک)

حالانکہ قرآن کو کتاب ہدایت کہا گیا ہے، اس سے ہدایت کے چشمے پھوٹتے ہیں اور انسانوں کے دل سیرات ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے بدبخت بھی ہوتے ہیں جن کے حصے میں گمراہی بھی آتی ہے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آغاز ہی بری نیت سے کرتے ہیں، ورنہ ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص اخلاص کے ساتھ ہدایت کے حصول کے لئے قرآن کا ترجمہ پڑھے اور گمراہ ہوجائے۔عوام تو جب قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو ان کی نظر ظاہری احکامات پر ہوتی ہے، مثلا نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، جنت، جہنم، عذاب، اقوام سابقہ کے قصص وغیرہ۔ عوام  گہرائی میں جا ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ایک عام شخص جب بھی قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہے اس سے اسے ہدایت ہی ہدایت میسر آتی ہے۔

اگر ہم گمراہ لوگوں اور گمراہی کے فتنے ایجاد کرنے والوں کی فہرست پر ایک نظر دوڑائیں تو وہ ہمیں عوام نہیں بلکہ علماء ہی نظر آتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی فتنے کو کھڑا کرنے کے لئے جو صلاحیت اور قابلیت چاہیے ہوتی ہے وہ عوام میں نہیں ہوتی۔ آپ ماضی کے فتنے دیکھیں یا حال پر نظر دوڑائیں تمام فتنوں کے موجد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے دینی علوم میں آٹھ دس سال لگا کر مہارت حاصل کی اور پھر اس قابلیت کو گمراہی پھیلانے میں استعمال کیا۔ مثلا

ہندوستان کا سب سے بڑا فتنہ دین اکبری یا دین الہٰی تھا، جسے ایجاد کرنے والے ابوالفضل اور فیضی جیسے زبردست عالم دین تھے۔

قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد ہو یا فتنہ انکار حدیث کا موجد غلام احمد پرویز۔ دینی شعائر کی غلط تعبیر کرنے والا سرسید احمد خان ہو یا حکیم نورالدین بھیروی۔مولوی عبداللہ چکڑالوی ہو یا علامہ اسلم جیراج پوری۔

اسی طرح کئی مسائل میں اجماع امت سے کٹ کر الگ راہ اختیار کرنے والے مولانا امین احسن اصلاحی ہوں یا پھر علامہ فراہی جیسے محقق قرآن۔ جاوید احمد غامدی ہو یا جماعت المسلمین کے بانی ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی یہ سب علماء ہی ہیں۔ یاد رہے ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی بنوری ٹاون کراچی کے فارغ التحصیل اور علامہ بنوری رحمہ اللہ خاص شاگرد اور معالج بھی رہے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ ہدایت وضلالت کا دارومدار علم پر نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف دو چیزوں پر ہے: ایک انسان کی اپنی نیت وارادہ اور دوسرے اللہ کی توفیق وتیسیر۔ اگر انسان کے اپنے دل میں کجی اور نیت میں فتور ہو اور اللہ تعالیٰ بھی اپنی سنت کے مطابق کہ فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم اس سے توفیق خیر سلب فرمالے تو ایسا انسان جتنا بڑا عالم وفاضل ہو گا اتنا ہی بڑا فتنہ اٹھائے گا۔چنانچہ اسی بات کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں بھی اشارہ ہے:

ایک زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی مسجدیں آباد تو بہت ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی، آسمان تلے کی بدترین مخلوق(نام نہاد) علماء ہوں گے، فتنے ان ہی کے اندر سے اٹھیں گے اور ان ہی میں لوٹ جائیں گے۔

اب اگر دارالعلوم کراچی کے ایک فاضل ایاز نظامی کا فتنہ سامنے آیا ہے تو یہ اتنی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ایسے فتنوں کی مثال دے کر عوام کو قرآن پڑھنے سے منع کیا جائے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت میں علماء ہی رکاوٹیں کھڑی کردیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close